انقلابِ روس کی حاصلات اور آج کی دنیا

انقلاب روس 1917ء کو 109 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ 1917ء میں محنت کش طبقے نے زار شاہی کے تاج و تخت کی بساط لپیٹ دی اور پہلی مزدور ریاست کی بنیاد رکھی۔ ایک ایسا ملک، جہاں آبادی کی بھاری اکثریت بھوک، بیروزگاری، لاعلاجی اور جہالت کی تاریکیوں میں جکڑی ہوئی تھی، وہاں محنت کش طبقے نے اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے کر سرمایہ داری اور جاگیرداری کا خاتمہ کیا اور ایک سوشلسٹ سماج کی تعمیر کا آغاز کیا۔ منصوبہ بند معیشت کے ذریعے روس کی پسماندگی کو شکست دے کر اسے دنیا کی بڑی صنعتی طاقت میں تبدیل کیا گیا۔ تعلیم، صحت اور رہائش کے شعبوں میں ایسی حاصلات حاصل کی گئیں جن کا تصور بھی اس سے پہلے محال تھا۔ پہلی بار پیداوار کا مقصد مٹھی بھر حکمرانوں کی عیاشی نہیں بلکہ پورے سماج کی ضروریات بنیں۔ یہ وہ تاریخی کارنامہ تھا جس نے ثابت کیا کہ جب محنت کش طبقہ سماج کی باگ ڈور سنبھالتا ہے تو ترقی کے امکانات کی نئی دنیائیں کھل جاتی ہیں۔

آج جو پروفیسر صاحبان اور تجزیہ نگار محنت کش طبقے کو نااہل قرار دیتے ہیں، جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سماج چلانا اس کے بس کی بات نہیں اور اس کا کام صرف حکم بجا لانا ہے، انہیں سب سے پہلے اپنے نظام کے حکمرانوں سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ ایپسٹین اسکینڈل سے لے کر دنیا کو جنگوں کی آگ میں جھونکنے تک، نسل کشی، بھوک، بیروزگاری، لاعلاجی اور بے گھری تک، آج کا سرمایہ دارانہ نظام انسانیت کو جس تباہی سے دوچار کر رہا ہے، وہ اسی نظام کی پیدا کردہ ہے جسے یہ دانشور تاریخ کا آخری اور حتمی نظام بنا کر پیش کرتے ہیں۔ جب دنیا کے اربوں انسان بنیادی ضروریات سے محروم ہوں تو سوال محنت کش طبقے کی اہلیت پر نہیں، بلکہ اس نظام کی اہلیت پر اٹھنا چاہیے جس کی حفاظت کے لیے یہ دانشور دن رات دلائل تراشتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انقلابِ روس کی حاصلات ان کے لیے آج بھی ناقابلِ برداشت ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر پاتے کہ محنت کش طبقے نے سرمایہ داری کا تختہ الٹ کر منصوبہ بند معیشت قائم کی اور ایسی غیر معمولی سماجی و صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہی وہ تاریخی سچائی ہے جس سے یہ وظیفہ خور دانشور اپنے چند نوالوں کی خاطر منہ تو موڑ سکتے ہیں، مگر اسے مٹا نہیں سکتے۔ روسی محنت کشوں نے دنیا بھر کے مزدوروں کو دکھایا کہ حقیقی آزادی کا راستہ حکمرانوں کی اطاعت سے نہیں بلکہ اپنے مقدر کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینے سے کھلتا ہے۔ اکتوبر انقلاب محض ماضی کا ایک باب نہیں بلکہ آج بھی پوری دنیا کے محنت کشوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔

اس مضمونمیں ہم اکتوبر انقلاب کی حاصلات اور سوویت یونین کی سماجی، معاشی، صنعتی اور سائنسی ترقی کا جائزہ لیں گے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ حاصلات منصوبہ بند معیشت کے ذریعے کیسے ممکن ہوئیں۔ تاکہ مارکسزم کے نظریات کی روشنی میں یہ سمجھا جا سکے کہ آج سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کی بنیاد پر موجودہ سماجی و معاشی مسائل کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے اور ایک ایسا سماج کیسے تعمیر کیا جا سکتا ہے جس میں پیداوار کا مقصد منافع کے بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل ہو۔

آج پوری دنیا میں تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں کو شدید مالی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق، 2010ء میں مختلف ممالک میں تعلیم پر سرکاری اخراجات کا درمیانی تناسب مجموعی قومی پیداوار کا 4.3 فیصد تھا، جو 2024ء میں کم ہو کر 4.2 فیصد رہ گیا، جبکہ سرکاری بجٹ میں تعلیم کا حصہ 14.4 فیصد سے گھٹ کر 12.6 فیصد ہو گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کئی ممالک میں تعلیم کو دیے جانے والے بجٹ کی ترجیح کم ہوئی ہے، حالانکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور تعلیمی ضروریات کے باعث مزید وسائل درکار ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ عالمی بینک اور عالمی ادارہئ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کم آمدنی والے ممالک میں فی کس سرکاری صحت اخراجات 2020ء میں تقریباً 13 ڈالر سے کم ہو کر 2023ء میں 10 ڈالر رہ گئے، جبکہ کم متوسط آمدنی والے ممالک میں یہ اخراجات 2021ء کے 64 ڈالر سے کم ہو کر 2023ء میں 55 ڈالر تک آ گئے۔ اس کے نتیجے میں غریب آبادی کے لیے معیاری علاج، ادویات اور بنیادی طبی سہولتوں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے اور لوگوں کو علاج کے لیے اپنی جیب سے بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

دوسری جانب، عالمی سطح پر بے روزگاری کی شرح 2015ء کے تقریباً 5.7 فیصد سے کم ہو کر 2024ء اور 2025ء میں تقریباً 4.9 فیصد رہی، لیکن بے روزگاری کی شرح میں یہ کمی روزگار کے بحران کے خاتمے کی علامت نہیں کیونکہ 2025ء میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.4 فیصد تھی۔ دنیا بھر میں کروڑوں نوجوان تعلیم، روزگار اور پیشہ ورانہ تربیت سے محروم تھے، جبکہ غیر رسمی روزگار سے وابستہ افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ پاکستان میں یہ مسائل مزید واضح ہیں، تعلیم اور صحت پر حقیقتاً یعنی صوبوں کی جانب سے وفاق کو واپس کئے جانے والے پیسے،خالی آسامیوں کی مد میں دی جانے والی رقم اور بے تحاشہ کرپشن کی نظر ہو جانے والے فنڈز کو نکال کر جی ڈی پی کا بمشکل 2 فیصد خرچا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ روزگار کی منڈی میں ہر سال تقریباً 35 لاکھ افراد داخل ہوتے ہیں، لیکن معیشت ان سب کے لیے مناسب اور مستقل ملازمتیں پیدا نہیں کر پا رہی۔ اس کے برعکس، بڑے پیمانے پر اسکولوں، کالجوں، بنیادی صحت کے مراکز اور بڑے ہسپتالوں کی نجکاری کا عمل تیز ہو رہا ہے، جس کے ذریعے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کو سرمایہ داروں کے منافع کے حصول کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ عالمی اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مختلف ممالک میں صورتِ حال یکساں نہیں، تاہم تعلیم و صحت کے لیے ناکافی وسائل، روزگار کے غیر محفوظ مواقع اور نوجوانوں کے لیے مناسب و مستقل ملازمتوں کی کمی آج بھی بڑے عمومی عالمی مسائل ہیں۔ سرمایہ داری کو رائج ہوئے تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ نظام بنیادی ضروریاتِ زندگی کو تمام انسانوں کے لیے یقینی بنانے کے بجائے ان تک رسائی کو مزید محدود کر رہا ہے اور تعلیم، صحت اور رہائش جیسے شعبوں کو بھی سرمایہ داروں کے منافع اور دولت میں اضافے کا ذریعہ بنا رہا ہے۔

اس کے برعکس، اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں تعلیم، صحت اور رہائش کے شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی اور سب سے بڑی بات کہ تمام بنیادی ضروریات زندگی مفت فراہم کی گئیں۔ دستیاب تاریخی اعداد و شمار کے مطابق، انقلاب کے بعد ٹیکنیشینز کی تعداد میں پچپن گنا اضافہ ہوا، کل وقتی تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد چھ گنا اور کتابوں کی اشاعت تیرہ گنا بڑھ گئی، جبکہ ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد دس گنا اور بچوں کی نرسریوں میں بچوں کی تعداد میں 1385 گنا اضافہ ہوا۔ ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ڈاکٹروں کی تعداد 205 تھی، جبکہ اس کے مقابلے میں اٹلی اور آسٹریا میں 170، امریکہ میں 150، مغربی جرمنی میں 144، برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ میں 110 اور سویڈن میں 101 ڈاکٹر تھے۔ متوقع اوسط عمر میں دو گنا اضافہ ہوا، جبکہ بچوں کی شرحِ اموات میں نو گنا کمی واقع ہوئی۔ 1955ء سے 1959ء کے درمیان شہری رہائش گاہوں، یعنی ریاستی اور کوآپریٹو رہائش گاہوں، کی تعداد دوگنا جبکہ ذاتی رہائش گاہوں کی تعداد تیس گنا بڑھنے کے اعداد و شمار بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح 1970ء تک ڈاکٹروں کی تعداد 135,000 سے بڑھ کر 484,000 ہو گئی، جبکہ ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد 791,000 سے بڑھ کر 2,224,000 تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار سوویت یونین میں صحت اور رہائش کے شعبوں میں ہونے والی زبردست توسیع کی نشان دہی کرتے ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں بھی صورتِ حال یکسر تبدیل ہوئی اور یہ اکتوبر انقلاب کی بنیادی حاصلات میں سے ایک تھی۔ سوویت یونین میں مزدور طبقے کی بڑی تعداد نے فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کی، جبکہ محنت کش خاندانوں کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے امکانات بہت وسیع ہوئے۔ 1940ء سے 1964ء کے درمیان اعلیٰ اور ثانوی فنی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد چار گنا بڑھ گئی۔ 1970ء تک سوویت یونین میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ کی تعداد 46 لاکھ ہو چکی تھی، جن میں سے 257,000 انجینئرنگ کے فارغ التحصیل تھے، جبکہ اسی شعبے میں امریکہ کے فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد 50,000 بتائی جاتی تھی۔ فی کس تعلیمی اخراجات کے حوالے سے بھی سوویت یونین، برطانیہ سے چار گنا آگے تھا۔ ان اعداد و شمار پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ منصوبہ بند معیشت نے تعلیم، صحت اور فنی تربیت کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کے امکانات پیدا کیے۔

آج بھی دنیا بھر میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل کے خلاف تحریکوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لاکھوں طلبہ اپنے تعلیمی حقوق، بہتر مستقبل اور روزگار کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں، جبکہ مختلف ممالک میں محنت کش اور نوجوان اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ فرانس اور بھارت میں طلبہ کی تحریکیں اس وسیع تر صورتِ حال کی مثالیں ہیں۔ یہ تحریکیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں بے پناہ اضافے کے باوجود سماج کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔ اس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان وسائل پر نجی ملکیت اور منافع پر مبنی پیداواری نظام ہے۔ اسی لیے ہم انقلابی کمیونسٹ ان تحریکوں میں یہ پیغام لے کر جا رہے ہیں کہ تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش جیسے بنیادی حقوق کی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک وسیع تر طبقاتی جدوجہد سے جوڑنا ضروری ہے۔ اکتوبر انقلاب کے تجربات یہ سبق دیتے ہیں کہ محنت کش طبقہ جب منظم ہو کر اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیتا ہے اور ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت اور جمہوری منصوبہ بندی کی بنیاد پر استوار کرتا ہے تو سماج کے وسائل کو اکثریت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کی طلبہ اور محنت کش تحریکوں کو ایک انقلابی سوشلسٹ پروگرام کے تحت جوڑا جائے، سرمایہ دارانہ ملکیت اور منافع کی بالادستی کا خاتمہ کیا جائے اور ایک ایسے سماج کی بنیاد رکھی جائے جہاں پیداوار کا مقصد چند سرمایہ داروں کی دولت میں اضافہ نہیں بلکہ تمام انسانوں کی ضروریات کی تکمیل، سماجی برابری اور انسانی ترقی ہو۔ یہی اکتوبر انقلاب کے بنیادی اسباق ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے آج انسانیت کو سرمایہ داری کے پیدا کردہ بحرانوں سے نکال کر ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔

آج سرمایہ داری اپنے تاریخی بحران سے گزر رہی ہے۔ پوری دنیا میں صنعتیں بڑے پیمانے پر بند ہو رہی ہیں یا اپنی پیداواری صلاحیت سے کم سطح پر پیداوار کر رہی ہیں۔ سرمایہ داری کا زائد پیداوار کا بحران اب بہت سے شعبوں میں زائد پیداواری صلاحیت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یورپ کی موجودہ صورتحال سرمایہ داری کے اس عمومی بحران کی ایک اہم مثال ہے، جہاں کئی بڑی معیشتوں میں صنعتی پیداوار مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ یہ وہی یورپ ہے جہاں سرمایہ داری نے جنم لیا اور جسے تیسری دنیا کے دانشور اور حکمران ترقی اور خوشحالی کی مثال بنا کر پیش کرتے رہے ہیں، لیکن آج اس کا صنعتی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ یورپی اسٹیل ایسوسی ایشن کے مطابق، یورپی یونین میں خام اسٹیل کی پیداوار 2025ء میں 2.9 فیصد مزید گر کر 12 کروڑ 58 لاکھ ٹن رہ گئی، جو 2008ء کے مالیاتی بحران سے پہلے کی سطح سے تقریباً 6 کروڑ ٹن کم ہے۔ عالمی سطح پر اسٹیل کی اضافی پیداواری صلاحیت 2025ء میں تقریباً 64 کروڑ ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ یورپی یونین میں اسٹیل کی کھپت کا تقریباً 30 فیصد درآمدات سے پورا کیا گیا۔ توانائی کی بلند قیمتیں بھی یورپی صنعت کی پیداواری لاگت اور عالمی منڈی میں مسابقت کو متاثر کر رہی ہیں۔ 2019ء کے بعد یورپی یونین میں بنیادی دھاتوں اور کار سازی کی صنعتوں میں بھی نمایاں سکڑاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ کار ساز اداروں نے بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کٹوتیوں کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ صنعتی بحران، عالمی منڈی میں مسابقت، اضافی پیداواری صلاحیت اور منافع کے حصول کی دوڑ کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس وقت سرمائے کا ایک بڑا حصہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں سٹے بازی پر لگایا جا رہا ہے، جو ایک نئے معاشی بلبلے کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر یہ بلبلہ پھٹتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایک شدید معاشی بحران پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں، جس کا بوجھ ایک بار پھر محنت کش طبقے کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ سرمایہ داری کی بنیادی حقیقت یہی ہے کہ سرمایہ دار محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت پر جونک کی طرح چمٹے رہتے ہیں اور اپنے سرمائے میں اضافے کے لیے ان کی محنت کا استحصال کرتے ہیں۔ آج سرمایہ داری اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ انسانی سماج کو مزید ترقی دینے کے بجائے اسے مسلسل نئے بحرانوں میں دھکیل رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ذرائع پیداوار پر سرمایہ دار طبقے کی نجی ملکیت ہے، جس کے باعث پیداوار کا مقصد انسانی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ منافع کا حصول بن چکا ہے۔

سرمایہ دارانہ ترقی یافتہ ریاستیں جن کی ترقی استحصال اور لوٹ مار کی بدولت ہوئی ان کے مقابلے میں سوویت یونین نے کئی گناہ زیادہ ترقی کی جس میں 1913ء سے (جو کہ قبل از جنگ پیداوار کا نقطہئ عروج تھا)1963ء تک کے پچاس سالوں میں دو عالمی جنگوں، بیرونی مداخلت، خانہ جنگی اور قدرتی آفات کے باوجود صنعتی پیداوار میں 52گنا اضافہ ہوا۔ اسی دوران امریکہ میں چھ گنا سے کم اور برطانیہ میں بمشکل دو گنا اضافہ ہوا۔ دوسرے الفاظ میں قومیائی ہوئی معیشت کی بنیاد پر چند دہائیوں کے اندر سوویت یونین ایک پسماندہ معیشت سے ترقی کر کے دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن گیا جو ایک عظیم الشان صنعتی بنیاد اور ایک اعلیٰ ثقافتی سطح کا حامل ہونے کے علاوہ امریکہ اور جاپان کے سائنس دانوں کی مجموعی تعداد کے برابر سائنس دان رکھتا تھا۔ مارکسی نقطہ نظر سے ٹیکنیک کا مقصد انسانی محنت کے اصراف کو کم کرنا ہے۔ 1913ء سے 1963ء کے پچاس سالوں میں صنعت میں مزدوروں کی افزودگی محن میں اضافہ، جو معاشی ترقی کی بنیادی علامت سمجھی جاتی ہے، برطانیہ میں 73فیصد اور امریکہ میں 332فیصد ہوا۔ سوویت یونین میں یہ اضافہ 1310فیصد ہوا اگرچہ اس کا آغاز ایک نہایت کمتر سطح سے ہوا تھا۔ روس میں انتہائی تیز رفتار ترقی زیادہ تر ان ادوار میں ہوئی جو مغرب میں بحران یا جمود کے عرصے تھے۔ 1930ء کی دہائی میں سوویت صنعت میں ہونیوالی عظیم پیش رفت اس وقت ہوئی جب سرمایہ دارانہ دنیا کو زبردست کساد بازاری اور بحران کا سامنا تھا اور اسکے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے کی بیروزگاری اور شدید غربت کا بھی۔ 1929ء اور1933ء کے درمیان امریکہ کی صنعتی پیداوار میں 48.7فیصد کمی ہوئی۔ امریکہ کی قومی تحقیقاتی لیگ کے اندازے کے مطابق مارچ1933ء میں بیروزگاروں کی تعداد 19,920,000تھی۔ جرمنی میں ساٹھ لاکھ افراد بیروزگار تھے۔ صرف ان تقابلی جائزوں سے ہی سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار کی طوائف الملوکی پر منصوبہ بند معیشت کی برتری کا واضح اظہار ہوجاتا ہے۔

آج دنیا بھر میں خواتین کو ریپ، جنسی ہراسانی، گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل اور معاشی و سماجی عدم مساوات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہئ صحت کی نومبر 2025ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کر چکی ہے، جبکہ پاکستان میں صورتِ حال اور بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ پائیدار سماجی ترقی کی تنظیم (SSDO) کی رپورٹ کے مطابق 2024ء میں پاکستان میں ریپ کے 5,339، گھریلو تشدد کے 2,238 اور غیرت کے نام پر قتل کے 547 واقعات درج ہوئے، ان کے علاوہ ہزاروں کیس تو ایسے ہیں جو درج ہی نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ، 2026ء کے پہلے چھ ماہ میں صرف پنجاب میں ریپ کے 4,446 مقدمات درج ہوئے۔ یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ ہونے والے واقعات کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ بدنامی کے خوف، خاندانی دباؤ اور انصاف کے حصول میں مشکلات کے باعث اکثریت واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ خواتین کے لیے عدم تحفظ کی یہ صورتِ حال محض انفرادی جرائم تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ معاشی انحصار، تعلیم اور روزگار کے غیر مساوی مواقع، کام کی جگہ پر ہراسانی اور سماجی جبر جیسے مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں، جو خواتین کی زندگی، آزادی اور سماجی ترقی کو محدود کرتے ہیں۔

انقلاب سے پہلے روس میں زار شاہی کے تحت خواتین کی حالتِ زار انتہائی ابتر تھی۔ عورت کو مرد کی ملکیت سمجھا جاتا تھا اور اسے قانونی و سماجی طور پر تشدد، صنفی امتیاز اور پدر شاہی جبر کا سامنا تھا۔ لڑکیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی اور انہیں کم عمری ہی سے گھریلو کاموں یا فیکٹریوں میں جھونک دیا جاتا تھا، جہاں انہیں انتہائی کم اجرت پر اٹھارہ گھنٹے روزانہ تک کام کرنا پڑتا تھا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کو کم اجرت، غیر انسانی اوقاتِ کار اور استحصال کے ساتھ ساتھ گھر کے کام، بچوں کی پرورش اور خاندان کی دیکھ بھال کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا تھا۔ شادی کے بعد خواتین کے لیے طلاق حاصل کرنا مشکل تھا، اسقاطِ حمل غیر قانونی تھا اور حاملہ خواتین کو زچگی کی چھٹیوں اور بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا تھا۔ 1897ء کی ایک رپورٹ کے مطابق روس میں خواتین کی شرحِ خواندگی صرف 13 فیصد تھی۔ تاہم، 1917ء کے انقلاب میں خواتین محنت کشوں نے کلیدی کردار ادا کیا اور پیٹروگراڈ میں ٹیکسٹائل صنعت کی خواتین محنت کشوں کی ہڑتال نے انقلابی تحریک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سوشلسٹ انقلاب کے بعد خواتین کی قانونی، سماجی، معاشی اور سیاسی حیثیت میں بنیادی تبدیلیاں لائی گئیں؛ شادی اور طلاق کے قوانین آسان بنائے گئے، اسقاطِ حمل کو قانونی حیثیت دی گئی، خواتین کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع وسیع کیے گئے، مساوی اجرت کے اصول کو تسلیم کیا گیا اور اوقاتِ کار میں کمی کے ساتھ زچگی کے دوران تنخواہ کیساتھ چھٹی اور دیگر سہولیات متعارف کرائی گئیں۔ خواتین کے گھریلو بوجھ کو کم کرنے کے لیے اجتماعی باورچی خانے، کپڑے دھونے کی اجتماعی سہولیات، بچوں کی نرسریاں اور ڈے کیئر مراکز قائم کیے گئے، جبکہ تعلیم اور سائنس سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ خواتین نے سیاست، صنعت، صحت، تعلیم اور تحقیق کے میدانوں میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور ویلنٹینا تیریشکووا 1963ء میں خلا میں جانے والی دنیا کی پہلی خاتون بنیں۔ ان حاصلات کے باوجود سوویت یونین میں خواتین کی مکمل آزادی کے دعوے کو تاریخی پیچیدگیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ قانونی مساوات اور سماجی سہولیات کے باوجود گھریلو ذمہ داریوں اور صنفی عدم مساوات کے بعض مسائل برقرار رہے۔ اس تاریخی تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خواتین کی آزادی کے لیے قانونی حقوق کے ساتھ ساتھ تعلیم، معاشی خودمختاری، اجتماعی سہولیات اور سماجی زندگی میں ان کی بھرپور شرکت ضروری ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں خواتین ریپ، ہراسانی، گھریلو تشدد، جنگوں، بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیم و صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان حالات کی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ خواتین محنت کش طبقے کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کریں اور مرد محنت کشوں کے ساتھ مل کر استحصال، جبر اور صنفی امتیاز کے خلاف جدوجہد کریں، کیونکہ خواتین کی شمولیت کے بغیر کسی بھی انقلابی تبدیلی کو مکمل نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے علاوہ قومی سوال، زرعی سوال اور جنگوں کا خاتمہ اکتوبر انقلاب کی بنیادی حاصلات میں شامل تھے۔ بالشویکوں نے مظلوم قومیتوں کے حقِ خود ارادیت، کسانوں کے لیے زمین اور سامراجی جنگ کے خاتمے کا نعرہ محض تقریروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انقلاب کے ذریعے ان مطالبات پر عمل درآمدبھی کرکے دکھایا۔ آج بھی جنگوں کی تباہ کاریوں کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2025ء میں سامراجی جنگوں سے متعلق اموات کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 38 ہزار رہی، جبکہ دنیا کی 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی آمدن 2024ء میں ریکارڈ 679 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور عالمی فوجی اخراجات 2024ء میں بڑھ کر 2.7 ٹریلین ڈالر ہو گئے۔ یہ اعداد و شمار اس تضاد کو نمایاں کرتے ہیں کہ ایک طرف انسانیت کی ایک بڑی تعداد بنیادی ضروریات سے محروم ہے اور دوسری طرف جنگی مشینری اور اسلحے کی تیاری پر کھربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور پیداوار کی بے پناہ صلاحیت کے باوجود 2025ء میں دنیا کے تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد بھوک کا شکار رہے۔

زمین کی غیر مساوی تقسیم، سرمایہ دارانہ زرعی رشتے، بڑے زرعی کاروباروں کا منافع اور خوراک کی منڈی پر سرمایہ دارانہ کنٹرول اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں بھی کسانوں کو مہنگے بیج، کھاد، بجلی اور زرعی ادویات، قرضوں اور موسمیاتی تباہ کاریوں کا سامنا ہے، جبکہ چھوٹے کسانوں اور بے زمین ہاریوں کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے؛ عالمی ادارہئ موسمیات کے مطابق 2024ء صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1.55 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم سال رہا، جس کے ساتھ شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے خطرات بھی بڑھے ہیں۔

ان مسائل کا حل محض حکمرانوں کی اپیلوں یا انفرادی اقدامات میں نہیں بلکہ پیداوار اور قدرتی وسائل پر جمہوری عوامی کنٹرول، سرمایہ دارانہ استحصال کے خاتمے، سائنسی بنیادوں پر زرعی منصوبہ بندی، قابلِ تجدید توانائی میں وسیع سرمایہ کاری اور ماحول کو تباہ کرنے والی صنعتوں کی منافع کے بجائے انسانی ضروریات کے مطابق تنظیمِ نو میں مضمر ہے۔ جنگوں کے خاتمے کے لیے بھی محنت کش طبقے کو تمام ممالک کے حکمران طبقات کے سامراجی مفادات کے مقابلے میں بین الاقوامی طبقاتی یکجہتی قائم کرنا ہوگی۔ اکتوبر انقلاب کا بنیادی سبق یہی ہے کہ قومی آزادی، زمین، امن اور انسانی ضروریات کی تکمیل کے سوالات ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا پائیدار حل محنت کشوں، نوجوانوں، کسانوں اور مظلوم قومیتوں کی مشترکہ جدوجہد، سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور ایک عالمی سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کی تعمیر سے وابستہ ہے۔

روس میں یہ تمام حاصلات اسی وقت ممکن ہوئیں جب محنت کش طبقے نے سرمایہ دارانہ نجی ملکیت کا خاتمہ کرتے ہوئے ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت میں لیا اور معیشت کو سماجی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت چلانے کا آغاز کیا۔ 1917ء میں روس میں دو انقلابات برپا ہوئے۔ فروری انقلاب کے نتیجے میں زار شاہی کا خاتمہ تو ہو گیا، لیکن اقتدار محنت کش طبقے کے ہاتھوں میں آنے کے بجائے ایک ایسی عبوری حکومت کے پاس چلا گیا جو سرمایہ دارانہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ چنانچہ جنگ، غربت، بھوک اور دیگر بنیادی مسائل بدستور موجود رہے۔ اس کے بعد لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں بالشویک پارٹی نے ایک واضح انقلابی پروگرام کے ذریعے محنت کش طبقے کو اقتدار حاصل کرنے کا راستہ دکھایا۔ پرانے روسی کیلنڈر کے مطابق اکتوبر میں محنت کشوں کی کمیٹیوں، یعنی سوویتوں، کی حمایت اور انقلابی جدوجہد کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ عبوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور مزدور ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی گئی۔ اسی سیاسی اور معاشی تبدیلی نے وہ حالات پیدا کیے جن میں تعلیم، صحت، رہائش اور صنعت کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر ترقی ممکن ہوئی۔

آج بھی دنیا بھر میں تحریکیں ابھر رہی ہیں، انقلابات کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور مختلف ممالک میں محنت کشوں، طلبہ اور نوجوانوں کی تحریکیں حکمران طبقات اور ان کی پالیسیوں کو چیلنج کر رہی ہیں۔ کئی جگہوں پر حکومتوں کا تختہ بھی الٹ دیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ نہیں ہو پاتا اور بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔ اس کی اہم وجوہات میں سب سے فیصلہ کن وجہ انقلابی مارکسزم اور لینن ازم کے نظریات سے مسلح، منظم اور انقلابی قیادت کی حامل بالشویک طرز کی پارٹی کا فقدان ہے، جو محنت کش طبقے کو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے واضح پروگرام اور حکمتِ عملی فراہم کر سکے۔ یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی ہر ملک میں تعمیر کی جدوجہد جاری ہے، اور پاکستان میں بھی انقلابی کمیونسٹ اسی مقصد کے تحت ایک ایسی انقلابی پارٹی کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں جو محنت کش طبقے کی جدوجہد کو سوشلسٹ انقلاب کی طرف لے جا سکے۔ کیونکہ اکتوبر انقلاب کا بنیادی سبق یہی ہے کہ محض حکومتوں کی تبدیلی سے سماج کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے؛ ان کے مستقل حل کے لیے سرمایہ دارانہ نظام، نجی ملکیت اور منافع کی بالادستی کا خاتمہ اور ذرائع پیداوار کو محنت کش طبقے کی جمہوری اجتماعی ملکیت میں لینا ناگزیر ہے، تاکہ انسانی سماج کو استحصال اور محرومی سے نجات دلا کر ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے جہاں پیداوار کا مقصد چند افراد کے منافع کی بجائے پوری انسانیت کی ضروریات اور ترقی ہو۔