!پشاور: اقراء نیشنل یونیورسٹی کے طلبہ پر فائرنگ – طلبہ کے مطالبات تسلیم کیے جائیں

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا|

پشاور میں اقراء نیشنل یونیورسٹی حیات آباد کیمپس کے طلبہ نے یونیورسٹی میں مسلسل بڑھتی ہوئی فیسوں، ہاسٹل کی ناقص سہولیات، بجلی کی قلت، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور میس میں ناقص خوراک کے خلاف احتجاج کیا۔ طلبہ کے مطابق متعدد شکایات کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کے مسائل کے حوالے سے ایک طالب علم نے پہلے وارڈن سے شکایت کی، لیکن ان کے مطابق شکایت کا ازالہ کرنے کی بجائے مبینہ طور پر طالب علم کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور اس کے خلاف یونیورسٹی سے اخراج کا نوٹس جاری کیا گیا۔ بعد ازاں طلبہ نے رجسٹرار اور وائس چانسلر کے سامنے اپنے مسائل رکھے اور مطالبہ کیا کہ ہاسٹل کے بنیادی مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔

طلبہ کے مطابق انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں بھی ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بار ہا شکایات اور مذاکرات کے باوجود مسائل جوں کے توں رہے، جس کے بعد انہوں نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔

فیسوں میں مسلسل اضافہ، سہولیات کہاں ہیں؟

طلبہ کی جانب سے یہ بھی شکایت کی جا رہی ہے کہ یونیورسٹی میں ہر سمسٹر فیس میں تقریباً 12 سے 20 ہزار روپے تک اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ بعض شعبوں میں نہ مناسب کلینیکل روٹیشن فراہم کی جا رہی ہے اور نہ ہی لیبارٹری میں مطلوبہ عملی کام کا مناسب انتظام ہے۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ فیس دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ یونیورسٹی ہر سال نئے تعلیمی سیشن سے قبل فی سمسٹر فیس میں اضافہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

یہ صورتحال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ اگر طلبہ سے مسلسل بڑھتی ہوئی فیسیں وصول کی جا رہی ہیں تو انہیں معیاری تعلیم، عملی تربیت، لیبارٹری، کلینیکل اور دیگر بنیادی سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟

پُرامن احتجاج کے جواب میں مبینہ فائرنگ

طلبہ کے احتجاج کے دوران صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی جب طلبہ کے مطابق یونیورسٹی کے سیکیورٹی گارڈز نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ رجسٹرار کے احکامات پر کی گئی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق فائرنگ میں کسی طالب علم کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات اور فائرنگ کے ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا مؤقف

انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا، اقراء نیشنل یونیورسٹی کے طلبہ کے مطالبات اور ان کی پُرامن جدوجہد کی حمایت کرتی ہے اور طلبہ کے خلاف مبینہ فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہے اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

تعلیمی ادارے طلبہ کے لیے خوف اور جبر کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، بحث، سوال اور اجتماعی جدوجہد کے مراکز ہونے چاہئیں۔ فیسوں میں مسلسل اضافہ، ہاسٹل کی بنیادی سہولیات کا فقدان، بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل، ناقص خوراک اور عملی و کلینیکل تربیت کے مسائل پر آواز اٹھانا طلبہ کا بنیادی حق ہے۔

انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کی شکایات کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرے۔ طلبہ کے سوالات کا جواب گولی نہیں، مذاکرات اور مسائل کے حل سے دیا جانا چاہیے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ:

1۔ طلبہ پر فائرنگ کے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
2۔ فائرنگ میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔
3۔ اگر انتظامیہ کے کسی افسر کی جانب سے فائرنگ کا حکم دینے کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
4۔ طلبہ کے خلاف انتقامی کاروائی، اخراج یا دھمکیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
5۔ ہر سمسٹر فیس میں اضافے اور اس کے مقابلے میں فراہم کی جانے والی سہولیات کی مکمل وضاحت طلبہ کے سامنے رکھی جائے۔
6۔ ہاسٹل میں بجلی، انٹرنیٹ، معیاری خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں۔
7۔ لیبارٹری، کلینیکل روٹیشن اور عملی تربیت سے متعلق طلبہ کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔
8۔ طلبہ کے منتخب نمائندوں کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کا نظام قائم کیا جائے۔
9۔ طلبہ کو اپنے مطالبات کے لیے پرامن احتجاج، اجتماع اور اجتماعی جدوجہد کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔

اقراء نیشنل یونیورسٹی کے طلبہ اکیلے نہیں ہیں۔ فیسوں میں اضافہ، تعلیم کی بڑھتی ہوئی کمرشلائزیشن، ہاسٹل اور تعلیمی سہولیات کے مسائل کسی ایک یونیورسٹی تک محدود نہیں ہیں۔ حالیہ عرصے میں پشاور کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ نے ہاسٹل اور بنیادی سہولیات کے مسائل پر احتجاج کیا ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا مؤقف ہے کہ طلبہ اپنے مطالبات کے لیے متحد ہو کر اپنی ایکشن کمیٹیاں تشکیل دیں اور منظم و اجتماعی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کریں۔

طلبہ کے مسائل کا حل جبر نہیں، جدوجہد ہے!

فیسوں میں اضافہ بند کرو!
طلبہ کے مطالبات تسلیم کرو!
تعلیمی اداروں میں جبر بند کرو!
طلبہ کے احتجاج کے حق کا دفاع کرو!