|تحریر: آفتاب اشرف|

پچھلے چند سالوں میں دنیا بھر میں پھیلتی سامراجی قتل و غارت گری خاص کر روس یوکرائن جنگ، غزہ اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت، گرین لینڈ پر تسلط قائم کرنے کے امریکی عزائم، وینزویلا پر مارا جانے والا امریکی شب خون، یورپ سے لے کر مشرق بعید تک اسلحے کی ایک نئی دوڑ کا آغاز، سوڈان سے لے کر لیبیا تک سامراجی پشت پناہی کے ساتھ جاری خانہ جنگیاں اور حالیہ عرصے میں ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ سامراجی جنگ نے ایک بار پھر سامراج کے مظہر کو عوامی اور بائیں بازو کے حلقوں میں موضوع بحث بنا دیا ہے۔ اس ساری بحث کا ایک انتہائی اہم اور بنیادی نکتہ لگ بھگ دو دہائیوں سے مسلسل چلے آ رہے عالمی سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کے پس منظر میں امریکی سامراج کا نسبتی زوال ہے جو چین کے ساتھ اپنی ہی شروع کردہ تجارتی جنگ میں شرمندگی اٹھانے سے لے کر عراق، افغانستان، شام اوریوکرائن کے محاذوں پر ہونے والی ناکامی اور فوجی ہزیمت کے بعد اب ایران جنگ میں ہونے والی عبرتناک شکست سے بالکل واضح ہو چکا ہے۔ دوسری طرف برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسی یورپی سامراجی قوتیں تو درحقیقت کب کا اپنا عالمی سامراجی اثر و رسوخ کھو چکی تھیں اور انہوں نے اپنا بھرم امریکی بیساکھیوں کے سہارے ہی قائم رکھا ہوا تھا۔ لیکن اب امریکی پسپائی کے نتیجے میں نیٹو میں بھی پھوٹ پڑ چکی ہے اور یورپی سامراجیوں کو عالمی معاملات میں اپنی اصل اوقات کا بخوبی اندازہ ہو رہا ہے۔ دیگر الفاظ میں دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ دارانہ معیشت اور تاریخ کی سب سے بڑی عسکری قوت ہونے کے کارن اگرچہ امریکہ آج بھی دنیا کی اولین سامراجی طاقت ہے لیکن اگر اس کا تقابل اس کے اپنے ہی ماضی کے ساتھ کیا جائے تو پچھلے کافی عرصے سے یہ روبہ زوال ہے۔ نتیجتاً سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی سربراہی میں قائم ہونے والا یونی پولر لبرل ورلڈ آرڈر بڑی تیزی کے ساتھ ٹوٹ کر بکھر رہا ہے اور اس کے چھوڑے ہوئے خلا میں نوجوان چینی سامراج جیسی عالمی اور روس جیسی بڑی علاقائی سامراجی قوتیں ابھرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مزید برآں ہمیں ترکی، سعودی عرب، انڈیا اور یو اے ای جیسی درمیانے درجے کی سامراجی قوتیں بھی نظر آتی ہیں جو اس ساری صورتحال میں اپنا عالمی اور خاص کر علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے میں جتی ہوئی ہیں۔
ایسے میں ہمیں سامراج کے موضوع پر بائیں بازو کے فیشن ایبل حلقوں میں ہونے والی بحثوں میں ”ملٹی پولر ورلڈ آرڈر“ اور ”گلوبل ساؤتھ کا اتحاد“ جیسی نت نئی اصطلاحات سننے کو ملتی ہیں جو ایک طرف تو مغربی سامراجی قوتوں کے بطن میں جاری زبردست طبقاتی تصادم کو نظر انداز کرتے ہوئے ان ممالک کے محنت کش طبقات سمیت پورے سماج کو ہی ”سامراج“ کا لیبل لگا دیتی ہیں اور دوسری طرف روس اور خاص کر چین جیسے ممالک کی سرمایہ دارانہ معیشت و ریاست، ان میں موجود شدید طبقاتی تفاوت اور اس کے خلاف وہاں کے محنت کش عوام کی جدوجہد، ان کے ابھرتے سامراجی کردار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے انہیں بطور ”مظلوم“ ممالک کے پیش کیا جاتا ہے۔ اپنے اس مؤقف کو جواز دینے کی خاطر بائیں بازو کے بعض نوزائیدہ دانشور تو چینی معیشت و ریاست کے سرمایہ دارانہ و سامراجی کردار، جس کا تفصیلی مارکسی تجزیہ ہم اپنی دیگر تحریروں میں کر چکے ہیں، سے یکسر انکار کر دیتے ہیں اور نام نہاد ”چینی خصوصیات والے سوشلزم“ کی جگالی کرتے رہتے ہیں جبکہ بعض امریکہ کے مقابلے میں چین و روس کی حمایت کو ”کمتر برائی“ کے طور پر درست سمجھتے ہیں۔ درحقیقت یہ سب گھسے پٹے ”کیمپ ازم“ کے سوا کچھ نہیں ہے جس کے تحت سامراجی ڈاکوؤں کے ایک گروہ کے مقابلے میں دوسرے کی حمایت کی جاتی ہے۔ یقیناً دو متحارب سامراجی کیمپوں کی باہم لڑائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی سے لے کر عالمی سطح تک محنت کشوں کے طبقاتی مفادات کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں کوئی حرج نہیں اور لینن بھی اس پالیسی کا حامی تھا لیکن ایسا کرنے میں اور کسی ایک سامراجی کیمپ کا حصہ بن جانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس غلط اپروچ کا سب سے بڑا نقصان عالمی مزدور تحریک میں پھوٹ کی صورت میں نکل سکتا ہے جیسا کہ آج کل عالمی محنت کش طبقے کو شمال اور جنوب یا مشرق اور مغرب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی شعوری یا لاشعوری کوششوں سے واضح ہے۔ اسی طرح چونکہ یہ دانشور حضرات جدید سامراج کی معاشی بنیاد کو نظر انداز کر کے اپنی ساری توجہ اس کے فوجی، سیاسی اور ثقافتی پہلوؤں پر مرکوز رکھتے ہیں، لہٰذا پاکستان جیسے ممالک میں سامراج کے خلاف جدوجہد کو سرمایہ داری کے خاتمے یعنی ”اپنی“ بورژوازی اور ریاست، جو زیادہ تر پسماندہ ممالک میں سامراج کی گماشتہ ہوتی ہے، کے خلاف جدوجہد سے بالکل کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے بلکہ محنت کش عوام کو کبھی ”قومی خود مختاری“ کے نام پر تو کبھی ”کہیں انتشار سے سامراج فائدہ نہ اٹھا لے“ سے خوفزدہ کر کے انہیں بالواسطہ طور حکمران طبقے اور ریاست کی اطاعت گزاری کا درس دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی یہ دانشور کبھی بھی سامراج کی معاشی بنیاد کو چیلنج کرتے نہیں پائے جاتے اور اپنی ساری تنقید کو ثانوی معاملات یا ایک سامراجی کیمپ کے مقابلے میں دوسرے کی حمایت تک محدود رکھتے ہیں۔ لیکن بطور مارکس وادی ہم سمجھتے ہیں کہ اس ساری کنفیوژن اور پراگندگی کی بنیاد میں جدید سامراج کے مظہر کی ناکافی، غیر جدلیاتی اور سطحی سمجھ بوجھ کا گہرا عمل دخل ہے جو سامراجیت کو محض طاقتور مغربی ممالک کی کمزور ممالک کے خلاف فوجی جارحیت تک محدود کر دیتی ہے۔ ایسے میں اس موضوع پر 1916ء میں پہلی عالمی جنگ کے دوران لکھی جانے والی لینن کی کلاسیکی تصنیف ”سامراج: سرمایہ داری کی آخری منزل“ کی اہمیت اور بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ کتاب آج بھی مارکسی یعنی مادی جدلیات کے نقطہ نظر سے سامراج کے تجزیے اور اس کے خلاف جدوجہد کا لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے نظریاتی فریم ورک مہیا کرنے والی سب سے شاندار تحریر ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں کہ نام نہاد گلوبل ساؤتھ کا راگ الاپنے والے فیشن ایبل دانشوروں کی جانب سے خاص طور پر لینن کی اس تصنیف پر مسلسل تنقید کی جا رہی ہے اور اسے سامراج کے مظہر کے متعلق مارکسی بنیادوں پر ایک عمومی تھیوری پیش کرنے والی تحریر کی بجائے محض ایک ”وقتی تجزیہ“ بتایا جا رہا ہے جو صرف بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کے لیے ہی موزوں تھا۔ درحقیقت اس مضمون کا بنیادی مقصد ہی لینن کے ان ناقدوں کو اس کے اپنے الفاظ میں جواب دینا ہے۔ کتاب کے مندرجات پر جانے سے قبل اگرچہ میرا جی للچا رہا ہے کہ میں لینن کے میتھڈ پر علیحدہ سے بات رکھوں لیکن میرے خیال میں سامراج پر لینن کے تجزیے کو ترتیب وار پیش کرنا قاری کے سامنے خود بخود لینن کے میتھڈ کو آشکار کر دے گا۔ میں نے ریفرنس کے طور پر دارالاشاعت ماسکو سے 1960ء میں لینن کی تین جلدوں میں چھپنے والی منتخب تصانیف کا استعمال کیا ہے، زیر بحث کتاب جس کی جلد اول میں شامل ہے۔ مزید برآں اگرچہ لینن کی کتاب میں سامراج کے حوالے سے معاشی و دیگر پہلوؤں پر بہت زیادہ اعداد و شمار موجود ہیں جو اس نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ اکٹھے کیے تھے لیکن یہ چونکہ اب ایک صدی سے زیادہ پرانے ہو چکے ہیں، لہٰذا میں قاری پر ان کی بھرمار کرنے کی بجائے بحث کو سمیٹتے ہوئے موجودہ عہد سے تازہ اعداد و شمار پیش کروں گا تاکہ قاری لینن کے تجزیے کی درستی کو آج کے حقائق کی روشنی میں پرکھ سکے۔
پیداوار اور سرمائے کا ارتکاز؛ اجارہ دارانہ سرمایہ داری
لینن نے جدید سامراج کے اپنے تجزیے کا آغاز اس کی اہم مگر ثانوی خصوصیات جیسے کہ سیاسی، فوجی اور سفارتی پالیسیوں پر بحث کرنے کی بجائے اس مادی یعنی معاشی بنیاد کی دریافت سے کیا جو کہ حتمی تجزیے میں اس کی باقی تمام پالیسیوں کو تشکیل دیتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کوئی سیدھی لکیر کا یک رخا میکانکی تعلق نہیں ہوتا بلکہ ایک دو طرفہ جدلیاتی رشتہ ہوتا ہے جس میں تمام عوامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اگرچہ کہ حتمی تجزیے میں فیصلہ کن عنصر معاشی بنیاد کا ہی ہے۔
لینن کے مطابق جدید سامراج کا بنیادی ترین خاصہ اجارہ دارانہ سرمایہ داری ہے۔ وقت کے ساتھ سرمایہ دارانہ ارتقا کی اپنی نامیاتی حرکیات کے تحت ہونے والے پیداوار اور سرمائے کے ارتکاز (concentration) نے ہر شعبے میں اجارہ داریوں کو جنم دیا جن کی بنیاد پر جدید سامراج ظہور پذیر ہوا۔ مختصر ترین الفاظ میں جدید سامراج، سرمایہ داری کی اجارہ دارانہ منزل ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ لینن سامراج کے متعلق اس نظریاتی فریم ورک کو کیسے پروان چڑھاتا ہے۔
”صنعت کی زبردست نشوونما اور برابر بڑھتے ہوئے بڑے کارخانوں میں پیداوار کا نمایاں اور تیز ارتکاز سرمایہ داری کی سب سے اہم خصوصیات میں سے ایک ہے۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ اپنے ارتقا کے ایک مخصوص مرحلے پر ارتکاز از خود اجارہ داری کی جانب لے جاتا ہے کیونکہ چند درجن بڑے کارخانے آسانی سے آپسی سمجھوتہ کر سکتے ہیں اور دوسری طرف مسابقت کے راستے میں رکاوٹ، اجارہ داری کی طرف رجحان بذات خود صنعتوں کے بہت بڑے ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مقابلہ بازی کی اجارہ داری میں یہ تبدیلی اگر جدید سرمایہ دارانہ معیشت کی اہم ترین نہیں تو سب سے اہم خصوصیات میں سے ایک ہے۔“ (صفحہ نمبر 720-21)
آگے چل کر وہ ارتکاز کے تحت ایک ہی صنعت کی مختلف شاخوں یا پھر مختلف صنعتوں کے ایک ہی بڑی انٹرپرائز میں اکٹھے ہو جانے کے فوائد جیسے کہ سپلائی چین کے ہموار ہونے کے کارن منافعوں میں استحکام، مسابقت کے خاتمے، تکنیکی برتری اور غیر معمولی منافعوں کا حصول اور نتیجتاً علیحدہ علیحدہ رہنے والے کارخانوں پر حاصل شدہ برتری کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”اپنے ارتقا کے اس انتہائی مرحلے میں سرمایہ داری کا ایک اور اہم خاصہ پیداوار کا یکجا ہو جانا ہے یعنی کہ صنعت کی مختلف شاخوں کا ایک ہی انٹرپرائز میں اکٹھا ہو جانا جو یا تو خام مال کی تیاری کے مختلف مراحل کی نمائندگی کرتی ہیں (جیسے خام دھات کو پگھلا کر کچا لوہا تیار کرنا، کچے لوہے کو فولاد میں تبدیل کرنا اور پھر شاید فولاد کی اشیاء تیار کرنا) یا ایک دوسرے کی معاون ہوتی ہیں (جیسے بائی پراڈکٹ سے پیکنگ کا سامان تیار کرنا وغیرہ)۔“ (صفحہ نمبر 721)
بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے لینن ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھاتا ہے اور وضاحت کرتا ہے کہ اجارہ داری نہ تو آسمان سے ٹپکی ہے اور نہ ہی یہ چند حکمرانوں اور سرمایہ داروں کی’’غلط“ پالیسیوں کا نتیجہ ہے بلکہ اس کا جنم سرمایہ داری کے آزاد مسابقت پر مبنی سابقہ مرحلے کے دوران ہونے والے پیداوار اور سرمائے کے ارتکاز کے ہی کارن ہوا ہے۔ اور ایسا ہونا بھی کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ سرمائے کی حرکیات کے آہنی قوانین، جنہیں مارکس نے اپنی داس کیپیٹل میں تفصیل سے بیان کیا ہے، کے تحت ایسا ہونا ناگزیر تھا۔ جدلیاتی منطق کی زبان میں بات کی جائے تو اجارہ دارانہ سرمایہ داری، آزاد مسابقت کی سرمایہ داری کی جدلیاتی نفی تھی۔
”نصف صدی قبل جب مارکس کیپیٹل لکھ رہا تھا، آزاد مسابقت ماہرین معیشت کی ایک بھاری ترین اکثریت کو بالکل کسی ’قانون قدرت‘ کی مانند لگتی تھی۔ سرکاری سائنس نے خاموشی اور نظر انداز کرنے کا طرز عمل اپنا کر مارکس کے کام کو دفنانے کی کوشش کی جو سرمایہ داری کے نظریاتی اور تاریخی تجزیے کے ذریعے یہ ثابت کرتا تھا کہ آزاد مسابقت پیداوار کے ارتکاز کو جنم دیتی ہے جو پھر ارتقا کے ایک مخصوص مرحلے پر اجارہ داری کی بنیاد بنتا ہے۔ آج اجارہ داری ایک حقیقت بن چکی ہے اور پیداوار کے ارتکاز کے نتیجے میں اجارہ داریوں کا ابھار سرمایہ دارانہ ارتقاکے موجودہ مرحلے (جسے لینن سرمایہ داری کا آخری یا انتہائی مرحلہ کہتا ہے۔ مترجم کا نوٹ) کا عمومی اور بنیادی قانون ہے۔“ (صفحہ نمبر 723-24)
یہاں یہ وضاحت کرنا لازمی ہے کہ لینن کے مطابق اجارہ داریوں کی تشکیل کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مقابلے بازی کا سرے سے ہی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ماضی سے ورثے میں ملی ہوئی چھوٹی اور درمیانی صنعت کا خاتمہ ایک ہی دن میں نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہ اپنی بقا کی خاطر کسی نہ کسی حد تک اجارہ داریوں سے مقابلہ بازی کی کوشش کرتی ہیں اگرچہ کہ ہر گزرتا دن ان کی تاریخی شکست کو اور واضح کرتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح دو مختلف اجارہ داریوں میں بھی منڈی پر مکمل غلبہ حاصل کرنے یا طاقتوں کے بدلتے توازن کے تحت مقابلے بازی ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک تو یہ سب کہیں سے بھی آزاد مسابقت نہیں ہے اور دوسرا اس سب کے باوجود جدید سامراج کے عہد کی سرمایہ داری کا عمومی، حاوی اور زور افزوں کردار اجارہ دارانہ ہی رہتا ہے۔
آگے چل کر لینن مزید وضاحت کرتا ہے کہ اجارہ داریوں کی تشکیل میں سرمایہ داری کے بحرانات کا بھی ایک اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ ہر بحران بڑی صنعتوں یا کاروبار کی نسبت چھوٹی صنعتوں اور کاروباروں کے لیے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے لیکن بحران میں تباہ ہونے والی ان صنعتوں کے سرمائے کا ایک قابل ذکر حصہ فنا نہیں ہو جاتا بلکہ وہ بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ہر بحران کے بعد بچ جانے والی صنعتوں کی تعداد اگرچہ تھوڑی ہوتی ہے لیکن ان کا حجم پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چکا ہوتا ہے۔
اسی باب میں لینن کارٹیلز (منڈی پر حاوی ہونے کے لیے ایک ہی شعبے سے متعلق مختلف بڑی کمپنیوں کا گٹھ جوڑ) کے بارے میں بھی تفصیلی بحث کرتا ہے کہ کس طرح وہ پوری منڈی پر اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں: ”کارٹیلز فروخت کی شرائط، ادائیگی کے طریقہ کار وغیرہ پر باہمی سمجھوتہ کر لیتے ہیں، وہ منڈیوں کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ وہ تیار کی جانے والی اشیا کی مقدار مقرر کر لیتے ہیں۔ وہ قیمتیں مقرر کرتے ہیں۔ وہ مختلف کارخانوں کے درمیان منافع کی تقسیم طے کرتے ہیں وغیرہ۔ اکثر کارٹیلز اور ٹرسٹس کے ہاتھوں میں کسی شعبے میں ہونے والی کل پیداوار کا 70 سے 80 فیصد مرکوز ہوتا ہے۔“ (صفحہ نمبر 725-26)
کارٹیلز کے کردار پر بحث کرتے ہوئے لینن ایک جرمن معیشت دان کیسٹنر کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ کس طرح کارٹیلز کے کرتا دھرتا اپنے حجم، طاقت اور اجارہ داری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں شمولیت اختیار نہ کرنے والی کمپنیوں اور صنعتوں کا ناطقہ بند کر دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں جس میں خام مال کی سپلائی روکنے سے لے کر، ان کا دیوالیہ نکالنے کے لیے جان بوجھ کر قیمتوں کو کم کرنے، ان کے لیے قرضوں کا حصول مشکل بنا دینے، ان کا کھلا بائیکاٹ کرنے سمیت سب کچھ شامل ہے۔
پہلے باب کی بحث کو سمیٹتے ہوئے لینن ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھاتا ہے۔ ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ کس طرح اجارہ داری کا ظہور آزاد مسابقت پر مبنی سرمایہ داری کی جدلیاتی نفی تھا، لیکن تاریخی ارتقا کے جدلیاتی عمل میں پھر نفی کی نفی بھی تو ہوتی ہے۔ اگرچہ لینن اس حوالے سے اپنا پورا مؤقف کتاب کے اختتام پر پیش کرتا ہے لیکن اس ضمن میں پہلا اشارہ کرتے ہوئے وہ اس باب میں لکھتا ہے: ”مقابلہ بازی، اجارہ داری میں بدل جاتی ہے۔ اس سے پیداوار کی سماج کاری (socialisation) میں زبردست اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر تکنیکی ایجادات اور ترقی کا عمل سماجی بن جاتا ہے۔ یہ صنعتی مالکان کے درمیان پرانے آزاد مقابلے سے بالکل مختلف ہے جو بکھرے ہوئے اور ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتے تھے اور ایک انجانی منڈی کے لیے پیداوار کرتے تھے۔ ارتکاز ایک ایسے نقطے پر پہنچ گیا ہے، جہاں پر کسی ملک کے اور جیسا کہ ہم دیکھیں گے، کئی ممالک یا ساری دنیا کے خام مال کے وسائل کا تقریباً درست تخمینہ لگانا ممکن ہے۔ نہ صرف ایسے تخمینے لگائے جاتے ہیں بلکہ ان وسائل پر بڑی اجارہ دار کمپنیاں قبضہ جما رہی ہیں۔ منڈیوں کی سکت کا بھی کم و بیش درست تخمینہ لگایا جاتا ہے اور پھر اجارہ داریاں ان کو معاہدوں کے ذریعے آپس میں ’تقسیم‘ کر لیتی ہیں۔ ہنر مند قوت محنت پر اجارہ داری قائم کی جاتی ہے، بہترین انجینئرز ملازم رکھے جاتے ہیں، ٹرانسپورٹ کے ذرائع پر قابو حاصل کیا جاتا ہے، سرمایہ داری اپنے سامراجی مرحلے میں براہ راست طور پر پیداوار کی انتہائی ہمہ گیرسماج کاری کی جانب بڑھتی ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ وہ سرمایہ داروں کو ان کی مرضی اور شعور کے خلاف ایک قسم کے نئے سماجی نظم و ضبط کی طرف کھینچتی ہے جو مکمل آزاد مسابقت اور مکمل سماج کاری کے بیچ عبوری حیثیت رکھتا ہے۔ پیداوار کا عمل سماجی ہوتا ہے لیکن اس پر تصرف نجی رہتا ہے۔ پیداوار کے سماجی ذرائع چند لوگوں کی نجی ملکیت رہتے ہیں۔“ (صفحہ نمبر 728)
مالیاتی اجارہ داریاں؛ بینکوں کا نیا کردار
پہلے باب میں لینن نے پیداوار کے ارتکاز اور نتیجتاً صنعتی اجارہ داریوں کی تشکیل پر بات رکھی تھی۔ لیکن پیداوار کے ارتکاز کے ساتھ ناگزیر طور پر سرمائے کا ارتکاز بھی ہوتا ہے۔ چونکہ سرمایہ داری میں سرمائے کا زیادہ تر لین دین بینکوں کے ذریعے ہوتی ہے، لہٰذا سرمائے کا ارتکاز براہ راست طور پر بینکوں پر اثر انداز ہوتا ہے، خاص طور پر ان کے حجم اور طاقت کے حوالے سے اور سماجی و معاشی نظام میں ان کے کردار کو معیاری طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔
”بینکوں کا بنیادی اور ابتدائی کردار رقوم کی ادائیگی میں ایک مڈل مین کا ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بیکار پڑے زر سرمایہ کو حرکت میں لاتے ہیں یعنی اسے نفع دینے والے سرمائے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ وہ ہر طرح کی نقد آمدنیاں اکٹھی کر کے انہیں سرمایہ دار طبقے کے لیے میسر بناتے ہیں۔ بینکاری کی ترقی اور اداروں کی قلیل سی تعداد میں اس کا ارتکاز بینکوں کو ایک عاجز مڈل مین سے طاقتور اجارہ داریوں میں تبدیل کر دیتا ہے جن کے اختیار میں تمام سرمایہ داروں اور چھوٹے کاروباریوں کا سارا نقد سرمایہ اور کسی ایک ملک یا متعدد ممالک میں ذرائع پیداوار اور خام مال کے وسائل کا بھی بڑا حصہ ہوتا ہے۔ بہت سے معمولی مڈل مینوں کی مٹھی بھر اجارہ داروں میں تبدیلی سرمایہ داری کے سرمایہ دارانہ سامراج کی طرف ارتقا کے بنیادی ترین عوامل میں سے ایک ہے۔“ (صفحہ نمبر 732-33)
لینن بتاتا ہے کہ کس طرح بڑے بینک چھوٹے بینکوں کو ”کھا“ جاتے ہیں اور وہ محض بڑے بینکوں کی شاخیں بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہ عمل سرمائے کے ارتکاز کو مزید مہمیز دیتا ہے اور نتیجتاً مالیاتی اجارہ داریوں کو مزید تقویت بخشتا ہے۔
”بڑی انٹرپرائزز، خاص طور پر بینک، نہ صرف چھوٹے بینکوں کو بالکل جذب کر لیتے ہیں، بلکہ ان پر ’قبضہ‘ بھی کر لیتے ہیں، ان کو اپنا ماتحت بناتے ہیں، ان کے سرمائے میں ’شراکت‘ (holding) حاصل کر کے، ان کے حصص خرید کر، قرضوں وغیرہ کے نظام کے ذریعے ان کو ’اپنے‘ گروپ یا کنسرن میں شامل کر لیتے ہیں؛ ہم دیکھتے ہیں کہ کس تیز رفتاری کے ساتھ (بڑے بینکوں کی۔ مترجم) شاخوں کا ایک گھنا جال سارے ملک میں پھیلتا جاتا ہے جو تمام سرمائے اور نقد آمدن (ریونیو۔ مترجم) کو مرکوز کرتا ہے، ہزاروں بکھرے ہوئے اور منتشر کاروباروں کو ایک واحد قومی سرمایہ دارانہ اور پھر ایک عالمی سرمایہ دارانہ معیشت میں تبدیل کر دیتا ہے۔“ (صفحہ نمبر 734-35)

سامراج کے عہد میں بینکوں کے نئے کردار پر بحث کرتے ہوئے لینن بتاتا ہے کہ جیسے جیسے بینک مالیاتی اجارہ داریوں میں تبدیل ہوتے گئے ویسے ویسے ان کا صنعت اور دیگر کاروباروں کے ساتھ تعلق بھی اپنے الٹ میں تبدیل ہوتا گیا: ”جب بینک چند سرمایہ داروں کا کرنٹ اکاؤنٹ سنبھالتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا تھا، تو یہ خالصتاً ایک تکنیکی اور ضمنی نوعیت کا کام ہے۔ لیکن جب یہی کام بہت بلند پیمانے پر ہوتا ہے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ مٹھی بھر اجارہ دار سرمایہ دارانہ سماج کے تمام صنعتی و تجارتی عوامل کو اپنے ماتحت کر لیتے ہیں کیونکہ بینکاری کے رابطوں، اپنے کرنٹ اکاؤنٹس اور دیگر مالیاتی عوامل کے ذریعے وہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ پہلے تو مختلف سرمایہ داروں کی مالیاتی حالت کو درستی کے ساتھ جان سکیں اور پھر قرضوں کی فراہمی کو بڑھا کر یا محدود کر کے، انہیں آسان بنا کر یا ان میں رکاوٹ ڈال کر، دیگر سرمایہ داروں پر اپنا اثر و رسوخ جما سکیں، انہیں کنٹرول کر سکیں۔ آخر کار ان پر مکمل غلبہ حاصل کرتے ہوئے ان کی قسمت کے فیصلے کر سکیں، ان کی آمدن معین کر سکیں، ان کو سرمائے سے محروم کر سکیں، یا انہیں تیزی کے ساتھ اپنا سرمایہ بڑھانے کی اجازت دے دیں وغیرہ۔“ (صفحہ نمبر 736)
مزید برآں لینن وضاحت کرتا ہے کہ بالکل صنعتی شعبے کی ہی طرح بڑے بینک بھی آپسی معاہدوں کے ذریعے بینکنگ کارٹیلز یا ٹرسٹ بنا لیتے ہیں تاکہ کسی ملک یا پوری دنیا کی مالیاتی منڈیوں پر حاوی ہو سکیں اور اس عمل کے ان کے صنعت کے ساتھ تعلقات پر بھی انتہائی فیصلہ کن اثرات ہوتے ہیں۔
”ارتکازی عمل کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ معیشت میں چوٹی پر موجود چند بینکوں کے درمیان قدرتی طور پر اجارہ دارانہ سمجھوتوں، یعنی بینکوں کے ٹرسٹ کی تشکیل کی جانب ایک بڑھتا ہوا رجحان دیکھا جا سکتا ہے؛ بینکاری میں ہونے والا ارتکازی عمل ان مالیاتی اداروں کی تعداد گھٹاتا جا رہا ہے جن سے قرضہ لینا ممکن ہے، نتیجتاً بڑی صنعت کا بینکار گروپوں کی ایک چھوٹی سی تعداد پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ صنعت اور مالیاتی دنیا کے مابین قریبی تعلق کی وجہ سے صنعتی کمپنیوں، جنہیں بینک کے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، کی فیصلہ سازی کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ اسی کارن بڑی صنعت بینکاری میں ٹرسٹوں کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کو ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ ہم نے بار ہا بڑے بینکاری گروپوں کے مابین ایسے معاہدوں کی شروعات ہوتے دیکھی ہیں جن کا مقصد مقابلے کو محدود کرنا ہے۔ بار بار سامنے آ رہا ہے کہ بینکاری کے ارتقا کا انت اجارہ داری ہے۔“ (صفحہ نمبر 741)
آگے چل کر لینن بینکنگ اجارہ داریوں کے صنعت اور تجارت پر حاوی ہو جانے کے مختلف پہلوؤں پر بحث کرتے ہوئے خاص طور پر ان شعبوں میں بینکاروں کی براہ راست مداخلت پر روشنی ڈالتا ہے: ”اس کے ساتھ ساتھ بینکوں اور سب سے بڑی تجارتی و صنعتی انٹرپرائزز کے درمیان ایک ذاتی رابطہ تشکیل پاتا ہے۔ یہ دونوں حصص کی خریداری، بینک ڈائریکٹرز کی صنعتی و تجارتی انٹرپرائزز کے نگران بورڈز میں شمولیت (اور اس کے برعکس بھی) کے ذریعے ایک دوسرے میں ضم ہونے لگتے ہیں، بینکوں اور صنعت کے اس ’ذاتی تعلق‘ کو پھر ان دونوں اور حکومت کے مابین بننے والے ’ذاتی تعلق‘ کا بھی سہارا ملتا ہے۔ جیڈلز لکھتا ہے کہ نگران بورڈز کی سیٹیں کھلم کھلا خطاب یافتہ اہم لوگوں، سابقہ بیوروکریٹس وغیرہ کو دی جاتی ہیں جو ’حکومت کے ساتھ تعلقات‘ کو پروان چڑھانے میں بڑے معاون ثابت ہوتے ہیں؛ یوں کہنا چاہیے کہ بڑی سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں کی تشکیل و ترقی پورے زور و شور سے ’فطری‘ اور ’مافوق الفطری‘ طریقوں کے ساتھ جاری ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ سماج پر راج کرنے والے مالیات کے چند سو بادشاہوں کے درمیان ہر قسم کی تقسیم محنت (بینک کا ہر ڈائریکٹر کسی مخصوص شعبہ صنعت و تجارت کا مالیاتی نگران ہوتا ہے۔ مترجم کا نوٹ) بھی قائم ہو رہی ہے۔“ (صفحہ نمبر 741-42)
”اس کا نتیجہ ایک طرف تو، جیسا کہ بخارین نے درست طور پر کہا ہے، بینک اور صنعت کے سرمائے کے بڑھتے ہوئے ادغام کی صورت میں نکلتا ہے، جبکہ دوسری طرف بینک صحیح معنوں میں ’آفاقی و ہمہ گیر نوعیت‘ کے اداروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔“ (صفحہ نمبر 744)
لیکن لینن کے مطابق اس سب کے نتیجے میں جدید یعنی سامراج کے عہد کی سرمایہ داری میں ایک انتہائی اہم اور بنیادی تبدیلی رونما ہوتی ہے؛ ”لہٰذا بیسویں صدی میں پرانی سرمایہ داری نئی میں تبدیل ہو گئی، سرمائے کے عمومی تسلط سے مالیاتی سرمائے کے تسلط میں۔“ (صفحہ نمبر 746)
مالیاتی سرمایہ اور مالیاتی اشرافیہ
مگر یہ مالیاتی سرمایہ آخر ہے کیا؟ لینن اس کے جواب میں ہلفرڈنگ کی کتاب ”مالیاتی سرمایہ“ سے ایک اقتباس پیش کرتا ہے: ”صنعت میں سرمائے کے بڑھتے ہوئے حصے پر سے ان صنعتکاروں کی ملکیت ختم ہوتی جاتی ہے جو اس کو استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس کو صرف بینکوں کے ذریعے استعمال کر سکتے ہیں، جو اس تعلق میں، سرمائے کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف بینک اس بات پر مجبور ہے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ سرمایہ صنعت میں لگائے جس کی وجہ سے بینکار صنعتی سرمایہ دار میں تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ لہٰذا، میرے مطابق بینک کا یہ سرمایہ، یعنی زر کی شکل میں موجود سرمایہ، جو اس طریقے سے صنعتی سرمائے میں تبدیل ہو جاتا ہے، مالیاتی سرمایہ کہلاتا ہے۔“
”مالیاتی سرمایہ وہ سرمایہ ہے جسے بینک کنٹرول کرتے ہیں اور صنعتکار استعمال میں لاتے ہیں۔“ (صفحہ نمبر 746)
آگے چل کر لینن اضافہ کرتا ہے کہ بینکوں (موجودہ دور میں بینکوں کے ساتھ ساتھ انویسٹمنٹ مینجمنٹ کمپنیوں، انشورنس کمپنیوں اور ہیج فنڈز وغیرہ کا کنٹرول کردہ سرمایہ بھی مالیاتی سرمایہ ہے) کا کنٹرول کردہ مالیاتی سرمایہ اسٹاک ایکسچینج اور متفرق مالیاتی آپریشنز سمیت ہر قسم کی مالیاتی سٹے بازی، ملکی و غیر ملکی حکومتوں کو سودی قرضوں کی فراہمی، زمین اور دیگر اثاثہ جات کی خریداری اور ان پر ہونے والی سٹے بازی وغیرہ میں بھی بڑے پیمانے پر کھپتا ہے۔
مزید برآں لینن یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ ہلفرڈنگ کی یہ تعریف درست ہونے کے باوجود اس وقت تک نامکمل ہے جب تک مالیاتی سرمائے کی تخلیق کے عمل، یعنی پیداوار اور سرمائے کے ارتکاز کے نتیجے میں اجارہ داریوں کی تخلیق، بینکوں اور صنعتوں کے ادغام اور اس کے نتیجے میں بننے والی اجارہ داریاں جن میں حاوی کردار بینک کا ہوتا ہے، اس سب کو پورے تاریخی سیاق و سباق کے ساتھ نہ جانا جائے۔ بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے لینن مالیاتی اجارہ داریوں اور مالیاتی اشرافیہ کے معیشت کے ہر شعبے میں بڑھتے اثر و رسوخ اور حاوی کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے۔ اس ضمن میں وہ خاص طور پر ”ہولڈنگ سسٹم“ کا ذکر کرتا ہے جو اجارہ دارانہ سرمایہ داری میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔
”کنسرن کا سربراہ بنیادی کمپنی (جس کو ’مادر کمپنی‘ بھی کہا جاتا ہے) کو کنٹرول کرتا ہے، یہ پھر اپنی ماتحت (subsidiary) کمپنیوں (یعنی دختر کمپنیوں) کو کنٹرول کرتی ہے، جو پھر مزید ماتحت کمپنیوں (نواسی کمپنیوں) کو کنٹرول کرتی ہیں وغیرہ۔ اس طرح سے نسبتاً کم سرمائے کے ساتھ پیداوار کے وسیع حلقوں کو کنٹرول کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کمپنی کو کنٹرول کرنے کے لیے اس کے 50 فیصد سرمائے کی ملکیت (یعنی ہولڈنگ۔ مترجم) ہونا کافی ہے تو کنسرن کے سربراہ کو ’نواسی کمپنیوں‘ کا 80 لاکھ کا سرمایہ کنٹرول کرنے کے لیے صرف 10 لاکھ کا سرمایہ درکار ہو گا۔ اور اگر اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا جائے تو پھر دس لاکھ کے ساتھ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ، تین کروڑ بیس لاکھ وغیرہ کا سرمایہ کنٹرول کرنا ممکن ہے۔“ (صفحہ نمبر 748)
اور اس سب کے نتیجے میں: ”چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتے ہوئے اور مکمل اجارہ داری قائم کرتے ہوئے مالیاتی سرمایہ کمپنیاں بنا کر، کاغذات زر جاری کر کے، ریاست کو دیے جانے والے قرضوں وغیرہ کے ذریعے مسلسل بڑھتے ہوئے منافعے کما کر مالیاتی اشرافیہ کے تسلط کو مضبوط کرتا ہے اور اجارہ داروں کے مفاد میں پورے سماج سے خراج وصول کرتا ہے۔“ (صفحہ نمبر 752)
آگے چلتے ہوئے لینن ایک اور انتہائی اہم نکتہ اٹھاتا ہے۔ وہ صنعتوں، معیشت کے دیگر شعبہ جات اور خاص کر ملکی و غیر ملکی حکومتوں کو بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے سودی قرضوں سے حاصل ہونے والے ہوش ربا منافعوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرانس کی مثال دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ سودی قرضوں کے منافعوں پر پلنے والی فرانس کی مالیاتی سرمایہ داری کس طرح فرانسیسی سماج کو برباد کر رہی ہے:
”سرمایہ داری نے اپنا آغاز معمولی نوعیت کے سود خور سرمائے سے کیا تھا اور اب اس کے ارتقا کا انت بڑے پیمانے کے سود خور سرمائے پر ہو رہا ہے۔ لائسس (ایک فرانسیسی مصنف۔ مترجم) کے بقول فرانسیسی یورپ کے سود خور مہاجن ہیں۔ معاشی زندگی کے ہر پہلو پر سرمایہ داری میں ہونے والی اس تبدیلی کے انتہائی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹھہراؤ کا شکار آبادی، صنعت، تجارت اور جہاز رانی میں جمود کی سی صورتحال کے باوجود ’ملک‘ سود خوری کے سہارے امیر ہو رہا ہے۔ فرانسیسی جمہوریہ ایک مالیاتی بادشاہت ہے، جس میں مکمل طور پر مالیاتی اشرافیہ کا غلبہ ہے جو پریس اور حکومت پر بھی حاوی ہے۔“ (صفحہ نمبر 753)
اسی طرح لینن مالیاتی سرمایہ داری اور مالیاتی اشرافیہ کے غیر پیداواری طفیلیہ کردار پر مزید تنقید کرتے ہوئے لکھتا ہے:
”یہ عام طور پر سرمایہ داری کی خصوصیت ہے کہ سرمائے کی ملکیت پیداوار میں سرمائے کے استعمال سے علیحدہ ہوتی ہے، زر سرمایہ صنعتی یا پیداواری سرمائے سے علیحدہ ہوتا ہے اور مکمل طور پر زر سرمایہ سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کرنے والا کرایہ خور (rentier) سرمائے کو براہ راست استعمال میں لانے والے کاروباری سے الگ ہوتا ہے۔ سامراج، یعنی، مالیاتی سرمائے کا غلبہ، سرمایہ داری کی وہ انتہائی منزل ہے جس میں یہ علیحدگی انتہائی وسعت اختیار کر لیتی ہے۔ مالیاتی سرمائے کا سرمائے کی دیگر تمام اشکال پر غلبے کا مطلب کرایہ خور اور مالیاتی اشرافیہ کا غلبہ ہے۔ اس کا مطلب مالیاتی طور پر ’طاقتور‘ مٹھی بھر ریاستوں کا باقی سب میں نمایاں ہو جانا ہے۔“ (صفحہ نمبر 757)
ایک طرف ملکی و عالمی سطح پر بڑے پیمانے کی سود خوری اور دوسری طرف آزاد مسابقت کے خاتمے کے کارن اجارہ داری میں نامیاتی طور پر موجود عمومی تکنیک و ترقی مخالف رجحانات کی ہی وجہ سے بعد ازاں کتاب کے اختتامی حصے میں لینن طفیلیہ پن کو بھی جدید سامراج کا لازمی خاصہ بتاتا ہے اور اسے تاریخی متروکیت کا شکار زوال پذیر سرمایہ داری قرار دیتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ لینن کے مطابق اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جدید سامراج کے عہد یعنی اجارہ دارانہ سرمایہ داری میں ذرائع پیداوار کی مزید ترقی مطلق طور پر ناممکن ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ ترقی کی ناہمواریت سے جنم لینے والے تضادات کے کارن وقتاً فوقتاً کبھی ایک تو کبھی دوسرا شعبہ صنعت، بورژوازی کا حصہ، کوئی ایک یا چند سرمایہ دارانہ ممالک اس عمومی زوال پذیر رجحان کے برعکس بھی جاتے رہتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے قبل اگر ہم ابھی تک لینن کی جانب سے کی گئی تمام بحث کو سمیٹیں تو جدید سامراج کی معاشی بنیاد اجارہ دارانہ سرمایہ داری ہے جس میں حاوی کردار مالیاتی اجارہ داریوں کا ہے جس کا ناگزیر نتیجہ مالیاتی سرمائے، مالیاتی اشرافیہ اور مالیاتی طور پر طاقتور ریاستوں کا غلبہ ہے۔
سرمائے کی برآمد
”آزاد مسابقت پر مبنی پرانی سرمایہ داری کی نمایاں خصوصیت اشیا کی برآمد تھی۔ اجارہ داریوں کے راج پر مبنی سرمایہ داری کی حالیہ منزل کی خصوصیت سرمائے کی برآمد ہے۔“ (صفحہ نمبر 759)
واضح رہے کہ لینن کی بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اجارہ دارانہ سرمایہ داری یعنی سامراج کے عہد میں اشیاء کی برآمد ہوتی ہی نہیں یا بہت کم ہوتی ہے بلکہ وہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اس عہد کو ماضی سے جدا کرنے والی ایک انتہائی اہم خصوصیت بڑے پیمانے پر سرمائے کی برآمد اور اس کا حاوی کردار ہے۔ اس کے تاریخی سیاق و سباق اور محرکات کی وضاحت کرتے ہوئے لینن رقم طراز ہے: ”بیسویں صدی کی دہلیز پر پہنچتے ہوئے ہم ایک نئی قسم کی اجارہ داری کی تشکیل دیکھتے ہیں۔ اول، تمام ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں سرمایہ داروں کے اجارہ دارانہ اتحاد۔ دوم، چند بہت امیر ممالک کی اجارہ دارانہ حیثیت جن میں سرمائے کا اجتماع انتہائی حد تک پہنچ گیا تھا۔ ترقی یافتہ ممالک میں بہت زیادہ ’زائد سرمایہ‘ اکٹھا ہو چکا تھا، جب تک سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے، زائد سرمایہ کسی ملک میں عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے استعمال نہیں ہو گا کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب سرمایہ داروں کے منافعوں میں کمی ہو گا۔ بلکہ اسے پسماندہ ممالک کو برآمد کر کے زیادہ منافع کمانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان پسماندہ ممالک میں منافع عام طور پر زیادہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں سرمائے کی قلت ہوتی ہے، زمین کی قیمت نسبتاً کم ہوتی ہے، اجرتیں کم ہوتی ہیں، خام مال سستا ہوتا ہے۔ سرمائے کو برآمد کرنے کی ضرورت اس حقیقت سے جنم لیتی ہے کہ چند ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام ’زیادہ پک چکا ہے‘ اور سرمائے کی ’منافع بخش‘ کھپت کے لیے مواقع دستیاب نہیں ہیں۔“ (صفحہ نمبر 759-60)
آگے چل کر لینن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ برآمد ہونے والا یہ سرمایہ صرف صنعتوں میں ہی نہیں لگتا بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ پسماندہ ممالک کو دیے جانے والے قرضوں کی صورت میں برآمد کیا جاتا ہے۔ مزید برآں سرمایہ برآمد کرنے اور خاص طور پر قرض کی صورت میں ایسا کرنے والا ملک ہمیشہ اپنے لیے کچھ ”اضافی فوائد“ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے جیسے کہ کسی تجارتی معاہدے میں کوئی فائدہ مند شق، بندرگاہ یا ریلوے لائن وغیرہ تعمیر کرنے کا ٹھیکہ، اسلحے یا دیگر صنعتی اشیا کی خریداری کا آرڈر اور خام مال کے وسائل تک ترجیحی رسائی وغیرہ۔ یوں سرمائے کی برآمد درحقیقت اشیا کی برآمد بڑھانے کا بھی ذریعہ بن جاتی ہے۔
دنیا کی سرمایہ دارانہ اجارہ دار اتحادوں میں بندر بانٹ
”سرمایہ داروں کے اجارہ دارانہ اتحادوں (کارٹیلز، سینڈیکیٹس اور ٹرسٹ) نے پہلے تو اپنی ملکی صنعت کی کم و بیش مکمل ملکیت حاصل کرتے ہوئے داخلی منڈی کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ لیکن سرمایہ داری میں داخلی منڈی ناگزیر طور پر بیرونی منڈی کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ سرمایہ داری نے عرصہ قبل ایک عالمی منڈی تخلیق کر دی تھی۔ جیسے جیسے سرمائے کی برآمد بڑھتی گئی اور بڑے اجارہ دارانہ اتحادوں کے غیر ملکی اور نو آبادیاتی روابط اور ’حلقہ اثر‘ میں وسیع پیمانے پر توسیع ہوتی گئی، تو ’قدرتی‘ طور پر معاملات ان اتحادوں کے درمیان بین الاقوامی سمجھوتوں اور بین الاقوامی کارٹیلز کی تشکیل کی سمت بڑھتے گئے۔ یہ سرمائے اور پیداوار کے عالمی ارتکاز میں ایک نیا مرحلہ ہے جو پہلے والے مراحل سے کہیں بلند تر ہے۔“ (صفحہ نمبر 763-64)
بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے لینن اس وقت کے بڑے اجارہ دارانہ اتحادوں کے مابین عالمی منڈیوں اور ”حلقہ اثر“ کی بندر بانٹ کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کی بہت سی مثالیں دیتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے ایک اہم نکتہ اٹھاتا ہے: ”لیکن دو طاقتور ٹرسٹوں کے درمیان دنیا کی تقسیم کا مطلب اس کی از سر نو تقسیم کا ناممکن ہونا نہیں ہے، اگر ناہموار ترقی، جنگ یا دیوالیہ پن کے کارن طاقتوں کا توازن تبدیل ہو جائے۔“ (صفحہ نمبر 766)
اسی حوالے سے لینن بھگوڑے کاؤتسکی کو بھی آڑے ہاتھوں لیتا ہے جس کا ماننا تھا کہ بین الاقوامی کارٹیلز کے تحت سرمائے کی عالمگیریت کے کارن سرمایہ داری میں رہتے ہوئے بھی اقوام کے مابین حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔
”سرمایہ دار دنیا کو کسی خاص بغض کی وجہ سے تقسیم نہیں کرتے بلکہ ارتکاز جس سطح پر پہنچ چکا ہے، وہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ منافع حاصل کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کریں۔ وہ اسے طاقت اور سرمائے کے تناسب سے تقسیم کر لیتے ہیں کیونکہ کموڈیٹی پروڈکشن اور سرمایہ داری کے تحت تقسیم کا کوئی دوسرا طریقہ کار ہو نہیں سکتا۔ لیکن طاقت معاشی و سیاسی ارتقا اور ترقی کے تناسب سے بدلتی رہتی ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ کیا وقوع پذیر ہو رہا ہے، یہ جاننا لازمی ہے کہ طاقت کے توازن میں تبدیلی سے کون سے سوالات طے ہوتے ہیں۔ یہ سوال کہ آیا یہ تبدیلیاں ’خالصتاً‘ معاشی ہیں یا غیر معاشی (مثلاً فوجی) ثانوی حیثیت رکھتا ہے، جس سے سرمایہ داری کے اس تازہ ترین دور کے متعلق بنیادی نقطہ نظر کو ذرا بھی فرق نہیں پڑتا۔ سرمایہ دار اتحادوں کے مابین جدوجہد اور سمجھوتوں کے سوال کو اس کے جوہر کی بجائے محض ظاہری اشکال (آج پر امن، کل جنگ و جدل اور پرسوں پھر جنگ و جدل) تک محدود کر دینا کسی سوفسطائی کے درجے تک گر جانا ہے۔“ (صفحہ نمبر 770)
اس باب کو سمیٹتے ہوئے لینن کہتا ہے کہ جس طرح جدید سامراج کے عہد میں سرمایہ دارانہ اجارہ دار اتحادوں کے مابین دنیا کی معاشی تقسیم کے حوالے سے تعلقات تشکیل پاتے ہیں، اسی طرح اور اس سے ہی منسلک تعلقات سیاسی اتحادوں، ریاستوں کے بیچ بھی پروان چڑھتے ہیں جن کی بنیاد دنیا کی علاقائی تقسیم، نو آبادیاتی دوڑ اور ”معاشی علاقے کے لیے جدوجہد“ ہوتی ہے۔
بڑی طاقتوں کے درمیان دنیا کی تقسیم
ٹھوس اعداد و شمار کے ذریعے پچھلی چند دہائیوں میں نو آبادیاتی دوڑ میں آنے والی تیزی، اس حوالے سے بڑی طاقتوں کے مابین بڑھتی کشمکش اور اس کے مالیاتی سرمائے کا غلبہ رکھنے والی اجارہ دارانہ سرمایہ داری کے ساتھ تعلق کی بابت لینن رقم طراز ہے: ”ہم پہلے جان چکے ہیں کہ قبل از اجارہ سرمایہ داری، یعنی آزاد مسابقت پر مبنی سرمایہ داری کا ارتقا 1860ء اور 1870ء کی دہائیوں میں اپنی حدود کو پہنچ چکا تھا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ٹھیک اسی زمانے کے بعد نو آبادیاتی فتوحات کا غیر معمولی ’ابھار‘ شروع ہوا اور دنیا کی تقسیم کی جدوجہد انتہائی تند و تیز ہو گئی۔ لہٰذا اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا کہ دنیا کے بٹوارے کی جدوجہد میں آنے والی تیزی کا تعلق سرمایہ داری کے اجارہ دارانہ سرمایہ داری اور مالیاتی سرمائے کے غلبے کے عہد میں قدم رکھنے سے ہے۔“ (صفحہ نمبر 772)
مزید برآں لینن یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ دنیا کی بڑی سامراجی طاقتوں کے مابین تقسیم کے کم و بیش مکمل ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تقسیم حتمی ہے اور اب مزید ٹکراؤ نہیں ہو گا۔ اس کے برعکس سرمایہ داری کی ناہمواریت کے تحت مخالفین کی معاشی، تکنیکی، پیداواری اور فوجی صلاحیتوں میں ہونے والے رد و بدل سے جنم لینے والے طاقتوں کے بدلتے توازن کی وجہ سے ٹکراؤ اور از سر نو تقسیم کا ہونا ناگزیر ہے بلکہ اس کی شدت ماضی کے سامراجی اختلافات سے کہیں زیادہ ہو گی کیونکہ اب دنیا میں ایسے علاقے اور ممالک کم ہی بچے ہیں جن پر پہلے سے کسی سامراجی قوت کا براہ راست یا بالواسطہ تسلط نہیں ہے، لہٰذا سامراجی ٹکراؤ کے بغیر کسی بھی سامراجی طاقت کے لیے مزید پھیلاؤ ممکن نہیں۔

اسی طرح قبل از سرمایہ داری ادوار کی مختلف سلطنتوں کی توسیع پسندی و قبضہ گیری، آزاد مسابقت پر مبنی سرمایہ داری کی نو آبادیاتی پالیسی اور جدید سامراج کے بیچ فرق کرتے ہوئے لینن لکھتا ہے کہ: ”نو آبادیاتی پالیسی اور سامراج، سرمایہ داری کی حالیہ انتہائی منزل، حتیٰ کہ سرمایہ داری سے قبل بھی وجود رکھتے تھے۔ غلام داری پر مبنی روم ایک سامراج تھا جو نو آبادیاتی پالیسی پر کاربند تھا۔ لیکن سامراج کے بارے میں عامیانہ بحث، جو مختلف سماجی و معاشی نظاموں کے بنیادی فرق کو نظر انداز کر دیتی ہے، کا ناگزیر نتیجہ ’عظیم روم اور عظیم برطانیہ‘ جیسے بنجر اور سطحی تقابلی جائزوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ حتیٰ کہ سرمایہ داری کی ماضی کی نوآبادیاتی پالیسی بھی مالیاتی سرمائے کی نو آبادیاتی پالیسی سے مختلف تھی۔ سرمایہ داری کے موجودہ انتہائی مرحلے کا بنیادی ترین خاصہ اجارہ دار اتحادوں کا غلبہ ہے۔“ (صفحہ نمبر 766)
بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے لینن ٹھوس مثالوں کے ذریعے وضاحت کرتا ہے کہ مختلف عالمی اجارہ دار اتحاد اور ان سے منسلک سامراجی ریاستیں زیادہ سے زیادہ منافع خوری، ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور مد مقابل اتحاد کو نقصان پہنچانے کی دوڑمیں ہر وقت خام مال کے وسائل اور منڈیوں تک رسائی، سستی زمین کے حصول، سرمائے کی برآمد کے لیے منافع بخش مواقعوں وغیرہ کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور یہی امر ان کی نو آبادیاتی ہوس اور آپسی ٹکراؤ کو تیز تر کرتا جاتا ہے، لہٰذا یہ علاقائی توسیع پسندی حتمی تجزیے میں مالیاتی سرمائے کی معاشی توسیع پسندی کا ہی اظہار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لینن کے مطابق جدید سامراج کی معاشی بنیاد یعنی مالیاتی سرمائے کا غلبہ رکھنے والی اجارہ دارانہ سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کیے بغیر مجرد ”سامراج مخالف“ نعرے بازی کرنا محض بورژوا اصلاح پسندی ہے نہ کہ انقلابی سوشلزم۔
اسی طرح لینن یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ مختلف سامراجی قوتوں کے آپسی تضادات نام نہاد زمانہ امن میں بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہتے ہیں، صرف ان کی شکل اور طریقہ کار بدل جاتا ہے۔ لہٰذا سامراجی ”امن“ سامراجی جنگوں کے درمیان محض ایک وقفہ ہوتا ہے جس کے دوران ہی مستقبل میں سامراجی جنگوں کا باعث بننے والے تضادات پکتے ہیں۔
”پر امن اتحاد جنگوں کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں اور خود بھی جنگوں کی ہی پیداوار ہوتے ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور عالمی معیشت و سیاست کے سامراجی تانوں بانوں کی بنیاد پر اس لڑائی کی پر امن اور پر تشدد اشکال باری باری ابھرتی رہتی ہیں۔“ (صفحہ نمبر 808)
مزدور تحریک میں موقع پرستی، لیبر اشرافیہ کا ظہور
پہلی عالمی جنگ کے موقع پر دوسری انٹرنیشنل کی قیادت کی بد ترین موقع پرستی اور پرولتاری بین الاقوامیت سے غداری کی سماجی بنیادوں کا تجزیہ کرتے ہوئے لینن اس کی جڑیں ترقی یافتہ سامراجی ممالک کے محنت کش طبقے میں ابھرنے والی ”لیبر اشرافیہ“ کی ایک باریک سی پرت میں تلاش کرتا ہے۔ وہ وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح ان ممالک کا حکمران طبقہ پوری دنیا کی سامراجی لوٹ کھسوٹ اور اجارہ دارانہ منافع خوری سے حاصل ہونے والی بے تحاشہ دولت کا ایک مختصر سا حصہ خرچ کرتے ہوئے محنت کش طبقے میں ایک مراعات یافتہ پرت کو تخلیق کرتا ہے جو پھر اپنے مفادات و مراعات کے دوام کی خاطر اپنے سامراجی حکمرانوں کی حمایت کرتی ہے۔ زیادہ تر ٹریڈ یونین قیادتوں کا تعلق بھی اسی پرت سے ہوتا ہے اور دوسری انٹر نیشنل کے بھگوڑوں کی سیاسی و سماجی بنیاد بھی اسی پرت پر قائم تھی۔
”سامراج یہ رجحان رکھتا ہے کہ محنت کشوں میں بعض مراعات یافتہ حصے تخلیق کرے اور انہیں محنت کش طبقے کی وسیع اکثریت سے جدا کر دے۔ برطانیہ میں محنت کشوں کو تقسیم کرنے، ان میں موقع پرستی کو پروان چڑھانے اور مزدور تحریک کی وقتی زوال پذیری کا باعث بننے والا یہ سامراجی رجحان بیسویں صدی کے آغاز یا انیسویں صدی کے اختتام سے بھی بہت پہلے واضح ہو چکا تھا۔“ (صفحہ نمبر 797)
بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے لینن مزدور تحریک میں در آنے والی اس موقع پرستی کے خلاف ناقابل مصالحت جدوجہد پر زور دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اس موقع پرستی کے خلاف جدوجہد کیے بغیر اور اس کا قلع قمع کیے بغیر سامراج کے خلاف کامیاب جدوجہد کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس موقع پر دو اہم نکات یاد رکھنا بہت ضروری ہیں کیونکہ نام نہاد گلوبل ساؤتھ کے خود ساختہ نمائندہ فیشن ایبل دانشوروں میں اس موضوع کو لے کر ترقی یافتہ مغربی ممالک کے تمام محنت کشوں کو مطعون کرنے کا چلن عام ہے۔ اول یہ کہ لینن ان سامراجی ممالک کے تمام محنت کشوں یا پورے محنت کش طبقے کی نہیں بلکہ ایک چھوٹی سے مراعات یافتہ پرت کی بات کر رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ لینن اس مختصر سی مراعات یافتہ پرت کی موقع پرستی کے کارن مزدور تحریک میں پھیلنے والی پراگندگی اور زوال پذیری کو محض ایک وقتی مظہر قرار دیتا ہے کیونکہ سامراجی حکمرانوں کی کوئی بھی ”ہوشیاری“ سرمائے اور محنت کے نامیاتی تضاد پر زیادہ عرصے کے لیے پردہ نہیں ڈال سکتی اور معاشی بحران، طاقتوں کے بدلتے توازن، موضوعی عنصر یعنی انقلابی پارٹی کی شعوری کوششوں اور دیگر بہت سے عوامل کے تحت مغربی سامراجی ممالک میں طبقاتی جدوجہد کا تیز تر ہونا اور انقلابی مزدور تحریک کا دوبارہ احیا ناگزیر تھا۔ لینن کے بعد گزرنے والے ایک سو سال کی تاریخ نے بار بار اس بنیادی حقیقت کو درست اور مغربی محنت کش طبقے کے ”بورژوائے جانے“ کی بیہودہ بحث کو غلط ثابت کیا ہے۔
سامراج یعنی اجارہ دارانہ سرمایہ داری اور سوشلزم؛ نفی کی نفی
اگر جدلیات کی رو سے سامراج یعنی اجارہ دارانہ سرمایہ داری، آزاد مسابقت پر مبنی سرمایہ داری کی نفی تھی تو پھر اس نفی کی نفی یعنی نوع انسان کے تاریخی ارتقا کا اگلا مرحلہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس حوالے سے لینن جہاں سامراجی قوتوں کی فوجی اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کو ان کی معاشی بنیاد سے کاٹ کر دیکھنے اور ان کی مجرد مخالفت کرنے کو خصی پن کا شکار بورژوا اصلاح پسندی کہتا ہے وہیں سامراج کا ”حل“ آزاد مسابقت کی جانب واپس پلٹنے کو درست طور پر پیٹی بورژوا دانشوروں کی یوٹوپیائی سوچ قرار دیتا ہے جو تاریخ کے پہیے کو واپس گھمانا چاہتے ہیں۔ تو پھر مسئلے کا حل کیا ہے؟
جولائی 1920ء میں کتاب کے جرمن اور فرانسیسی تراجم کے لیے لکھے گئے دیباچے کے اختتام پر لینن سامراج کے عہد کو پرولتاریہ کے سماجی انقلاب کی دہلیز قرار دیتا ہے۔ دیگر الفاظ میں وہ یہ کہہ رہا ہے کہ جدید سامراج کی نفی صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ملکی و عالمی سطح پر سرمایہ داری کے خاتمے اور ایک عالمی سوشلسٹ سماج کی تخلیق کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔ مگر لینن ایسا صرف کسی خواہش یا ”وِش فُل تھنکنگ“ کے تحت نہیں کہہ رہا بلکہ وہ اجارہ دارانہ سرمایہ داری کے تفصیلی تجزیے کے بعد اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ عالمی سوشلزم کے مادی بیج بذات خود اجارہ داری میں موجود ہیں یعنی اجارہ دارانہ سرمایہ داری عالمی سطح پر سوشلزم کے لیے درکار مادی بنیادیں تخلیق کر چکی ہے۔
”جب کوئی بڑی انٹرپرائز بہت وسعت اختیار کر لیتی ہے، اور وافر ڈیٹا کی دستیابی کی بنیاد پر منصوبہ بندی کے ساتھ کروڑوں لوگوں کے لیے درکار خام مال کی سپلائی کے دو تہائی یا تین چوتھائی کا بندوبست کر لیتی ہے، جب اس خام مال کو ایک منظم طریقے سے پیداوار کے لیے سب سے مناسب مقام تک پہنچایا جاتا ہے جو بعض اوقات سینکڑوں یا ہزاروں میل دور ہوتا ہے، جب ایک واحد مرکز مختلف اقسام کی تیار شدہ اشیا کی پیداوار کے تمام مراحل کو منظم کرتا ہے اور ان کی نگرانی کرتا ہے، اور جب ان اشیا کو فروخت کے ایک مرکزی منصوبے کے تحت کروڑوں صارفین تک پہنچایا جاتا ہے۔ تب یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے سامنے پیداوار کی سماج کاری ہے اور نجی معاشی اور نجی ملکیت کے رشتے ایک ایسا خول ہیں جس میں اس کا مافیہ اب مزید سما نہیں پا رہا، ایک ایسا خول کہ اگر اس کے خاتمے میں مصنوعی طور پر تاخیر کی گئی تو پھر وہ گلنا سڑنا شروع کر دے گا، ایک خول جو گلی سڑی حالت میں بھی کافی لمبے عرصے تک قائم رہ سکتا ہے (اگر بدترین صورتحال میں موقع پرستانہ پھوڑے کا علاج طول پکڑ لیتا ہے)، لیکن بہر حال جسے ناگزیر طور پر ختم کر دیا جائے گا۔“ (صفحہ نمبر 814)
اس کتاب کے لکھے جانے کے مختصر عرصے بعد ہی 1917ء میں لینن نے ٹراٹسکی کے ساتھ مل کر انقلابِ روس کی قیادت کر کے اور بعد ازاں عالمی پرولتاری انقلاب کے اوزار کے طور پر کمیونسٹ انٹرنیشنل تخلیق کر کے اس ضمن میں پہلا قدم اٹھا لیا تھا، اس یقین کے ساتھ کہ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود آئندہ آنے والی نسلیں اس مشن کو لازمی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گی۔
سامراج، اکیسویں صدی میں؛ کچھ تازہ اعداد و شمار
آئیے دیکھتے ہیں کہ لینن نے جدید سامراج اور خاص کر اس کی معاشی بنیاد یعنی اجارہ دارانہ سرمایہ داری کے حوالے سے جو نظریاتی فریم ورک تخلیق کیا تھا، وہ اکیسویں صدی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے کہ نہیں۔
مشہور زمانہ امریکی بزنس میگزین فوربز ہر سال ریونیو، منافع، اثاثہ جات اور مارکیٹ ویلیو کے مجموعی تخمینے کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی 2000 کمپنیوں کی لسٹ جاری کرتا ہے جو موجودہ عہد میں پیداوار اور سرمائے کے ارتکاز یعنی اجارہ داری کے حوالے ہمیں ایک طائرانہ جائزہ فراہم کرتی ہے۔ یہ 2000 کمپنیاں یا اجارہ داریاں دنیا بھر میں رجسٹرڈ بزنس کمپنیوں کی کل تعداد کا نہایت ہی معمولی سا حصہ ہیں (ریکارڈ کے مطابق صرف پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں ہی لگ بھگ 3 لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں) لیکن اپنے حجم اور نتیجتاً اجارہ داری کے کارن یہ عالمی منڈی پر حاوی ہیں۔ دنیا میں ہونے والے تمام اہم معاشی فیصلہ جات، سامراجی جنگوں، لوٹ کھسوٹ، عالمی سیاست و عالمی تعلقات کے قلابے حتمی تجزیے میں انہی اجارہ داریوں، خاص کر ان میں بھی سب سے بڑی چند سو کمپنیوں، کے مفادات اور ان کے آپسی تضادات کے ساتھ جا ملتے ہیں۔
فوربز گلوبل 2000 کی سال 2025ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی یہ 2000 سب سے بڑی کمپنیاں کل ملا کر 242 ٹریلین ڈالر کے اثاثہ جات رکھتی ہیں، ان کا سالانہ ریونیو تقریباً 53 ٹریلین ڈالر ہے، ان کا سالانہ منافع تقریباً 5 ٹریلین ڈالر ہے اور ان کی مجموعی مارکیٹ ویلیو (مارکیٹ کیپیٹلائزیشن) 91 ٹریلین ڈالر ہے۔ تقابلی جائزے کے لیے ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ 2025ء میں عالمی جی ڈی پی 117 ٹریلین ڈالر تھا جو ان کمپنیوں کے مجموعی اثاثہ جات کے نصف سے بھی کچھ کم ہے، ان کمپنیوں کا سالانہ ریونیو دنیا کی دو سب سے بڑی سرمایہ دارانہ قومی معیشتوں یعنی امریکہ اور چین کے مجموعی سالانہ جی ڈی پی کے برابر ہے، ان کا سالانہ منافع کم و بیش دنیا کی تیسری بڑی قومی معیشت یعنی جرمنی کے سالانہ جی ڈی پی کے برابر ہے اور ان کی ٹوٹل مارکیٹ ویلیو دنیا کی 6 سب سے بڑی قومی معیشتوں یعنی امریکہ، چین، جرمنی، جاپان، برطانیہ اور انڈیا کے مجموعی سالانہ جی ڈی پی سے کوئی 20 ٹریلین ڈالر زیادہ ہے۔ مزید برآں پچھلی تقریباً دو دہائیوں میں جہاں پوری دنیا کے محنت کش عوام کی زندگیاں عالمی معاشی بحران کے سبب جہنم زار بنتی گئی ہیں وہیں فوربز کے اعداد و شمار کے مطابق ان کمپنیوں کے منافعوں، اثاثہ جات اور مارکیٹ ویلیو میں کم از کم 3 گنا کا اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح اگر ہم ان کمپنیوں میں مالیاتی اجارہ داریوں کی غالب حیثیت کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ 2000 میں سے 579 کمپنیاں مالیاتی سروسز (بینکنگ، کیپیٹل انویسٹمنٹ مینجمنٹ، ہیج فنڈز، انشورنس وغیرہ) سے متعلقہ ہیں جن میں سے 328 بینک ہیں۔ لسٹ میں شامل 8 سب سے بڑی کمپنیوں میں سے 5 بینک ہیں۔ ان میں سے پہلے چار بینک چین کے ریاستی بینک ہیں جن میں 6.7 ٹریلین ڈالر کے اثاثہ جات کے ساتھ انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا سر فہرست ہے جبکہ پانچویں نمبر پر 4.4 ٹریلین ڈالر کے اثاثہ جات کے ساتھ امریکہ کا جے پی مارگن آتا ہے۔ اثاثہ جات کے لحاظ سے 100 سب سے بڑی کمپنیوں میں سے 88 بینک اور دیگر مالیاتی کمپنیاں ہیں۔
آج کل اے آئی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مائیکرو چپس سے متعلقہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بہت چرچا ہے۔ لسٹ میں شامل 186 کمپنیاں اس شعبے سے تعلق رکھتی ہیں جن میں مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی (5.4 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ کیپ) این ویڈیا بھی شامل ہے۔ لیکن اہم یہ ہے کہ حالیہ سالوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں ہونے والے ہوش ربا اضافے کے پیچھے ان کمپنیوں کی آر اینڈ ڈی، اے آئی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور دیگر ایسے تکنیکی و پیداواری عوامل کی بجائے ان کمپنیوں کے اسٹاک پر مالیاتی اجارہ داریوں کی جانب سے ہونے والی سٹے بازی ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والی دنیا کی چار سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں یعنی این ویڈیا، ایپل، مائیکروسافٹ اور گوگل میں سب سے بڑی اور فیصلہ کن شئیر ہولڈرز بلیک راک، وین گارڈ گروپ، اسٹیٹ سٹریٹ کارپوریشن، جیوڈ کیپیٹل مینجمنٹ، ایف ایم آر جیسی انویسٹمنٹ اینڈ کیپیٹل مینجمنٹ یعنی مالیاتی سروسز مہیا کرنے والی کمپنیاں ہیں جو پھر بڑے بینکوں کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں۔ دیگر الفاظ میں تمام تر چکا چوند کے باوجود ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کی شہ رگ مالیاتی اجارہ داریوں کے پنجے میں ہے اور ان کے اہم فیصلے ان کے اسٹائلش ٹیک گرو نہیں بلکہ مالیاتی اشرافیہ کرتی ہے۔
اسی طرح اگر ہم ممالک کے لحاظ سے فوربز گلوبل 2000 کی لسٹ کو دیکھیں تو اس میں سے 621 کمپنیوں کا تعلق امریکہ جبکہ 324 کا تعلق (ہانگ کانگ سمیت) چین سے ہے۔ جاپان، انڈیا اور برطانیہ بالترتیب 181، 71 اور 66 کمپنیوں کے ساتھ تیسرے، چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔
بحث کو سمیٹتے ہوئے اگر سرمائے کی برآمد کی بات کریں تو یو این ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025ء کے مطابق 266 ارب ڈالر سالانہ کے ساتھ دنیا میں سب سے زیادہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کرنے والا ملک امریکہ ہے جبکہ (ہانگ کانگ سمیت) چین 250 ارب ڈالر سالانہ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ 204 ارب ڈالر سالانہ کے ساتھ جاپان کا نمبر تیسرا ہے۔ اگر دوسرے ممالک اور خاص کر پسماندہ سرمایہ دارانہ ممالک کو قرضوں کی صورت میں کی جانے والی سرمائے کی برآمد کی بات کی جائے تو اس میں اپنے کمرشل بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے قرضوں سمیت آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اے ڈی بی جیسے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے دیے جانے والی سودی قرضوں کی صورت میں سب سے بڑے کھلاڑی تو امریکہ اور جاپان جیسے پرانے سامراجی ممالک ہیں جو ان عالمی مالیاتی اداروں میں ڈی فیکٹو ویٹو پاور بھی رکھتے ہیں اور یوں قرض دار ممالک سے معیشت سمیت ہر معاملے میں اپنی من چاہی شرائط منواتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف چین بھی پچھلے کافی عرصے سے اس حوالے سے امریکہ اور جاپان وغیرہ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے اس مقصد کے لیے ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے بھی بنائے ہیں اگرچہ کہ ابھی ان کا عالمی مالیاتی نیٹ ورک اور رسائی پرانے سامراجیوں کے مقابلے میں خاصی پیچھے ہے۔ لیکن اس کمزوری کو چینی ریاست پسماندہ ممالک کو اپنے ریاستی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے براہ راست قرضے دے کر پوری کر رہی ہے جن کی مقدار میں 2010ء کے بعد سے بہت تیز اضافہ ہوا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلی ڈیڑھ دہائی میں چین کی جانب سے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو (زیادہ تر انفرااسٹرکچر پراجیکٹس مگر مالیاتی خسارے پورے کرنے وغیرہ کے لیے بھی) دیا جانے والا مجموعی قرضہ 1 ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ یاد رہے کہ 2016ء سے لے کر اب تک چین کی جانب سے پسماندہ ممالک کو دیا جانے والا قرضہ ان ممالک کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور پیرس کلب سے ملنے والے مجموعی قرضوں سے بھی زیادہ ہے۔ مگر ایڈ ڈیٹا نامی ایک امریکی تحقیقی ادارے کے مطابق 2000ء سے لے کر 2023ء تک کے عرصے میں چین نے امریکہ سمیت روس، آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی کمپنیوں اور بعض اوقات ریاستوں کو بھی زیادہ تر انفرااسٹرکچر منصوبوں، معدنیات کے شعبے، اثاثہ جات کی خریداری وغیرہ کے لیے تقریباً 900 ارب ڈالر کے قرضے دیے ہیں۔ واضح رہے کہ چین کی دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری ابھی اس کے علاوہ ہے جس میں سب بڑا حصہ اس کے پاس موجود 690 ارب ڈالر مالیت کے امریکی بانڈز کا ہے۔
چند اہم نکات
بحث کو سمیٹنے سے پہلے یہاں چند نکات کی وضاحت کرنا لازمی ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ چونکہ سرمایہ داری میں تو ہر ملک کے حکمران اور سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ منافع خوری کرنا چاہتے ہیں، اپنی دولت میں اضافے کے لیے دوسروں کے وسائل لوٹنا چاہتے ہیں تو کیا پھر ہر سرمایہ دارانہ ملک سامراج ہوتا ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ خواہش کا ہونا اور اس پر عمل پیرا ہونے کی صلاحیت کا ہونا ایک ہی چیز نہیں ہیں، لہٰذا آنکھیں بند کر کے ہر سرمایہ دارانہ ریاست پر سامراج کا لیبل لگا دینا درست طرز عمل نہیں اور ایسا کرنا عملی انقلابی سیاست میں اہم مواقع پر بہت سی کنفیوژن پیدا کر سکتا ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ جدید سامراج، سرمایہ دارانہ نظام کی آخری یا انتہائی منزل ہے جس کی بنیاد اجارہ دارانہ سرمایہ داری پر قائم ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر وہ ملک جو موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے، سامراج ہے۔ جدید سامراجی ریاست ہونے کے لیے لازمی ہے کہ اس ریاست میں پیداوار اور سرمائے یا ان دونوں میں سے کم از کم ایک کا بڑے پیمانے پر ارتکاز موجود ہو جس کے نتیجے میں اس ریاست میں ریاستی مشینری کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے والی ایسی اجارہ داریاں موجود ہوں جو یا تو بذات خود عالمی یا کم از کم علاقائی سطح کی اجارہ دار ہوں یا پھر ایسے کارٹیلز کا ایک اہم حصہ ہوں۔ اسی طرح قابل ذکر مقدار میں سرمائے کی برآمد بھی جدید سامراجی ریاست کا ایک اہم خاصہ ہے۔ ایسے ہی جدید سامراجی ریاست کی خارجہ اور اسٹریٹیجک پالیسیوں اور اس کی اجارہ داریوں کے لانگ ٹرم مفادات میں فوری نہیں تو حتمی تجزیے میں ایک تال میل کا ہونا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ ایک جدید سامراجی ریاست کے لیے فوجی قوت اگرچہ بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود معاشی عوامل کے مقابلے میں اس کی اہمیت ثانوی ہے۔ بعض لوگوں کو یہ بات شاید تھوڑی عجیب لگے گی لیکن اگر فوجی طاقت ہی جدید سامراج کا جوہری خاصہ ہوتی تو پھر جاپان، سوئیٹزر لینڈ اور سعودی عرب وغیرہ سامراجی قوتیں نہ ہوتیں یا پھر انڈیا کا سامراجی درجہ جاپان سے اوپر ہوتا۔ یاد رہے کہ 1905ء میں جب امریکہ ایک نوجوان سامراجی قوت تھا، اس وقت اس کی مسلح افواج کی کل حاضر سروس تعداد محض 1 لاکھ 7 ہزار تھی۔ ایسے ہی یہ دلیل کہ چونکہ چین نے سرمایہ داری کی طرف پلٹنے کے بعد ابھی تک کسی ملک پر حملہ نہیں کیا ہے، لہٰذا وہ سامراج نہیں ہے، بالکل غلط ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید سامراج کے معاشی خصائص نہ رکھنے والے کئی ایک سرمایہ دارانہ ممالک کے بھی اپنے خطے یا اس سے باہر سامراجی عزائم ہو سکتے ہیں لیکن یہ جدید سامراجیت کی بجائے پرانی طرز کی توسیع پسندی یا قبضہ گیری ہوتی ہے جس کی بابت لینن نے اپنی کتاب میں زار شاہی روس کے حوالے سے اشارہ بھی کیا تھا۔ یاد رہے کہ زار شاہی روس ایک پسماندہ سرمایہ دارانہ ملک تھا جو مکمل طور پر برطانوی اور فرانسیسی مالیاتی سرمائے کا مطیع تھا، اس نے کبھی ایک روبل سرمایہ بھی برآمد نہیں کیا تھا مگر اس کے باوجود لینن نے اسے اپنے وقت کی بڑی سامراجی قوتوں میں شمار کیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی دی تھی کہ وسطیٰ ایشیا اور مشرقی یورپ کے حوالے سے زار شاہی روس کی سامراجیت جدید کی بجائے پرانی طرز کی نو آبادیاتی قبضہ گیری پر مشتمل ہے۔ مزید برآں اپنی پسماندگی کے کارن روس خود ایک کہن زدہ سامراجی قوت ہونے کے باوجود حتمی تجزیے میں برطانیہ اور فرانس جیسی جدید سامراجی قوتوں کے تابع تھا۔ اسی طرح موجودہ عہد میں بھی جدید سامراج کے معاشی خصائص سے محروم ایسے پسماندہ سرمایہ دارانہ ممالک ہیں جو دیگر ممالک اور خطوں کے حوالے سے پرانے طرز کی توسیع پسندی، غلبے اور قبضہ گیری پر مشتمل سامراجی عزائم رکھتے ہیں، لہٰذا یہ سامراج ہی کہلا ئے جائیں گے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ ممالک اٹھارہویں صدی میں نہیں بلکہ جدید سامراج کے عہد میں وجود رکھتے ہیں اور اپنی پسماندگی کے کارن عموماً خود بھی جدید سامراجی ممالک کے تابع ہوتے ہیں۔ لہٰذا حتمی تجزیے میں ان ممالک کی کہن زدہ سامراجی پالیسیاں، جدید سامراجی قوتوں کی مرضی و منشا اور مفادات کے ہی تابع ہوتی ہیں۔ ریاست پاکستان بذات خود اس مظہر کی ایک شاندار مثال ہے جو ایک طرف تو امریکی، سعودی اور چینی سامراج کے تابع ہے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں پر پلتی ہے مگر دوسری طرف انہی سامراجی قوتوں کی آشیر باد (کبھی ایک کی تو کبھی دوسری کی) کے ساتھ بلوچستان، سابقہ فاٹا اور گلگت بلتستان وغیرہ پر پرانی طرز کا نو آبادیاتی تسلط قائم رکھے ہوئے ہے جبکہ کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے توسیع پسندانہ عزائم رکھتی ہے۔
ایک اور سوال یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ کیا جدید سامراج کے عہد میں دوسری عالمی جنگ کے بعد عمومی طور پر نو آبادیات کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ اس کا جواب ہے نہیں۔ جدید سامراج میں نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ محض اس کی شکل اور طریقہ کار تبدیل ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ آج بھی ضرورت پڑنے پر جدید سامراجی قوتیں کمزور ممالک پر براہ راست فوج کشی کرنے یا حلقہ اثر میں وسعت کے لیے ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگوں سے نہیں ہچکچاتیں لیکن مہنگا، مشکل اور سیاسی طور پر نقصان دہ ہونے کے سبب دوسری عالمی جنگ کے بعد سے بحیثیت مجموعی اب یہ جدید سامراجی قوتوں کے لیے ترجیحی طرز عمل نہیں۔ لیکن دوسری طرف آج دوسری عالمی جنگ کے سات دہائیوں بعد درحقیقت عالمی سامراجی قوتوں کا زیادہ تر ”سابقہ“ نو آبادیاتی ممالک پر غلبہ ماضی سے بھی کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ غلبہ براہ راست فوجی قبضے کی بجائے عالمی منڈی کے ذریعے بالواسطہ طور پر قائم رکھا جاتا ہے، جہاں تجارت کی غیر مساوی شرائط کے تحت ان ممالک کی زیادہ سماجی معیاری وقت محن یعنی زیادہ قدر رکھنے والی اشیا کا تبادلہ سامراجی ممالک کی کم قدر رکھنے والی اشیا کے ساتھ کر کے مستقل لوٹ مار کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جب یہ ممالک تجارتی خساروں اور مالی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں تو انہیں براہ راست یا عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے سودی قرضوں کے جال میں جکڑ کر ان پر اپنے سامراجی غلبے کو مزید مضبوط کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان ممالک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے یہاں کی سستی لیبر، سستی زمین اور خام مال کے وسائل کا بھر پور فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور یہاں آنے والا ہر ڈالر، یورو، ریال، پاؤنڈ، ین اور یوآن کئی گنا زیادہ کی قدرِ زائد نچوڑ کر واپس سامراجی ممالک جاتا ہے۔ درحقیقت یہ نام نہاد آزاد ممالک آج بھی نو آبادیاتی غلام ہی ہیں بس ان کے پیروں میں پڑی بیڑیاں ذرا مشکل سے نظر آتی ہیں۔ لیکن ہمیشہ یاد رہے کہ ان ممالک کا گماشتہ اور دلال سرمایہ دار حکمران طبقہ اس سب لوٹ مار میں برابر کا مجرم ہے اور عالمی سامراجی حکمرانوں کی بی ٹیم کا کردار ادا کرتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ اس گماشتہ حکمران طبقے کی سہولت کاری کے بغیر نئی طرز کا یہ نو آبادیاتی نظام نہ تخلیق ہو سکتا تھا اور نہ ہی چل سکتا تھا۔ اپنی ان ”خدمات“ کے بدلے میں سامراجی آقاؤں کے لیے کی گئی لوٹ مار میں سے ایک حصہ اس گماشتہ حکمران طبقے کو بھی رکھنے کی اجازت ہوتی ہے جس سے یہ اپنی تجوریاں بھرتے ہیں، جو کہ پھر سامراجی ممالک کے بینکوں میں ہی ہوتی ہیں۔ ان نام نہاد آزاد ممالک کی ”قومی خود مختاری“ اور ”ملکی سالمیت“ وغیرہ کی اصل اوقات بس اتنی سی ہے۔
سامراج کے خلاف جدوجہد، مگر کیسے؟
فیشن ایبل دانشوروں کی مجرد نعرے بازی کے برعکس سامراج کے خلاف جدوجہد اپنے جوہر میں سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد ہے کیونکہ، جیسا کہ پہلے کی گئی تمام بحث سے واضح ہے، جدید سامراج کی معاشی بنیاد اجارہ دارانہ سرمایہ داری ہے۔ سامراج کے خلاف جدوجہد کو سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد سے کاٹ کر پیش کرنا نہ صرف نرا یوٹوپیا ہے بلکہ یہ بالواسطہ طور پر سامراج کی طرفداری ہی ہے کیونکہ یہ اس کے اصل جوہر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسی طرح ہر ملک کے محنت کش طبقے کا اولین دشمن ان کے اپنے ملک میں ہی موجود ہے، یعنی کہ ان کا ”اپنا“ سرمایہ دار حکمران طبقہ اور بورژوا ریاست۔ جہاں ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کا حکمران طبقہ عالمی سامراجی ہے اور وہاں کے محنت کشوں کی اس کے خلاف جدوجہد نہ صرف ان کی اپنی نجات بلکہ سامراج کے خاتمے میں بھی کلیدی کردار رکھتی ہے وہیں پسماندہ سرمایہ دارانہ ممالک پر سامراج کا غلبہ بھی وہاں کے سرمایہ دار حکمران طبقے اور ریاست کے ذریعے ہی قائم رہتا ہے۔ لہٰذا ان ممالک کے محنت کش عوام کی سامراج کے چنگل سے نکلنے کی کوئی بھی کوشش یہاں کے گماشتہ حکمرانوں اور ریاست کے خلاف جدوجہد کیے بغیر ممکن نہیں۔ حتیٰ کہ اگر کسی پسماندہ ملک کا سرمایہ دار حکمران طبقہ اپنے مخصوص تاریخی پس منظر، مفادات اور دیگر وجوہات کے کارن سامراج کے ساتھ تضاد اور ٹکراؤ بھی رکھتا ہو تب بھی وہاں کے محنت کش طبقے کو سر جھکا کر اپنے حکمرانوں کے پیچھے چلنے کی بجائے ہر ممکن طریقے سے اپنے طبقاتی مفادات کی جدوجہد کو آزادانہ طور پر آگے بڑھانا چاہیے اور کبھی بھی حکمرانوں کے وظیفہ خوار دانشوروں کے پھیلائے ہوئے اس پراپیگنڈے کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی یہ جدوجہد ”انتشار“ کا باعث بن کر ”سامراج کے فائدے“ میں جا سکتی ہے۔

درحقیقت اگر ایسے ملک کا محنت کش طبقہ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نتیجتاً وجود میں آنے والی منصوبہ بند معیشت اور مزدور ریاست نہ صرف معاشی اور فوجی معاملات میں سامراج کے خلاف اپنے دفاع کو کہیں زیادہ بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتی ہے بلکہ دنیا بھر کے محنت کشوں سے یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے اپنی سامراج مخالف جدوجہد کو عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد میں بدل سکتی ہے۔ یہ سب کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ محنت کش طبقے اور عوام کو سامراجی جبر کے خلاف جدوجہد کو پس پشت ڈال دینا چاہیے اور نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے جیسا کہ غزہ میں اسرائیلی سامراج کی جنگی کاروائیوں اور ”اپنے“ حکمرانوں کی جانب سے ان کی حمایت کے خلاف اٹلی اور سپین کے محنت کشوں کی ہڑتالوں اور کئی دیگر یورپی ممالک میں لاکھوں عوام کے احتجاجی مظاہروں، امریکہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اٹھنے والی شاندار طلبہ مزاحمت اور اس کو ملنے والی زبردست عوامی حمایت، اور ایران کے محنت کش عوام کی جانب سے امریکی جارحیت کے خلاف جاری جرات مندانہ مزاحمت سے صاف ظاہر ہے۔ مدعا صرف یہ ہے کہ اس ساری جدوجہد میں سامراج کے جڑ سے خاتمے یعنی سرمایہ داری کے خاتمے کا حتمی مقصد کبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے اور انقلابی کمیونسٹوں کا فریضہ ہے کہ وہ ان ساری تحریکوں اور جدوجہد کا حصہ بنتے ہوئے محنت کش طبقے اور عوام پر سامراجی جبر اور سرمایہ دارانہ نظام کے باہم تعلق کو واضح کریں اور انہیں سامراج کے جڑ سے خاتمے یعنی دوسرے الفاظ میں ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد کے لیے منظم کریں۔
عصر نو کو حکمتِ اوراقِ لینن چاہیے
زہرِ استعمار کو تریاقِ لینن چاہیے