|اعلامیہ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، ”آزاد“ کشمیر|

کشمیر کے محنت کش عوام، نوجوانوں اور خواتین حتیٰ کہ بچوں نے پانچ ماہ سے جاری ریاستی جبر کے خلاف لڑتے ہوئے جراتمندی، بے دریغ قربانیوں اور انقلابی جوش و خروش کی جو شاندار تاریخ رقم کی ہے اس پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی ان کو سلام پیش کرتی ہے۔ کشمیر کے محنت کش عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب بھی کسی خطے کے محنت کش پرانے نظام اور حکمرانوں کے خلاف اپنے مسائل کے حل اور نجات کی مشترکہ جدوجہد کے لیے تاریخ کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو وہ اپنے راستے کی ہر رکاوٹ کو عبور کرنے کی صلاحیت اور طاقت حاصل کر لیتے ہیں۔ پانچ ماہ سے جاری اس انقلابی جدوجہد کو فتح سے ہمکنار کرنے کے لیے محنت کش عوام، نوجوانوں اور خواتین نے ایک بے مثال کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے باوجود تحریک کو ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی جس کی وجوہات کو زیر بحث لانے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
کسی بھی خطے کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے جہاں محنت کش عوام کا اتحاد اور ان کی جدوجہد میں شعوری مداخلت ایک لازمی عنصر ہوتا ہے وہیں کامیابی کے لیے درست نظریات، پروگرام، درست حکمت عملی اور طریقہ کار کی بھی اتنی ہی اہمیت ہوتی ہے جس کو فراہم کرنا قیادت کا فریضہ ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس تحریک کو فتح مند کرنے کے لیے عوام نے ہر موقع پر اور قیادت کی ہر کال پر اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کیا اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ابتدائی پچاس سے زائد دنوں تک پورا کشمیر مکمل بند رہا اور راولاکوٹ کے گرد و نواح میں موجود دھرنوں میں لاکھوں لوگ بار بار اس امید کے ساتھ شرکت کرتے رہے کہ قیادت کی جانب سے فیصلہ کن لڑائی کا اعلان کیا جائے گا لیکن ہر بار عوام کو مایوس لوٹنا پڑا۔ مارچ کی کال کو بار بار مؤخر کر کے مذاکرات کے انتظار میں دھرنے دے دیے گئے اور مذاکرات سے مکمل مایوس ہونے کے بعد جب 27 جولائی کو مارچ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا اس وقت بھی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی لیکن اس کے باوجود عوام نے اپنی اجتماعی طاقت، جرات اور گولیوں کی بوچھاڑ میں بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے راولاکوٹ سے فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ لیکن قیادت نے شہر کو اپنے کنٹرول میں لینے اور مارچ کو جاری رکھنے کی بجائے راولاکوٹ کے ایک قریبی چوک میں دوبارہ دھرنا دے دیا جو تا حال جاری ہے لیکن اس حکمت عملی کا نقصان یہ ہوا کہ مظفرآباد اور میرپور ڈویژن میں ریاستی جبر کے ذریعے لاک ڈاؤن ختم کرا دیا گیا۔
اس وقت تحریک کی عملی سرگرمیاں پونچھ ڈویژن تک محدود ہو چکی ہیں اور ریاست کی جانب سے پونچھ کا محاصرہ زیادہ سخت کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں پانچ ماہ سے جاری اس جدوجہد سے نتائج اخذ کیے جائیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحریک کے موجودہ مرحلے کے آغاز سے قبل ہی ریاست کے حملوں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ گزشتہ تین سال کی طرح حکمران اس بار آسانی سے مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ ان کے عزائم تحریک کو مکمل طور پر کچلنے کے ہیں۔ جوائنٹ کمیٹی کی صورت میں موجود تحریک کی قیادت نے اس صورتحال کو سمجھنے سے انکار کرتے ہوئے مذاکرات کے انتظار میں دھرنے جاری رکھنے کی غلط پالیسی پر عملدرآمد کیا جس کے تا حال کوئی نتائج سامنے نہیں آئے۔
اس صورتحال کے پیش نظر انقلابی کمیونسٹ پارٹی اپنا واضح مؤقف محنت کش عوام اور نوجوانوں کے سامنے رکھنا اپنا انقلابی فریضہ سمجھتی ہے۔ جوائنٹ کمیٹی کے ممبران کے ساتھ 22 جون سے تسلسل کے ساتھ مختلف مشاورتی اجلاسوں میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا یہ مؤقف رہا ہے کہ دھرنوں کی پالیسی غیر مؤثر ہو چکی ہے اس لیے کمیٹیوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل عوامی حکومت کے قیام کے واضح اعلان کے ساتھ مارچ کو آگے بڑھانا ضروری ہے لیکن کمیٹی قیادت نے ان تجاویز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دھرنوں کی ہی غیر مؤثر اور غلط پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے تحریک کو نہ صرف فتح مند کرنے بلکہ ایک انقلاب کے ذریعے عوامی راج قائم کرنے کے انتہائی قیمتی لمحات ضائع کر دیے جو صدیوں یا دہائیوں بعد جنم لیتے ہیں اور اسی وجہ سے تحریک کو اس وقت انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ دہائیوں یا صدیوں کے بعد جنم لینے والی انقلابی صورتحال جیسے غیر معمولی حالات میں جراتمندی سے آگے بڑھ کر پرانے نظام اور حاکمیت کا خاتمہ کرنے میں تذبذب اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع کو ضائع کر دینا تاریخ کی بھیانک غلطی اور انقلاب سے غداری کا جرم ہے جس کا خمیازہ قیادت سمیت پورے سماج کو لمبے عرصے تک بھگتنا پڑتا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران اپنی اصلاح پسندانہ سوچ اور نظریات کی فرسودگی کے باعث تحریک کو بند گلی میں دھکیل چکے ہیں۔ اصلاح پسندی کے نظریات رکھنے والے افراد ہمیشہ پرانے عوام دشمن نظام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی ناکام کوششوں میں تحریکوں کو خون میں ڈبو دینے جیسے تاریخی جرائم کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ ایسے نظریات پر عمل پیرا افراد صرف اس حد تک تحریکوں کو آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جب تک حکمران مذاکرات کے ذریعے کچھ مسائل حل کرنے کے لیے راضی ہوتے رہیں۔ جوائنٹ کمیٹی کی صورتحال بھی ایسی ہی تھی کہ گزشتہ تین سال کے دوران حکمران تھوڑے بہت جبر کے بعد مسائل کے حل یا ان کو حل کرنے کے جھوٹے وعدے کرتے رہے لیکن تحریک کے اس مرحلے پر حکمران طبقات نے مذاکرات کرنے کی بجائے تحریک کو کچلنے کے لیے ایک بھیانک ریاستی حملہ کیا جس کے خلاف کشمیر کے عوام نے انتہائی جراتمندی سے لڑائی لڑی مگر مرکزی قیادت کی مذاکرات کے انتظار کی غلط پالیسی نے اس جدوجہد کو کامیابی سے دور کر دیا۔
دوسری جانب انہی فرسودہ نظریات کے باعث محنت کش عوام کی طاقت کی بجائے حملہ آور حکمران ریاست کے ہی ایک یا دوسرے دھڑے کے علاوہ اقوام متحدہ جیسے ناکارہ سامراجی اداروں کی حمایت پر زیادہ بھروسہ کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ جوائنٹ کمیٹی ابھی تک دھرنوں کی صورت میں لڑائی کو جاری رکھے ہوئے ہے لیکن ایک غلط اور ناکارہ پالیسی جو پانچ ماہ میں تحریک کو کمزور کرنے کے علاوہ کچھ نہیں دے سکی اسی کو جاری رکھتے ہوئے کامیابی کی امید رکھنا ایک اور بھیانک جرم بنتا جا رہا ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اگرچہ بے شمار قیمتی وقت اور عوام کی بے پناہ توانائیاں دھرنوں اور مذاکرات کے انتظار کی غلط پالیسی کی وجہ سے ضائع کی جا چکی ہیں لیکن ابھی بھی اگر درست بنیادوں پر جراتمندی سے تحریک کو آگے بڑھایا جائے تو تحریک کو فتح سے ہمکنار کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ سب سے پہلے اس غلط فہمی یا خوش فہمی سے نکلنے کی ضرورت ہے کہ دھرنوں کے دباؤ پر حکمران مذاکرات کے ذریعے تحریک کے مطالبات تسلیم کر لیں گے۔ پانچ ماہ سے جاری اس جدوجہد میں دی جانے والی جانی قربانیوں کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بھی بالکل غلط ثابت ہو چکا ہے کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے دھرنے بہتر حکمت عملی ہیں چونکہ ہم دھرنوں کی حفاظت میں 27 جولائی کو کیے جانے والے مارچ سے شاید دو گنا زیادہ جانوں کی قربانی دے چکے ہیں اور قربانیوں کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس بنیاد پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ درج ذیل بنیادوں پر تحریک کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
1۔ ایک حتمی فیصلہ اور اعلان کیا جائے کہ عوام کی بے پناہ قربانیوں کے باعث اب یہ لڑائی مطالبات پر عملدر آمد کی لڑائی نہیں رہی بلکہ یہ اس خطے کے عوام کی اپنے اجتماعی حق ملکیت اور حق حکمرانی کی لڑائی میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا حصول اس سرمایہ دارانہ نظام کو انقلاب کے ذریعے اکھاڑ پھینکتے ہوئے ایک عوامی انقلابی حکومت کے قیام سے ہی ممکن ہے اس لیے اب کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کے ذریعے حکمرانوں سے کوئی مصالحت نہیں کی جائے گی۔ چونکہ اگر کسی مرحلے پر تحریک کے دباؤ کی وجہ سے حکمران مذاکرات کرنے پر مجبور ہو بھی جاتے ہیں تو وہ ماضی کی طرح پھر لازمی دھوکہ دیں گے اور تحریک کے مکمل پسپا ہونے کی صورت میں پہلے سے زیادہ ریاستی جبر مسلط کریں گے اور دوسری جانب مذاکرات کے ذریعے جو کچھ بھی اب حاصل کرنا ممکن ہو پائے گا وہ عوامی جدوجہد اور قربانیوں کے مقابلے میں انتہائی کم تر ہو گا۔
2۔ سرمایہ داری نظام کے خاتمے اور عوامی راج کے قیام کی یہ جدوجہد حکمرانوں کے خلاف محنت کشوں کی طبقاتی لڑائی ہے جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کش کشمیری عوام کے حمایتی ہو سکتے ہیں اس لیے صرف پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں سے طبقاتی بنیادوں پر یکجہتی حاصل کرتے ہوئے اس لڑائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اوورسیز بالخصوص یورپ اور امریکہ میں مقیم تمام کشمیری محنت کشوں سے بھی یہ اپیل کی جائے کہ وہ یورپ کے نام نہاد لبرل حکمرانوں، اقوام متحدہ یا اسی طرح کے دیگر ناکارہ عالمی سامراجی اداروں کی بجائے ان ممالک کے محنت کشوں اور مزدور تنظیموں سے یکجہتی حاصل کرنے کی جدوجہد کریں۔
3۔ موجودہ حکومت کے خاتمے کے اعلان اورعوامی راج کے قیام کے واضح مقصد کے ساتھ بھرپور تیاری کرتے ہوئے مارچ کو آگے بڑھایا جائے اور تمام عوام اور نوجوانوں کی تحریک کے مستقبل کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں میں براہ راست شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تحریک کے حوالے سے اب تک فیصلہ سازی کا جو اختیار جوائنٹ کمیٹی کے چند افراد تک محدود ہے اس کو فوری ختم کرتے ہوئے پوری تحریک کو جمہوری بنیادوں پر استوار کیا جائے اور وارڈ کمیٹیز سے اس جمہوری مباحثے اور مختلف سطح کی دیگر بالائی کمیٹیوں کے جمہوری انتخاب کے عمل کو فروغ دیا جائے۔ تحریک میں ہر اول لڑاکا پرت کا کردار ادا کرنے والی خواتین کی تحریک کے تمام منتخب اداروں میں بھرپور شرکت و شمولیت کو یقینی بنانا بھی ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔ تحریک کے مستقبل کے حوالے سے ہر فرد اور تحریک میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے والی ہر تنظیم کو اپنے مؤقف کی کھل کر تشہیر کے عمل کو فروغ دیا جائے تاکہ عوام اور نوجوانوں کی اکثریت مختلف آراء اور تجاویز پر بحث و مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے شعوری بنیادوں پر کسی بھی تجویز کو قبول یا رد کر سکیں۔ ہر قسم کی تعمیری سیاسی تنقید اور بحث و مباحثہ پوری تحریک کے شعوری معیار کو بلند کرتے ہوئے اسے مزید مضبوط کرے گا اور شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک اجتماعی قیادت کی تعمیر کا عمل تیزی سے آگے بڑھے گا جو تحریک کی کامیابی کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ تحریک کے تمام فیصلے عوامی کمیٹیوں کے عام اجلاسوں میں مکمل جمہوری بحث و مباحثے اور ووٹنگ کے ذریعے کیے جائیں۔ ماضی میں حکمرانوں کی سر پرستی میں کام کرنے والی تمام رجعتی اور دیگر دائیں بازو کی عوام دشمن تنظیموں کو تحریک سے باہر رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
موجودہ مرحلے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مختلف الخیال افراد کے مجموعے پر مشتمل جوائنٹ کمیٹی طرز کی قیادت، جو اپنے عہد کے سائنسی انقلابی نظریات سے لیس نہ ہو، تحریکوں کے انقلابی مراحل اور فیصلہ کن لڑائی میں اپنی فکری محدودیت کے باعث رہنمائی کا کردار ادا کرنے میں نااہل ثابت ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ کشمیری عوام کی مستقبل کی جدوجہد کو ایک درست انقلابی نظریے، جو آج کے عہد میں صرف سائنسی سوشلزم یا کمیونزم ہی ہو سکتا ہے، کی بنیاد پر ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر کے ذریعے ہی کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔
ہم دنیا بھر کے محنت کشوں اور بالخصوص انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی جانب سے کشمیر کی عوامی تحریک کے حق میں منظم کی جانے والی یکجہتی کی مہم کو قابل ستائش سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ مستقبل میں بھی انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل محنت کشوں کی عالمی یکجہتی کو وسعت دینے میں اپنا انقلابی کردار ادا کرتی رہے گی۔
سرمایہ داری نظام کے مکمل خاتمے اور عوامی راج کے قیام کی اس لڑائی کو صرف اور صرف سوشلزم اور کمیونزم کے سائنسی نظریات کی بنیاد پر منظم کرتے ہوئے فتح سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے، اس لیے انقلابی کمیونسٹ پارٹی تحریک کے سبھی متحرک اور باشعور حصوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کے تجربات سے درست نتائج اخذ کرتے ہوئے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بنیں اور کشمیری عوام اور نوجوانوں کی اس عظیم تحریک کی مستقبل کی فتح کو یقینی بنانے میں اپنا انقلابی کردار ادا کریں۔