|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا|

بچوں کے قتلِ عام، حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت، تعلیمی اداروں کی نجکاری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف متحدہ انقلابی جدوجہد ناگزیر ہے!
پشاور میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 بچوں اور ایک استانی کی ہلاکت، جبکہ درجنوں بچوں کے زخمی ہونے کا سانحہ، پاکستانی ریاست اور حکمران طبقے کی مجرمانہ غفلت کا ایک اور المناک اظہار ہے۔ زخمی بچوں میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکول کی عمارت انتہائی بوسیدہ اور عارضی نوعیت کی تھی۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ اس استحصالی نظام کا نتیجہ ہے جس میں منافع کو انسانی زندگیوں پر ترجیح دی جاتی ہے اور ریاستی ادارے عوام کے بچوں کی حفاظت کی بجائے سرمایہ داروں کے مفادات کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔
یہ بچے کسی حکمران، سرمایہ دار یا طاقتور طبقے کے نہیں، بلکہ محنت کش خاندانوں کے بچے ہیں۔ ان کے والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید میں انہیں سکول بھیجتے ہیں، مگر جب ریاست ان کی جان و سلامتی کی ضمانت بھی فراہم نہیں کر سکتی تو اس پورے نظام کی ترجیحات پر محض سوال اٹھانا نہیں بلکہ اسے چیلنج کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں سکولوں اور تعلیمی اداروں کی عمارتیں گرنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ صرف 2026ء کے دوران مختلف شہروں میں ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں زخمی ہوئے۔
30جون 2026ء، کاہنہ، لاہور کے ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک ٹیچر اور آٹھ بچے زخمی ہوئے۔
7مئی 2026ء، ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی سکول کے کلاس روم کی چھت گرنے سے چار بچے جاں بحق اور 20 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں طلبہ، اساتذہ اور دیگر ملازمین شامل تھے۔
30جون 2026ء، عمرکوٹ، سندھ میں ایک سرکاری پرائمری سکول کی بیرونی دیوار گرنے سے تین بچیاں جاں بحق ہوئیں۔
فروری 2026ء، بدیانہ، سیالکوٹ گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول میں زیرِ تعمیر ڈھانچہ گرنے سے ایک طالبہ ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئی۔
یہ تمام سانحات اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقے کی عیاشیوں اور لوٹ مار کے لیے بنائی گئی ریاست پاکستان کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرتے ہیں جو تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد سالانہ خرچ کرتی ہے۔ حالانکہ عالمی معیار کے مطابق یہ کم از کم بھی 4 تا 6 فیصد ہونا چاہیے۔
ان واقعات کو پشاور کے سانحے کے ساتھ دیکھا جائے تو ایک خوفناک حقیقت سامنے آتی ہے: یہ الگ الگ حادثات نہیں بلکہ ریاستی بے حسی، کرپشن، ناقص منصوبہ بندی اور طبقاتی استحصال کے مسلسل مظاہر ہیں۔ بار بار عمارتیں گرتی ہیں، بچے جان سے جاتے ہیں، خاندان اجڑتے ہیں، حکمران مذمتی بیانات جاری کرتے ہیں اور تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں، مگر بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔

ہر سانحے کے بعد چند روز کے لیے شور مچتا ہے، پھر معاملہ خاموشی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ذمہ دار افسران، مالکان اور ٹھیکیدار اکثر بچ نکلتے ہیں، جبکہ غریب خاندان اپنے بچوں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر عمارتوں کی بروقت جانچ، خطرناک سکولوں کی بندش، معیاری تعمیرات اور عوامی نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہوتا تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہر بچے کو مفت، معیاری اور محفوظ تعلیم فراہم کرے۔ مگر پاکستان میں تعلیم کو عوام کا بنیادی حق بنانے کی بجائے اسے منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ حکمران طبقہ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی منڈی کے حوالے کر کے عوام سے منافع نچوڑ رہا ہے۔
حکمران طبقے کے پاس اپنے بچوں کے لیے مہنگے نجی تعلیمی ادارے اور بیرونِ ملک معیاری تعلیم کے مواقع موجود ہیں، جبکہ محنت کشوں کے بچے خستہ حال سرکاری سکولوں، غیر محفوظ عمارتوں اور مہنگی نجی تعلیم کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
ایک مزدور، کسان، دیہاڑی دار یا کم آمدنی والے ملازم کے لیے اپنے بچوں کی تعلیم پہلے ہی ایک مشکل جدوجہد ہے۔ ایسے میں اگر وہ اپنی محدود آمدنی سے فیس ادا کر کے بچے کو نجی سکول بھیجے اور وہاں اس کی زندگی بھی محفوظ نہ ہو تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ پورے سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی ہے۔
پاکستان میں تعلیم کی صورتِ حال کے اعداد و شمار اس بحران کی گہرائی کو واضح کرتے ہیں۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ تعداد سکول جانے کی عمر کے بچوں کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہے۔
یہ صرف ایک عدد نہیں، بلکہ کروڑوں بچوں کے چھینے گئے مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔ ان میں بڑی تعداد ان خاندانوں کے بچوں کی ہے جو غربت، بے روزگاری، مہنگائی، سکولوں کی کمی اور تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے باعث تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔
دوسری جانب سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی قلت، عمارتوں کی خستہ حالی اور تعلیمی بجٹ کے ناکافی ہونے جیسے مسائل موجود ہیں۔ حکمران قرضوں، دفاعی اخراجات، مراعات اور سرمایہ داروں کو دی جانے والی سہولیات کے لیے اربوں روپے مختص کرتے ہیں، مگر عوام کے بچوں کی تعلیم اور سلامتی کے لیے وسائل کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔
سرکاری سکولوں کی نجکاری اور دوسرے کاروباری اقدامات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں، کیونکہ ان سے تعلیم تک رسائی میں معاشی ناہمواری بڑھتی ہے اور تعلیم ایک طبقاتی مراعت بن جاتی ہے۔ تعلیم کو منافع کے تابع کرنا دراصل غریب بچوں کو شعوری، سماجی اور معاشی ترقی کے حق سے محروم کرنا ہے۔
اس وقت سرمایہ دارانہ نظام عالمی طور پر شدید بحران کا شکار ہے اور پوری دنیا میں محنت کش طبقے کے لیے تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں طلبہ، اساتذہ اور محنت کش طبقہ تعلیمی بجٹ، فیسوں، نجکاری، تعلیمی اداروں کی آزادی اور بہتر سہولیات کے لیے احتجاج اور تحریکیں چلاتے رہے ہیں۔
اس وقت فرانس میں طلبہ کی ایک شاندار انقلابی تحریک جاری ہے جس میں فرانس کے طلبہ پورے ملک کے اندر اپنے تعلیمی اداروں کو بند کرتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں احتجاج کر رہے ہیں۔ اس طرح انڈیا میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے نوجوان اور طلبہ کی انقلابی تحریکیں جاری ہیں۔ البانیہ میں بھی طلبہ نے تعلیمی اخراجات، فیسوں اور یونیورسٹیوں میں اصلاحات کے مطالبات پر احتجاجی تحریک شروع کی ہے۔ پاکستان میں بھی طلبہ، اساتذہ، والدین اور محنت کشوں کو اپنے مشترکہ مسائل پر منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ مفت تعلیم اور معیاری سہولیات جیسے بنیادی مطالبات کے گرد منظم ہو کر درست نظریات اور درست پروگرام کئے ساتھ ایک وسیع عوامی اور انقلابی تحریک تعمیر کی جا سکتی ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی سمجھتی ہے کہ تعلیم کو منافع کمانے کا ذریعہ بنانے کی بجائے ایک بنیادی سماجی حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جب تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات پر نجی منافع اور سرمایہ دارانہ مفادات غالب ہوں تو معاشرے میں طبقاتی تقسیم مزید گہری ہوتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں تعلیم کے شعبے میں نجی منافع، معاشی ناہمواری اور ریاستی اخراجات میں ترجیحات کے تضادات بار بار سامنے آتے ہیں۔ یہ نظام محنت کش عوام سے ٹیکس وصول کرتا ہے، مگر انہیں کے بچوں کو محفوظ سکول، مفت تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے نزدیک ان مسائل کا پائیدار حل محض چند مذمتی بیانات، عارضی اصلاحات یا انفرادی احتساب تک محدود نہیں، بلکہ تعلیم کو چند لوگوں کی منافع خوری کے چنگل سے آزاد کر کے اسے عوامی اور اجتماعی ضرورت کے مطابق منظم کرنے میں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کو عوامی ملکیت میں لایا جائے، سرمایہ دارانہ منافع کا خاتمہ کیا جائے اور طلبہ، اساتذہ، والدین اور محنت کشوں کی جمہوری نگرانی قائم کی جائے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1۔ پشاور میں ہونے والے سکول کے اس سانحے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد و اہلکاروں کا تعین کیا جائے۔
2۔ تمام سرکاری اور نجی سکولوں کی عمارتوں کا فوری حفاظتی معائنہ کیا جائے اور خطرناک عمارتوں میں تدریسی سرگرمیاں روک کر محفوظ متبادل فراہم کیا جائے۔
3۔ جاں بحق بچوں، استانی اور زخمیوں کے خاندانوں کو مناسب معاوضہ، علاج اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔
4۔ تعلیمی اداروں کی تعمیر، رجسٹریشن اور نگرانی میں غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
5۔ سرکاری سکولوں کی نجکاری کا عمل روکا جائے اور سرکاری تعلیمی اداروں کو مناسب بجٹ، تربیت یافتہ اساتذہ اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
6۔ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت، معیاری اور محفوظ تعلیم یقینی بنائی جائے۔
7۔ طلبہ، اساتذہ، والدین اور محنت کشوں کی نمائندہ کمیٹیوں کو سکولوں کی نگرانی اور تعلیمی سہولیات کے تحفظ میں مؤثر کردار دیا جائے۔
8۔ تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور عوامی وسائل کو مراعات یافتہ طبقے کی عیاشیوں کی بجائے عوام کے لیے تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات پر خرچ کیا جائے۔
9۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ، اساتذہ اور والدین کی منتخب ایکشن کمیٹیوں کو فیصلہ سازی کا حقیقی اختیار دیا جائے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی طلبہ، اساتذہ، والدین اور محنت کش طبقے سے اپیل کرتی ہے کہ وہ تعلیم کی نجکاری، غیر محفوظ تعلیمی اداروں، ریاستی غفلت اور عوامی ضروریات کے خلاف متحد ہوں۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں عوامی کمیٹیاں قائم کی جائیں، احتجاجی تحریکیں منظم کی جائیں۔ ایک ایسے سماجی نظام کے لیے جدوجہد کریں جس میں ہر بچے کو محفوظ ماحول میں مفت اور معیاری تعلیم میسر ہو۔ یہ جدوجہد صرف اصلاحات تک محدود رہنے کی نہیں بلکہ ایک سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد ہے جہاں تعلیم، صحت، روزگار اور عزت کی محفوظ زندگی ہر انسان کا حق ہو۔
تعلیم کاروبار نہیں، بنیادی حق ہے!
مفت، معیاری اور محفوظ تعلیم سب کے لیے!
تعلیمی اداروں کی نجکاری نامنظور!
ریاستی غفلت اور سرمایہ دارانہ منافع خوری مردہ باد!
طلبہ، اساتذہ اور محنت کشوں کی انقلابی یکجہتی زندہ باد!
سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!