|تحریر: یاسر ارشاد|

نام نہاد ”آزاد“ کشمیر میں عوام کی بے مثال انقلابی تحریک تقریباً اڑھائی ماہ سے جاری و ساری ہے۔ اس عرصہ جہد مسلسل کے دوران جراتوں، سرفروشی، فولادی عزم، قربانیوں، طبقاتی اتحاد اور ناقابل تسخیر انقلابی جذبوں کی ایک نئی لازوال تاریخ رقم کی جا چکی ہے۔ اگرچہ کشمیر کے محنت کش عوام گزشتہ تین سالوں سے اپنے حقوق کی جدوجہد میں بغاوت کے کئی قابل تقلید تاریخی حوالے رقم کر چکے تھے مگر لڑائی کا موجودہ مرحلہ خود اس جدوجہد کا ایک نیا تاریخی موڑ اور ایک عظیم سنگ میل بن چکا ہے۔ بغاوت کے ان ایام کے دوران ہر علاقے کی الگ انفرادی اور اجتماعی جدوجہد، قربانیوں اور پہل گامیوں کے واقعات کی شاید ہر دن کی درجنوں قابل تحریر و تحسین رودادیں ہیں جنہیں ضبط تحریر میں لانا ضروری ہے مگر انہیں قلمبند کرنا اس مضمون کے دائرہ کار سے باہر ہے اس لیے ہم اس بغاوت کی عمومی بڑھوتری کے مختلف مراحل کا ایک مختصر خاکہ کھینچنے اور چند اہم نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پس منظر و واقعات کا سلسلہ
تحریک کے اس مرحلے کا آغاز گزشتہ برس اکتوبر میں حکومت پاکستان و ”آزاد“ کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کے مابین طے پانے والے معاہدے، جس پر حکومت نے تین ماہ کے اندر عملدرآمد کرنا تھا، پر عملدرآمد کے لیے مظفر آباد کی جانب 9 جون کو میرپور ڈویژن سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے ذریعے ہونا تھا۔ اس مارچ کو روکنے کے لیے حکومت اور کمیٹی کے درمیان 30 مئی کو مذاکرات کا آخری دور منعقد ہوا جس کی ناکامی کے بعد حکومت نے اگلے چند روز میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان سے رینجرز، ایف سی اور پی سی کی بڑی تعداد منگوا کر مارچ کو بزور طاقت روکنے کی تیاریوں کا آغاز کیا۔ گزشتہ برسوں کے دوران بھی کمیٹی کے احتجاجی مارچوں کو روکنے کے لیے اس قسم کی فورسز منگوائی جاتی رہیں اس لیے یہ خبریں کسی بڑی تشویش کا باعث نہیں بن سکیں اور شاید اس لیے بھی کہ حکومت نے 7 جون کو کمیٹی سے دوبارہ مذاکرات کرنے کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔ صورتحال اس وقت اچانک اور غیر متوقع طور پر تبدیل ہونا شروع ہوئی جب 5 جون کو کھائیگلہ کے مقام پر مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی ایک معمول کی کانفرنس میں شرکت سے واپسی پر جوائنٹ کمیٹی کے ممبر عمر نذیر کے قافلے پر فورسز کی جانب سے حملہ کیا گیا جس میں عمر نذیر زخمی جبکہ اس کا ایک قریبی ساتھی شاہزیب شہید ہو گیا۔ اسی دن انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند جبکہ موبائل کال سروسز بھی انتہائی محدود اور مکمل میڈیا بلیک آؤٹ کر دیا گیا جو تا حال جاری ہے۔
رات گئے سینکڑوں لوگ سی ایم ایچ راولاکوٹ کے سامنے جمع ہوئے اور شاہزیب کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے اور اس بہیمانہ قتل کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ایک پر امن احتجاجی دھرنے کا آغاز کر دیا۔ ان مطالبات کو پورا کرنے کی بجائے فورسز نے 7 جون کی رات کو اس دھرنے پر وحشیانہ حملہ کرتے ہوئے مزید کئی لوگوں کو شہید، جن کی درست تعداد تا حال معلوم نہیں ہو سکی، اور بے شمار لوگوں اور زخمیوں کو گرفتار کرتے ہوئے راولاکوٹ میں کرفیو کا نفاذ کر دیا۔ 9 جون کو میرپور ڈویژن کے مختلف اضلاع اور علاقوں کے قافلے مارچ کے لیے نکلے تو ان کو روکنے کے لیے بھی مختلف مقامات پر فورسز کی جانب سے شیلنگ اور فائرنگ کی گئی جس میں مزید کئی لوگ شہید اور زخمی ہوئے لیکن میرپور ڈویژن کے ہزاروں عوام تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے دس جون کو راولاکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جن کے ساتھ پونچھ ڈویژن کے مزید ہزاروں لوگ بھی شامل ہوتے گئے۔ دس جون کو مرکزی قافلے میں شامل لوگوں کی مجموعی تعداد لاکھ سے زیادہ تھی جبکہ دوسری جانب منگ اور تھوراڑ سے ہزاروں لوگوں کا ایک قافلہ راولاکوٹ راولپنڈی شاہراہ کے راستے شہر کے قریب پہنچ چکا تھا اور اس کے علاوہ ہزاروں لوگ راولاکوٹ مظفرآباد شاہراہ پر ان قافلوں کے منتظر تھے۔

راولاکوٹ کے مختلف اطراف میں لاکھوں لوگوں کے اجتماع پہلے سے کسی دھرنے کی طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت جمع نہیں ہوئے تھے لیکن 5 اور 7 جون کے قتل عام کے واقعات نے قیادت کو شاید خوفزدگی کی حد تک محتاط کر دیا تھا جس کے باعث پیش قدی کے خوف، تذبذب اور ہچکچاہٹ نے کمیٹی کو آگے بڑھنے کی بجائے راولاکوٹ کے گرد و نواح میں دھرنے دینے کے فیصلے پر مجبور کیا۔ کمیٹی کے اس تذبذب، خوف اور ہچکچاہٹ کو دیکھتے ہوئے فورسز نے دھرنوں پر پے در پے حملوں اور اس کے ساتھ ہی مختلف علاقوں میں گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کے سلسلے کا آغاز کر دیا۔ یوں اگلے کئی دنوں کی اجتماعی کاوشوں سے دھرنوں کو محفوظ بنانے اور گرفتاریوں کو روکنے کے لیے تمام چھوٹے بڑے راستوں کی ناکہ بندی، مظاہرین کی خوراک کے بندوبست جیسے بے شمار انتظامات کا ایک پورا عوامی نظام تشکیل دیا گیا۔
مارچ کو روکنے اور دھرنوں کو ہی جاری رکھنے کے فیصلے اور دھرنوں پر بار بار حملوں کے باعث ایک کمزوری اور بے بسی کے احساس نے جنم لینا شروع کر دیا جسے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے خواتین اور بچوں کی دھرنوں میں شمولیت کی مہم کے ذریعے تبدیل کیا۔ خواتین اور بچوں کی دھرنوں میں باقاعدگی سے شمولیت نے عوام کے حوصلوں اور عزم کونئی جلا بخشی۔ ہزاروں خواتین کی دھرنوں میں ریلیوں کی صورت انقلابی نعرے بازی کے ساتھ شمولیت نے پوری تحریک میں ایک نئی طاقتور روح پھونک دی۔ دھرنے کی معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ مختلف مواقعوں پر بڑے احتجاجوں کی کال دی گئی جن میں ہر بار لاکھوں لوگ امڈ آئے مگر اس تمام تر عوامی طاقت کو محض مذاکرات کے لیے دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ کمیٹی ممبران آگے بڑھنے اور ضرور بڑھنے کے اعلانات تو کرتے رہے مگر آگے بڑھنے کے حوالے سے کمیٹی کا تذبذب برقرار رہا۔
عوام کی اجتماعی جدوجہد اور کاوشوں کے نتیجے میں جب ریاست ان دھرنوں کو منتشر کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی تو جوائنٹ کمیٹی کے ساتھ بالواسط مذاکرات اور پیغامات کے ایک سلسلے کا آغاز کیا گیا جس کا بنیادی مقصد مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نہیں بلکہ مارچ کو آگے بڑھنے سے روکنا، تحریک کو تھکانا اور کچلنا تھا۔ جوائنٹ کمیٹی اپنی موضوعی کمزوریوں کے باعث اس قسم کے جھوٹ پر بھی اعتبار کرنے کو تیار تھی کہ جس پر یہ بات صادق آتی ہے کہ ”میں اس قدر بھوکا ہوں صاحب کہ دھوکہ بھی کھا سکتا ہوں“۔ مذاکرات اور پیغامات کا جب ابتدائی سلسلہ بے نتیجہ ثابت ہوا، تو انتہائی مجبوری میں اور نیچے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث کمیٹی نے 15 جولائی کو آگے بڑھنے کا اعلان کیا مگر اسی دن پھر ایک پیغام پر مدت کا تعین کیے بغیر مارچ کو مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ پیغام بھی اسی طرح ایک فریب ثابت ہوا تو 27 جولائی کو چار و نا چار آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

27جولائی کو لاکھ سے زائد لوگوں نے صرف ایک مرکزی دھرنے سے راولاکوٹ کی جانب مارچ کا آغاز کیا جس پر فورسز نے اندھا دھند شیلنگ اور سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں لوگ شہید اور مزید درجنوں زخمی ہوئے۔ کئی گھنٹوں کی وحشیانہ شیلنگ اور فائرنگ بھی جب لوگوں کو پسپا کرنے میں ناکام رہی تو فورسز کو رات کے اندھیرے میں اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگنا پڑا اور مرکزی دھرنے کا قافلہ رات گئے شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا مگر عین اسی وقت قافلے کی پیش قدمی کو روک دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ راولپنڈی شاہراہ کا قافلہ آگے نہیں بڑھ سکا مگر اس کے باوجود فورسز کو شکست ہو چکی تھی اور وہ بھاگنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔ اگر مرکزی دھرنے کے قافلے کو شہر میں داخل ہونے سے نہ روکا جاتا تو شہر پر لوگوں کا مکمل کنٹرول قائم ہو جانا تھا اور تمام تر صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی۔ تب سے اب تک مرکزی دھرنا دریک عید گاہ سے شہر کے نزدیکی چوک میں منتقل کیا جا چکا ہے اور کمیٹی ایک بار پھر کسی مذاکراتی معجزے کی منتظر ہے۔
کیا کشمیر کی تحریک میں انقلابی امکانات موجود ہیں؟
کشمیر کی حالیہ تحریک سے قبل بھی اور بالخصوص اس مرحلے کے دوران کچھ حلقوں میں تحریک کے انقلابی امکانات کے حوالے سے کچھ اختلافی مباحث کی نحیف سی آوازیں موجود رہی ہیں۔ اس بحث کا آغاز اس سوال سے کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی تحریک کب اور کیوں انقلابی ہوتی ہے اور کب ایسا نہیں ہوتا؟ نسل انسانی کی تمام تاریخ کی ہر انقلابی تحریک اپنے آغاز میں ہمیشہ چند معاشی یا جمہوری مطالبات سے شروع ہوتی رہی ہے اور نشوونما کے کچھ مراحل سے گزرتے ہوئے یہ تحریک انقلابی مرحلے میں داخل ہوتی رہی ہے۔ تحریکوں کی نشوونما کے اس عمل کی سائنسی وضاحت صرف جدلیاتی فلسفے کی درست سمجھ بوجھ رکھنے اور اس کے اطلاق کا فن جاننے والے سیاسی کارکنان ہی کر سکتے ہیں۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے گزشتہ تین سالوں کے دوران تحریک کے امکانات کا ہمیشہ درست تجزیہ پیش کیا، اس کی بڑھوتری کے مراحل کی درست نشاندہی کے ساتھ اس کی خامیوں اور کمزوریوں کو بھی واضح کیا۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے گزشتہ عرصے کے دوران درست طور پر یہ وضاحت کی تھی کہ عوامی تحریک کی صورت میں رائج الوقت حکومتی طاقت کے متوازی طاقت کا ایک نیا مرکز تشکیل پا رہا ہے اور ان کے درمیان ایک فیصلہ کن تصادم کسی بھی اگلے مرحلے پر نا گزیر ہو جائے گا۔ یہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ہی کارکنان تھے جنہوں نے گزشتہ عرصے کے دوران اقتدار کی کمیٹیوں کو منتقلی یعنی کمیٹی کو عوامی اقتدار قائم کرنے کی جانب بڑھنا پڑے گا، کے مؤقف کو تحریک کے منطقی انجام کے طور پر واضح کرنا شروع کیا تھا۔ اگرچہ اس مؤقف کو تحریک کے اندر کبھی بھی بڑے پیمانے پر پذیرائی نہیں مل سکی اور بالخصوص سیاسی کارکنان کی جانب سے اس مؤقف کو کمیونسٹوں کا انتہا پسندانہ مؤقف قرار دیا جاتا رہا۔ حالیہ مرحلے کے دوران تحریک کی اپنی پیش رفت نے اس مؤقف کی صداقت کو ثابت کر دیا ہے مگر پھر بھی بے شمار لوگ ابھی تک اپنے اصلاح پسندانہ نظریات سے جنم لینے والی کمزوریوں اور خوف کی بنیاد پر ان امکانات کو رد کرنے کے لیے مشکلات اور مسائل کی طویل فہرستیں بطور دلائل پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
کل تک یہ کمیونسٹوں کا تناظر تھا آج یہ سب جیتی جاگتی معروضی حقیقت بن کر ہماری آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے۔ عظیم انقلابی لیون ٹراٹسکی نے تحریکوں کی پیش رفت کے حوالے سے شاید 1905ء کے انقلاب کے دوران یہ لکھا تھا کہ ”معاشی ہڑتال سیاسی ہڑتال میں اور سیاسی ہڑتال سرکشی میں بدل گئی“۔ عمومی طور پر جب بھی کوئی معمولی احتجاج بڑھ کر ایک انقلابی سرکشی میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کی بڑھوتری ٹراٹسکی کی اس وضاحت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ہر معمولی احتجاج سرکشی میں تبدیل نہیں ہو جاتا لیکن ہم صرف ان احتجاجوں کی بات کر رہے ہیں جو سرکشیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کشمیر کی تحریک کے موجودہ مرحلے کو ایک انقلابی سرکشی ثابت کرنے یا اس لڑائی کو ناگزیر طور پر عوامی اقتدار کے قیام کی جانب کیوں بڑھنا پڑے گا؟ ان باتوں کے ثبوت کے لیے کسی بھی تاریخی حوالے کی بجائے خود تحریک کی معروضی پیش رفت زیادہ بڑے شواہد فراہم کرتی ہے۔
راولاکوٹ میں 5 اور 7 جون کے حملوں، میرپور ڈویژن سے آنے والے قافلوں پر ماضی کی نسبت زیادہ بڑے کریک ڈاؤن، مظفرآباد ڈویژن سمیت ہر جگہ ہزاروں متحرک کارکنان کی گرفتاریوں اور دھرنوں کے ابتدائی ایام میں پے در پے ریاستی حملوں کے باعث ماہ جون کے دوران تحریک اپنے دفاع اور اپنے اعتماد اور حوصلوں کی بحالی کی جدوجہد میں مصروف رہی۔ بالخصوص خواتین کی پر عزم اور ولولہ انگیز شمولیت نے تحریک میں سر فروشانہ جذبوں کی نئی روح پھونک دی، اس کے ساتھ مختلف علاقوں سے مزید فورسز کو راولاکوٹ آنے سے روکنے کے لیے ہجیرہ اور گردو نواح، بلوچ، ٹائیں اور گرد و نواح کے مرد و خواتین نے جس جوانمردی اور بے خوفی سے مقابلہ کرتے ہوئے فورسز کو پسپائی پر مجبور کیا اس سے صورتحال یکسر تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ بالخصوص پانچ جولائی کے احتجاجوں نے،جب پہلی بار بڑے پیمانے میں مظفر آباد میں بھی فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے ہزاروں لوگ قیادت کے بغیر ہی سڑکوں پر نکل آئے اور اس کے ساتھ برطانیہ میں ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مارچ کیا جبکہ پاکستان بھر سے انقلابی کمیونسٹ پارٹی اور بعد ازاں دنیا بھر سے انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی جانب سے یکجہتی کے احتجاجوں کا آغاز کیے جانے کے بعد کچھ دیگر لوگوں کی جانب سے بھی یکجہتی کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں، صورتحال کو مکمل طور پر تحریک کے حق میں تبدیل کر دیا تھا۔
ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ صرف مرکزی دھرنے میں موجود تھے جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد لگ بھگ چالیس سے پچاس ہزار کے قریب تھی اور اسی سے ملتی جلتی صورتحال تمام دھرنوں کی تھی۔ اگرچہ میرپور ڈویژن کے زیادہ تر عوام اور تقریباً سبھی متحرک کارکنان وہاں موجود نہیں تھے اس کے باوجود تمام شہروں میں بڑے احتجاج کیے گئے جن میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد نے شمولیت اختیا رکی۔ پونچھ اور پلندری کے زیادہ تر لوگ اگرچہ مرکزی دھرنے میں موجود تھے اس کے باوجود ان اضلاع کے مختلف علاقوں میں بھی خواتین کی شمولیت کے ساتھ ہزاروں لوگوں کے احتجاج کیے گئے۔ دس اور گیارہ جون کو مارچ کو آگے بڑھانے کا اہم موقع کو ضائع کرنے کے بعد 5 جولائی اور اس کے اگلے چند دن اس حوالے سے فیصلہ کن اہمیت کے حامل تھے۔ ریاستی فورسز اپنی سپلائی لائن نہ ہونے کے باعث انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار تھیں، راولاکوٹ کے سبھی داخلی راستوں پر عوام کا مکمل کنٹرول تھا اور مارچ کی پیش قدمی کی صورت میں پورے کشمیر کے عوام سڑکوں پر نکلنے کو بیتاب تھے۔ کمیٹی نے اس انتہائی اہم موقع کو پھر اپنے تذبذب کی وجہ سے گنوا دیا اور مارچ کو آگے بڑھانے کے لیے واضح تاریخ کا اعلان کرنے کی بجائے 8 جولائی تک کا وقت دینے اور 9 جولائی کو اگلا لائحہ عمل پیش کرنے کا اعلان کیا گیا۔
9جولائی کی صبح فورسز نے ضلع باغ کو راولاکوٹ سے ملانے والی شاہراہ پر دیے گئے دھرنے پر حملہ کرتے ہوئے اسے منتشر کر دیا اور کوہالہ، دھیر کوٹ کے راستے اپنی سپلائی لائن بحال کر دی۔ اس حملے کے بعد کمیٹی نے 15 جولائی کو مارچ آگے بڑھانے کا اعلان کیا جب لاکھوں کی تعداد میں لوگ پھر دھرنوں میں جمع ہوئے مگر ایک بار پھر ایک پیغام پر مارچ کو مؤخر کر دیا گیا۔ اس مذاکراتی پیشکش کے فریب ثابت ہونے کے بعد 27 جولائی کو مارچ آگے بڑھا اور عوام نے فورسز کے خلاف راولاکوٹ کی حد تک فتح بھی حا صل کر لی تھی مگر مارچ کو روک کر ایک بار پھر اس فتح کو شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔ اگر عوام فورسز کو شکست دیتے ہوئے راولاکوٹ شہر کو اپنے کنٹرول میں لے لیتی تو عوامی طاقت کی فتح کی یہ خبر ہی پورے کشمیر میں بغاوت کی نئی لہر جنم دینے کے لیے کافی تھی۔ راولاکوٹ شہر پر عوامی کنٹرول قائم کرنے کے بعد اس لڑائی کو بلا تعطل آگے بڑھایا جاتا تو پورے کشمیر میں عوامی راج قائم کیا جا سکتا تھا اور اس عوامی راج کے قیام کی عظیم انقلابی فتح کی گونج پاکستان اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے نجات کا ایک پیغام بن سکتی تھی۔ اس نئی قائم ہونے والی عوامی حکومت کے تعلیم اور علاج سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی عوام کو مفت فراہمی اور حکمران اشرافیہ کی تمام مراعات کے خاتمے جیسے اقدامات کا پاکستان کے محنت کش اور غریب عوام سمیت نوجوان والہانہ استقبال کرتے۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے محنت کشوں کے حالات زندگی کو دیکھتے ہوئے اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ کشمیر جیسے پسماندہ خطے سے بھی عوامی راج کی فتح اور چند ریڈیکل اصلاحات کا عملی نفاذ بھی انقلابی تحریکوں کو جنگل کی آگ کی طرح پورے خطے میں پھیلا سکتا ہے۔ ان مایوس، ناکام اور ہارے ہوئے لوگوں کے ماتم کے برعکس جو کہ کشمیر میں صنعت اور پرولتاریہ کے نہ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں، محض عوامی راج کی فتح اور بجلی، تعلیم، صحت کی مفت فراہمی سمیت دیگر فوری ممکنہ ریڈیکل اقدامات ہی کے ذریعے اس خطے سے سرمایہ داری کے خاتمے کا آغاز ہوتا جو بڑے صنعتی مراکز میں انقلابی تحریکوں کے جنم اور فتح کی صورت میں سرمایہ داری کے مکمل خاتمے اور سماج کی سوشلسٹ تعمیر کی جانب آگے بڑھتا اور پھر اس کی تکمیل کا اگلا بڑا سنگ میل جنوبی ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی صورت میں ہوتا۔ اس مرحلے پر ایسا ممکن نہیں بھی ہو پاتا تو پھر بھی مستقبل میں، خطوں کی اس عمل میں شمولیت کی مختلف ترتیب کے ساتھ، سوشلسٹ انقلاب کی لڑائی اور پیش رفت کا راستہ اسی قسم کا ہو گا۔
گزشتہ تین سال کے دوران ہر مارچ کے دوران حکومت کمیٹی کے مطالبات کو کلی یا جزوی طور پر تسلیم کرتی رہی ہے مگر اس مرحلے پر صورتحال یکسر مختلف ہے۔ حکومت نے کمیٹی کے مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے ایک خوفناک حملے کے ذریعے تحریک کو کچلنے کی کوشش کی مگر عوام کی جراتمندانہ لڑائی نے ریاست کے ان عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اگرچہ جبر کے ذریعے ریاست تحریک کو کچلنے میں تا حال ناکام ضرور ہے مگر ریاست کمیٹی کو باعزت راستہ دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔ جولائی کے آغاز میں یہ بالکل واضح ہو گیا تھا کہ ریاست مذاکرات کو محض تحریک کو تھکانے اور جبر کے ذریعے اسے کچلنے کے لیے وقت حاصل کرنے کے حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور دوسری جانب عوامی تحریک کی اٹھان اور مسلسل بڑھوتری نے یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ عوام اس لڑائی کو نہ صرف آخر تک لڑنے بلکہ مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس وقت یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ اس نا قابل شکست عوامی طاقت اور عزم کو استعمال کرتے ہوئے تحریک کی قیادت محض درمیانی راستے کی تلاش کرتی رہے گی یا آگے بڑھتے ہوئے عوامی اقتدار قائم کرے گی۔
معروضی طور پر دو عناصر نے عوامی اقتدار کے قیام کا سوال پیدا کیا۔ پہلا دھرنوں کی حفاظت اور مزید فورسز کے پونچھ میں داخلے کو روکنے کے لیے تقریباً دو اضلاع کا مکمل کنٹرول عوام نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور دوسرا حکمرانوں کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے مطالبات کے حل سے انکار نے درمیانی راستہ ختم کرتے ہوئے حقیقی کامیابی کے لیے عوامی اقتدار کے قیام کا واحد راستہ باقی چھوڑا تھا۔ حتیٰ کہ حکمرانوں کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے بھی مارچ کو پوری طاقت اور جرات کے ساتھ آگے بڑھانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا۔

کوئی بھی حقیقی ٹھوس صورتحال ہمیشہ ٹھوس اقدامات کی متقاضی ہوتی ہے۔ عوامی اقتدار کے قیام کی مجرد چیخ و پکار سے عوام کی اکثریت اس کی ضرورت کو سمجھنے سے قاصر تھی۔ دھرنوں کی حفاظت کے لیے جن علاقوں کو عوامی کنٹرول میں لیا جا چکا تھا اس سے بھی عوامی اقتدار کے قیام کا سوال مکمل طور پر واضح نہیں ہوتا تھا بالخصوص اگر حکومت کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے۔ یہ سوال اس صورت میں مکمل طور پر واضح ہو جاتا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کے ذریعے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کرتی اور مارچ کو آگے بڑھاتے ہوئے زیادہ بڑی لڑائی اور قربانی ناگزیر ہو جاتی ہے تو تحریک کا مقصد بھی بڑا ہونا ضروری ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے عوامی اقتدار کے قیام کی ضرورت کو مارچ کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے مکمل طور پر ٹھوس انداز میں سامنے لایا۔ مذاکرات کے تمام فریب ننگے ہو جانے کے بعد قیادت نے مارچ کو انتہائی بے دلی سے آگے بڑھانے کا اعلان تو کیا مگر مارچ کو ابتدائی فتح حاصل کرنے سے قبل ہی روکنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ اصلاح پسند قیادت بھی اس بڑی قربانی اور اپنے معمولی سے چارٹر آف ڈیمانڈ کے تعلق کو سمجھ چکی تھی مگر منفی انداز میں۔
تحریک کی قیادت اپنی اصلاح پسندانہ سوچ و فکر کے باعث مارچ کو آگے بڑھانے کی صورت میں ہونے والی بڑی لڑائی سے سب سے زیادہ خوفزدہ اسی لیے ہے کہ ایک بڑی لڑائی کی صورت میں تحریک فطری طور پر اس چارٹر آف ڈیمانڈ کے دائرے سے نکل کر سیاسی اقتدار اور طاقت کے سوال کو سامنے لے آتی۔ سیاسی اقتدار اور طاقت کے حصول کی جدوجہد کا سوال موجودہ قیادت کو موت سے بھی زیادہ بھیانک تصور لگتا ہے۔ یہ قیادت مذاکرات کے ذریعے چند اصلاحات حاصل کرنے کے علاوہ کچھ سوچ بھی نہیں سکتی۔ مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ کمیٹی کے تسلیم شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ کا ایک اہم مطالبہ تھا جس پر حکمران طبقات نے عملدرآمد کرنے کی بجائے اسی تحریک کے دوران انتخابات منعقد کرتے ہوئے ان نشستوں پر منتخب امیدواران کو قانون ساز اسمبلی کا ممبر بنا دیا۔ باقی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے زیادہ تر، ہسپتالوں میں سی ٹی سکین اور ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی جیسے، انتہائی معمولی نوعیت کے مطالبات ہیں۔ کمیٹی کو بخوبی اس کا علم ہے کہ تحریک پہلے ہی ان مطالبات کے مقابلے میں بہت زیادہ قربانیاں دے چکی ہے اس لیے مزید قربانیوں سے اجتناب کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
جوائنٹ کمیٹی نے اڑھائی ماہ سے زائد عرصے تک ان دھرنوں کو اس لیے جاری رکھا کہ مزید کسی بڑے تصادم سے اجتناب کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے کوئی حل نکالا جا سکا لیکن اس عرصے کے دوران حکومت کی جانب سے سنجیدہ مذاکرات کے لیے کوئی بھی پیشکش نہیں کی گئی جس کا مطلب یہ تھا کہ ریاست تحریک کو کسی بھی قسم کا باعزت راستہ دینے کی بجائے مکمل کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ صورتحال سماج میں موجود دوہری طاقت کے درمیان فیصلہ کن لڑائی کی عکاسی کر رہی ہے۔ تا حال کمیٹی یہ سمجھنے سے مکمل طور پر قاصر ہے کہ تحریکوں کی نشوونما کے ایک مخصوص مرحلے پر درمیانی راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور دوہری طاقت کے درمیان جاری تصادم ایک کی فتح اور دوسرے کی شکست پر منتج ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بزور طاقت تحریک کو کچلنے اور مذاکرات کو ایک فریب، ایک جال کے طور پر استعمال کرنے کی صورت میں تحریک کے پاس تین ممکنہ راستے تھے۔ پہلا یہ کہ تمام تر ریاستی جبر کی عوام کے ہاتھوں شکست اور مذاکرات کی تمام جعلسازی بے نقاب ہونے کے باوجود درمیانی راستے (مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل) کے وجود میں آنے کا انتظار کرتے ہوئے تحریک کو تھکا کر زائل کیا جائے (کمیٹی اسی راستے پر گامزن ہے)۔ دوسرا کہ ریاست کی ہٹ دھرمی کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے پیغام رسانی کرنے والوں کی ضمانتوں پر دھرنے ختم کر دیے جائیں (جیسا کہ چند عظیم قوم پرستوں کے ساتھ کچھ سابقہ مارکسی کہلانے والوں کا مؤقف ہے اور المیہ یہ ہے کہ ریاست کا بھی یہی مؤقف ہے)۔ تیسرا یہ کہ تحریک کی اپنی معروضی بڑھوتری سے جنم لینے والے فرائض کا ادراک کرتے ہوئے پوری جرات کے ساتھ عوامی اقتدار قائم کرنے کے اعلان کے ساتھ آگے بڑھا جائے جس کے لیے تمام تر حالات مکمل طور پر سازگار ہو چکے تھے (جو کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا مؤقف ہے)۔

متذکرہ بالا تین مؤقف یا تین ممکنہ صورتیں درحقیقت تاریخ کے غیر معمولی انقلابی ادوار میں پیدا ہونے والے ان تاریخی امکانات کی عکاسی کرتی ہیں جن کے زائل ہو جانے یا حقیقت کا روپ دھار لینے کا انحصار موضوعی عناصر (قیادت اور دیگر انقلابی رحجانات) کے صورتحال پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت اور طاقت پر ہے۔ یہ صورتحال ان تمام جاہلوں کا منہ چڑا رہی ہے جو کمیونسٹوں پر معاشی جبریت پسند ہونے اور تاریخی عمل میں انسانی شعور اور افراد کے کردار کو تسلیم نہ کرنے جیسا گھٹیا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ کمیونسٹوں نے ہمیشہ یہ وضاحت کی ہے کہ سماجوں کا معروضی ارتقا ایک مخصوص مرحلے پر انقلابی تحریکوں کو جنم دیتا ہے۔ اگر کسی سماج میں انقلابی قوتیں قابل ذکر طاقت میں موجود نہ ہوں تو تحریکیں ایک یا دوسری صورت میں پہل گامی اور جرات کا مظاہرہ کرنے والے عناصر کو بطور قیادت سامنے لے آتی ہیں جنہیں حادثاتی قیادت بھی کہا جاتا ہے۔ ان حادثاتی قیادتوں کا ابھرنا خود ایک گہری تاریخی و سماجی ضرورت کا اظہار ہوتا ہے جو ابتدائی مراحل میں تحریکوں کو آگے بڑھانے اور عوامی طاقت کی بنیاد پر چند جزوی کامیابیوں کے حصول کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں لیکن تحریکوں کے فیصلہ کن مراحل میں ایسی قیادتیں تحریکوں کو آگے بڑھانے کی بجائے ان کے راستے کی رکاوٹ بن جایا کرتی ہیں۔
کشمیر کی تحریک کے حالیہ مرحلے کے دوران پیدا ہونے والے امکانات میں سے کون سا امکان حقیقت کا روپ دھارنے کی طرف جا رہا ہے اس کا کلی انحصار قیادت کی شعوری اور نظریاتی سمجھ بوجھ کے معیار سے جنم لینے والی حکمت عملی اور فیصلوں پر ہے۔ اپنے تئیں یہ قیادت بڑی لڑائی اور بڑے نقصان سے اجتناب کی پالیسی پر گامزن ہے اور عام لوگ بھی اسے درست پالیسی سمجھ رہے ہیں لیکن قیادت کی یہ امن پسندی اور پیش قدمی سے اجتناب کی پالیسی درحقیقت تحریک کے ایک انقلابی مرحلے کو سست رفتاری سے زائل کرنے کی حکمت عملی ہے۔ دوسری جانب حکمران طبقات بھی اسی پالیسی پر عملدرآمد کر رہے ہیں کہ اگر عوام کو ایک محدود جبر کے ذریعے پسپا کرنا ممکن نہیں رہا تو انہیں تھکا کر شکست دی جائے۔ اس صورت میں قیادت کی یہ پالیسی غیر ارادی طور پر حکمرانوں کی معاونت کی پالیسی ہے۔ عوام میں کسی بھی کٹھن لڑائی کو لڑنے اور قربانیاں دینے کی لامحدود مادی اور نفسیاتی صلاحیت نہیں ہوتی۔ جلد یا بدیر عوام کا باغیانہ عزم، جوش اور ولولہ روزمرہ زندگی کی مشکلات میں شدید اضافے کے دباؤ کی وجہ سے ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے بھی کہ تحریک کو پیش قدمی کی بجائے غیر ضروری اور بے نتیجہ طوالت سے دوچار کر دیا گیا ہے۔
معروضی طور پر صورتحال کس قسم کے اقدامات اور کس طرز کی پیش قدمی کی متقاضی ہے اس کا درست تجزیہ ہی انقلابی عمل کا اولین فریضہ ہے۔ عوامی اقتدار کے قیام کا مؤقف کسی موضوعی خواہش کی پیداوار نہیں بلکہ جدوجہد کی اپنی بڑھوتری کے ایک مخصوص مرحلے کی ناگزیر پیداوار ہے۔ بے شمار سیاسی کارکنان انتہائی عامیانہ اور غیر سائنسی و غیر تاریخی انداز میں کسی ایک یا دوسرے واقعے یا کسی ایک یا دوسرے فرد کے کسی مخصوص اقدام کو تمام تر صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ درحقیقت وہ کسی بھی تحریک کی نشوونما کی اپنی داخلی نامیاتی حرکیات و قوانین سے مکمل ناواقفیت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ پانچ جون کے حملے کے خلاف راولاکوٹ میں دھرنا نہ دیا جاتا تو سات جون کو حملہ نہیں ہوتا۔ بظاہر اس قسم کے دلائل کافی منطقی دکھائی دیتے ہیں مگر جب ان کو پورے تاریخی تسلسل میں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ انتہائی فضول اور پست ترین پولیس ذہنیت رکھنے والے جیسے دلائل دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرز کی بحث میں ہم کسی ایک واقعے کو پورے عمل سے کاٹ کر الگ کر لیتے ہیں اور پھر اس کے ذریعے تمام چیزوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ مکمل طور پر غلط طریقہ کار ہے۔ اس قسم کے دلائل رکھنے والے فرد کے سامنے یہ سوال کیا جائے کہ 5 جون کا واقعہ نہ رونما ہوا ہوتا تو یہ دھرنا نہیں ہوتا اس لیے آپ وضاحت کریں کہ 5 جون کا واقعہ کیوں ہوا تھا؟ تو عموماً اسی قسم کا جواب ہوتا ہے کہ نہیں وہ تو ٹھیک ہے نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اگر وہ ہو گیا تھا تو دھرنا نہ ہوتا تومزید نقصان سے بچا جا سکتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ یعنی اگر حکومت کی جانب سے کوئی بھی ظلم کیا جائے تو اس کے حلاف عوام کو پرامن احتجاج بھی نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے افراد ہمیشہ تمام الزام ظالم حکمرانوں کی بجائے عوام کے سر تھونپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے ہمارے پاس ایک ہی جواب ہے کہ یہ تحریک نہ شروع ہوتی، عوام اگر اپنے مسائل کے حل کی کوشش ہی نہ کرتے تو کچھ بھی نہ ہوتا سب ٹھیک ٹھاک ہوتا لیکن کیا کِیا جائے عوام کی ظلم اور مسائل برداشت کرنے کی بھی ایک حد ہے اور جب وہ حد ختم ہو جاتی ہے تو اس طرح کے واقعات ایک تاریخی لازمیت کی صورت میں اپنا اظہار کرتے ہیں۔
بڑی تحریکیں اور بالخصوص انقلابات برق رفتاری سے رونما ہونے والے بے شمار واقعات کی ایک پوری لڑی پر مشتمل ہوتے ہیں جن کے دوران درست اور بروقت فیصلوں اور اقدامات کی اہمیت کلیدی ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ قیادت کا ہر فیصلہ سو فیصد درست ہو لیکن یہ لازم ہوتا ہے کہ غلط فیصلوں سے بھی فوری درست نتائج اخذ کیے جائیں اور تیزی کے ساتھ حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے درست سمت میں آگے بڑھا جائے۔ انقلابی عمل تاریخ کے غیر معمولی لمحات پر مشتمل ہوتا ہے جس کے دوران پورا سماج کچھ محدود سے وقت کے لیے اپنے معمول کی زندگی سے نکل کر انتہائی غیر معمولی لڑائی کے حالات اور تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران سب سے بڑی کمی وقت کی ہوتی ہے اسی لیے قیادت کے پاس کسی بھی عمل اور اقدام کے درست نتائج اخذ کرنے، غلطیوں سے سیکھنے اور انہیں درست کرنے کے لیے لامحدود وقت موجود نہیں ہوتا۔ درست وقت پر درست عمل اور فیصلے ایسی کیفیات کا اولین تقاضا ہوتے ہیں۔
انتخابات کا سوال
بے شمار سیاسی کارکنان اور خود کو انقلابی کہلانے والے کمیٹی پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ کمیٹی کو تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کے لیے احتجاجی لانگ مارچ کی کال دینے کی بجائے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے تھا۔ ان کے خیال میں تحریکوں کا حتمی مقصد انتخابات کے ذریعے کچھ نئے چہروں کو اسمبلی تک کے پہنچانے کے علاوہ کچھ اور ہوتا ہی نہیں۔ تحریک کو اس وقت جس ریاستی جبر کا سامنا ہے اس کی جوازیت کی بنیاد پر وہ اپنے انتخابات میں حصہ لینے کے مؤقف کی درستگی کی زیادہ ہی چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ دیکھیں جی ہم کہتے تھے کہ انتخابی راستہ اپنانا چاہیے، ہماری بات مان لی جاتی تو یہ سب نہ ہوتا، اب سب کچھ ختم ہو جائے گا، سب برباد ہو جائے گا، ہم سب مارے جائیں گے، سیاست ختم ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔
انتخابات کے سوال کو دیکھا جائے تو یہ درست ہے کہ تحریکوں کے پاس انتخابی عمل میں شرکت کے ذریعے بھی جدوجہد کو آگے بڑھانے کا ایک راستہ موجود ہوتا ہے۔ انتخابات کسی بھی سماج میں بڑی عوامی تحریکوں اور انقلابات کی غیر موجودگی میں سب سے بڑی سیاسی سرگرمی ہوتی ہے جسے اپنے نظریات کے پرچار کے لیے لازمی استعمال کیا جانا چاہیے لیکن صرف بڑی تحریکوں اور انقلابی بغاوتوں کی عدم موجودگی میں! لاکھوں عوام کی ایک تحریک کو انقلاب کی بجائے انتخابی راستے پر لے جانا بد ترین اصلاح پسندی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو عوامی تحریک کے سماج کے رگ و ریشے میں سرائیت کر جانے کے باعث حاکمیت کا موجودہ ڈھانچہ مکمل طور غیر متعلقہ ہو چکا ہے۔ پارلیمانی پارٹیوں اور انتخابی ڈھونگ سے عوام کی نفرت حد سے بڑھ کر اس کو مکمل مسترد کر چکی ہے۔ دوسری جانب گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے احتجاج تحریک کا فطری اور ناگزیر تقاضا بن چکا تھا۔ تحریک کے موجودہ مرحلے کے عروج کے دوران حکمران طبقات نے بندوق کی نوک پر مختلف مراحل میں جو انتخابات منعقد کرائے اس قسم کے فریب اور جعلسازی کی دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسری مثال موجود ہو۔ انتخابات کو تحریک کے لیے بہترین راستہ قرار دینے والوں کے لیے یہ ننگی دھاندلی ایک بھیانک سبق ہے کہ تحریک کے عروج پر بھی حکمران اپنے گماشتوں کو حاکم بنانے کے لیے دھاندلی کی ہر حد پار چکے ہیں مگر ان کی اکثریت اس سے کچھ بھی اس لیے نہیں سیکھ سکتی کہ ان کے اعتراضات کا ماخذ تحریک کی عمومی بڑھوتری کی سوچ نہیں بلکہ خوف اور گروہی اور ذاتی مقاصد ہیں۔

اس بحث کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ کوئی بھی تحریک کبھی بھی ہمیشہ حکمرانوں کے بنائے ہوئے قوانین، ضابطوں اور ڈھانچوں کے اندر رہتے ہوئے، بغیر کسی خطرے کا سامنے کیے، سہل اور محفوظ راستوں سے بغیر حکمرانوں کی حاکمیت کے ڈھانچوں کو چیلنج کیے عوام کے مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ بنیادی بات یہی ہے کہ موجودہ نظام کے اندر اب تاریخی طور پر اتنی گنجائش باقی نہیں رہی کہ حکمرانوں کی لوٹ مار اور عیاشیاں بھی جاری رہیں اور عوام کے چند مسائل بھی حل کیے جا سکیں۔ انتخابات کے حامیوں کی تنقید اور حکمرانوں کی تنقید میں کوئی فرق نہیں چونکہ حکمران بھی یہی کہتے ہیں کہ انتخابات میں حصہ لیں اور اسمبلی کے ذریعے مسائل حل کریں۔ حکمران اس لیے ایسا کہتے ہیں کہ انتخابات کا تمام تر عمل ان کے اپنے کنٹرول میں ہے اور انہیں پختہ اور درست یقین ہے کہ ان انتخابات کے ذریعے عوام کے حق میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اس سے بڑامضحکہ خیز ”جمہوری“ المیہ کیا ہو گا کہ انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کے لیے جس فرد کو نامزد کیا گیا ہے وہ اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کا سربراہ تو دور کی بات وہ براہ راست انتخابی ڈھونگ کے ذریعے بھی ممبر اسمبلی منتخب نہیں ہوا بلکہ مخصوص نشست پر نامزد ہوا ہے۔ تمام تر نام نہاد جمہوری اقدار و روایات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ریاست نے اپنے ایک وفادار کو حکومت کا سربراہ بناکر اعلان کر دیا ہے کہ اس خطے میں جس کی اصل حاکمیت ہے جمہوریت، آئین، قانون سب اسی کے حکم کو بجا لانے کا نام ہے۔ ایک غیر منتخب فرد کو حکومت کا سربراہ بنائے جانے کے عمل سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ مذاکرات کی جو امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں وہ بھی پوری نہ ہو سکیں۔
قیادت کی حکمت عملی اور مستقبل
تحریک کی قیادت پر درست تنقید یہ ہے کہ لڑائی کے موجودہ مرحلے پر جس لمحے عوامی حکومت کے قیام کا امکان پیدا ہوا اس وقت اس کے لیے جدوجہد کرنے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے قیادت نے انقلابی لمحات ضائع کر دیے۔ قیادت عوامی طاقت اور اس کے انقلابی امکانات پر یقین رکھتے ہوئے لڑائی کو آگے بڑھانے سے زیادہ حکمران طبقات کے مختلف افراد کی حمایت پر انحصار کرتی ہے۔ اس تاریخی غلطی کی وجہ سے بالعموم پوری تحریک خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ قیادت جس محفوظ راستے کی تلاش میں تین ماہ سے بیٹھی ہے وہ حکمرانوں کے اپنے تحریک کو کچلنے کے آپریشن کی کلی یا جزوی ناکامی کا راستہ ہے۔ اس صورتحال میں اس قسم کے کسی درمیانی راستے کے امکانات نہ ہونے کے برابر یا انتہائی کم دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ میرپور ڈویژن کی متحرک عوام کا ایک بڑا حصہ دھرنوں میں موجود ہے مگر دھرنوں کے ایک ہی علاقے میں ہونے کے باعث تحریک کا زیادہ زور عملاً دو اضلاع تک محدود ہو چکا ہے اور حکمران بار بار مختلف راستوں سے فورسز داخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان دو اضلاع کا آپسی رابطہ بھی منقطع کرتے ہوئے دھرنوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے۔ بنیادی ضروریات کی محدود سی ترسیل کے عمل کو بھی معاشی ناکہ بندی زیادہ سخت کرتے ہوئے دھرنوں پر دباؤ مزید بڑھایا جا رہا ہے۔
یہ درست ہے کہ تحریک کا یہ مرحلہ اپنے اعلانات اور مقاصد کے حوالے سے محض پہلے سے تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کے لیے شروع ہوا تھااور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا بھی آغاز میں مؤقف یہی تھا۔ مگر تحریک کی بڑھوتری کے جن مراحل کی بالائی سطور میں وضاحت کی گئی ہے ان کا درست ادراک کرتے ہوئے انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے مؤقف کو برق رفتاری سے تبدیل ہوتے معروضی حقائق سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عوامی اقتدار کے جس مؤقف کو سامنے لایا ہے اس کا امکان لڑائی کے دوران پیدا ہوا۔ اس کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ 5 جولائی کے بعد مزید ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود درمیانی راستے کا وجود نہیں سامنے آ سکا اور تحریک تا حال ایک دوراہے پر نہ صرف کھڑی ہے بلکہ بے شمار قیمتی وقت اور توانائیاں مسلسل ضائع ہوتی جا رہی ہیں۔
عوامی اقتدار حاصل کرنے کے سوال کو اسے قائم رکھنے کی مشکلات اور مسائل کی بنیا دپر رد کرنے والے لوگوں کا شمار ایسی مخلوق میں ہوتا ہے جو انقلاب کو دنیا کے خاتمے تک مؤخر کرنے کے جواز گھڑنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں اس لیے ایسی مخلوق کے اعتراضات کا جواب دینا محض وقت کا ضیاع ہے۔ مگر مسائل اور مشکلات کی عمومی طور پر بات کی جائے تو تحریکوں اور انقلابات کو مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان مسائل و مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ہی تحریکیں اور انقلابات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ تحریک کے موجودہ مرحلے کی انتہائی طوالت کسی کارکن یا قیادت کے کسی بھی فرد کے ذہن میں نہیں تھی لیکن اس کے باوجود تحریک کی انقلابی اٹھان اور اجتماعی لڑائی کے شعور نے باہمی تعاون اور قربانی کے ایسے ان دیکھے احساس اور جذبے پیدا کر دیے جن کے باعث ناممکن دکھائی دینے والی مشکلات اور مسائل بھی حل کر دیے گئے۔
تحریک کی قیادت آگے بڑھنے اور معروضی طور پر تحریک کے تقاضوں سے ہم آہنگ لڑائی کا مطلق کوئی ارادہ اس لیے نہیں رکھتی کہ وہ اس تقاضے کا ادراک حاصل کرنے سے ہی قاصر ہے جبکہ حکمران طبقات تحریک کو محفوظ راستہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جس میں دھرنے بدستور جاری ہیں جبکہ حکمرانوں کی جانب سے مذاکرات کے مبہم پیغامات کے ساتھ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تحریک کے اس مرحلے کا فوری انجام مکمل واضح نہیں ہے بلکہ کچھ ممکنہ صورتیں ہیں جن میں سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک امکان یہ ہے کہ اس وقت عوام نے دھرنوں کی حفاظت کے لیے جن علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے ان پر عوام کا کنٹرول برقرار رہے تو شاید اگلے ہفتوں میں ایک یا دوسری صورت میں حکمرانوں کو درمیانی راستہ نکالنے پر مجبور ہونا پڑے۔ اس کی وجوہات یہ ہیں کہ کم از کم نئی فورسز کو داخل کرنے کے خلاف ابھی تک بڑی مزاحمت موجود ہے اور دھرنوں کو منتشر کرنے کے لیے محدود قتل عام کی حکمرانوں کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ دھرنوں کی تمام تر طوالت سے جنم لینے والی تھکن کے باوجود عوام ابھی تک لڑنے کے لیے تیار اور پسپا ہونے سے انکاری ہیں۔ لیکن یہ صورتحال اپنے موجودہ توازن کے ساتھ لمبا عرصہ برقرار نہیں رہ سکتی۔
حکمرانوں کو کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے بغیر دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے شاید تھوڑا زیادہ انتظار کرنا پڑے۔ عوام کے شعور میں یہ خیال مکمل راسخ ہو چکا ہے کہ پیچھے ہٹنے کی صورت میں ہماری اجتماعی موت ہے اسی لیے وہ آخری حد تک یہ لڑائی لڑنے اور قربانی دینے کو تیار ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ننگے جبر، جس میں سینکڑوں یا ہزاروں معصوم انسانوں کا خون بہایا جائے، کے ذریعے دھرنوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس قسم کی پالیسی کے نتائج پہلے سے معلوم نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی اس کے رد عمل کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا جا سکتا ہے اسی لیے حکمران طبقات بھی ابھی تک اس راستے کو اپنانے کی بجائے بتدریج دباؤ بڑھانے اور گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کمیٹی درمیانی راستہ نہ ملنے کی صورت میں ایک بار پھر مارچ کو آگے بڑھانے کی ایک آخری نیم دلانہ کوشش کرنے پر مجبور ہو جائے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی یہ واضح کرتی ہے کہ لڑائی سے دستبردار ہونے کی پالیسی کی بجائے جدوجہد جاری رکھنے کا عمل نسبتی طور پر درست ہے مگر یہ درستگی مشروط ہے۔ تین ماہ سے جاری ریاستی طرز عمل سے اگر نتائج اخذ کرتے ہوئے تحریک کے ناگزیر تقاضوں کا ادراک نہیں کیا جاتا اور محض ایسے مذاکرات کا انتظار جاری رکھا جاتا ہے جن کے ہونے کے امکانات ابھی تک ناپید ہیں تو یہ صورتحال بالعموم تحریک کے لیے زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے۔ دھرنے اور لاک ڈاؤن پہلے ہی طوالت کے باعث عوام کی اکثریت کی توانائیوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرتے جا رہے ہیں۔

تحریک کے اس مرحلے کا جس بھی طریقے سے اختتام ہو ایک بات طے ہے کہ کشمیری عوام کی یہ اجتماعی بغاوت رائج الوقت نظام کی حدود کے اندر دوبارہ مقید نہیں کی جا سکے گی۔ اس نظام کی حاکمیت کو تحریک سے پہلے کے معمول کے طریقوں سے مسلط کیے رکھنا بھی ممکن نہیں رہا۔ ریاست کو پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑے پیمانے کے جبر کو سماج پر مستقل مسلط کرنا پڑے گا۔ عوامی تحریک کو جنم دینے والے حالات نہ صرف موجود رہیں گے بلکہ اس نظام کے زوال کے باعث ان میں اضافہ ہو گا اور دوسری جانب بڑھتا ہوا ریاستی جبر جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کشمیر کی یہ تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف دنیا بھر میں ابھرنے والی محنت کشوں کی بغاوتوں کے نامیاتی کل کا ایک جزو ہے۔ عالمی سطح پر اس نظام کے خلاف بغاوتوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرے گا اور یہ بغاوتیں پھر کشمیر کے عوام کو لڑنے کا نیا حوصلہ اور شکتی کے ساتھ تجربات کا بیش قیمت خزانہ بھی فراہم کریں گی۔
کشمیر کی تحریک سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں ابھرنے والی تحریکوں کی موضوعی کمزوریوں کے ساتھ ایک بڑی کمزوری ان تحریکوں کا پاکستان کے زیر کنٹرول علاقوں کے الگ الگ اور پسماندہ علاقوں تک محدود ہو کر رہ جانا بھی ہے۔ شہری اور بڑے صنعتی و تجارتی مراکز میں تحریک کی عدم موجودگی اور ان علاقائی تحریکوں کے حق میں بڑے پیمانے پر متحرک عوامی حمایت نہ ہونے کے باعث نہ صرف ریاست کے لیے ان تحریکوں کو کچلنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے بلکہ اسی وجہ سے ان تحریکوں میں عارضی طور پر قوم پرستانہ مؤقف بھی غالب آ جاتا ہے۔ تحریکوں کے ابھار کا یہ عمل اپنی تمام تر ناہمواری کے غالب پہلو کے ساتھ اپنے باطن میں ایک اشتراک کی نامیاتی خصوصیت بھی رکھتا ہے جس کا جلد یا بدیر لازمی سطح پر اظہار ہو گا۔ لیکن ان تحریکوں کی سب سے بڑی کمزوری موضوعی یعنی انقلابی نظریات، پروگرام اور انقلابی پارٹی کی کمزوری ہے۔ کشمیر کی تحریک کے مختلف مراحل اور حالیہ عظیم عوامی جدوجہد کے اسباق یہی ہیں کہ تحریک کے سبھی با شعور اور متحرک حصے سرمایہ داری کے خاتمے کے واحد انقلابی نظریے ”کمیونزم“ کو سیکھیں اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کے فریضے کو آگے بڑھاتے ہوئے سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد اور نسل انسانی کی نجات کے تاریخی فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔