|تحریر: اولیور بروتھرٹن، ترجمہ: علی عیسیٰ|

مورخہ 30 اکتوبر کو 25 مزدور یونینوں کی زیرِ قیادت بندرگاہوں کے ہزاروں مزدوروں کی جانب سے 6 براعظموں میں 113 بندرگاہوں میں ہڑتال کی گئی۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
یہ ہڑتال فوجی اخراجات میں اضافے، اسلحہ سازی، جنگ اور ڈاک ورکرز کے حقوق کے حصول جیسے مطالبات کے گرد منظم کی گئی تھی۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کے عہد میں جہاں ہر آئے دن محنت کش عوام اور نوجوانوں سامراجیت کے ثمرات یعنی تباہی، ہولناکیاں اور بربادیوں کی زد میں ہیں بلاشبہ اس وقت بندرگاہوں کے مزدوروں کی یہ عالمی ہڑتال پوری مزدور تحریک کے لیے ایک روشن شمع کے مثل ہے۔ لیکن یہ آغاز ہے ہمیں یہاں رکنا نہیں ہے۔
بندرگاہوں کے مزدور گزشتہ کئی سالوں سے جنگ اور جنگی جنون کے خلاف جدوجہد میں مسلسل قائدانہ کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔ تین سال قبل غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک اٹلی، یونان، اسپین، فرانس اور کئی دیگر ممالک کے بندرگاہوں کے مزدوروں نے متعدد بار جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی طرف ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کی کوشش کی ہے۔
جمعے کی ہڑتال کی تیاریاں کئی مہینوں سے جاری تھیں۔ بندرگاہوں کے مزدوروں کی جانب سے ”بندرگاہوں کے مزدور جنگ کے لیے کام نہیں کرتے!“ (Dockers don’t work for war) کے نعرے کے تحت عالمی سطح پر احتجاجی دن منانے کی تجویز ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل اٹلی میں یو ایس بی USB کے زیرِ اہتمام ہونے والے ایک اجلاس میں پیش کی گئی تھی جس میں متحرک مزدور یونینوں نے شرکت کی تھی۔ ابتدائی اجلاسوں کے بعد بحیرہ روم کے مختلف ممالک کی مزدور یونینوں کے درمیان کئی نشستیں ہوئیں جن کے نتیجے میں ”استنبول اعلامیہ“ (Istanbul Declaration) سامنے آیا، جس میں کہا گیا ہے:
”ہم جنگی معیشت، حکومتوں کے دوبارہ اسلحہ سازی کے منصوبوں اور بندرگاہوں و تزویراتی بنیادی ڈھانچے کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے منصوبوں کے خلاف اپنا دو ٹوک موقف رکھتے ہوئے ان کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ ہمارے وسائل ان جنگوں میں نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود، اجرتوں میں اضافے اور کام کی جگہوں پر صحت و تحفظ جیسے بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے استعمال ہونے چاہییں۔“
اسی کے پیش نظر:
ٹریڈ یونینز چوکس رہیں، مزدوروں کو اقدام سے باخبر رکھیں، جنگی ساز و سامان کی ترسیل کو بے نقاب کریں اور تمام دستیاب ذرائع کو زیر استعمال لا کر مسلسل، منظم اور اجتماعی عوامی مزاحمت کو منظم کریں۔“
بلاشبہ یہی وہ جرأت اور استقامت ہے جس کی آج اشد ضرورت ہے۔ درحقیقت جمعے کی ہڑتال اس اعلامیے میں طے کیے گئے منصوبوں کا نقطہ عروج تھی لیکن اس کا دائرہ کار ابتدائی طور پر بحیرہ روم تک محدود منصوبے سے کہیں آگے تک پھیل گیا۔ اگرچہ بندرگاہوں کے مزدوروں کی ہڑتالوں کا زیادہ تر مرکز یورپ تھا لیکن دنیا کے دیگر خطوں میں بھی یہ احتجاج ہوا، میلبورن سے مونٹیویڈیو تک اور ممبئی سے مالمو تک۔

بندرگاہوں کے مزدور بین الاقوامی سپلائی چین میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں جس پر سامراجیت کا پورا نظام انحصار کرتا ہے۔ خصوصاً یوکرین میں جنگ اور غزہ و ایران پر مسلط جنگوں کے آغاز کے بعد ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ جمعے کی ہڑتال میں بالخصوص پورے یورپ کے محنت کشوں نے حصہ لیا کیونکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران یورپ دنیا میں اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا خطہ بن چکا ہے۔
سامراجی جنگوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی لوڈنگ اور اَن لوڈنگ میں شامل مزدور اپنے کردار کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ مزدور یونینوں نے علیٰ الاعلان بندرگاہوں میں اسلحہ سازی اور جنگی جنون کے بڑھتے ہوئے رجحان کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل بیان جاری کیا کہ:
طیاروں سے لے کر ٹینکوں تک، بندوقوں سے لے کر گولیوں تک، دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد سے لے کر گولہ بارود تک، وردیوں سے لے کر فوجی بوٹوں تک ہماری بندرگاہیں جنگ اور نسل کشی کے لیے رسد کی فراہمی اور ترسیل کے مراکز بن چکی ہیں۔“
درحقیقت عالمی نقل و حمل کے نظام میں یہی کلیدی حیثیت بندرگاہوں کے مزدوروں کو جنگی مشینری مفلوج کرنے کی ایک منفرد صلاحیت عطا کرتی ہے۔ اس ہڑتال کے منتظمین کے اندازے کے مطابق جمعے کی ہڑتال سے مجموعی طور پر 2.8 ارب ڈالر مالیت کے 52 ہزار کنٹینرز کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ محنت کش طبقے کی اس بے پناہ طاقت کی یہ ایک جھلک ہے۔
یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ جب محنت کش طبقہ بڑے پیمانے پر اس تحریک کا حصہ بنے گا تو ا س کے کتنے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ اہم سبق ہے جس پر مزدور تحریک کو توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
ہم حکمرانوں کی جنگوں کا ایندھن نہیں بنیں گے!
توجہ طلب بات یہ ہے کہ بندرگاہوں کے مزدوروں نے جمعے کے روز اعلانیہ احتجاج کو محض جنگ اور سامراجیت کے خلاف جدوجہد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے وسیع تر سیاسی اور معاشی مطالبات سے بھی منسلک کیا جس کو اٹلی کے ایک بندرگاہ کے مزدور نے کچھ یوں بیان کیا ہے کہ:
”حکومت کی جانب سے جی ڈی پی کا 5 فیصد فوجی اخراجات پر خرچ کردیا جاتا ہے اور جب ہمارے مطالبات کے باری آتی ہے تو مذاکرات کی میز پر بیٹھے ان لوگوں کی طرف سے خزانہ خالی ہونے یا پاس پیسے نہ ہونے کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی یہ مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے نہ کہ مزدور یونین کا۔“
اٹلی میں یہ ہڑتال لاکھوں محنت کشوں اور نوجوانوں کی اس ملک گیر احتجاجی تحریک کے ساتھ جڑ گئی جو بنیادی سہولیات اور کام کے ناقابلِ برداشت حالات کے خلاف منظم کی گئی تھی۔ یقیناً یہ انتہائی اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس طرح بندرگاہوں کے مزدوروں کی یہ جدوجہد محنت کشوں اور نوجوانوں کو درپیش مسائل کے خلاف وسیع تر جدوجہد سے مسلک ہو جاتی ہے۔ جس کا اظہار جینوا (Genoa) میں یو ایس بی کے ایک رکن کے الفاظ میں کچھ اس طرح ہے:
”اس مرحلے پر ہر شعبہ ہائے زندگی سے منسلک لوگ یہ محسوس کرر ہے ہیں کہ صرف متحد ہو کر ہی ہم ان تمام تر مطالبات کو منظور کروا سکتے ہیں یا ان کی افادیت کی اہمیت کو اجاگر کرسکتے ہیں جن کے لیے ہم سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔“
اسی طرح دیگر بہت سی جگہوں پر بھی محنت کشوں نے نامیاتی طور پر اسلحہ سازی اور جنگ کے خلاف جدوجہد کو بہتر زندگی کے حصول کی جدوجہد سے جوڑا ہے۔ یونان کی سب سے بڑی بندرگاہ پیریئس (Piraeus) کی بندرگاہ کے مزدوروں کی یونین کے سربراہ نے نیوز ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ خاص کر ایران جنگ کے نتیجے میں جو مہنگائی ہوئی ہے اس نے محنت کشوں کی کمر توڑ دی ہے، حالت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ہم محنت کشوں کو سپر مارکیٹ تک جانے کے لیے گاڑی میں پٹرول ڈلوانے کے پیسے بھی میسر نہیں ہیں۔
سامراجی تنازعات کے باعث بندرگاہوں کے مزدوروں کو اپنی جانوں کے حوالے سے فوری اور سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بحری جہازوں اور بندرگاہوں پر کام کرنے والے سینکڑوں مزدور اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ مالکان کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ مزدوروں کو ایسے حالات میں بھی کام جاری رکھنے پر مجبور کیا گیا جب بحیرہ اسود (Black Sea) اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے آس پاس ان کے جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔
جیسے یونان کی مرچنٹ نیوی انجینئرز یونین کے رہنما نے کہا کہ، ”ہم ان کی جنگوں کے لیے کام نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کی توپوں کا ایندھن بنیں گے۔ ہم نے خود اس صورتحال سے بخوبی واقف ہیں اور ہمارے خاندانوں نے بھی اس کا درد جھیلا ہے۔ وہ اس کرب میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں کہ آیا ہمارا عزیر خیر و عافیت سے گھر واپس لوٹ آئے۔“
یہ خدشات صرف بندرگاہوں کے مزدوروں تک محدود نہیں بلکہ دیگر جگہوں میں بھی محنت کشوں اور نوجوانوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بھی محض اتفاق نہیں کہ یہ ہڑتال فرانس، اسپین، اٹلی، البانیہ، برازیل اور دیگر ممالک میں جاری احتجاجی تحریکوں کے ساتھ ہی منظرِ عام پر آئی ہے۔ درحقیقت، یہ تمام تحریکیں استحصال کے شکار عوام کی وسیع پرتوں میں بڑھتے ہوئے غم و غصے کا اظہار ہیں، جو اب سیاسی جمود سے تنگ آ چکی ہیں اور ایک نئے زیادہ ریڈیکل متبادل کی تلاش میں ہیں۔
بندرگاہوں کے مزدوروں کی اس ہڑتال کو ایک سنہرے باب کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے کہ کس طرح مختلف ممالک میں محنت کشوں کے تقریباً یکساں مطالبات کے گرد بین الاقوامی سطح پر جدوجہد کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر کے محنت کشوں کے باہمی اتحاد پر مبنی مربوط اور لڑاکا جدوجہد بشمول انقلابی نوجوانوں کی حمایت جنگی جنون کے حامل ان سامراجیوں کی راتوں کی نیند اڑا سکتی ہے، بلاشبہ یہی وہ حکمران ہیں جو بیرونِ ملک قتل و غارت گری سمیت اپنے ہی ملک میں عوام کو جبر اور استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔
یقیناً یہ پہلو بندرگاہوں کے مزدوروں کی جدوجہد میں کامیابی کے لیے درکار اعلیٰ سطح کی تنظیم کاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اس جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر مربوط ہڑتالوں کی ضرورت اور بندرگاہوں کے مزدوروں کی مثال کو معیشت کے تمام کلیدی شعبوں میں پھیلایا جائے اور اسے سماج کی انقلابی تبدیلی کے ایک انقلابی پروگرام کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جائے۔
یہ اختتامی نکتہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جمعے کی ہڑتال نے ثابت کیا کہ ڈاک ورکرز جنگی مشینری کے پہیے کو روکنے کی مکمل طاقت رکھتے ہیں لیکن یہ کافی نہیں کہ مالکان کو ڈرایا جائے بلکہ محنت کشوں کو اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینا ہو گا۔ یہی سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجی جنگوں کے ہمیشہ کے لیے خاتمے کا واحد راستہ اور حل ہے۔