کراچی: لانڈھی میں مزدور رہنما ظہور اعوان کی یاد میں تعزیتی جلسہ

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، کراچی|

19ستمبر بروز ہفتہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اور مزدور یکجہتی کمیٹی کی جانب سے لانڈھی میں عظیم مزدور رہنما مرحوم ظہور احمد اعوان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔

یہ تعزیتی جلسہ مزدور رہنما مرحوم ظہور احمد اعوان کی مزدوروں کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد اس اس مقصد کے لیے ان کی لازوال قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے اور ساتھ ہی ساتھ مزدور جدوجہد کے مستقبل کے لائحہ عمل پر بحث کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

اس تعزیتی جلسے میں جنرل ٹائرز ورکرز یونین کی قیادت سمیت محنت کشوں نے بھرپور شرکت کی۔ ساتھ ہی ساتھ مزدور محاذ عمل، آئی آئی ایل، پورٹ قاسم، گل احمد، یونس ٹیکسٹائل اور الکرم سمیت مختلف فیکٹریوں کے محنت کشوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔

جلسے کی صدارت سابق صدر جنرل ٹائرز ورکرز یونین عزیز خان نے کی جبکہ کامریڈ صفدر جبار نے اسٹیج سیکریٹری کے فرائض سر انجام دیے۔

جلسے کا آغاز ظہور احمد اعوان کے لیے دعائے خیر کے ساتھ ہوا۔

کامریڈ صفدر جبار نے اپنے ابتدائی کلمات میں ظہور احمد اعوان کے ساتھ کی گئی مزدور جدوجہد کے واقعات کو یاد کیا اور کہا کہ انہوں نے کبھی بھی مزدور طبقے کی جدوجہد پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

اس کے بعد جاوید خان صدر جنرل ٹائرز ورکرز یونین نے جلسے سے خطاب کیا اور کہا کہ ظہور احمد اعوان کی جدوجہد اور قربانیوں کو ہم نہیں بھولے اور خاص طور پر جنرل ٹائرز ورکرز یونین کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

اس کے بعد مزدور محاذ عمل کے جنرل سیکرٹری یوسف خٹک نے محنت کشوں سے خطاب کیا اور مزدور رہنما مرحوم ظہور احمد اعوان کو ان کی دی گئی قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ظہور احمد اعوان جیسے رہنما تاریخ میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔

جلسے میں آئی آئی ایل (International Industry Limited) کی سی بی اے یونین، ڈیموکریٹک یونین کی نئی قیادت میں سے چیئرمین سرفراز اور جنرل سیکرٹری شہزاد احمد نے بھی خطاب کیا اور انہوں نے آئی آئی ایل میں محنت کشوں کے حالات کا ذکر کیا اور انتظامیہ کی بدمعاشی کو ایکسپوز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ظہور احمد اعوان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ان کا جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے اور اس کے لیے محنت کشوں کو منظم کرنا ہو گا۔

اس کے بعد جلسے سے جنرل ٹائرز ورکرز یونین کے جوائنٹ سیکرٹری ابرار احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ظہور احمد اعوان نے ہمیں جو راہ دکھائی ہم اس پر بدقسمتی سے نہیں چل رہے اس لیے ہمیں اپنے آپ سے بھی سوال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں مزدور طبقے کی جدوجہد میں قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایک بڑی تحریک کا آغاز کرنا چاہیے۔

اس کے بعد جنرل ٹائرز ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری رفیق اعوان صاحب نے مجمع سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ظہور احمد اعوان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور کہا کہ ہم گندھارا کے محنت کش ان کے ہمیشہ مشکور رہیں گے۔

اس کے بعد نامور ٹریڈ یونین کارکن نظیر جان خاکسار نے جلسے سے خطاب کیا اور کہا کہ ظہور احمد اعوان کے ذاتی نظریات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن ان کا تعلق ہمیشہ مزدور طبقے سے رہا اور انہوں نے اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

اسی کے ساتھ ساتھ جنرل ٹائرز ورکرز یونین مشعل گروپ کے حمید اعوان نے بھی جلسے سے خطاب کیا اور ظہور احمد اعوان کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اس تعزیتی جلسے میں پورٹ قاسم کے محنت کشوں نے بھی شرکت کی اور اپنے مسائل اور انتظامیہ کی بدمعاشی پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پورٹ قاسم کے محنت کشوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور انتظامیہ نے محنت کشوں کے تمام قانونی حقوق غصب کیے ہوئے ہیں اس لیے ہم وہاں مزدور جدوجہد کا آغاز کرنے کی طرف جا رہے ہیں اور یہ جدوجہد ہماری مشترکہ جدوجہد ہو گی۔

اس کے بعد سابق جنرل سیکرٹری جنرل ٹائرز ورکرز یونین فہیم خان نے جلسے سے خطاب کیا اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے شائع کردہ لیف لیٹ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ یہی وہ بات ہے جو محنت کشوں کے دل کی آواز ہے مگر ساتھ ہی انہوں نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے مخاطب ہو کر یہ شکوہ بھی کیا کہ یہ نظریات اور نعرے جتنی شدت اور جتنی تیزی سے پھیلانے کی ضرورت ہے اس رفتار سے کام نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پیغام کو لانڈھی کورنگی کی ہر فیکٹری تک پہنچانا چاہیے۔

اس کے بعد کراچی یونیورسٹی سمیت مختلف درسگاہوں سے طلبہ نے بھی محنت کشوں کے اس پروگرام میں شرکت کی۔ طلبہ کی طرف سے کراچی یونیورسٹی سے کامریڈ آنند پرکاش نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنی بات کے آغاز میں کہا کہ جب ہم طالب علم محنت کشوں کے اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں تو کچھ دوست حیران ہوتے ہیں۔ ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ آج کے طلبہ کل کے مزدور ہی ہیں اور ہمارے انقلابی نظریات نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اپنی اور آئندہ نسلوں کی بقا کے لیے مزدوروں کے شانہ بشانہ انقلابی جدوجہد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

اس کے بعد انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما کامریڈ پارس جان نے جلسے سے خطاب کیا اور ظہور احمد اعوان صاحب کو یاد کرتے ہوئے لانڈھی اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ریڈ ورکرز فرنٹ کے سیاسی سفر کا احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب 2010ء میں، میں لاہور سے کراچی مزدور سیاست کو منظم کرنے کے لیے آیا اور لانڈھی اور کورنگی میں کیمونزم کے انقلابی نظریات کا پیغام لے کر ہر ادارے اور فیکٹری میں محنت کشوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا تو اس وقت کوئی بھی نام نہاد فیڈریشن یا مزدور تنظیم گراؤنڈ پر فعال نہیں تھی۔ وہ مزدور سیاست کا سیاہ ترین دور تھا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی کہ اس سیاہ دور میں اگر امید کی کوئی مشعل روشن تھی تو وہ جنرل ٹائرز ورکرز یونین ہی تھی اور ظہور اعوان اس کارواں کے سرخیل تھے۔ اگرچہ وہ ایک مذہبی تنظیم سے وابستہ تھے مگر جب ہم نے انہیں اپنا اخبار ’ورکرنامہ‘ اور کمیونسٹ منشور پڑھنے کے لیے دیا تو انہوں نے روایتی اور رجعتی ملاؤں کے برعکس ان انقلابی نظریات کو خوش آمدید کہا اور مزدور تحریک کے لیے ان نظریات کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کیا۔

جب 2 فروری 2016ء کو کراچی ایئرپورٹ پر نجکاری کے خلاف احتجاج کرنے والے پی آئی اے کے دو محنت کشوں کو گولی مار کر شہید کیا گیا تو ظہور اعوان صاحب نے ریڈ ورکرز فرنٹ کے گیدڑ کالونی لانڈھی میں ان شہید محنت کشوں کے تعزیتی اور احتجاجی جلسے کی صدارت کی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کامریڈ پارس نے کہا کہ اِس وقت سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا میں زوال پذیر ہو چکا ہے اور اب یہ انسانیت کو ترقی دینے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا حکمران طبقہ اس سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کا تمام بوجھ محنت کش طبقے پر لاد رہا ہے جبکہ خود بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحران کا ڈھنڈورا پیٹ کر ایک طرف محنت کشوں کے اوپر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف ججوں، جرنیلوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹوں کی تنخواہوں اور مراعات میں آئے روز اضافہ کیا جا رہا ہے۔ کامریڈ پارس نے مزدور سیاست کے نام پر این جی اوز کے کاروبار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب تک ہم مزدور سیاست اور اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نہیں نکالیں گے، ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

جلسے سے آخری خطاب سابق صدر جنرل ٹائرز ورکرز یونین کامریڈ عزیز خان نے کیا۔ کامریڈ عزیز خان نے عظیم مزدور رہنما ظہور احمد اعوان کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ظہور احمد اعوان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ہم ان کی اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کا عزم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ظہور احمد اعوان کی جدوجہد کا محور و مرکز محنت کشوں کو منظم کرنا تھا اور اس کے لیے انہوں نے کانٹریکٹ پر کام کرنے والے محنت کشوں کو مستقل کرنے کی جدوجہد کی اور ٹھیکیداری کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ کامریڈ عزیز خان نے اپنی گفتگو کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لانڈھی کورنگی میں مزدور یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ہم کم از کم تنخواہ سمیت بنیادی حقوق جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ظہور احمد اعوان صاحب کو ہماری طرف سے یہ خراجِ عقیدت ہو گا کہ ہم ان کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ اس مقصد کے لیے ہم مزدور یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم کو فعال کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بار مزدور یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ٹھیکیداری جیسے ناسور کے خلاف ایک بڑی مزدور تحریک کا آغاز ہو گا جس کے لیے ہر فیکٹری اور مِل تک محنت کشوں میں اس کا پیغام پہنچایا جائے گا۔

جلسے میں موجود تمام محنت کشوں کی جانب سے مزدور یکجہتی کمیٹی کی ٹھیکیداری کے خلاف جدوجہد کے اس اعلان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا اور مل کر اس جدوجہد کو تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھیوں نے اس تعزیتی جلسے میں انقلابی لٹریچر کا اسٹال لگایا اور محنت کشوں میں کمیونسٹ نظریات کا پرچار کیا۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھیوں نے اس تعزیتی جلسے میں انقلابی لٹریچر کا اسٹال لگایا اور محنت کشوں میں کمیونسٹ نظریات کا پرچار کیا۔