واپڈا لائن مینوں کی پے درپے ہلاکتیں، ریاستی نااہلی اور یونین قیادت کی موقع پرستی
لائن مینوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے موجودہ لائن مینوں سے 12 سے 16 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ لگاتار کام اور تھکاوٹ کی وجہ سے بھی حادثات جنم لیتے ہیں۔ صارفین کی تعداد اور نئی یارڈ سٹک کے مطابق نئی بھرتیاں کرکے حادثات کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔
پاکستان: آئی ایم ایف کے احکامات پر سرکاری ملازمین کی نوکریوں اور پنشن پر ڈاکہ
کرونا وبا، عوام دشمن حکمران اور شعبۂ صحت کے محنت کش
ملک بھر کے ہیلتھ ورکرز کو اپنی بقا کی خاطر خود متحرک ہو نا پڑے گا۔ جہاں پر نسبتاً بہتر قیادتیں موجود ہیں وہاں ان قیادتوں پر ریڈیکل اقدامات کے لئے دباؤ ڈالنا ہو گا اور جہاں قیادت موقع پرستی کی دلدل میں بالکل غرق ہو چکی ہے وہاں نئی، لڑاکا اور دیانت دار قیادت تراشنی ہو گی
انقلابی تحریک سے حاملہ پاکستان
پاکستانی ریاست کی حالت اس وقت اس گاڑی کی سی ہو گئی ہے جس کی بریکیں فیل ہو چکی ہیں اور وہ برق رفتاری سے کسی اندھی کھائی کی طرف گامزن ہے۔ پولیس، عدلیہ، افسر شاہی، پارلیمان، فوج اور خاندان سمیت ریاست کے تمام ادارے گلنے سڑنے کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ عمل مزید تکلیف دہ اور پر انتشار ہوتا چلا جا رہا ہے
اداریہ ورکر نامہ: ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے!
پاکستان: 3500 پی آئی اے ملازمین پر برخاستگی کا شب خون۔۔ پی آئی اے کی نجکاری نامنظور!
پی آئی اے میں جبری برطرفیوں کا عمل تیزی سے جاری ہے اور پی آئی اے ملازمین کاروزگار چھینا جار ہا ہے۔ کنٹریکٹ ملازمین کے کنٹریکٹ بحال نہیں کئے جا رہے اور انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے
پختونخواہ: امیر تہکالی پربد ترین ریاستی تشدد کیخلاف ہزاروں افراد کے احتجاجی مظاہرے
ڈیرہ غازی خان:60 سالہ بزرگ خاتون شوہر اور بیٹوں کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل
طبقاتی محرومی، پسماندگی، ریاستی آشیر آباد سے پروان چڑھائی جانے والی مذہبی رجعتیت کی یلغار اور جاہلانہ رسوم و روایات نے خواتین کے خلاف ایک انتہائی زہریلے تعصب کو پروان چڑھایا ہے جس کا اظہار ہمیں ہر وقت ہوتا ہوا نظر آتا ہے
قلعہ سیف اللہ: غیرت کے نام پر خاتون کا بہیمانہ قتل؛آئیں ظلم کے اس نظام کو ختم کریں!
پاکستان: سرمایہ داروں کا بجٹ اور ابھرتی عوامی مزاحمت
ماضی کے ہر بجٹ کی طرح عالمی سامراجی مالیاتی اداروں کے گماشتہ حکمرانوں اور ریاستی اشرافیہ کی جانب سے پیش کیے گئے اس بجٹ میں بھی ملکی و غیر ملکی سرمایہ داروں کو کھل کر نوازا گیا ہے جبکہ محنت کش عوام کے لیے یہ محض استحصال، لوٹ کھسوٹ، غربت، مہنگائی، بیروزگاری، نجکاری، لاعلاجی، ناخواندگی اور بے گھری میں اضافے کا ایک پروانہ ہے