دنیا میں سمندری تجارت میں بڑھتی رکاوٹیں اور عالمی سرمایہ داری کا بحران

|تحریر: بینوئٹ ٹینگوے، ترجمہ: تسبیح خان|

جب سے ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آیا ہے، ہم امریکی سامراج کے تیز رفتار زوال پر تبصرہ کرتے آ رہے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کے ستون تیزی سے بوسیدہ ہو رہے ہیں، بلکہ بعض تو مکمل طور پر منہدم ہو رہے ہیں۔

یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

سرمایہ داری کا بحران اور سامراجی طاقتوں کے درمیان قوت کے توازن میں تبدیلیاں، امریکی بالادستی پر مبنی عالمی نظام کے اہم عناصر کو کمزور کر رہی ہیں۔ ان عناصر میں ڈالر کا نظام، یورپ پر امریکی فوجی سرپرستی اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں قائم بین الاقوامی تعلقات کا لبرل ”قواعد پر مبنی نظام“ شامل ہیں۔

آج، جب ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ذریعے امریکہ کو شدید دباؤ میں رکھے ہوئے ہے، ہم اس عالمی نظام کے ایک اور ستون ”سمندروں پر امریکی بالادستی“ کے انہدام کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

مغربی سامراج کی منافقت

امریکی-اسرائیلی سامراجی حملے کے جواب میں ایران نے اپنا سب سے طاقتور حربہ استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی نافذ کر دی۔ ایران اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔

عالمی تجارت کے لیے اس سمندری گزرگاہ کی بے حد اہمیت کے پیش نظر، اس کے نتائج نہایت تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے اور متعدد ممالک میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اسی طرح مختلف صنعتوں کے لیے ضروری اشیاء، جیسے کھاد، گندھک (سلفر)، ہیلیم وغیرہ کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی برقرار رہتی ہے تو اس سے عالمی کساد بازاری (Global Recession) پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

فی الحال امریکہ اپنے تیل کے ذخائر استعمال کر کے اس بحران کے بدترین اثرات سے کسی حد تک بچنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن یہ صورتحال ہمیشہ برقرار نہیں رہ سکتی۔ امریکی اسٹریٹجک تیل کے ذخائر اب 1982ء کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئی، جس کے باعث ٹرکنگ، زراعت اور دیگر متعلقہ صنعتوں پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بین الاقوامی قانون کے تحت آزادی جہاز رانی (Freedom of Navigation) کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی ناکہ بندی کی مذمت کی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا:

”یہاں معاملہ صرف آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات کا نہیں ہے۔ اصل میں یہ آزادی جہاز رانی کے ایک نہایت بنیادی اصول کا سوال ہے۔ اگر اس اصول کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو میرے خیال میں نہ صرف عالمی معیشت خطرے میں پڑ جائے گی بلکہ وہ قواعد بھی خطرے میں پڑ جائیں گے جن پر گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے بین الاقوامی تجارت اور کاروبار کی بنیاد قائم ہے۔“

مغرب کے پورے سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آزادی جہاز رانی کے دفاع کی ایسی اپیلیں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ مئی میں 112 ممالک کے دستخطوں سے ایک قرارداد اقوامِ متحدہ میں پیش کی گئی، جس میں آبنائے ہرمز میں آزادی جہاز رانی کے احترام کا مطالبہ کیا گیا۔

فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو (Jean-Noël Barrot) نے کہا کہ آبنائے پر ایران کی جانب سے محصول عائد کرنا ناقابلِ قبول ہو گا، کیونکہ: ”بین الاقوامی پانیوں میں آزادی جہاز رانی ایک مشترکہ اثاثہ ہے، بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے، جسے کسی بھی رکاوٹ یا گزرنے کے حق کے مطالبے کے ذریعے محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔“ مزید برآں، فرانسیسی حکومت نے اس بات پر بہت شور مچایا کہ وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مشترکہ بحری بیڑہ بھیجے گی تاکہ آبنائے ہرمز جلد از جلد دوبارہ کھل جائے!

اس قسم کی بیان بازی میں منافقت کی ایک نمایاں مقدار موجود ہے۔ آزادی جہاز رانی کے دفاع کے بارے میں تمام تر شور و غوغا کے باوجود، نہ امریکہ اور نہ ہی اس کے یورپی اتحادی خود اس اصول کا احترام کرتے ہیں۔ امریکہ اس وقت خود ایران پر ناکہ بندی مسلط کیے ہوئے ہے، جس کا واضح مقصد ایرانی عوام کو اجتماعی سزا (Collective Punishment) دینا ہے۔

اسی سال کے آغاز میں، مادورو حکومت کو گرانے کی اپنی مہم کے تحت، امریکہ نے وینزویلا پر تیل کی ناکہ بندی عائد کی تھی۔ اس نے وینزویلا کے سات تیل بردار جہاز ضبط کر لیے، جو درحقیقت بحری لوٹ مار کی ایک بھرپور مہم کے مترادف تھا۔

مزید برآں، منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کاروائی کے کمزور اور مشکوک جواز کے تحت، ٹرمپ انتظامیہ نے کیریبین اور امریکہ کے مغربی ساحلوں کے ساتھ ساتھ کشتیوں پر بمباری کی ایک ایسی مہم بھی چلائی جسے مکمل طور پر مجرمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ کم از کم 59 کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے بہت سے بے گناہ ماہی گیر تھے۔ کم از کم ایک واقعے میں، ہیگستھ نے خود زندہ بچ جانے والوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اور حملہ آور کاروائی (double-tap strike) کا حکم دیا۔

یہی دوہرا معیار ہمیں روس سے تیل لے جانے کے شبہے میں جہازوں کو ضبط کرنے کی یورپی قیادت میں چلائی جانے والی مہم میں بھی نظر آتا ہے۔ اب تک دس جہاز ضبط کیے جا چکے ہیں اور سینکڑوں دیگر پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جو روس کے خلاف امریکہ اور یورپ کی پابندیوں کی مہم کا حصہ ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آزادی جہاز رانی، جسے ”انسانیت کا مشترکہ اثاثہ“ قرار دیا جاتا ہے، روس کے معاملے میں باآسانی معطل کی جا سکتی ہے۔

امریکہ نے وینزویلا کے سات تیل بردار جہاز ضبط کر لیے، جو درحقیقت بحری لوٹ مار کی ایک بھرپور مہم کے مترادف تھا۔

بین الاقوامی پانیوں میں آزادی جہاز رانی کا اصول امریکہ کے جارح اتحادی، اسرائیل، کے لیے بھی کوئی قابلِ احترام اصول نہیں ہے۔ اس نے غزہ کے خلاف ایک مجرمانہ بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی انسانی امداد بھوک کا سامنا کرنے والے فلسطینی علاقے میں داخل نہ ہو سکے۔

بین الاقوامی پانیوں میں صہیونی ریاست نے یکجہتی کے ان بحری قافلوں کے عملے پر حملہ کیا اور انہیں اغوا کیا جو اس ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ ایسے اقدامات تھے جو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر غیر قانونی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ فرانس اور نہ ہی برطانیہ نے اس ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے کسی بین الاقوامی بحری فورس کی تجویز پیش کی!

اس منافقت کے پیچھے یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ یہ آزادی، بالکل اسی طرح جیسے باقی تمام ”بین الاقوامی قانون“، صرف اسی حد تک موجود ہوتی ہے جہاں تک وہ سامراجی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کے مفادات کی خدمت کرتی ہو۔ جب روبیو ”آزادی جہاز رانی کے نہایت بنیادی اصول“ کی بات کرتا ہے، تو درحقیقت اس کی مراد سمندروں پر امریکی بالادستی کے ”نہایت بنیادی اصول“ سے ہوتی ہے۔

آبنائے ہرمز کو بند کر کے، جس کے بارے میں امریکہ کچھ نہیں کر پا رہا، ایران اس بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت کو ایک شدید سیاسی اور سفارتی سبکی سے دوچار کر رہا ہے۔

امریکی سامراج کی ہزیمت

اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ ٹرمپ کیا کہتا ہے، وہ 32 دفعہ اعلان کر چکا ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے یا عنقریب ختم ہونے والی ہے لیکن امریکہ میں معاملات بگڑ رہے ہیں۔جنگ چھ مہینے سے جاری ہے اور اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ امریکیوں کے لیے چیزیں بہتر ہو رہی ہیں، بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔

امریکیوں کوخطے میں موجود اپنے اڈوں کے حوالے سے بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے ایک تخمینے کے مطابق، جنگ کے دوران 15 امریکی اڈوں پر جنگی سامان کے تقریباً 228 ڈھانچے تباہ ہوئے ہیں جن میں فضائی حملوں میں دفاع کرنے والا 300 ملین ڈالر کی مالیت کا اہم ریڈار سسٹم بھی شامل تھا۔

بحرین میں امریکہ کے بحری اڈے کو ایران کے حملوں نے ناکارہ بنا دیا تھا اور مشرق وسطیٰ میں آپریشنز کرنے کے لیے امریکی بحری فوج کو ڈیاگو گارسیا (Diego Garcia)، بحر ہند میں ایک دور دراز اڈہ، پر منتقل ہونے پر مجبور کیا جہاں ان کے لیے یہ تمام آپریشنز کرنا بہت مشکل ہو گیا۔

جبکہ امریکہ ایران کی ناکہ بندی کے سامنے بالکل بے بس نظر آتا ہے۔

یہ سب اور واضح ہو جاتا ہے جب کوئی تصور کرے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے ساتھ امریکہ کی یہ پہلی جنگ نہیں ہے۔ ایران- عراق جنگ کے دوران، 1986ء سے 1988ء میں ہونے والی جنگ جسے ’ٹینکر وار‘ (Tanker War)کہا جاتا ہے، میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس وقت امریکہ بغیر زیادہ دقت کے ایرانی ناکہ بندی کو توڑنے اور تیل کے ٹینکر نکلوانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

ایران کے سامنے امریکہ کی کمزوری جنگی ٹیکنالوجی میں اتھل پتھل کا نتیجہ ہے۔ ڈرون کے ایک ناگزیر جنگی ہتھیار کے ظہور نے ہمارے سامنے ’جمہوریت‘ (Democratisation) کا پہلو اجاگر کیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نسبتاً کمزور ریاستیں بھی امریکی عسکری دیو کے سامنے مزاحمت کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ نسبتاً چھوٹا اور کم وسائل رکھنے والا یمن بھی ڈرونز کے وسیع ذخیرے کی بدولت باب المندب کی آبنائے کو بند کرنے اور بحیرہ احمر کی آمدورفت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی روایتی بحریہ، جس کے پاس بڑے جنگی جہاز اور طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہیں، سستے، بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے اور دور سے چلائے جانے والے ڈرونز کے بیڑے کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ فضائی اور بحری ڈرونز کی کم پیداواری لاگت انہیں بڑی تعداد میں استعمال کرنا ممکن بناتی ہے، جس کے ذریعے کسی بھی بحری راستے کو نسبتاً آسانی سے بند کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے ایرانیوں کو امریکی افواج کا براہِ راست سامنا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ وہ ایک یقینی خطرہ پیدا کر دیں، تاکہ تجارتی جہاز اس راستے سے گزرنے کا خطرہ مول لینے سے گریز کریں۔

اگرچہ امریکی روایتی فوجی قوت جہازوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ڈرونز کے خلاف بحری راستہ دوبارہ کھول سکتی ہے، لیکن ایسا کرنا نہایت غیر متناسب اخراجات کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک ڈرون کی کم سے کم قیمت 20 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے، جبکہ اسے تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے میزائل کی قیمت 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

ایران صرف آبنائے ہرمز کو بند نہیں کر رہا بلکہ وہ امریکی طاقت کی حدود اور اس کے زوال کو بھی بے نقاب کر رہا ہے۔ ایران کے نسبتاً سستے ڈرونز امریکہ کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کو تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ اپنے پیٹریاٹ (Patriot) میزائلوں کے پانچ میں سے تقریباً تین حصے اور THAAD میزائلوں کے تقریباً نصف ذخیرے کو استعمال کر چکا ہے، جبکہ ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اس کے عملی اثرات پہلے ہی سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق، امریکہ کو ایرانی محاذ کو مضبوط بنانے کے لیے یوکرین کے محاذ سے میزائل ہٹانے پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یوکرینی افواج کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی عہدیداروں کے بقول، یورپ میں دفاعی میزائلوں کی کمی اب ”انتہائی نازک حد“ سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔ اسی طرح امریکہ کو جنوبی کوریا میں موجود اپنے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر سے بھی مدد لینی پڑی ہے۔

یہ جنگ امریکی فوجیوں کے حوصلوں کو بھی متاثر کر رہی ہے، جس کی ایک مثال طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن (USS Abraham Lincoln) کے بحران سے ملتی ہے۔ ایرانی حملوں کے باعث بحرین میں بندرگاہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے اس جہاز کو تقریباً نو ماہ تک مسلسل تعینات رکھا گیا، اور اس دوران اسے صرف ایک دن کے لیے بندرگاہ پر رکنے کا موقع ملا۔ بحریہ کے اہلکار طویل عرصے تک سمندر میں ایسے حالات میں پھنسے رہے جنہیں انتہائی ناگفتہ بہ قرار دیا گیا ہے، جن میں خوراک اور صاف پانی کی کمی اور پھپھوندی سے بھرے غسل خانے اور بیت الخلاء شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق، حالات اس قدر خراب تھے کہ بعض اہلکاروں نے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی۔

بحریہ کے اہلکاروں کے خاندانوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں بالآخر طیارہ بردار بحری جہاز کو تھائی لینڈ کی بندرگاہ پر واپس لایا گیا۔ تاہم، اس کی جگہ ایک اور جہاز تعینات کرنا ضروری تھا۔ کاغذی اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے پاس 11 طیارہ بردار بحری جہاز ہیں، جو تقریباً دنیا کے باقی تمام ممالک کے مجموعی بیڑوں کے برابر ہیں۔ لیکن حقیقت میں سے یو ایس ایس نمٹز (Uss Nimitz) اپنی سروس کے اختتامی مرحلے میں ہے اور اسے جلد ہی ریٹائر کیا جانا ہے۔ اس طرح ابراہم لنکن کے علاوہ امریکہ کے پاس صرف تین مکمل طور پر فعال طیارہ بردار جہاز باقی رہ جاتے ہیں۔

اس مشن کو ختم کرنے اور ابراہم لنکن کی جگہ لینے کے لیے امریکہ نے یو ایس ایس جارج واشنگٹن (USS George Washington) کو، جو بحرالکاہل میں جاپان کے قریب تعینات تھا، وہاں سے منتقل کیا۔ اس فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بحرالکاہل کا وہ خطہ، جسے امریکہ اپنی عالمی حکمتِ عملی میں انتہائی اہم سمجھتا ہے کیونکہ وہ چین کو اپنا بنیادی حریف تصور کرتا ہے، نسبتاً غیر محفوظ اور کمزور نکلا۔

زوال پذیر طاقت

لیکن ایران کے ہاتھوں امریکہ کی یہ سبکی محض ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تاریخی عمل کا اظہار ہے: سمندروں پر امریکہ کی بلاشرکتِ غیر بالادستی کا دور اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس حقیقت کو چین کے ساتھ تقابل میں نہایت واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران کے ہاتھوں امریکہ کی یہ سبکی محض ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تاریخی عمل کا اظہار ہے: سمندروں پر امریکہ کی بلاشرکتِ غیر بالادستی کا دور اختتام پذیر ہو رہا ہے۔

امریکی بحریہ وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہو رہی ہے۔ 1980ء کی دہائی کے مقابلے میں امریکی بحری بیڑے کا حجم تقریباً نصف رہ گیا ہے اور اب اس کے پاس بمشکل 300 جنگی جہاز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بحری بیڑے کے تدریجی فرسودہ ہونے کی شرح کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، جس کے نتیجے میں اندازہ ہے کہ 2040ء تک 213 جہاز سروس سے خارج کر دیے جائیں گے۔

آج جہازوں کی تعداد کے لحاظ سے چینی بحریہ امریکی بحریہ سے بڑی ہو چکی ہے۔

البتہ وزنی گنجائش (Tonnage) کے اعتبار سے امریکی بحریہ اب بھی زیادہ طاقتور ہے۔ یعنی امریکی جہاز تعداد میں کم ہیں، لیکن حجم میں بڑے اور جنگی صلاحیت کے لحاظ سے زیادہ طاقتور ہیں۔ کسی جہاز کی وزنی گنجائش اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی سے اس کی مؤثر عملی حدود (Range) اور ممکنہ آتش گیر طاقت (Firepower) کا تعین ہوتا ہے۔

امریکی بحری بیڑے کی بہت زیادہ وزنی گنجائش اسے دنیا کے دوسرے کنارے تک طاقت پہنچانے اور فوجی کاروائیاں کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہی صلاحیت عالمی سطح پر امریکی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ایک بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔

لیکن چین کو فی الحال اتنی دور تک اپنی طاقت پہنچانے کی ضرورت نہیں۔ کم از کم اس وقت اس کے مقاصد نسبتاً محدود ہیں۔ مزید یہ کہ ڈرونز اور میزائلوں کے دور میں بحری جہازوں کی وزنی گنجائش کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ ممکنہ تصادم کی صورت میں چین امریکی بحریہ کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے بحری بیڑے سے زیادہ سپرسونک (Supersonic) میزائلوں پر انحصار کرے گا۔

اسی دوران چین کی بحری طاقت امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں امریکی بحریہ تقریباً 300 جہازوں کے آس پاس ہی رہی، جبکہ اسی عرصے میں چینی بحریہ 200 سے کچھ زائد جہازوں سے بڑھ کر 330 جہازوں تک پہنچ گئی۔ صرف 2023ء میں چین نے اپنے بحری بیڑے میں 30 نئے جہاز شامل کیے، جبکہ امریکہ صرف دو جہاز شامل کر سکا۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چین کی جہاز سازی کی صنعت امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور طاقتور ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق چین کی جہاز سازی کی صلاحیت امریکہ سے تقریباً 200 گنا زیادہ ہے۔

جیسا کہ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک تجزیہ کار نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی مشرقِ ایشیا اور بحرالکاہل ذیلی کمیٹی (US House Foreign Affairs East Asia and Pacific) کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا:

”چین کی ایک واحد سرکاری ملکیتی کمپنی، چائنا اسٹیٹ شپ بلڈنگ کارپوریشن (CSSC)، ہر سال وزنی گنجائش (tonnage) کے اعتبار سے اتنے تجارتی جہاز تیار کرتی ہے جتنے پوری امریکی جہاز سازی کی صنعت نے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر تیار کیے ہیں۔“

چین کے 307 شپ یارڈز (جہاز سازی کے مراکز) میں سے ایک بڑا حصہ دوہرے استعمال (Dual-use) کی نوعیت رکھتا ہے، یعنی وہ بیک وقت شہری اور عسکری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے چین اپنی وسیع تجارتی جہاز سازی کی صنعت کو ضرورت پڑنے پر جنگی اور عسکری بحری جہازوں کی تعمیر کے لیے بھی بروئے کار لا سکتا ہے۔

اس کے برعکس، امریکہ کے پاس جنگی جہازوں کی تعمیر کے لیے صرف سات فوجی شپ یارڈز موجود ہیں، جبکہ چار مزید شپ یارڈز مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں کے لیے مختص ہیں۔

جمود اور زوال

یہ مسائل بڑی حد تک سامراجی عہد کے زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہیں۔ جہاز سازی کی صنعت اپنی فطرت کے اعتبار سے انتہائی غیر مستحکم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس کا انحصار بڑے بڑے معاہدوں پر ہوتا ہے جو آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ اسی لیے نجی شپ یارڈز سرمایہ دارانہ منڈی کے اتار چڑھاؤ اور بے یقینی کا آسان شکار بن جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکہ میں بتدریج متعدد شپ یارڈز بند ہوتے چلے گئے ہیں۔

1950ء کے بعد سے ایسے شپ یارڈز کی تعداد، جو بڑے سمندری جہاز تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، 80 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ جو شپ یارڈز اب بھی موجود ہیں، ان میں سے بعض کی بنیاد انیسویں صدی میں رکھی گئی تھی، جبکہ بہت سے دوسری عالمی جنگ کے دوران جہاز سازی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضرورت کے زمانے میں تعمیر کیے گئے تھے۔

امریکی جہاز سازی کی صنعت کو درپیش مشکلات صرف یہی نہیں ہیں بلکہ اس کے علاوہ اسے ماہر افرادی قوت کی شدید اور دائمی کمی کا سامنا ہے۔ اس وقت صنعت میں تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار آسامیوں پر افراد درکار ہیں، جبکہ ویلڈنگ جیسے ہنر مند شعبوں میں ملازمین کے تبادلے (Turnover) کی شرح 30 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ نسبتاً کم اجرتیں ہیں (جو اکثر 24 ڈالر فی گھنٹہ کے قریب ہوتی ہیں) اور اس مشکل کام کی حقیقی نوعیت کی عکاسی نہیں کرتیں۔

اس کے علاوہ صنعت کو پرزہ جات (Replacement Parts) کی شدید اور مسلسل قلت کا بھی سامنا ہے، جو وسیع تر امریکی صنعتی و پیداواری شعبے کے زوال کی عکاسی کرتی ہے۔ اس قلت کے نتیجے میں پیداوار میں تاخیر ہوتی ہے، منصوبے مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے اور مجموعی پیداواری صلاحیت مزید متاثر ہوتی ہے۔

امریکی جہاز سازی کی صنعت کی کم پیداواری صلاحیت صرف نئے جہازوں کی تعمیر تک محدود مسئلہ نہیں، بلکہ بحری بیڑے کی مرمت اور دیکھ بھال کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔ سینٹر فار میری ٹائم اسٹریٹیجی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں میں بڑے پیمانے پر تاخیر کا شکار ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:

”2015ء سے 2019ء کے درمیان طیارہ بردار جہازوں اور آبدوزوں کی مرمت میں تاخیر کے باعث یہ بحری جہاز مجموعی طور پر 7424 دن آپریشنل خدمات کے لیے دستیاب نہ رہے۔ یہ ہر سال نصف طیارہ بردار جہاز اور تین آبدوزوں کے ضائع ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی وقت امریکہ کی تقریباً ایک تہائی آبدوزیں مرمت یا دیکھ بھال کے باعث سروس سے باہر ہوتی ہیں۔“

سستی مزدوری کی تلاش میں اپنی صنعتوں کو بیرونِ ملک منتقل کر کے امریکی سامراج نے درحقیقت وہی شاخ کاٹ دی جس پر اس کی طاقت کا انحصار تھا۔ وہ مضبوط جہاز سازی کی صنعت، جس پر اس کی بحری اور فوجی برتری قائم تھی، رفتہ رفتہ کمزور ہوتی چلی گئی۔ اسی طرح منافع کی مسلسل دوڑ، جو اجرتوں کو نیچے دھکیلتی رہتی ہے، نے اس ہنر مند افرادی قوت کے معیارِ زندگی کو بھی نقصان پہنچایا جو جہازوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے لیے ناگزیر تھی۔

یہی پس منظر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنی اس پالیسی سے دستبرداری اختیار کی ہے جس کے تحت جنگی جہاز صرف ملک کے اندر تعمیر کیے جاتے تھے۔ اب امریکہ اس امکان پر غور کر رہا ہے کہ جنگی جہاز جنوبی کوریا، جاپان یا ترکی میں تعمیر کروائے جائیں۔

دوسری جانب چین، ریاستی رہنمائی میں ہونے والی سرمایہ کاری اور معیشت میں موجود منصوبہ بندی کے بعض عناصر کی بدولت، کئی دہائیوں تک اپنی جہاز سازی کی صنعت میں مسلسل سرمایہ کاری اور ترقی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ نتیجتاً 2000ء سے 2025ء کے درمیان عالمی تجارتی جہاز سازی میں چین کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر 53 فیصد تک پہنچ گیا۔ آج چین دنیا میں تجارتی جہاز سازی کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے اور یہی شہری صنعتی صلاحیتیں اب عسکری میدان میں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

اسی طرح ماضی میں امریکی فوجی برتری خصوصاً ٹیلی کمیونیکیشن، ریڈار، جغرافیائی محلِ وقوع کے تعین (Geolocation) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیوں کے شعبوں میں بڑی حد تک اپنے حریفوں کے مقابلے میں ایک وسیع تکنیکی فرق پر قائم تھی، لیکن اب یہ تکنیکی برتری تیزی سے کم ہو رہی ہے اور امریکہ اور اس کے حریفوں کے درمیان موجود فاصلہ مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔

مثال کے طور پر، چین اب دنیا کا دوسرا ملک بن چکا ہے جس کے پاس طیارہ بردار جہازوں کے لیے الیکٹرو میگنیٹک ایئرکرافٹ لانچ سسٹم (EMALS) موجود ہے۔ یہ جدید نظام طیاروں کو روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں جہاز سے اڑان بھرنے کے قابل بناتا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے پانچویں نسل (fifth-generation) کے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے (stealth fighter jets) بھی تیار کیے ہیں، جن میں J-20 اور J-35 شامل ہیں۔ ان طیاروں کا موازنہ اکثر امریکی F-35 سے کیا جاتا ہے، جسے جدید ترین فوجی ہوابازی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران کو چین کی جانب سے فراہم کیے گئے ریڈار نظاموں نے جنگ کے دوران ایرانی فضائی دفاع میں اہم کردار ادا کیا اور امریکہ کو وہ مکمل فضائی برتری حاصل کرنے سے روکا جس پر اس کا انحصار تھا۔

اس اعتبار سے امریکی بحری طاقت کا زوال دراصل امریکی سامراجی طاقت کے مجموعی زوال کا ایک اظہار ہے۔ امریکہ کے حریف ممالک خصوصاً صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے اس کے برابر پہنچ رہے ہیں اور بعض شعبوں میں اس سے آگے بھی نکل رہے ہیں۔ آج چین متعدد اہم صنعتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں امریکہ کے برابر یا اس سے آگے دکھائی دیتا ہے، جن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، برقی گاڑیاں (Electric Vehicles)، اہم معدنیات (Critical Minerals) اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجیاں شامل ہیں۔ معاشی اور تکنیکی میدان میں یہ تبدیلیاں لازماً عسکری شعبے میں بھی اپنی جھلک دکھاتی ہیں، جہاں صنعتی صلاحیت، سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی براہِ راست فوجی طاقت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

امریکہ: دنیا کا پولیس مین

یہ پیش رفت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ سمندروں پر امریکی بالادستی دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک تھی۔ بحری برتری، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سینکڑوں فوجی اڈوں کے ساتھ مل کر، اس بات کی لازمی شرط تھی کہ امریکہ ایک حقیقی عالمی طاقت کے طور پر ابھر سکے۔

یہ بحری برتری، دنیا بھر میں موجود سینکڑوں فوجی اڈوں کے ساتھ مل کر، اس بات کی لازمی شرط تھی کہ امریکہ ایک حقیقی عالمی طاقت بن سکے۔

دوسری عالمی جنگ سے پہلے سمندر مختلف سامراجی طاقتوں کے درمیان مسلسل کشمکش اور مقابلے کا میدان تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک برطانوی سلطنت سب سے بڑی سامراجی طاقت تھی اور اس کی بحریہ دنیا کی سب سے طاقتور بحری قوت سمجھی جاتی تھی۔ لیکن جیسے جیسے برطانیہ زوال کا شکار ہوا، بڑی طاقتوں کے درمیان بحری اسلحہ سازی کی دوڑ تیز ہوتی گئی۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران سمندر ایک اہم محاذِ جنگ بن گئے۔ برطانیہ نے جرمنی کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کی، جبکہ جرمنی نے اپنی مشہور یو-بوٹ (U-boat) آبدوزوں کے ذریعے اس ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی۔

جرمنی کی شکست کے بعد امریکہ برطانیہ کا سب سے بڑا حریف بن کر ابھرا۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی بحری مسابقت کو محدود کرنے کے لیے متعدد معاہدے کیے گئے (جن میں واشنگٹن نیول ٹریٹی اور بعد ازاں لندن نیول ٹریٹیز شامل تھیں)۔

تاہم دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک امریکہ دنیا کی غالب سامراجی طاقت بن چکا تھا۔ اس وقت امریکی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھی اور عالمی مجموعی پیداوار (GDP) کا تقریباً 50 فیصد حصہ امریکہ کے پاس تھا۔ امریکی مصنوعات عالمی منڈیوں میں چھا گئی تھیں اور امریکی سامراج نے ایک ایسے نئے عالمی نظام کی تشکیل شروع کی جو اس کے اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے مطابق تھا۔

یہ بالادستی اس کی بے مثال فوجی طاقت، خصوصاً بحری قوت، کے سہارے قائم تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر امریکی بحریہ دنیا کی بلاشرکتِ غیر سب سے طاقتور بحریہ تھی۔ اس کے زیرِ استعمال تقریباً 6800 جنگی جہاز تھے، جن میں 88 طیارہ بردار جہاز شامل تھے۔ اگرچہ جنگ کے فوراً بعد بحری بیڑے کا حجم نمایاں طور پر کم کر دیا گیا، 1947ء میں 6800 سے گھٹ کر 842 جہاز رہ گئے اور وقت کے ساتھ اس میں مزید کمی آتی گئی، لیکن اس کے باوجود دوسری عالمی جنگ کے بعد کی پوری مدت میں امریکی بحریہ دنیا کی غالب بحری قوت بنی رہی۔

یہ بحری برتری، دنیا بھر میں موجود سینکڑوں فوجی اڈوں کے ساتھ مل کر، اس بات کی لازمی شرط تھی کہ امریکہ ایک حقیقی عالمی طاقت بن سکے، جو دنیا کے چاروں کونوں تک اپنا اثر و رسوخ پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

امریکہ نے اپنی بحریہ کو بطور بڑی سامراجی طاقت اپنی بالادستی قائم کرنے اور ان ممالک کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جو سوویت یونین کے بہت قریب ہو جاتے تھے یا امریکی احکامات کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے تھے۔ اس کی مثال بدنامِ زمانہ بحری کاروائیوں جیسے کوریا کی جنگ کے دوران انچون (Incheon) میں فیصلہ کن فوجی لینڈنگ، 1962ء کے میزائل بحران کے دوران کیوبا کی ناکہ بندی اور 1972ء میں ویتنامی بندرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھانا، میں دیکھی جا سکتی ہے۔

1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں سوویت یونین نے ایسے بحری ہتھیار تیار کرنا شروع کیے جو امریکہ کی بحری طاقت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ لیکن سوویت یونین کے انہدام نے اس عمل کو ادھورا چھوڑ دیا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سمندروں پر امریکہ کی برتری کو عملی طور پر کوئی سنجیدہ چیلنج درپیش نہ رہا۔

سمندروں پر اس غلبے نے بین السامراجی رقابت کے دور میں موجود اس انتشار آمیز صورتحال کا خاتمہ کر دیا جو اس سے پہلے پائی جاتی تھی۔

جب ایک عالمی طاقت دنیا کی بحری گزرگاہوں کی نگرانی کر رہی ہو، تو تجارت کو پہلے سے کہیں زیادہ وسعت کے ساتھ فروغ پانے کا موقع ملتا ہے۔ جس طرح بریٹن ووڈز (Bretton Woods) معاہدے پر مبنی ڈالر کے نظام نے عالمی منڈی کو ایک نسبتاً مستحکم مالیاتی بنیاد فراہم کی، اسی طرح امریکہ کی بلا مقابلہ بحری طاقت نے سمندری تجارت کو استحکام فراہم کیا۔ان دونوں عوامل نے مل کر عالمگیریت (Globalisation) اور دوسری عالمی جنگ کے بعد آنے والی معاشی ترقی کی بنیادیں استوار کیں۔ جیسا کہ بحری تاریخ کے ماہر جیفری ٹل نے کہا:

”عالمگیریت کا مکمل انحصار تجارت کے آزادانہ بہاؤ پر ہے اور یہ تجارت بڑی حد تک سمندر کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ صرف اسی وجہ سے بری اور فضائی طاقت کی بجائے بحری طاقت عالمگیریت کے عمل میں مرکزی کردار ادا کررہی ہے۔“

امریکہ کی نگرانی میں سمندر کے ذریعے برآمد کی جانے والی اشیاء کا حجم 1955ء میں تقریباً ایک ارب میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2021ء میں 11 ارب میٹرک ٹن تک پہنچ گیا۔ سمندر آج بھی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس وقت عالمی تجارت کے حجم کا تقریباً 80 فیصد اور مجموعی مالیت کا 50 فیصد سمندری راستوں سے گزرتا ہے۔

اس نکتے کو سمجھنے کے لیے اس سوال پر غور کیا جا سکتا ہے جو بعض لوگوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے جواب میں اٹھایا: آخر اس آبنائے کو زمینی راستے سے کیوں نہیں بائی پاس کیا جا سکتا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ سمندر کے ذریعے منتقل کیے جانے والے مال کی مقدار کا کسی بھی دوسرے ذریعے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک آئل ٹینکر ٹرک صرف چند سو بیرل تیل لے جا سکتا ہے۔ ایک ٹینکر ٹرین تقریباً پچاس ہزار سے نوے ہزار بیرل تیل منتقل کر سکتی ہے۔ جبکہ ایک وی ایل سی سی (Very Large Crude Carrier)، جیسا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز، تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکہ، جو عالمی تجارت کے مرکز میں تھا اور جس کی اشیاء اور سرمایہ دنیا کی منڈیوں میں پھیل رہے تھے، اس پورے عمل کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک تھا۔ لہٰذا سمندری تجارت کے استحکام کو یقینی بنانا دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دور میں امریکہ کے بنیادی مفادات میں شامل تھا۔

اور جس طرح امریکہ نے دنیا بھر کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ”آزاد تجارت“ کے معاہدے مسلط کیے اور تجارتی رکاوٹوں کو ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کے ذریعے بھی ختم کروایا۔ اسی طرح اس نے جنگی بحری جہازوں کی مدد سے آزادی جہازرانی کو بھی (کم از کم اپنے لیے) یقینی بنایا۔

مثال کے طور پر، 1979ء سے امریکی سامراج باقاعدگی سے ایسی کاروائیاں انجام دیتا رہا ہے جنہیں وہ ”فریڈم آف نیویگیشن آپریشنل اسیرشنز“ (FONA) کہتا ہے، تاکہ اپنے جہازوں کی دنیا کے کسی بھی حصے میں آزادانہ آمدورفت کے حق کو منوا سکے۔

ان کاروائیوں میں جنگی بحری جہازوں کو اس مقصد کے لیے بھیجا جاتا ہے کہ کسی ایسے ملک پر دباؤ ڈالا جائے یا اسے خوفزدہ کیا جائے جو امریکہ کے خیال میں آزادی جہازرانی پر پابندیاں عائد کر رہا ہو۔ امریکہ عموماً ہر سال ایسی پانچ سے پندرہ کاروائیاں سر انجام دیتا ہے اور بعض اوقات یہ تعداد چالیس تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

امریکہ ان FONA کاروائیوں کے لیے یہ جواز پیش کرتا ہے کہ ان کا مقصد بین الاقوامی قانون، بشمول اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن (UN Convention on the Law of the Sea) کا تحفظ کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے خود کبھی اس کنونشن پر دستخط نہیں کیے۔ چنانچہ یہ کاروائیاں دراصل بین الاقوامی قانون کے نفاذ سے زیادہ اس حق کو منوانے کی کوشش میں ہیں کہ امریکہ اپنے جہازوں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں بغیر کسی پابندی کے منتقل کر سکے۔

مالدیپ اور ملائیشیا جیسے متعدد ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگی بحری جہاز ان کے علاقائی پانیوں میں داخل ہونے سے پہلے اجازت حاصل کریں۔ ہر بار امریکہ نے اس کے جواب میں اپنے جنگی جہاز بھیج کر اپنی موجودگی کا اظہار کیا، گویا ایک بدعنوان پولیس افسر لاٹھی ہاتھ میں لیے اپنی دھونس جمانے کے لیے گشت کر رہا ہو۔

امریکی بحریہ کے ایک سابق جج ایڈووکیٹ جنرل نے FONA ان کاروائیوں کے بارے میں کہا: ”یہ ایسی کاروائی ہیں جو لوگوں کے منہ پر یہ جتانے اور انہیں یاد دلانے کے لیے کی جاتی ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ کم از کم آزادی جہازرانی کے معاملے میں امریکہ واقعی دنیا کے پولیس مین کا کردار ادا کرتا ہے۔“

اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ کے زیرِ قیادت دوسری عالمی جنگ کے بعد کا عالمی نظام حقیقی معنوں میں آزادی جہازرانی کی نمائندگی کرتا تھا۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے سامراجی مفادات کو طاقت کے زور پر مسلط کرنے سے کبھی نہیں ہچکچائے۔ تاہم یورپی طاقتیں اور جاپان، جو ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف جنگیں لڑ چکے تھے، امریکہ کی قیادت میں ایک بین السامراجی اتحاد میں متحد ہو گئے تھے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سمندروں پر نسبتاً استحکام برقرار رہا۔

لیکن آج، جب امریکی سامراجی طاقت کمزور ہو رہی ہے اور چین اور روس جیسی حریف طاقتیں ابھر رہی ہیں، دنیا دوبارہ ایسی صورتحال کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں سمندر بڑھتی ہوئی عالمی کشمکش کا میدان بنتے جا رہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں عالمی تجارت اور یوں عالمی معیشت کے ایک بنیادی ستون میں خطرناک دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ وبا اور اس کے بعد شروع ہونے والی تجارتی جنگ پہلے ہی سپلائی چینز کو واپس اپنے ممالک یا اتحادی ممالک کی طرف منتقل کرنے کے رجحان کو جنم دے چکی تھی، جسے ”ری شورنگ“ (Reshoring) اور ”فرینڈشورنگ“ (Friendshoring) کہا جاتا ہے۔ اب سمندروں پر مختلف سامراجی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے دائروں میں تقسیم اور ان کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت اس رجحان کو مزید تقویت دے گی۔

ایک خطرناک مثال

ایران کے اہم مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹول وصول کرنے کا حق دیا جائے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت قدرتی آبی گزرگاہ سے گزرنے پر ایسے ٹول وصول نہیں کیے جا سکتے، جبکہ مصنوعی بحری راستوں، جیسے نہر سویز اور نہر پاناما، کے لیے یہ اجازت موجود ہے۔ ایرانیوں نے یہ مؤقف اختیار کر کے اپنے لیے قانونی جواز پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ٹول نہیں بلکہ ”ماحولیاتی فیس“ وصول کرنا چاہتے ہیں، لیکن دونوں کے درمیان فرق محض لفظی ہے۔

ایران کے اہم مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹول وصول کرنے کا حق دیا جائے۔

نتیجتاً، بہت سے ممالک نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے فیس عائد کرنے سے ایک خطرناک مثال قائم ہو سکتی ہے۔ اہم بحری گزرگاہوں کے قریب واقع ساحلی ریاستیں، جیسے آبنائے جبرالٹر(Gibraltar)، جو بحیرہ روم تک رسائی فراہم کرتی ہے؛ افریقہ کے جنوبی سرے پر واقع کیپ آف گُڈ ہوپ (Cape of Good Hope)؛ یا ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان واقع آبنائے آرسند (Øresund) اس امر کی ترغیب حاصل کر سکتی ہیں کہ وہ بھی ایسی گزرگاہوں سے گزرنے پر ٹیکس یا ٹول عائد کرنے کا مطالبہ کریں۔ درحقیقت، 1857ء میں آبنائے آرسند سے گزرنے کے لیے عائد ٹولز کا خاتمہ، آزادی نقل و حرکتِ بحری (Freedom of Navigation) کے اصول کے ظہور میں اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

اپریل میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد، انڈونیشیا کے وزیرِ خزانہ نے آبنائے ملاکا (Malacca) سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول عائد کرنے کا امکان ظاہر کیا، تاہم بعد میں اس نے اپنے بیان سے رجوع کر لیا۔ یہ آبنائے، جس کا انتظام انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور مشترکہ طور پر کرتے ہیں، عالمی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً 30 فیصد تیل کی تجارت اسی آبنائے سے گزرتی ہے۔

دنیا کی آٹھ بڑی شپنگ ایسوسی ایشنز نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھیجے گئے ایک خط میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر ٹول عائد کرنے کا حق دیا گیا تو اس سے ایک خطرناک مثال قائم ہو جائے گی۔ انہوں نے لکھا:

”ایک مرتبہ ایسی مثال قائم ہو جائے تو دنیا کے دیگر مقامات پر اسی طرح کے اقدامات کی مخالفت کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی بحری نقل و حمل اور عالمی تجارت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔“

یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ ایسی پیش رفت کے بالکل کیا اثرات مرتب ہوں گے اور فی الحال یہ محض ایک فرضی صورتِ حال ہے۔ تاہم، اگر بحری گزرگاہوں پر ٹول عائد کرنے کا رجحان وسیع پیمانے پر پھیل گیا تو اس سے بین الاقوامی مال برداری کے اخراجات میں اضافے کا دباؤ پیدا ہو گا، جو گزشتہ کئی برسوں سے جاری مہنگائی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسیوں (Protectionism) میں اضافہ ہو رہا ہے اور سپلائی چینز میں مسلسل رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، اس طرح کا اقدام عالمگیریت اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اور دھچکا ثابت ہو گا۔

اہم بحری گزرگاہیں

لیکن آبنائے ہرمز کا بحران پہلے ہی محض محصولات سے کہیں زیادہ اہم مثال قائم کر چکا ہے۔ ایران نے یہ دکھا دیا ہے کہ عالمی تجارت کی کسی اہم بحری گزرگاہ کو بند کرنا کس قدر طاقتور ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا میں ایسی 11 اہم بحری گزرگاہیں موجود ہیں جن سے عالمی تجارت کا پانچ فیصد سے زیادہ حصہ گزرتا ہے اور جنہیں اصولی طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے سات گزرگاہوں سے عالمی تجارت کا دس فیصد سے زیادہ حصہ گزرتا ہے۔ سامراجی طاقتوں کے درمیان طاقت کے توازن میں تبدیلیاں جغرافیائی سیاست کی بنیادوں کو ہلا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور جنگیں بھی زیادہ تواتر سے ہونے لگی ہیں۔

یہ خدشہ بعید از قیاس نہیں کہ مستقبل میں کسی اور اہم بحری گزرگاہ کو بھی بند کر دیا جائے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی آبنائے ہرمز جنگ کے نتیجے میں بند ہونے والی واحد اہم بحری گزرگاہ نہیں ہے۔

یمن، سعودی عرب کی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کے لیے، بحیرہ احمر (Red Sea) میں آبنائے باب المندب سے سعودی بحری جہازوں کی گزرگاہ روک رہا ہے۔ دوسری جانب، یوکرین نے بحیرہ اسود (Black Sea) میں روس کے خلاف ناکہ بندی نافذ کرنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں روس نے بھی جوابی ناکہ بندی کر دی۔ اس کے نتائج سنگین ہوں گے کیونکہ یوکرین اور روس مختلف اقسام کی اناج کی فصلوں کے بڑے برآمد کنندگان ہیں، جبکہ یوکرین کی 90 فیصد اناج کی برآمدات بحیرہ اسود کے راستے ہوتی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ عالمی تجارت کی تین بڑی بحری گزرگاہیں اب بند ہیں، جس کے نتیجے میں پہلے ہی کئی خطوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت اور ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی بھوک ریکارڈ سطح تک پہنچ رہی ہے۔

دیگر بحری راستے بھی مستقبل میں کسی تنازع یا کشمکش کا مرکز بن سکتے ہیں۔ حال ہی میں چین اور امریکہ پانامہ کینال کے کنٹرول کے معاملے پر ایک قانونی کشمکش میں مصروف رہے ہیں۔ اس سال کے آغاز میں، ہانگ کانگ میں قائم ایک کمپنی، جو کینال میں ایک بندرگاہی ٹرمینل کی مالک تھی، اسے ایک امریکی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے جواب میں چین نے اپنی بندرگاہوں پر آنے والے پانامہ کے پرچم بردار بحری جہازوں کو معمول سے کہیں زیادہ شرح پر روکنا اور ان کی تلاشی لینا شروع کر دی جو واضح طور پر جوابی کاروائی کا ایک اقدام تھا۔ یہ واقعہ براہِ راست تصادم سے بہت دور تھا، لیکن یہ عالمی تجارت کے لیے اس انتہائی اہم بحری گزرگاہ کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

مزید برآں، امریکہ نے حال ہی میں انڈونیشیا کے ساتھ ایک فوجی معاہدہ کیا ہے، جسے بعض حلقوں نے چین کے خلاف ایک اقدام قرار دیا ہے۔ درحقیقت، انڈونیشیا آبنائے ملاکا کو بند کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتا ہے، جس سے بیجنگ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ چین کی سمندری تجارت کا تقریباً دو تہائی حصہ اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ ایسا اقدام جنگ کے اعلان کے مترادف ہو گا۔

آبنائے ملاکا کے متبادل راستے کی تلاش یقینی طور پر چین کی آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ایک اہم سبب ہے۔ چین کے پاس اب پانچ برف توڑنے والے بحری جہاز ہیں اور وہ مزید جہاز بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ایک چینی کنٹینر شپنگ کمپنی اس وقت ’آئس سلک روڈ‘ (Ice Silk Road) کا آغاز کر رہی ہے اور چین کے مشرقی ساحل سے ایک بحری جہاز برطانیہ بھیج رہی ہے، جو روس کے شمالی ساحل کے ساتھ سفر کرے گا۔

موسمیاتی تبدیلی اور برفانی تہہ کے پگھلنے کے باعث آرکٹک میں نئی بحری تجارتی گزرگاہیں کھل رہی ہیں اور سامراجی طاقتوں کی اس خطے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ سمندر میں بڑھتا ہوا عدم استحکام اور روایتی تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات اس دلچسپی کو مزید ہوا دیں گے۔

ہم ہتھیاروں کی دوڑ کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ایک کے بعد ایک ملک اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ منظم کر رہا ہے۔

ہم دیگر خطوں اور بحری گزرگاہوں کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کر سکتے ہیں جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکز ہیں یا جنہیں ممکنہ طور پر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے آبنائے تائیوان یا ڈنمارک کی آبنائے۔ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل سامراجی دھڑے اور دوسری طرف چین، روس اور ان کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ساتھ سمندروں اور اہم بحری گزرگاہوں کی تزویراتی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔

جنگ کے نقارے

حالیہ برسوں میں جنگ کے نقارے پہلے سے کہیں زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہے ہیں۔ ہم ہتھیاروں کی دوڑ کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ایک کے بعد ایک ملک اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ منظم کر رہا ہے۔

خصوصاً امریکہ کے روایتی اتحادی، جیسے کینیڈا، یورپ اور جاپان واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا سرپرست اب پہلے کی طرح مضبوط یا قابلِ اعتماد نہیں رہا اور وہ اب اپنے سامراجی مفادات کے دفاع کے لیے اس پر پہلے کی طرح بھروسہ نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب، روس یوکرین میں خود کو ایک طاقتور حریف ثابت کر چکا ہے، چین ایسی بحریہ تیار کر رہا ہے جو امریکی بحریہ کا مقابلہ کرتی ہے، جبکہ ایران امریکیوں کو ایک تاریخی ذلت سے دوچار کر رہا ہے۔

لہٰذا گزشتہ ایک سال کے واقعات نے مغربی حکمران طبقات کو اس ضرورت پر مزید قائل کیا ہو گا کہ وہ اپنی بحری افواج کو تیزی سے دوبارہ مضبوط کریں، اہم وسائل پر کنٹرول یقینی بنائیں، مہنگے ذخائر جمع کریں اور دیگر معاشی ہنگامی انتظامات کی تیاری کریں۔

یہ رجحان مزید تیز ہو گا اور سرمایہ دار طبقے کی نمائندگی کرنے والے سیاست دان بحری سلامتی اور تجارت کے تحفظ کی ضرورت کو بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کا جواز بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔

جبکہ حکومتیں پہلے ہی قرضوں میں بری طرح جکڑی ہوئی ہیں، ان نئے جنگی بحری جہازوں کا مالی بوجھ محنت کش طبقے کو ہی اٹھانا پڑے گا، جس کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات اور سرکاری شعبے کے ملازمین پر حملوں کا سہارا لیا جائے گا۔

اور جب یہ موت کے سوداگر حقیقتاً ہتھیار اٹھاتے ہیں تو اس کی قیمت بھی محنت کشوں اور غریبوں کو ہی چکانی پڑتی ہے، چاہے وہ جنگ کے نتیجے میں زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافے کی صورت میں ہو یا پھر بموں کی زد میں ان کی زندگیوں کی صورت میں ہو۔