|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، لاہور|

اس سال پنجاب میں نو تعلیمی بورڈز کے نویں جماعت (SSC Part-1) کے امتحانات میں مجموعی طور پر تیرہ لاکھ پچانوے ہزار پانچ سو پچھتر (1395575) طلبہ نے شرکت کی، جن میں تقریباً سات لاکھ تریپن ہزار نو سو تیرہ (753913) طلبہ امتحانات میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس سال نویں اور دسویں جماعت کے نتائج کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لاکھوں طلبہ امتحانی نظام میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔
یہ نتائج بنیادی طور پر پاکستان کے زوال کا شکار اور موجودہ عہد کے تقاضوں سے کہیں پیچھے رہ جانے والے فرسودہ تعلیمی نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ نے ان نتائج پر سکول مالکان، والدین، دانشوروں اور وزیرِ تعلیم کی شدید ”تشویش“ اور سطحی تجزیے تو لازمی سنے ہوں گے، مگر کوئی بھی اس تعلیمی نظام کی بنیادی ساخت پر بات نہیں کر رہا۔ ایک ایسا نظام جہاں سکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے محض کاروبار بن کر رہ گئے ہیں۔ کمرہ جماعت سے لے کر امتحانی مراکز تک، ہر جگہ علم کو صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔
ہم ایک ایسے تعلیمی نظام کی بات کر رہے ہیں جہاں المیہ یہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 62 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف، سکولوں میں پڑھنے والے لاکھوں بچے امتحانات میں ناکام ہو کر تعلیم چھوڑنے اور اپنا مستقبل بہتر بنانے کے لیے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس میں کوئی ہنر سیکھنا یا آن لائن کام تلاش کرنا شامل ہے۔
آخر ان بچوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں۔ جہاں تعلیم کا مقصد علم فراہم کرنا ہونا چاہیے، وہاں بچوں کو علم سے نفرت سکھائی جا رہی ہے۔ اگر کوئی طالب علم اس امید کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہا ہے کہ اس کا مستقبل بہتر ہو گا تو فیسوں، کتابوں اور دیگر تعلیمی اخراجات کی مد میں بے تحاشا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود متعلقہ شعبے یا کسی بھی دوسرے شعبے میں روزگار کے مواقع ناپید ہو چکے ہیں۔
نویں جماعت کے مختلف طلبہ کے مطابق امتحانات کی چیکنگ بھی درست طریقے سے نہیں کی گئی۔ جب طلبہ نے ری چیکنگ کے لیے درخواستیں دیں تو ری چیکنگ کی فیسیں وصول کرنے کے باوجود ان کے پیپرز کو دوبارہ چیک نہیں کیا گیا، بلکہ محض نمبروں کی گنتی کی اجازت دی گئی، حالانکہ طلبہ کا کہنا ہے کہ کئی سوالات کو چیک ہی نہیں کیا گیا تھا۔ بار بار اپیلوں کے باوجود طلبہ کی کسی قسم کی شنوائی نہیں ہو رہی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے طلبہ کو اس تعلیمی نظام کے خلاف ایک سنجیدہ لڑائی لڑنا ہو گی۔ امتحانات میں ہونے والی ناانصافی کی خبریں ہمیں پہلی بار موصول نہیں ہو رہیں اور نہ ہی اس تعلیمی نظام میں محض امتحانات کی چیکنگ کا طریقہ کار ہی مسئلہ ہے۔ بلکہ بھاری بھرکم نصاب سے لے کر معیاری تعلیم فراہم نہ کرنا، طلبہ کو پڑھنے کے لیے بنیادی سہولیات نہ دینا، حد سے زیادہ فیسیں وصول کرنا وغیرہ، یہ سب اسی بحران کا حصہ ہیں۔ مختصراً، پورا تعلیمی نظام شدید زوال کا شکار ہے۔
2022ء سے 2025ء تک شعبہ تعلیم کے لیے مختص اخراجات 23.1 فیصد تک کم ہوئے ہیں اور اس میں مسلسل مزید کمی کی جا رہی ہے۔ ریاست تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد سالانہ خرچ کرتی ہے۔ حالانکہ عالمی معیار کے مطابق یہ کم از کم بھی 4تا 6 فیصد ہونا چاہیے۔
ریاست مسلسل تعلیم کے بجٹ میں کمی کر رہی ہے اور تعلیم کو مکمل طور پر نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم اتنی مہنگی ہوتی جا رہی ہے کہ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے۔ دوسری طرف، جو بچے سکول جانے کے قابل ہو بھی رہے ہیں، وہاں نجی تعلیمی شعبے کا بنیادی محرک منافع کمانا بن چکا ہے اور یہی ریاست اس نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
طلبہ کو اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے اور اس تعلیمی نظام کے خلاف کامیاب لڑائی لڑنے کے لیے ایکشن کمیٹیوں میں منظم ہونا ہو گا۔ جس طرح انڈیا میں طلبہ نے ایک منظم لڑائی کے ذریعے وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ انڈیا کے وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ شروع میں سب کو ناممکن لگ رہا تھا، مگر عام لوگوں، خصوصاً نوجوان نسل کی منظم طاقت کے سامنے کوئی بھی طاقت نہیں ٹک سکتی اور یہی انڈیا میں ہوا۔
گو کہ بھارتی جین زی کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے، مگر اس نظام میں ایک وزیر کی جگہ اگر کوئی دوسرا وزیر بھی آ جائے تو مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ کیونکہ ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں، اسے سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز انسانی ضرورت کے لیے نہیں بلکہ فروخت اور منافع خوری کے لیے پیدا کی جاتی ہے اور یہاں تعلیم جیسی بنیادی ضرورت بھی بیچی جا رہی ہے۔
یاد رکھیں، یہ مسائل حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ہرگز نہیں ہیں، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام بنیادی طور پر حکمران اشرافیہ کے مفادات کے لیے ہی کام کرتا ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کر رہی ہے۔ سوشلزم میں تعلیم، صحت، روزگار، رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کو بنیادی انسانی حقوق قرار دیا جائے گا اور ان تمام ضروریات کی فراہمی سوشلسٹ مزدور ریاست کی ذمہ داری ہو گی، جس میں یہ سہولیات معیاری سطح پر بالکل مفت فراہم کی جائیں گی۔
ہم تمام طلبہ کو دعوت دیتے ہیں کہ اس نظام کے خاتمے کے لیے جو ہمارے تمام سمائل کی بنیادی جڑ ہے، سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کا حصہ بنیں اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کریں۔