(انقلابی کمیونسٹ پارٹی، برطانیہ)

ہفتہ 10 اکتوبر کو ایک بار پھر دسیوں ہزار افراد وسطی لندن کی سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کا مقصد فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور غزہ کے عوام کے حمایت میں اسرائیل کی تین سالہ نسل کش مہم کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ اس نسل کش مہم کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں!
”فلسطین کی بقا کے لیے سامراج کا خاتمہ ناگزیر ہے“ اور ”جنگ پسند لیبر حکومت مردہ باد“ کے نعروں والے بینروں تلے انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے اس مظاہرے میں اب تک کا اپنا سب سے بڑا دستہ منظم کیا ہے، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ کئی دہائیوں کے دوران برطانیہ کی سڑکوں پر کمیونسٹوں کا سب سے بڑا دستہ تھا۔
برطانیہ بھر سے 700 نوجوان انقلابی اور طبقاتی جدوجہد کے سپاہی جمع ہوئے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں ہمارے حکمران طبقے کی سامراجی مداخلت اور فلسطینیوں کے قتلِ عام میں اسرائیل کی مسلسل حمایت کی مخالفت کر سکیں۔ جب ہم دریائے ٹیمز کے کنارے آگے بڑھے تو مظاہرے میں شریک بہت سے مزید افراد بھی ہمارے پُرجوش اور بلند آواز نعروں سے گونجتے دستے میں شامل ہو گئے۔ہمیں اس وقت ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ آخرکار ہمیں تقریباً ایک گھنٹے تک میٹروپولیٹن پولیس کے غنڈوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور دائیں بازو کے زرد صحافتی حلقوں کی جانب سے چلائی جانے والی ایک شدید اور بدنیتی پر مبنی کردارکشی کی مہم کا نشانہ بھی بننا پڑے گا۔
”لیبر گورنمنٹ کی جنگ مردہ آباد“
انقلابی کمیونسٹ مظاہرے میں شریک دیگر تمام حصوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند آواز بے باک پُرجوش اور لڑاکا نوجوانوں پر مشتمل دستہ تھے۔ہمارے دستے کے کنارے کھڑے ہو کر لوگوں سے گفتگو کرنے اور دی کمیونسٹ اخبار فروخت کرنے والے ساتھیوں نے بتایا کہ جب ہمارا دستہ وہاں پہنچا تو لوگوں کی آنکھیں چمک اٹھیں، اور سرخ جھنڈوں کا ایک سمندر وکٹوریہ ایمبینکمنٹ پر چھا گیا۔

”ایک شخص ہمارے دستے کی ویڈیو بنا رہا تھا اور کنارے کھڑے ہو کر ہمارے تمام نعروں میں ہمارا ساتھ دے رہا تھا۔ جب اس نے مجھے اخبار کے ساتھ دیکھا تو اس نے ایک اخبار خریدنے کی خواہش ظاہر کی اور مجھ سے کہا کہ یہ دیکھنا کتنا حوصلہ افزا ہے کہ نوجوان نہ صرف یہاں برطانیہ میں بلکہ فرانس، اسپین، بھارت اور دیگر بھت سے ممالک میں بھی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔اس نے مجھ سے کہا ’جب میں تمہاری عمر کا تھا تو میں بھی ایک طالب علم تھا اور انہی سڑکوں پر احتجاج کیا کرتا تھا، اگرچہ اس وقت میرا احتجاج عراق کی جنگ کے خلاف تھا۔ اس کے بعد آج تک میں نے اس سے بہتر منظر نہیں دیکھا۔اس نے اخبار کی قیمت کے علاوہ کچھ اضافی رقم بطور عطیہ بھی دیا اور دوبارہ نعروں میں ہمارا ساتھ دینے لگا۔“
ہمارا دستہ خاص طور پر ایک ایسے مظاہرے میں نمایاں رہا جو فلسطین کے حق میں ہونے والے گزشتہ قومی مظاہروں کے مقابلے میں واضح طور پر چھوٹا، زیادہ عمر رسیدہ شرکاء پر مشتمل اور نسبتاً پُرسکون تھا۔فلسطین یکجہتی مہم (پی ایس سی)، جو اس مظاہرے کی باضابطہ منتظم تھی، نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز ڈھائی لاکھ افراد نے مارچ میں شرکت کی۔ لیکن ہمارے اندازے کے مطابق شرکاء کی تعداد اس کا نصف بھی نہیں تھی۔اس کے باوجود بھی یہ تعداد بہت بڑی ہے۔ اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اب بھی برطانوی معاشرے میں سیاسی شعور بیدار کرنے والے سب سے بڑے موضوعات میں سے ایک ہے۔ تاہم گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں شرکاء کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جب فری فلسطین کے مطالبے کے ساتھ پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکلے تھے۔ اس تبدیلی کا مطلب برطانیہ میں آج فلسطین کی حمایت میں کمی نہیں ہے، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران لاکھوں افراد تقریباً 40 مرتبہ ان بار بار دہرائے جانے والے ایک ہی مقام سے دوسرے مقام تک مارچوں میں سڑکوں پر نکل چکے ہیں۔
اب وہ بجا طور پر یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان مظاہروں سے حاصل کیا ہوا ہے؟جیسا کہ ہم نے ”دی کمیونسٹ“ کے تازہ ترین اداریے میں لکھا ہے۔”گزشتہ تین برسوں سے برطانیہ کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے فلسطینی عوام کی حمایت میں بہادری سے جدوجہد کی ہے، اور اس دوران ان کو بد ترین ریاستی جبر کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس پورے عرصے میں مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئے ہیں۔ فلسطین کے عوام آج آزادی سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ دور کھڑے ہیں۔“جب تک آگے کا راستہ واضح کیا جاتا اور اس بات کا ٹھوس لائحہ عمل پیش نہیں کیا جاتا کہ نسل کشی اور سامراج کے خلاف جدوجہد کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟ اس وقت تک لوگ مسلسل بڑی تعداد میں سڑکوں پر ’امن‘ اور ’انصاف‘ کی ضرورت پر وہی پرانے خطابات بار بار سننے کے لیے نہیں نکلیں گے۔اس کے علاوہ فلسطین کی تحریک کی برسوں مخالفت کرنے اور اس پر بے رحمی سے حملے کرنے کے بعد لیبر پارٹی کو بالآخر اس تحریک کو بہلانے کے لیے ایک علامتی اقدام کرنا پڑا ہے یعنی فلسطینی ریاست کو محض رسمی طور پر ’تسلیم‘ کرنا۔اور جب سے اینڈی برنہم وزیرِاعظم کی حیثیت سے دس نمبر پر پہنچا ہے، لیبر پارٹی فلسطین کے حامی ووٹروں کی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے یکساں طور پر کھوکھلے نمائشی اقدامات کا سہارا لے رہی ہے، جبکہ معاشی اور فوجی طور پر صہیونیوں کی بھرپور حمایت بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔

افسوس ناک طور پر، فلسطین یکجہتی مہم (پی ایس سی) برنہم کی اس چال میں پوری طرح آ گئی ہے۔ اس نے حکومت کے تازہ ترین اعلانات کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جو فلسطینی عوام کے حمایت میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں اور جرائم پر اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرانے کے ارادے کا اظہار کرتی ہے۔ پی ایس سی کے مطابق، یہ اہم پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی دباؤ کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ایک ایسی سامراجی حکومت کے بارے میں خوش فہمیاں پیدا کرنا جس سے عوام نفرت کرتے ہیں اور جو جبر کا سہارا لیتی ہے، اُن لاکھوں محنت کشوں اور نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتا جنہوں نے گزشتہ تین برسوں کے دوران فلسطین کی تحریک میں حصہ لیا ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جو فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالنے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتی اور اسلحہ ساز کمپنیوں کا پُرتپاک استقبال کرتی ہے۔درحقیقت اس قسم کی کمزور، مبہم اور بے سمت بیان بازی، جو فلسطین یکجہتی مہم (پی ایس سی) کی لبرل امن پسندی کا چادر اوڑھے ہوئے ہیں، تحریک کو متحرک کرنے کے بجائے عملاً اسے غیر متحرک اور بددل کر رہی ہے، اور اس کے شرکاء کو راستے سے بھٹکا رہی ہے۔اس ابہام سے الگ اپنی واضح شناخت قائم کرنے اور تحریک کو اُن انقلابی نظریات سے لیس کرنے کی کوشش میں جن کی اس میں کمی ہے ہم نے اس واضح نعرے کے تحت مارچ کیا: ”جنگ پسند لیبر حکومت مردہ باد!“
”ہر کوئی پولیس سے نفرت کرتا ہے۔“
جب ہمارا دستہ صہیونیوں کے ایک چھوٹے سے جوابی مظاہرے کے قریب سے گزرا جو اتفاق سے میٹروپولیٹن پولیس کے ہیڈکوارٹر نیو اسکاٹ لینڈ یارڈ کے عین باہر منعقد کیا گیا تھا تو پولیس اہلکاروں نے ہمارے ایک ساتھی کو پکڑ لیا اور اس پر چہرہ ڈھانپنے کا الزام عائد کیا۔ وہ اسے تیزی سے گھسیٹتے ہوئے لے گئے اور قریب ہی واقع مونیومینٹ یادگارِ جنگِ برطانیہ سے اس کا چہرہ دے مارا جس کے بعد اسے ہتھکڑیاں لگا دیں۔واضح طور پر میٹروپولیٹن پولیس کو یہ توقع نہیں تھی کہ ہم تمام 700 افراد ان کے پیچھے جائیں گے اور یادگار کو گھیر کر اپنے ساتھی کی فوری رہائی کا مطالبہ کریں گے۔مزید پولیس اہلکار وہاں پہنچ گئے۔ اس دوران وہ مونیومینٹ پر چڑھائی گئی پھولوں کی چادروں کو روندتے ہوئے آئے اور پھر ہمارے دستے پر حملہ آور ہو گئے۔ وہ ہمارے ساتھیوں کو بے دریغ دھکے دے رہے تھے لاتیں مار رہے تھے اور مکے برسا رہے تھے جبکہ ان کی آنکھوں میں وحشیانہ غصہ نمایاں تھا۔
جیسا کہ توقع کی جا سکتی تھی بعد ازاں دائیں بازو کے ذرائع ابلاغ نے ان واقعات کی رپورٹنگ تقریباً فوراً شروع کر دی اور ویڈیو شواہد کے انبار کو نظرانداز کرتے ہوئے پورے واقعے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ یوں ہمیں پُرتشدد اشتعال انگیز اور آوارہ توڑ پھوڑ کرنے والے افراد کے طور پر دکھانے کی کوشش کی گئی!ڈیلی میل کی ایک سرخی میں بڑبڑایا گیا ”چند جانبازوں کی یادگار کو روندا گیا“ جبکہ دوسری سرخی تھی ”فلسطین کے حامی غنڈوں نے پوست کے پھولوں کو روند کر اور جنگِ برطانیہ کی یادگار پر چڑھ کر مارچ کو پرتشدد بنا دیا“ایسے کھلے عام جھوٹ پر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اس بددیانت صحافتی ٹولے کا کام ہی یہی ہے جس نے اسرائیل کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالا اور برطانیہ کے سامراجی اقدامات کا جواز پیش کیا ہے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ اسے اسلامو فوبیا اور تارکینِ وطن کے خلاف نسل پرستی کو ہوا دینے کے لیے بھی وقت مل جاتا ہے، تاکہ ملک کے اندر طبقاتی جدوجہد کو کمزور اور منتشر کیا جا سکے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھیوں نے پولیس کی پُرتشدد جارحیت کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ جب ہم نے پولیس کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے بازوؤں میں بازو ڈالے تو ہمارے ساتھی بلند آواز سے نعرے لگا رہے تھے ”تم کس کی خدمت کرتے ہو؟ تم کس کی حفاظت کرتے ہو؟“ ہماری صفوں کا نظم و ضبط نیلی وردیوں والے پولیس اہلکاروں کی بے ہنگم جارحیت کے بالکل برعکس تھا۔ واضح طور پر وہ اشتعال میں تھے اور لڑائی کے لیے بے تاب دکھائی دے رہے تھے۔ہجوم سے بلند مقام پر کھڑی فیونا لالی نے میگا فون سنبھالا اور اس شرمناک منافقت پر سخت تنقید کی کہ محض چند ہفتے پہلے پولیس نے دائیں بازو کے نقاب پوش غنڈوں کے ہجوم کو ڈوور کی سڑکوں پر بلا روک ٹوک مارچ کرنے کی اجازت دی تھی۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:”ہم پُرامن احتجاج کر رہے تھے اور تم ہمارے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو۔ یہ شرمناک ہے۔ وہ ہمیں خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم یہاں آ کر فلسطین کے حق میں احتجاج کے لیے سوچنا بھی چھوڑیں۔ لیکن ہم فلسطین کی حمایت اور ریاستی جبر دونوں کے خلاف احتجاج کرسکتے ہیں اور کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ ریاستی جبر طاقت کی نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔“پولیس کی جارحیت ہمارے ساتھیوں کو بالکل بھی خوفزدہ نہ کر سکی۔ انہوں نے فرانس میں ان دنوں احتجاج کرنے والے طلبہ میں مقبول نعرہ بلند کیا: ”تو لُو موند دیتَست لا پولیس!“ یعنی ”ہر کوئی پولیس سے نفرت کرتا ہے!“ہماری ثابت قدمی سے پولیس اہلکار واضح طور پر مشتعل اور غصے میں دکھائی دے رہے تھے جبکہ ہماری مزاحمت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال اور اس کے پیمانے نے انہیں گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا تھا۔
چنانچہ جلد ہی پولیس نے ہمارے ساتھیوں کو اندھا دھند گرفتار کرنا شروع کر دیا اور انہیں گھسیٹ کر پولیس کی گاڑیوں میں ٹھونسنے لگی۔یہ بات خاص طور پر قابلِ مذمت ہے کہ اس سارے واقعے کے دوران فلسطین یکجہتی مہم (پی ایس سی) کے مقرر کردہ رضاکار منتظمین نے اُن مظاہرین کو ہمارے دستے سے دور جانے کی ہدایت دی جو ہمارے ساتھیوں کو پولیس کی گرفت سے چھڑانے میں مدد کے لیے رک گئے تھے۔ یوں انہوں نے پولیس کے ساتھ ہمارے آمنے سامنے کے تصادم سے انہیں دور رکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ مارچ معمول کے مطابق جاری رہے۔
پیکہم سے تعلق رکھنے والے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:”جب ہم پولیس کا مقابلہ کر رہے تھے اور احتجاج کے اپنے جمہوری حق کا دفاع کر رہے تھے، تو پی ایس سی عملاً پولیس کے ساتھ مل کر ہمارے اوپر جبر کرنے کے اس کے حق کا دفاع کر رہی تھی۔ یہاں یکجہتی کہاں تھی؟“اس وقت، جب فلسطین ایکشن سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور سیاسی قیدی اپنی کوٹھڑیوں میں سڑ رہے ہیں فلسطین تحریک کے آفیشیل قیادت اپنے سامنے ہونے والے ریاستی جبر سے آنکھیں چرا رہی ہے۔ ریاست کے سامنے ایسے خاموشی اور ریاستی جبر کے سامنے بے بسی تحریک کے لیے شکست اور بددلی کے سوا کچھ نہیں لا سکتی۔
”میں اس جدوجہد میں اُس وقت تک شامل رہوں گا جب تک ہم فتح حاصل نہیں کر لیتے۔“
مجموعی طور پر ہمارے گیارہ ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا اور دارالحکومت کے تین مختلف تھانوں میں لے جایا گیا۔ اس طرح اُس دن ہونے والی گرفتاریوں میں سے نصف سے زیادہ ہمارے ساتھیوں کی تھی۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ انہیں بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جن میں ”مجرمانہ نقصان پہنچانے کے شبہے“ سے لے کر ”انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے“ تک کے الزامات شامل تھے۔انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کامریڈز نے فوری طور پر اُن تھانوں کے باہر اظہارِ یکجہتی کے احتجاج منظم کیے جہاں ہمارے ساتھیوں کو لے جایا گیا تھا۔ یہ تھانے والورتھ، ہیمرسمتھ اور چارنگ کراس میں واقع تھے۔جب ہمارے درجنوں ساتھی بینرز اور میگا فون لے کر وہاں پہنچے تو والورتھ میں پولیس نے ایک انتہائی بزدلانہ حرکت کرتے ہوئے تھانے کے شٹر ہمارے سامنے بند کر دیے!چند گھنٹے گزرنے کے بعد دو ناراض پولیس اہلکاروں نے باہر جھانک کر دھمکی دی کہ اگر ہم نے شور مچانا بند نہ کیا تو وہاں موجود ہر شخص کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن ساتھیوں نے ان کی دھمکی کا جواب قہقہوں سے دیا جس پر وہ واپس تھانے کے اندر چلے گئے۔ساتھی سات گھنٹے سے زیادہ وقت تک تھانوں کے باہر موجود رہے۔ وہ نعرے لگاتے اور تقاریر کرتے ہوئے انقلابی کمیونسٹ پارٹی (آر سی پی) پر ہونے والے ان حملوں کی مذمت کرتے رہے۔ بالآخر جب آخری ساتھی کو بھی رات ڈھائی بجے رہا کر دیا گیا تو اس کا استقبال پُرجوش نعروں اور تالیوں سے کیا گیا۔
گرفتار ہونے والے ہمارے ایک ساتھی اوون نے وضاحت کی کہ اس یکجہتی نے کیا فرق پیدا کیا۔”احتجاج کے دوران یا اس کے بعد حوالات میں بھی کسی لمحے مجھے اس بات کی فکر نہیں ہوئی کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اس کی وجہ میری ذاتی بہادری نہیں تھی، بلکہ یہ یقین تھا کہ مجھے انقلابی کمیونسٹ پارٹی (آر سی پی) میں اپنے ساتھیوں کی حمایت اور یکجہتی حاصل ہے۔مجھے معلوم تھا کہ جب اس سے پہلے میرے ساتھی گرفتار ہوئے تھے تو میں ان کی رہائی تک احتجاج کرنے کے لیے دوڑتا ہوا تھانے پہنچا تھا اور مجھے یقین تھا کہ میرے ساتھی بھی میرے لیے ایسا ہی کریں گے۔جس نظریے کے ابھرنے کا وقت آچکا ہو اسے نہ ہتھکڑیاں اور نہ ہی ضمانت کی پابندیاں روک سکتی ہیں۔ اسی یقین کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ مجھے اعتماد ہے کہ ہم فتح یاب ہوں گے۔ میں اپنی گرفتاری کو مستقبل کی پارٹی یعنی انقلابی کمیونسٹ پارٹی (آر سی پی)، کی تعمیر کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دوں گا۔“
”مستقبل ہمارا ہے“
گزشتہ ہفتے کے روز پیش آنے والے واقعات جیسا کہ ریاست کے غنڈوں کی بے لگام تشدد آمیز کارروائیوں، ذرائع ابلاغ میں چلائی جانے والی شرمناک کردار کشی کی مہم، اور سرکاری بائیں بازو کی قیادت کی بے عملی کو دیکھتے ہوئے، جو جوابی جدوجہد کرنے سے خوف زدہ ہے مایوسی اور نااُمیدی کا شکار ہو جانا آسان ہوگا۔لیکن ہم مارکس وادی ہونے کے ناطے انقلابی امید پرست ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ریاستی جبر کے ہر واقعے جیسا کہ پیسے لے کر کام کرنے والے کسی صحافی کے منہ سے نکلنے والے ہر زہریلے جھوٹ، اور اصلاح پسند رہنماؤں کی کمزوری کے ہر مظاہرے کے نتیجے میں ایک نیا انقلابی جنم لیتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے کے روز جیسے واقعات جو یہ سطور لکھتے وقت دنیا بھر میں پیش آ رہے ہیں، لوگوں کے شعور کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے بدل رہے ہیں اور لاکھوں لڑاکا نوجوانوں میں شدید غصہ پیدا کر رہے ہیں۔ہماری اپنی صفوں میں بھی گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پیش آنے والے واقعات نے ایک طاقت بخشی ہے۔ انہوں نے ہمارے ساتھیوں کو آنے والی جدوجہد کے لیے مزید متحرک، پُرعزم اور مضبوط بنا دیا ہے۔

ابھی تک اس مظاہرے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد انقلابی کمیونسٹ پارٹی (آر سی پی) میں شامل ہو چکے ہیں۔ یعنی گرفتار ہونے والے ہمارے ہر ساتھی کے مقابلے میں 12 افراد کے ساتھ ایک افراد زیادہ پارٹی میں شامل ہوا ہے۔لیورپول سے تعلق رکھنے والے آر سی پی کے ایک رکن کے لیے یہ زندگی کا پہلا احتجاجی مظاہرہ تھا۔ اس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:”اگر میں پہلے لڑاکا پرت میں نہیں تھا، تو اب یقیناً بن چکا ہوں۔“بریڈفورڈ سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص جو پہلی بار کسی احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوا تھا نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا۔”میں اپنے دستے کے عزم کے ساتھ ساتھ اس کی طاقت کو بھی محسوس کر سکتا تھا۔ مجھے اپنی پارٹی پر اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے ہماری جدوجہد پر اور اس بات پر بہت فخر محسوس ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال میں ہم سب ایک دوسرے پر بھروسا کر سکتے تھے۔ ہم ہی حقیقی انقلابی ہیں!“
برمنگھم سے تعلق رکھنے والے آر سی پی کے ایک رکن نے کہا۔”میں صرف تین دن پہلے پارٹی میں شامل ہوا تھا لیکن آج کے بعد میں ریاست کا تختہ الٹنے کے لیے تیار ہوں۔ میں اس جدوجہد میں اُس وقت تک شامل رہوں گا جب تک ہم فتح حاصل نہیں کر لیتے اور دنیا کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو جاتے۔“جیسا کہ ہم نے گرفتاریوں کے روز اپنے بیان میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا تھا۔”فرانس اور اسپین میں پھوٹ پڑنے والی تحریکیں برطانیہ کا بھی مستقبل ہیں۔ حکمران طبقہ اس آنے والی تبدیلی کو محسوس کر رہا ہے اور خوف زدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ریاست کے ان غنڈوں نے ہم پر حملہ کیا۔ مستقبل ہماری طرف بڑھ رہا ہے، اور یہ ہمارا ہے، ان کا نہیں۔“
ہم اپنے قارئین ارکان اور حامیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی (آر سی پی) کے جدوجہد فنڈ میں عطیات دے کر ریاستی جبر کے خلاف ہماری لڑائی میں مدد کریں۔ اس سے ہمیں سڑکوں پر کمیونزم کی قوتوں کو مسلسل منظم اور مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ممکنہ قانونی اخراجات پورے کرنے میں بھی مدد ملے گی۔اور آخر میں اگر گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے حملے نے آپ کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ داؤ پر کیا لگا ہوا ہے، اور آر سی پی کے ردِعمل نے آپ کو یہ سمجھا دیا ہے کہ تحریک کی کامیابی کے لیے کس قسم کی جوابی جدوجہد درکار ہے، تو پھر مستقبل کا مطالبہ کریں اور آج ہی انقلابی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوں۔