جبری گمشدگیاں، جابر ریاستیں اور ابھرتی عوامی تحریکیں
بے روزگاری کی وبا اور ریاست کی انسان دشمنی
حیات بلوچ کے بہیمانہ ریاستی قتل کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک!
سرکاری ملازمین کی پنشن پر ڈاکے کی تیاریاں۔۔عمران خان نے پردہ فاش کر دیا!
دادو: پانی، سیلاب اور غریب عوام
کشمیر: 5 اگست کی ظلمت کا ایک سال
چمن: ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتے ہیں، پُرامن احتجاج کرنے والوں کا خون رائیگاں نہیں جائیگا!
ریل مزدوروں کی حالیہ جدوجہد۔۔نتائج اور اسباق
ریل مزدوروں کی اس تحریک میں بہت دم تھااور اسے دیگر عوامی اداروں کے محنت کشوں کی حمایت بھی مل رہی تھی اور اس تمام صورتحال سے حکومت پر ٹھیک ٹھاک دباؤ بھی پڑ رہا تھا۔اگر تحریک اپنے طے شدہ پلان کے مطابق آگے بڑھتی تو نہ صرف بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا
جمہوری آزادیوں پر پابندی نامنظور۔۔ریاستی جبر مردہ باد!
پروگریسو یوتھ الائنس اور ریڈ ورکرز فرنٹ عوام کی جمہوری آزادیوں پر ہر قسم کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام جبری طور پر اغوا کیے گئے سیاسی و سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور آئندہ کے لیے اس طرز کی غیر آئینی اور آمرانہ پالیسیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے
بلوچستان:کوئلہ کانیں یا قبرستان؟ سال 2020ء کے سات مہینوں میں 60 کانکن جاں بحق
بلوچستان میں کول مائنز اونرز، ٹھیکیدار، نام نہاد لیبر قیادت سمیت ان تمام تر حادثات اور واقعات میں ریاستی غفلت، نااہلی اور بے حسی میں برابر کے شریک ہیں۔ حادثے کے بعد کچھ وقت کے لیے یہ تمام لوگ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں، مگر درحقیقت ان حادثات کی روک تھام نہ کرنے پر ان تمام لوگوں کا گٹھ جوڑ واضح ہے