کمیونسٹ سے پوچھیے: فلسفہ پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

|تحریر: آفتاب اشرف| اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کو اپنی روز مرہ کی زندگی گزارنے کے لئے فلسفے کا علم ہونا ضروری ہے تو ایسا نہیں ہے۔روز مرہ زندگی کے تمام بنیادی افعال فلسفے کی جانکاری کے بغیر بھی بخوبی ادا کئے جا سکتے ہیں اور سماج کی ایک بھاری اکثریت ایسا ہی […]
خاندان، اخلاقیات اور طبقاتی جنگ
مذکورہ بالا اقتباس میں بین السطور اخلاقیات کی تعریف سماجی علوم کی ایک شاخ کے طور پر کی گئی ہے۔ بورژوا تعلیم سے پراگندہ کوئی بھی ذہن اس تعریف پر معترض ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بورژوا تعلیم میں ان آفاقی قوانین یا اصولوں کے نظام کو اخلاقیات کہا جاتا ہے جو انسانی افعال اور رویوں […]
جنگ کے سوال پر کمیونسٹ مؤقف
اصل دشمن گھر میں ہے۔ (لینن/ کارل لائیبنیخت) جنگ دیگر ذرائع سے سیاست کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔ (کارل وان کلازویٹز) جنگ کا لفظ سنتے ہی ہر عام انسان وحشت زدہ ہو جاتا ہے۔ کٹی پھٹی لاشوں، بکھرے انسانی اعضاء، بارود اور جلتے گوشت کی بدبو، تباہ حال شہروں، برباد زندگیوں پر مشتمل ایک پورا […]
کوانٹم میکینکس کی کوپن ہیگن تشریح کے خلاف: مارکسزم کے دفاع میں
کوانٹم میکینکس سائنس کا وہ حصہ ہے جو ایٹم اور ذرات کی سطح پر مادے کی حرکت کا مطالعہ کرتا ہے۔ یہ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں سائنس دانوں کا تجرباتی اور نظریاتی جواب تھا اُن تضادات کے لیے جو انیسویں صدی کی فزکس میں اُبھرے تھے۔ کوانٹم میکینکس نے سائنس دانوں اور انجینئرز […]
لینن کی کتاب”کیا کیا جائے؟“ کیوں پڑھنا ضروری ہے؟
|تحریر: عثمان سیال| آج لینن کی کتاب ”کیا کیا جائے؟“ پر یہ تحریر ایسے وقت میں لکھی جا رہی ہے جب دنیا دیوہیکل انقلابی تحریکوں کی گرداب میں ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بیشمار تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایک ملک کی حکومت کے خاتمے کی خبریں بریکنگ نیوز میں چل رہی ہوتیں ہیں […]
انقلابی تحریکیں اور سوشل میڈیا!
|تحریر: ثاقب اسماعیل| عرب بہار سے لے کر جنوبی ایشا کی حالیہ انقلابی تحریکوں تک جنریشن زی نے نا صرف اپنے غم و غصے کے اظہار کا آغاز سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کیا بلکہ احتجاجوں کو منظم کرنے کے لیے بھی ان کا سہارا لیا۔ ہیش ٹیگز، ریلز اور مختلف گروپوں اور چینلوں کے […]
انٹرنیشنلزم کیوں ضروری ہے؟
|تحریر: زلمی پاسون| ”دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!“، یہ کمیونسٹوں کا محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک طبقاتی نظریہ، ایک انقلابی فریضہ اور عالمی سطح پر محنت کش طبقے کی نجات کی سمت ایک رہنما اصول ہے۔ سرمایہ دارای چونکہ عالمی نظام ہے اس لیے اس کے خلاف محنت کش طبقے کی […]
دنیا بھر میں ہونے والے سماجی دھماکے اور پیٹی بورژوا دانشوروں کی انقلاب دشمنی
|تحریر: آفتاب اشرف| 2011ء کی عرب بہار سے لے کر حال ہی میں نیپالی نوجوانوں کی انقلابی تحریک تک، پچھلی ڈیڑھ دہائی کی تاریخ سرمایہ دارانہ نظام کے عالمی نامیاتی بحران سے پیدا ہونے والی غربت، مہنگائی، بیروزگاری، جبری کٹوتیوں، لا علاجی اور دیگر معاشی، سماجی و سیاسی مسائل کیخلاف کرۂ ارض کے طول و […]
بالشویک اقتدار میں
ملک کی زندگی میں اور فرد کی زندگی میں وہ غیر معمولی دن تھے۔ سماجی اور ذاتی جذبات میں تناؤ عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ عوام ایک داستان رقم کر رہے تھے۔ رہنما تاریخ کے قدموں پر قدم رکھ کر چل رہے تھے۔ مارکسزم کا خیال ہے کہ وہ تاریخ کے لاشعوری عمل کا شعوری […]
نومبر 1917ء: انقلاب کی فیصلہ کن رات
انقلاب کا قطعی وقت آ پہنچا تھا۔ سمولنی (مجلس عاملہ کا دفتر) کو ایک قلعے میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ اس کی چھتوں پر دو درجن مشین گن نصب کر دی گئی تھیں۔ یہ پرانی مجلس عاملہ کی روایت تھی۔ سمولنی کا کمانڈ نیٹ کیپٹن گریکوف ایک بہادر سپاہی تھا۔ 24اکتوبر (رائج کیلنڈر کے […]