عالمی مالیاتی بحران اور دہکتی دنیا

سرمایہ دارانہ نظام جانکنی کے عالم میں ہے۔ یہ کوئی معمولی بحران نہیں بلکہ ایک نامیاتی بحران ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ ایک نئی عالمی کساد بازاری کا آغاز ہوچکا ہے جوکہ 1930ء کی دہائی سے بھی بدتر ہے۔بدترین کٹوتیاں اور گرتا معیار زندگی ناگزیر ہیں۔

سوشلسٹ انقلاب ہی نجات کا واحد رستہ ہے!

سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی آج پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے اور دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک بھی بد ترین بحران کا شکار ہیں۔ عالمی منڈیاں بد ترین گراوٹ کا شکار ہیں اور دیوہیکل معیشتیں گھٹنوں کے بل چل رہی ہیں

سرمایہ داری کی تاریخ کے بدترین بحران کا آغاز

کروناوبا کے پوری دنیا میں پھیلاؤ نے ایک عالمی کساد بازاری کا آغاز کر دیا ہے۔ حکمران طبقہ معیشت پراس خطرناک دھچکے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو اپنی تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔