|تحریر:آفتاب اشرف|

حال ہی میں پیش ہونے والی وفاقی بجٹ مالی سال 2027ء میں عالمی مالیاتی اداروں کے گماشتہ حکمران طبقے اور ریاست نے عوام دشمنی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔محنت کش طبقے اور عوام کے لئے اس بجٹ میں کمر توڑ ٹیکس بوجھ،مہنگائی،بیروزگاری اور نجکاری کے سوا اور کچھ نہیں ہے جبکہ ملکی و غیرملکی سرمایہ دار طبقے اور فوجی و سول ریاستی اشرافیہ کو پہلے سے بھی زیادہ معاشی مراعات اور مالی وسائل سے نوازا گیا ہے۔سیاسی حکمرانوں اور نام نہاد اپوزیشن نے بھی اس بہتی گنگا میں جی بھر کر ہاتھ دھوئے ہیں۔ اس لوٹ مار کیخلاف ملک بھر کے عوامی حلقوں،مزدور تحریک اور مزاحمتی سیاسی کارکنان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور بجٹ پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔لیکن جہاں اس ساری بحث میں عالمی مالیاتی اداروں اور ان کے گماشتہ حکمرانوں کے عوام دشمن کردار،شتر بے مہار فوجی بجٹ،آئی پی پیز کی لوٹ مار، عوامی اداروں کی نجکاری اور عوام پر لادے جانے والے ٹیکس بوجھ وغیرہ پر بالکل درست طور پر تنقید کی جا رہی ہے وہیں پاکستانی معیشت میں محنت کش عوام کی پیداکردہ دولت کا سب سے بڑا حصہ ہڑپ کر جانے والے سیکٹر کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔جی ہاں،یہ شعبہ ہے پاکستان کی کمرشل بنکاری۔
تقریباً 18.8 ٹریلین روپے(1ٹریلین1000=ارب) حجم کے وفاقی بجٹ27 ء میں ایف بی آر ٹیکس آمدن کا ہدف15.3ٹریلین روپے رکھا گیا ہے جو عوام اور محنت کش طبقے کی ہڈیوں سے گودا نچوڑ کر اکٹھا کیا جائے گا۔اس ٹیکس آمدن میں سے داخلی و بیرونی قرضوں (جو نہ عوام نے لئے اور نہ ہی ان پر خرچ ہوئے) اور ان کے سود کی ادائیگی کی مد میں تقریباً 8000 ارب روپے خرچے جائیں گے جس میں سے لگ بھگ7000ارب روپے صرف داخلی قرضوں اور ان کے سود کی مد میں ادا کئے جائیں گے۔یعنی داخلی قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کی مد میں کل بجٹ کا 37فیصد جبکہ سالانہ ایف بی آر ٹیکس آمدن کا تقریباً46فیصد خرچ ہو گا۔مگر حکومت یہ داخلی قرضے کہاں سے حاصل کرتی ہے؟ ماضی کی دہائیوں میں بھی حکومت داخلی قرضوں کا ایک قابل ذکر حصہ ملک میں آپریٹ کرنے والے کمرشل بنکوں (جس میں سرکاری، ملکی نجی بنک اور ملک میں آپریٹ کرنے والے فارن بنک سب شامل ہیں) سے حاصل کرتی آئی تھی لیکن آئی ایم ایف کے احکامات پر اسٹیٹ بنک ترمیمی بل 2021 ء کے تحت حکومت کے اسٹیٹ بنک(یاد رہے کہ اسٹیٹ بنک کمرشل بنک نہیں ہوتا) سے براہ راست داخلی قرضے اٹھانے پر پابندی لگنے کے بعد حکومت کے اس معاملے میں کمرشل بنکوں پر انحصار میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بنک کے اعدادو شمار کے مطابق کیلنڈر سال2024 ء اور2025 ء میں کمرشل بنکوں نے اپنے ڈیپازٹس کا90فیصد سے زائد حکومت کو سودی قرضوں کی صورت میں فراہم کیا۔ نتیجتاً اس وقت وفاقی حکومت کے 58ٹریلین روپے کے داخلی قرضہ جات کا غالب ترین حصہ کمرشل بنکوں سے ہی حاصل کردہ ہے۔یعنی دوسر ے الفاظ میں مالی سال 27ء میں داخلی قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہونے والے7000ارب روپے کا غالب ترین حصہ کمرشل بنکوں کی نذر کیا جائے گا۔اس ساری صورتحال کے معیشت کے دیگر شعبہ جات،افراط زر اور شرح سود پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں،اس پر ہم آگے چل کر بات کریں گے لیکن اس سے پہلے لازمی ہے کہ ہم طبقاتی نکتہ نظر سے پاکستان کی کمرشل بنکاری کا ایک طائرانہ جائزہ لیں۔
پاکستان کے کمرشل بنک۔۔مالیاتی سرمائے کی اجارہ داری
پاکستان میں اس وقت کوئی30عدد بڑے کمرشل بنک آپریٹ کر رہے ہیں (مائیکرو فنانس بنک وغیرہ اس فہرست میں شامل نہیں)جن میں 5سرکاری، 20 ملکی نجی بنک جبکہ 5فارن کمرشل بنک ہیں۔اسٹیٹ بنک کے ستمبر2025 ء کے اعدادو شمار کے مطابق ملک میں آپریٹ کرنے والے ان کمرشل بنکوں کے کل اثاثہ جات (مالی و دیگر)تقریباً59.5ٹریلین روپے کے تھے(یعنی پاکستان کے کل داخلی قرضے سے زائد) جن میں سے لگ بھگ18فیصد سرکاری کمرشل بنکوں جبکہ 82فیصد ملکی نجی و فارن کمرشل بنکوں کے پاس تھے۔اسٹیٹ بنک کے مطابق کیلنڈر سال2025ء کی تیسری سہ ماہی یعنی جولائی تا ستمبر25ء میں پاکستان کے کمرشل بنکوں کو صرف سود کی مد میں 1945ارب روپے کی آمدن ہوئی(یعنی پورے سال میں 7 سے 8ہزار ارب روپیہ جس کاغالب ترین حصہ ظاہر ہے کہ داخلی قرضوں پر حکومت کی سود ادائیگی سے حاصل ہوتا ہے)،اس میں سے کھاتہ داروں یعنی ڈیپازٹ ہولڈرز کو1316 ارب روپیہ سود کی ادائیگی کی گئی(یعنی پورے سال میں لگ بھگ5 ٹریلین روپے کی ادائیگی)جبکہ بقیہ 629 ارب روپیہ بنکوں کا ہوا(یعنی پورے سال میں تقریباً2.5ٹریلین روپیہ)۔اس سہ ماہی عرصے میں بنکوں کی دیگر آمدن(بنکنگ فیس وغیرہ) کو شامل کرکے اور رننگ اخراجات کی کٹوتی اور حکومت کو ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد کمرشل بنکوں کو 207ارب روپے کا خالص منافع حاصل ہوا۔پورے کیلنڈر سال 25ء میں پاکستان کے کمرشل بنکوں نے کل ملا کر 671ارب روپے کا خالص منافع کمایا۔

واضح رہے کہ صنعت، تجارت، کنسٹرکشن یا زراعت کے برعکس بنکوں کا یہ خالص منافع براہ راست طور پر کسی قسم کی پیداواری سرگرمی میں حصہ لئے بغیر محض سود ی قرضوں اور ان سے متعلق دیگر بنکاری آپریشنز کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ کمرشل بنکوں کے اپنے خالص منافع کے ساتھ ساتھ ان کی جانب سے ڈیپازٹ ہولڈرز کو سود کی مد میں ادا کی جانے والی ہزاروں ارب روپے سالانہ کی رقم کا بھی ایک بہت بڑا حصہ بنک ڈیپازٹس میں شامل ہو کر ہمہ وقت بنکوں کے ہی ڈسپوزل پر موجود ہوتا ہے جسے وہ مزید سودی قرضے جاری کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔یوں جہاں ایک طرف آئی ایم ایف، دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور چینی وسعودی بنکوں کا کنٹرول کردہ عالمی مالیاتی سرمایہ پاکستان پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے وہیں دوسری طرف ہزاروں تانوں بانوں کیساتھ عالمی مالیاتی نظام سے منسلک پاکستان کا کمرشل بنکاری سیکٹر اور اس کا کنٹرول کردہ ملکی مالیاتی سرمایہ ریاست کو اپنا قرض دار بناتے ہوئے ریاست اور ملکی معیشت کی اہم ترین فیصلہ سازی میں ایک کلیدی کردار رکھتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کمرشل بنکوں کے یہ ڈیپازٹ ہولڈرز آخر کون ہیں جن کو محنت کش عوام کے ٹیکسوں کے پیسے سے ہزاروں ارب روپے سالانہ کی سود ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔اسٹیٹ بنک کے ستمبر2025 ء کے ڈیٹا کے مطابق کمرشل بنکوں کے پاس کل ملا کر34.4 ٹریلین روپے کے ڈیپازٹس موجود تھے۔محتاط اندازوں کے مطابق اس میں سے تقریباً2 ٹریلین تو حکومت یا اس کے مختلف اداروں کے ہی ہیں لیکن باقی سب نجی ڈیپازٹس ہیں چاہے وہ افراد کے ہوں یا کاروباری کمپنیوں کے۔اب اگر رقم کے لحاظ سے کمرشل بنکوں کے ڈیپازٹس کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ51 فیصد بنک اکاؤنٹس میں 5 ہزار روپے سے بھی کم رقم موجود ہے۔20 فیصد ایسے ہیں جن میں 5ہزار سے50ہزار کے درمیان رقم موجود ہے اور26فیصد ایسے ہیں جن میں 50ہزار سے لیکر 10لاکھ روپے تک کی رقم موجود ہے جبکہ صرف3فیصد ایسے بنک اکاؤنٹس ہیں جن میں 10لاکھ روپے سے زائد کا ڈیپازٹ ہے۔یوں مجموعی طور پر 50ہزار روپے سے کم کا ڈیپازٹ رکھنے والے71فیصد بنک اکاؤنٹس 34.4ٹریلین کے کل بنک ڈیپازٹس میں سے صرف456ارب روپیہ بنتے ہیں۔اور اگر ہم5 ہزار سے کم رقم رکھنے والے اکاؤنٹس سے لیکر10 لاکھ روپے تک کا ڈیپازٹ رکھنے والے تمام اکاؤنٹس کو دیکھیں،جو کل اکاؤنٹس کا97فیصد بنتے ہیں،تو ان میں موجود کل رقم 5820ارب روپے ہیں۔
تو اب اگر 34.4 ٹریلین میں سے تقریباً 2 ٹریلین کے ڈیپازٹس حکومت کے ہیں، 456 ارب روپے ملک کے محنت کش طبقے کے ہیں،5364ارب روپے درمیانے طبقے کے ہیں تو بقایا 26.6 ٹریلین روپے یعنی کمرشل بنک ڈیپازٹس کا 77 فیصد کس کی ملکیت ہیں؟ظاہر ہے کہ یہ اس مٹھی بھر سرمایہ دار طبقے اور کرپٹ ریاستی اشرافیہ کی ملکیت ہیں جو دس لاکھ سے زائد رقم رکھنے والے 3فیصد بنک اکاؤنٹس کی ایک بھاری اکثریت آپریٹ کرتی ہے۔دیگر الفاظ میں کمرشل بنکوں کی سود آمدن میں سے ڈیپازٹ ہولڈرز کو جو سود کی مد میں ادائیگی ہوتی ہے،اس کا 77فیصد سے بھی کہیں بڑا حصہ اس مٹھی بھر طفیلی طبقے کو جاتا ہے کیونکہ محنت کش طبقے کی ایک بھاری ترین اکثریت اور درمیانے طبقے کی بھی ایک قابل ذکر تعداد فکسڈ ڈیپازٹ تو دور کی بات،سیونگ اکاؤنٹ بھی نہیں رکھتی بلکہ کرنٹ اکاؤنٹس آپریٹ کرتی ہے جس پر سود ادائیگی نہیں ہوتی۔
سرمایہ دارانہ نظام اپنی داخلی حرکیات کے تحت ناگزیر طور پر پیداوار اور سرمائے کا ارتکاز(concentration)پیدا کرتا ہے جو پھر صنعت،تجارت اور مالیات یعنی معیشت کے تمام شعبہ جات میں اجارہ داریوں کو جنم دیتا ہے جن میں پھر،جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی ہے، مالیاتی اجارہ داریوں کا ایک حاوی کردار ہوتا ہے۔اسی حوالے سے ہم اگر پاکستان کے کمرشل بنکاری سیکٹر کو دیکھیں تو وہاں بھی ہمیں مالیاتی سرمائے کا بھرپور ارتکاز نظر آتا ہے اور چند بڑے کمرشل بنک پورے شعبے پر حاوی نظر آتے ہیں۔اسٹیٹ بنک کے جون 2025 ء میں ریلیز کردہ ڈیٹا کے مطابق ملک کے 5سب سے بڑے کمرشل بنک،جن میں سے 4ملکی نجی بنک ہیں (حبیب بنک، یونائیٹڈ بنک،مسلم کمرشل بنک، میزان بنک)اور 1سرکاری بنک ہے(نیشنل بنک)،کمرشل بنکاری سیکٹر کے کل اثاثہ جات کا 55.5 فیصد، کل ڈیپازٹس کا51.3فیصد، کمرشل بنکوں کی طرف سے جاری کردہ کل قرضہ جات کا60 فیصد (جن میں سے93.6فیصد حکومت کو دیے گئے) اور قبل از ٹیکس منافع کا 58فیصد رکھتے ہیں۔دیگر الفاظ میں یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے بعد یہ 5بڑے کمرشل بنک،اور خاص کر ملکی نجی بنک،ریاست اور معیشت کی تمام کلیدی فیصلہ سازی میں ایک حاوی کردار رکھتے ہیں۔
کمرشل بنکاری پر منڈلاتا بحران
جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام کی شرائط کے مطابق متعارف کرائے جانے والے”اسٹیٹ بنک ترمیمی بل2021ء“ کے تحت حکومت اسٹیٹ بنک سے براہ راست قرضے نہیں اٹھا سکتی،لہٰذا پچھلے چند سالوں میں داخلی قرضہ جات کے حصول کے لئے حکومت کا تقریباً تمام تر انحصار) جو کہ پہلے ہی اچھا خاصا تھا) کمرشل بنکوں پر ہو گیا ہے۔ اب جہاں اس سے ایک طرف تو یہ کمرشل بنک خوب سودی منافع کما رہے ہیں اور ریاست و ملکی معیشت کی کلیدی فیصلہ سازی پر حاوی ہیں وہیں دوسری طرف یہ امر کمرشل بنکاری سیکٹر میں ایک بحران کو بھی جنم دے رہا ہے۔ درحقیقت حکومت اپنا بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لئے کمرشل بنکوں سے اتنے بڑے پیمانے پر قرضے اٹھا رہی ہے کہ ان بنکوں میں لیکویڈیٹی یا آسان الفاظ میں کیش کی شارٹیج ہو جاتی ہے۔اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ ملکی معیشت کے دیگر شعبہ جات،خاص کر نجی صنعتوں کو قرضے فراہم کرنے کے لئے کمرشل بنکوں کے پاس رقم ہی نہیں ہوتی اگرچہ کہ تاریخی طور پر بلند شرح سود کے کارن پاکستان کے نجی شعبے کا کمرشل بنکوں کے قرضوں پر انحصار ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کی نسبت خاصا کم ہی رہا ہے مگر اب تو یہ بالکل ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔
مگر اس امر سے قطع نظر نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کمرشل بنکوں کو اپنے روز مرہ کے ٹرانزیکشنز کے لئے بھی کیش شارٹیج کا سامنا ہے۔اس مسئلے کا فوری حل تو حکومت اور اسٹیٹ بنک نے یہ نکالا ہے کہ اسٹیٹ بنک بڑے پیمانے پر شارٹ ٹرم ”اوپن مارکیٹ آپریشنز“ یا آسان الفاظ میں کیش انجیکشنز، جن کا بندو بست عمومی طور پر نوٹ چھاپ کر کیا جاتا ہے، کے ذریعے کمرشل بنکوں کی لیکویڈیٹی شارٹیج کو پورا کرتا ہے اور بدلے میں کمرشل بنک اپنے پاس موجود حکومتی بانڈز(جو انہوں نے زیادہ تر حکومت کو قرضہ جاری کرتے ہوئے لئے ہوتے ہیں) کو بطور ضمانت اسٹیٹ بنک کے پاس رکھوا دیتے ہیں اس وعدے کیساتھ کہ لیکویڈیٹی میسر ہونے پر وہ انہیں واپس خرید لیں گے۔
اسٹیٹ بنک کے ڈیٹا کے مطابق مالی سال2025 ء کے پہلے6 ماہ میں اوسط آؤٹ اسٹینڈنگ اوپن مارکیٹ آپریشنز کی مالیت 10.8 ٹریلین روپے تھی جو کہ مالی سال2026 ء کے پہلے 6 ماہ میں بڑھ کر 12.8 ٹریلین ہو چکی تھی یعنی اس عرصے میں کمرشل بنکوں کے کل ڈیپازٹس کے ایک تہائی سے بھی زائد کے برابر۔ بعض دیگر ذرائع کے مطابق حالیہ عرصے میں یہ شارٹ ٹرم کیش انجیکشنزناقابل یقین سطح تک پہنچ چکے ہیں جیسا کہ 8 مئی2026 ء کو ایک ہی دن میں اسٹیٹ بنک نے کمرشل بنکوں میں 14.3 ٹریلین روپے کی لیکویڈیٹی انجیکٹ کی۔ یعنی دوسرے الفاظ میں ایک بالواسطہ طریقے سے ان اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے کمرشل بنکوں کی کیش شارٹیج کو دور کرتے ہوئے اسٹیٹ بنک آج بھی حکومت کے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔واضح رہے کہ اگر اسٹیٹ بنک ایسا نہ کرے تو کمرشل بنکوں کی لیکویڈیٹی شارٹیج نہ صرف روز مرہ کی بنکنگ ٹرانزیکشنز میں رخنہ انداز ہو گی بلکہ انٹر بنک شرح سود، بنچ مارک شرح سود(اسٹیٹ بنک پالیسی ریٹ) سے تجاوز کر کے پورے بنکاری نظام کو درہم برہم کر دے گی۔
مگر دوسری طرف لیکویڈیٹی شارٹیج کو پورا کرنے کے لئے کمرشل بنکوں کا اسٹیٹ بنک کے ان کیش انجیکشنز پر مستقل انحصار نہ صرف منی سپلائی کو بڑھاتے ہوئے افراط زر کا کارن بنتا ہے بلکہ پھر اسٹیٹ بنک کو اس افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لئے مستقل بنیادوں پر شرح سود کو بھی بلند رکھنا پڑتا ہے جو پھر جہاں ایک طرف نجی شعبے کے لئے قرضوں کو انتہائی مہنگا بنا دیتی ہے وہیں حکومت کو بھی ہر سال ٹیکس آمدن کا ایک بڑا حصہ داخلی قرضوں کے سود کی مد میں کمرشل بنکوں کو ادا کرنا پڑتا ہے جس سے پھر حکومت کے مالیاتی خسارے اور نتیجتاً اس کی قرضوں کی طلب کو مزید بڑھا وا ملتا ہے۔ یوں یہ گھن چکر مزید گہرا ہوتا جاتا ہے۔مگر کمرشل بنکوں (اور ان کے بڑے کھاتہ داروں)کو اس ساری صورتحال سے کوئی”پریشانی“ لاحق نہیں ہے۔ وہ ایک طرف تو حکومت کو قرضے دینے کی شکل میں ”محفوظ اور رسک فری سرمایہ کاری“ کر رہے ہیں اور دوسری طرف بلند بنچ مارک شرح سود کے کارن بے تحاشہ سود آمدن حاصل کر رہے ہیں۔رہی بات لیکویڈیٹی شارٹیج کی تو اسے پورا کرنے کے لئے اسٹیٹ بنک تو ہے ہی۔یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے نشے میں دھت ایک شرابی سہارے کے لئے دوسرے شرابی اور دوسرا شرابی تیسرے کا کاندھا تھامتا ہے اور سب یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ گرنے سے محفوظ رہیں گے۔ مگر اس سب کی جڑ میں حکومت کا کنٹرول سے باہر مالیاتی خسارہ ہے جس میں کمی کے ایک نامیاتی عالمی معاشی زوال کے پس منظر میں پاکستان کی شدید بحران زدہ سرمایہ داری میں تو دور دور تک کوئی آثارنہیں ہیں۔
کمرشل بنکوں کی لوٹ مار۔۔حل کیا ہے؟؟
واضح رہے کہ حکومت کا مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لئے کمرشل بنکوں سے حاصل کردہ قرضوں پر انحصار اور ٹیکس آمدن کے ایک بڑے حصے کی ان کو سود کی مد میں ادائیگی، کمرشل بنکوں کا لیکویڈیٹی شارٹیج کے لئے اسٹیٹ بنک پر انحصار، نتیجتاًبڑھتا افراط زر اور بلند شرح سود جو پھر حکومت کے مالیاتی خسارے اور قرضوں کی طلب کو مزید بڑھاتی ہے،یہ سب کوئی علیحدہ علیحدہ امور نہیں ہیں بلکہ ایک ہی کل کے مختلف اجزاء ہیں اور وہ کل ہے پاکستان کا بحران زدہ سرمایہ دارانہ نظام۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کی حدود میں رہتے ہوئے اس سارے مسئلے کا کوئی حل نکالنا ممکن نہیں۔
جب عالمی سرمایہ داری ایک نامیاتی بحران اور زوال کی کیفیت میں ہے اور ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کا مالیاتی و بنکاری نظام بھی شدید تضادات اور دباؤ کا شکار ہے تو ایسے میں پاکستان کی پسماندہ سرمایہ داری کی بھلا اوقات ہی کیا ہے۔ ملک پر لدے داخلی قرضوں کے بھاری بوجھ،ان کی سود ادائیگیوں، کمرشل بنکوں کی لوٹ مار اور سرمایہ داروں کی سود خوری سے چھٹکارا پانے کا واحد قابل عمل طریقہ یہ ہے کہ محنت کش طبقہ اور اس کی انقلابی پارٹی تمام مظلوم عوام کی قیادت کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کرے جس کے بعد ان تمام بنکوں کو محنت کش طبقے کی اجتماعی ملکیت اور جمہوری کنٹرول میں لیتے ہوئے تمام داخلی قرضہ جات کو بحق عوام ضبط کر لیا جائے گا(اور ایسے ہی تمام سامراجی بیرونی قرضوں کو بھی)۔
واضح رہے کہ ایسا کرتے ہوئے بنکوں کے چھوٹے اور درمیانے کھاتہ داروں کے ڈیپازٹس کو مکمل تحفظ دیا جائے گا لیکن بڑے کھاتہ داروں یعنی سرمایہ دار طبقے کو ان کے ڈیپازٹ کردہ سرمائے سے محروم کر دیا جائے گا۔ محنت کش عوام کی اجتماعی ملکیت اور جمہوری کنٹرول میں آنے کے بعد مزدور ریاست کی سر پرستی میں ان تمام بنکوں کو مدغم کرتے ہوئے ایک ہی مرکزی بنک تشکیل دیا جائے گا جو تمام میسر بچتوں کو عوامی فلاح اور سوشل و فزیکل انفراسٹرکچر کی تعمیر کے عوامی منصوبوں کی تکمیل کے لئے مہیا کرے گا۔
یہی اس منصوبہ بند سوشلسٹ معیشت کے مالیاتی و بنکاری نظام کا عمومی خاکہ ہے جس کا مقصد مٹھی بھر طفیلی اشرافیہ کی تجوریاں بھرنا نہیں بلکہ سماجی ضروریات کی تکمیل میں ایک معاون اور عوام دوست کردار ادا کرنا ہو گا۔