جمہوری آزادیوں پر پابندی نامنظور۔۔ریاستی جبر مردہ باد!

پروگریسو یوتھ الائنس اور ریڈ ورکرز فرنٹ عوام کی جمہوری آزادیوں پر ہر قسم کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام جبری طور پر اغوا کیے گئے سیاسی و سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور آئندہ کے لیے اس طرز کی غیر آئینی اور آمرانہ پالیسیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے

بلوچستان:کوئلہ کانیں یا قبرستان؟ سال 2020ء کے سات مہینوں میں 60 کانکن جاں بحق

بلوچستان میں کول مائنز اونرز، ٹھیکیدار، نام نہاد لیبر قیادت سمیت ان تمام تر حادثات اور واقعات میں ریاستی غفلت، نااہلی اور بے حسی میں برابر کے شریک ہیں۔ حادثے کے بعد کچھ وقت کے لیے یہ تمام لوگ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں، مگر درحقیقت ان حادثات کی روک تھام نہ کرنے پر ان تمام لوگوں کا گٹھ جوڑ واضح ہے

واپڈا لائن مینوں کی پے درپے ہلاکتیں، ریاستی نااہلی اور یونین قیادت کی موقع پرستی

لائن مینوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے موجودہ لائن مینوں سے 12 سے 16 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ لگاتار کام اور تھکاوٹ کی وجہ سے بھی حادثات جنم لیتے ہیں۔ صارفین کی تعداد اور نئی یارڈ سٹک کے مطابق نئی بھرتیاں کرکے حادثات کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔

کرونا وبا، عوام دشمن حکمران اور شعبۂ صحت کے محنت کش

ملک بھر کے ہیلتھ ورکرز کو اپنی بقا کی خاطر خود متحرک ہو نا پڑے گا۔ جہاں پر نسبتاً بہتر قیادتیں موجود ہیں وہاں ان قیادتوں پر ریڈیکل اقدامات کے لئے دباؤ ڈالنا ہو گا اور جہاں قیادت موقع پرستی کی دلدل میں بالکل غرق ہو چکی ہے وہاں نئی، لڑاکا اور دیانت دار قیادت تراشنی ہو گی

انقلابی تحریک سے حاملہ پاکستان

پاکستانی ریاست کی حالت اس وقت اس گاڑی کی سی ہو گئی ہے جس کی بریکیں فیل ہو چکی ہیں اور وہ برق رفتاری سے کسی اندھی کھائی کی طرف گامزن ہے۔ پولیس، عدلیہ، افسر شاہی، پارلیمان، فوج اور خاندان سمیت ریاست کے تمام ادارے گلنے سڑنے کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ عمل مزید تکلیف دہ اور پر انتشار ہوتا چلا جا رہا ہے

ڈیرہ غازی خان:60 سالہ بزرگ خاتون شوہر اور بیٹوں کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل

طبقاتی محرومی، پسماندگی، ریاستی آشیر آباد سے پروان چڑھائی جانے والی مذہبی رجعتیت کی یلغار اور جاہلانہ رسوم و روایات نے خواتین کے خلاف ایک انتہائی زہریلے تعصب کو پروان چڑھایا ہے جس کا اظہار ہمیں ہر وقت ہوتا ہوا نظر آتا ہے