|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: عبدالحئی|

6اکتوبر کو سکول کے طلبہ کے احتجاج کا تیسرا مرحلہ ایک اور شدت کے ساتھ سامنے آیا، جس نے تعلیمی سال کے آغاز سے ہی پورے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہر جگہ بہت بڑے مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ منتظمین، یعنی سکول اور یونیورسٹی کے طلبہ تنظیموں کے مطابق، صرف پیرس میں ایک لاکھ افراد، جبکہ پورے ملک میں مجموعی طور پر ساڑھے چار لاکھ افراد مارچ میں شریک ہوئے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
مظاہرے پُرجوش تھے جو زیادہ تر ہائی سکول کے نوجوان طلبہ سے تشکیل پائے ہوئے تھے، جو ہر سکول اور محلے سے تیزی سے آگے بڑھنے والے جلوسوں کی صورت اختیار کر گئے اور ان کے ہاتھوں میں گھر میں تیار کیے گئے گتے کے سینکڑوں پلے کارڈز تھے۔
"it’s not against Macron" – he says "Macron démission" shout tens of thousands of youth at Nation https://t.co/P0YS4lMDOx
— Jorge Martin ☭ (@marxistJorge) October 6, 2026
5اکتوبر کو پورے ملک میں دو ہزار ہائی سکول یعنی مجموعی تعداد کے نصف سے بھی زیادہ پہلے ہی بند کر دیے گئے تھے۔ 6 اکتوبر کو ملک کی تقریباً 90 فیصد یونیورسٹیاں بھی اس تحریک میں شامل ہو گئیں، جہاں سینکڑوں بلکہ ہزاروں طلبہ نے شرکت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر عام اجلاس منعقد کیے۔
Tens of thousands in Strasbourg – school students’ movement sparking a general revolt against Macron https://t.co/eBJaBhn2K5
— Jorge Martin ☭ (@marxistJorge) October 6, 2026
وحشیانہ جبر
آغاز ہی سے اس تحریک کا سامنا پولیس کے وحشیانہ جبر سے رہا ہے۔ 28 ستمبر کو تحریک شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 6500 افراد کو یا تو گرفتار کیا جا چکا ہے یا پولیس کے ذریعے انہیں روکا گیا ہے۔ تقریباً 1800 افراد کے خلاف مقدمات چلائے جا رہے ہیں، جن میں اکثریت نابالغوں کی ہے۔
France: brutal police aggression against a school student in Rennes after a mass protest demo https://t.co/feYCsR2Jpu
— Jorge Martin ☭ (@marxistJorge) October 6, 2026
پولیس کے وحشیانہ تشدد کی تصاویر بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہی ہیں، جس سے حکومت کے خلاف غصے کی کیفیت اور شدید نفرت مزید بھڑکی ہے اور مظاہرین کے ساتھ وسیع پیمانے پر ہمدردی پیدا ہوئی ہے۔ گزشتہ روز لینس (Lens) میں ایک 15 سالہ نوجوان کا ہاتھ پولیس کے ایک دھماکہ خیز دستی بم کی زد میں آ کر ضائع ہو گیا تھا، پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نوجوان نے اس بم کو زمین سے اٹھایا تھا، لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ دستی بم براہ راست اس پر پھینکا گیا تھا۔
رین (Rennes) میں ایک بڑے مظاہرے کے اختتام پر فسادات سے نمٹنے والی پولیس نے ایک نوجوان طالبہ کو وحشیانہ انداز میں لاتیں ماریں۔ نوی-لے -گرانڈ میں آنسو گیس براہِ راست ایک طالب علم کے چہرے پر چھوڑی گئی، جس کے بعد ہائی سکول کی سیڑھیوں پر فسادات سے نمٹنے والی پولیس نے ایک نوجوان طالب علم پر حملہ کیا۔ نتیجتاً وہ سکڑنے لگا اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ دو پولیس اہلکاروں نے اسے سیڑھیوں سے گھسیٹ کر نیچے اتارا اور بالآخر اسے ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جانا پڑا۔ ایک ہائی اسکول کے طالب علم کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی ہے۔ ایک اور طالب علم کے کئی دانت پولیس کے دستی بم لگنے سے ٹوٹ گئے ہیں۔
France: Noisy-le-Grand, school student attacked by police with tear gas directly to the face, collapse and convulsed, unconscious, dragged down the stairs, taken to hospital https://t.co/6fkBpyaApW https://t.co/klsmpYRhAO
— Jorge Martin ☭ (@marxistJorge) October 6, 2026
فسادات سے نمٹنے والی پولیس نے نو عمر مظاہرین سے نمٹنے کے لیے اپنے اختیار میں موجود کسی بھی ذریعے کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔ دھماکہ خیز دستی بم، آنسو گیس، گھوڑوں پر سوار پولیس کے دھاوے پیرس میں انہوں نے ایسے ڈھال بھی استعمال کیے جن پر آنکھوں کو چندھیا دینے والی تیز چمکتی روشنی فلیش لائٹس کا آلہ نصب تھا، سوربون نُوویل یونیورسٹی (Sorbonne Nouvelle University) میں فسادات سے نمٹنے والی پولیس نے سینکڑوں طلبہ اور عملے کے ایک عام اجلاس کو ختم کرنے کے لیے احاطے میں داخل ہو کر کاروائی کی۔
Police on horseback charge against protesting school students at Sartrouville, Paris.https://t.co/vyWtZfWuLh
— Jorge Martin ☭ (@marxistJorge) October 6, 2026
نوجوان نسل کی بغاوت
تحریک کو جبر کے ذریعے خوف زدہ کر کے دبانے کی بجائے جیسا کہ کیا گیا، انہوں نے نوجوانوں کو مزید مشتعل کر دیا ہے اور ان کے لیے وسیع پیمانے پر یکجہتی پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ ہفتے کیے گئے ایک رائے عامہ کے جائزے میں 62 فیصد آبادی نے کہا کہ سکول کے طلبہ کی تحریک جائز ہے۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران، پورے ملک میں ٹریڈ یونین کے کارکنوں نے تحریک کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے متحرک ہو کر رضاکارانہ حفاظتی دستے تشکیل دیے ہیں اور ہائی سکول کے طلبہ کو پولیس کے حملوں سے جسمانی طور پر محفوظ رکھا ہے۔
اگرچہ 6 اکتوبر کو ملک گیر ہڑتال کی تحریک نہیں تھی، لیکن مظاہروں میں ٹریڈ یونین کے کارکنوں کی نمایاں شرکت رہی۔ اہم اداروں اور کام کی جگہوں سے وفود بھی موجود تھے، جبکہ ہائی سکول کے اساتذہ کے درمیان بھی بڑے پیمانے پر ہڑتال کی تحریک جاری تھی۔
تحریک کی ابتدائی وجوہات جنہوں نے عوام کو مشتعل کیا ان میں اساتذہ کی کمی، ناقص سہولیات، بجٹ کی کمی، پڑھائی کے طویل اوقات، یونیورسٹیوں میں داخلے کے غیر واضح نظام وغیرہ شامل ہیں، لیکن اب تحریک مکمل طور پر ایک نسل کی بغاوت میں تبدیل ہو چکی ہے۔
فرانس میں جنریشن زی کا انقلاب پوری طرح آ چکا ہے۔ سکول کے طلبہ کو ایسے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے دیکھا گیا ہے جن پر لکھا ہے: ”جنریشن 6 اور 7 مئی 68ء کی تاریخ دوبارہ رقم کر رہی ہے۔“ رین 2 یونیورسٹی میں ہڑتال کرنے والے طلبہ نے ایک مرکزی عمارت پر ”کمیون زندہ باد“ کا نعرہ لکھا ہے جو کہ پیرس کمیون کی طرف ایک اشارہ ہے۔
VIVE LA COMMUNE (Rennes 2} Pic: @Kiffeur2commune https://t.co/wiViSFW4zd
— Jorge Martin ☭ (@marxistJorge) October 6, 2026
اس تحریک میں ایک اہم عنصر لی پین اور بارڈیلا کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (آر این) اور اس کی نسل پرستانہ و بیگانی قوم پرستانہ سیاست کو مسترد کرنا ہے۔ نوجوانوں میں ”آر این بھاڑ میں جائے“ کا نعرہ دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔ یہ نعرہ گہرا اثر رکھتا ہے، کیونکہ تحریک کا آغاز بانلیو (banlieues) کے نسبتاً خستہ حال ہائی سکولوں سے ہوا، یعنی ان غریب محنت کش طبقے کے مضافاتی علاقوں سے، جہاں سکول کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد عرب اور سیاہ فام نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
Generation 6,7 reruns May 68 ✊🏼✊🏼🚩🚩😘😘 https://t.co/wDNhqjlsmq
— Jorge Martin ☭ (@marxistJorge) October 6, 2026
یہ بات بھی اہم اور قابلِ ذکر ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان خواتین اس تحریک میں حصہ لے رہی ہیں اور انہوں نے مظاہروں میں اور لائس (lycee) کی ناکہ بندیوں میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔
دباؤ کی انتہاء
فرانس کی ہر عوامی تحریک کی طرح، لی پین کی نیشنل ریلی (آر این) بھی اس تحریک سے بالکل بے خبر رہی ہے۔ اگرچہ وہ خود کو نظام مخالف کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن اب وہ خود کو ایک انتہائی مقبول تحریک کی مخالفت میں حکومت کے ساتھ ایک ہی صف پر کھڑا پاتے ہیں۔
دوسری جانب، میلنشون کی جماعت لا فرانس اِن سومیز (ایل ایف آئی) نے تحریک کی حمایت میں مکمل طور پر خود کو جھونک دیا ہے اور اپنے تمام منتخب نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائی سکولوں میں جائیں اور طلبہ کو پولیس کے جبر سے بچانے میں مدد کریں۔ سینٹ ڈینی کے ایل ایف آئی کا میئر بالی باگایوکو تحریک میں ایک انتہائی مقبول شخصیت بن گیا ہے۔
Bally Bagayoko tente de calmer la tension lors de la manifestation lycéenne et étudiante à Paris. https://t.co/rbg45G7yu6
— Enzo Rabouy (@enzorabouyy) October 6, 2026
لیکورنو کی انتہائی غیر مقبول حکومت پر دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ جبر تحریک کو کچلنے میں ناکام ہو رہا ہے اور اب حکومت کو خدشہ ہے کہ یہ تحریک محنت کش طبقے کی عمومی تحریک کے ساتھ جڑ جائے گی۔ کئی شعبے یا تو اس وقت ہڑتال پر ہیں یا ان میں ہڑتالیں پہلے سے طے کی جا چکی ہیں، جن میں سرکاری ملازمین، شعبہ صحت کے کارکنان اور توانائی و کیمیائی شعبوں کے کارکنان شامل ہیں۔ 17 اکتوبر کو ایک نئی ”ییلو ویسٹ“ تحریک شروع کرنے کی اپیلیں بھی کی گئی ہیں۔
فی الحال، وزیرِ تعلیم نے ملک بھر کے ہائی سکولوں میں تمام تعلیمی سرگرمیاں پیر تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلکہ اس نے ایک ”جمہوری وقفے“ کی اپیل کی ہے، جس کے تحت طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ناکہ بندی کیے گئے سکولوں کو دوبارہ کھولیں، واپس اندر جائیں اور ”اپنی شکایات کے حوالے سے بات چیت کریں“۔
لیکن سکول کے طلبہ نے جواب دیا ہے کہ حکمران پہلے ہی جانتے ہیں کہ ان کی شکایات کیا ہیں، وہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وہ ناکہ بندی ختم نہیں کریں گے۔ ہائی سکول اور یونیورسٹی کے طلبہ کی تنظیموں نے جمعرات، 8 اکتوبر کو ایک اور ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔
میکرون نے 6 اکتوبر کے اختتام پر ایک ہنگامی بحرانی اجلاس طلب کیا، جس میں وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر تعلیم بھی شریک تھے۔ وزیراعظم بدھ، 7 اکتوبر کو قوم سے خطاب کرے گا۔ وزیر داخلہ نے پولیس کو دھماکہ خیز دستی بم استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔
حکومت اور خود میکرون ایک کشمکش میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جبر نے تحریک کو مزید بھڑکا دیا ہے، لیکن رعایتوں کی گنجائش بہت کم ہے، کیونکہ سکول کے طلبہ کے مطالبات بنیادی طور پر بجٹ سے متعلق معاملات پر ہیں۔
فرانس میں سرمایہ داری کا بحران
سکول کے طلبہ کی یہ تحریک، جو پھیل کر منظم محنت کش طبقے کو بھی شامل کرنے والی ایک بھرپور سماجی بغاوت کی شکل اختیار کر سکتی ہے، فرانسیسی سرمایہ داری کے گہرے بحران کا مظہر ہے۔
بنیادی طور پر، سرمایہ داری کے بحران کا مطلب یہ ہے کہ حکمران طبقہ سماجی اخراجات میں گہری کٹوتیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اب قرض مجموعی قومی پیداوار کا 119 فیصد ہو چکا ہے، جبکہ قرض کی ادائیگی کی سالانہ لاگت جو اس وقت 70 ارب یورو یا مجموعی قومی پیداوار کے 3 فیصد کے برابر ہے، اگلے سال بڑھ کر 90 ارب یورو سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ یہ رقم تعلیم کے قومی بجٹ (65 ارب یورو) اور حتیٰ کہ دفاعی بجٹ (63 ارب یورو) سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 5.4 فیصد ہے۔
حکمران طبقے کی جانب سے مطالبہ کی جانے والی کٹوتیوں کا معمولی سا حصہ بھی نافذ کرنا کسی بھی حکومت کو شدید غیر مقبول بنا دے گا اسی لیے درمیانی راستے کی سیاست اور تمام روایتی حکومتی جماعتوں کی مقبولیت تیزی سے زوال پذیر ہوئی ہے۔ چنانچہ اب دائیں بازو پر آر این (RN) اور بائیں بازو پر ایل ایف آئی (LFI) کے ساتھ ساتھ نظام مخالف سیاسی قوتیں بھی ابھر رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لی پین کی آر این نے اپنے معاشی پروگرام کی وضاحت کے لیے ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ کانفرنس میں انہوں نے خود کو مالیاتی ذمہ داری کی علمبردار جماعت کے طور پر پیش کیا، خسارہ کم کرنے کا وعدہ کیا اور ”آئینی سنہری اصول“ متعارف کرانے کا عزم ظاہر کیا، جس کے تحت مستقبل کے بجٹ خسارے کی قانونی حد مقرر کی جائے گی۔ انہوں نے 140 ارب یورو مالیت کی ”بچت“ کے ایک پروگرام کے ذریعے 2030ء تک بجٹ خسارے کو مجموعی قومی پیداوار کے 3 فیصد سے کم کرنے کا عہد کیا۔
جیسے جیسے یہ عوامی جذبات کو بھڑکانے والے رجعت پرست رہنماء اقتدار کے قریب پہنچتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ سرمایہ داروں کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ وہ اقتدار محفوظ ہاتھوں میں سونپ چکے ہیں۔ دوسری جانب اپنے ووٹرز کو خوش کرنے کے لیے وہ یہ وعدہ بھی کرتے ہیں کہ وہ کفایت شعاری کے ان اقدامات کو تعلیم اور پنشن میں کٹوتی کیے بغیر نافذ کریں گے، جو ظاہر ہے کہ ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب لیکورنو (Lecornu) کی حکومت (یہ دیکھتے ہوئے کہ جبر الٹا پڑ گیا ہے) اگر سکول کے طلبہ کو رعایتیں دے تو ”مارکیٹ“ (یعنی بانڈز خریدنے والے سرمایہ دار سرمایہ کار) اسے سزا دے گی۔ وہ یہ سمجھیں گے کہ حکومت بجٹ کا خسارہ کم کرنے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ لیکن اگر حکومت رعایتیں نہیں دیتی تو تحریک مزید پھیل سکتی ہے، وسیع تر ہو سکتی ہے اور ایک ایسی ناقابلِ تسخیر قوت بن سکتی ہے جو حکومت کو ایک طرف دھکیل دے گی۔
فنانشل ٹائمز نے ”فرانس: بانڈ مارکیٹ اور سڑکوں پر رکاوٹوں کی کشمکش میں“ کے عنوان سے ایک تشویش ناک مضمون شائع کیا، جس میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ:
”فرانس سڑکوں پر موجود ان مظاہرین اور مارکیٹ میں موجود ’بانڈ کے نگرانوں‘ کے درمیان پھنس گیا ہے جن میں سے ایک حکومت سے مزید فنڈز کا مطالبہ کر رہے ہیں اور دوسرے ملک کے قرض کے خلاف شرطیں لگا کر سمجھی جانے والی مالیاتی غیر ذمہ داری پر اسے سزا دینے کے لیے تیار ہیں۔“
”بجٹ کے تنازع میں شدت آنے اور ملک کے اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاری کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کا اختتام انتہائی دائیں بازو اور سخت گیر بائیں بازو کے درمیان مقابلے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ملک کو ایک ایسے مکمل قرض کے بحران میں دھکیلا جا رہا ہے جو نہ صرف فرانس کی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گا بلکہ یورو زون کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے۔“
نیویارک ٹائمز نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے:
”ہارورڈ یونیورسٹی کے معاشیات کے پروفیسر اور مالیاتی بحرانوں کے ماہر کینتھ روگوف نے کہا: ’فرانس کی صورتحال ناقابلِ پائیدار دکھائی دیتی ہے اور بانڈ مارکیٹیں بھی یہی کہہ رہی ہیں، لیکن وہ ابھی اس حوالے سے شدید ردِعمل کا اظہار نہیں کر رہیں۔ یہ ایک سست رفتار تباہی ہے۔“
اسی اخبار نے ایک سیاسی خطرات کے تجزیہ کار کا حوالہ بھی دیا ہے جس نے صورتحال کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
”مسٹر رحمان نے مزید کہا: ’یہ صرف قرض کا بحران یا بانڈ کا بحران نہیں ہے۔ جن سرمایہ کاروں سے میں بات کر رہا ہوں، وہ ایک ایسے سیاسی اور آئینی بحران کے بارے میں خدشہ ظاہر کر رہے ہیں جو ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ تمام مسائل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسی انتہائی نامساعد صورتحال پیدا کر رہے ہیں جو بھی صدارتی انتخاب جیتے گا، اس کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی۔“‘
یہ صورتحال صرف فرانس تک محدود نہیں ہے۔ اٹلی، اسپین اور برطانیہ جیسی بڑی یورپی معیشتوں میں بھی اسی طرح کے حالات موجود ہیں۔ جرمنی میں سرمایہ داری کا بحران بھی بہت گہرا ہے، اگرچہ فی الحال وہاں قرض اتنا حد سے زیادہ نہیں ہے۔
ملتے جلتے حالات عموماً ملتے جلتے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ پورا یورپ ایک بارود کا ڈھیر بن چکا ہے جو کسی بھی سماجی دھماکے کے لیے تیار ہے۔