کیوبا کے انقلاب کا دفاع کرو! امریکی سامراج کو شکست دو! عالمی سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!

|انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کا اعلامیہ|

یہ اعلامیہ موسم گرماء کی میٹنگ میں انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی قیادت نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں، کیوبا کے انقلاب کا دفاع کرو! امریکی سامراج کو شکست دو! عالمی سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

3جنوری کو وینزویلا پر کامیاب حملے اور فوری فتح کے گھمنڈ میں دھت امریکی سامراج نے کیوبا پر معاشی ناکہ بندی اور عسکری بدمعاشی کی ایک نئی تاریخی مہم مسلط کر دی ہے۔

ساٹھ سالہ پرانی ناکہ بندی کو اس سال کے آغاز سے شدید تر کر دیا گیا ہے جس میں تیل کی بندش تقریباً مکمل ہو چکی ہے جس نے کیوبا میں توانائی پیداوار کی صلاحیت تباہ و برباد کر دی ہے اور کروڑوں افراد کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ ایک منظم مجرمانہ اور انتہائی مؤثر ثانوی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کی مہم جاری ہے جس نے کیوبن معیشت کے تمام سیکٹروں (سیر و سیاحت، کان کنی، صحت سہولیات کی درآمد، شپنگ، تجارت وغیرہ) کا گلا گھنوٹ دیا ہے۔ یہ قرون وسطیٰ کی ظالمانہ اور جابرانہ ناکہ بندی ہے جس کا مقصد شدید بھوک کے ذریعے مدمقابل کو شکست خوردہ کرنا ہے۔

معاشی اقدامات کے ساتھ ٹرمپ اور مارکو روبیو کے مغرور اعلانات کی بھرمار بھی جاری ہے۔ اس کے ساتھ راوول کاسترو پر جھوٹے جرائم کی فرد جرم، عسکری حملوں کی دھمکیاں اور جزیرے کی فضاؤں میں اشتعال انگیز انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کے لیے عسکری پروازیں بھی جاری ہیں۔

کیوبا کے انقلاب پر دہائیوں سے جاری اس حملے کی بنیادی وجہ 1959ء کا انقلاب ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور سامراجی قوت کے ساحل سے محض 90 میل دور ایک چھوٹے سے جزیرے نے اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کی ہمت کی ہے اور اس مقصد کے لیے سرمایہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک منصوبہ بند معیشت کو منظم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سامراج ماضی سے اور حال میں بھی کیوبا کے انقلاب سے خوفزدہ ہے کیونکہ یہ پورے امریکی براعظم پر اس کے مفادات کے لیے شدید خطرہ ہے۔

کیوبا کے انقلاب کی تمام شاندار اور متاثر کن حاصلات کی بنیاد ایک منصوبہ بند معیشت اور سرمایہ داری کا خاتمہ تھی۔ ناخواندگی کا خاتمہ، نرسری کلاس سے لے کر یونیورسٹی تک مفت اور عالمگیر تعلیم، ایک ایسا شعبہ صحت جس کا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں، مفت رہائش، عوام کی امریکہ سے زیادہ متوقع عمر وغیرہ۔ دہائیوں سے جاری سامراجی ناکہ بندی کے باوجود، انسانی ترقی اور معیار زندگی اپنے لاطینی ہمسایوں سے میلوں میل آگے، یہاں تک کہ جدید سرمایہ دار ممالک کے متوازی تھے۔ یہ ایک جھلک ہے کہ ایک منصوبہ بند معیشت میں کیا ممکن نہیں ہے۔

لیکن ایک ملک میں سوشلزم کو تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ کیوبا کے انقلاب کی تاریخ اور آج اس کی بند گلی میں بندش اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دو ادوار ایسے رہے ہیں جن میں کیوبا کے انقلاب کو سانس لینے کی کچھ فرصت میسر ہوئی؛ جب اس کا سوویت یونین سے ناطہ جڑا ہوا تھا اور جب وینزویلا میں اس کا بولیوارین انقلاب سے تعلق موجود تھا۔

اگرچہ سرمایہ داری کا خاتمہ ہو چکا تھا اور نئی انقلابی حکومت کے لیے عوامی جوش و جذبہ اپنے جوبن پر تھا، لیکن کیوبا میں کبھی حقیقی مزدور جمہوریت نہیں رہی ہے۔ ایسے کوئی ادارے موجود نہیں تھے جن کے ذریعے مزدور اور کسان براہ راست اقتدار پر اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا اظہار کرتے۔ کیوبا کے انقلاب کی افسر شاہانہ زوال پذیری میں کئی عوامل کار فرماء تھے لیکن اس کو سوویت یونین کے زیر اثر، خاص طور پر 1970ء کے بعد، تقویت اور ٹھوس بنیادیں فراہم ہوئیں۔

ایک منصوبہ بند معیشت، عوام کی جمہوری اور براہ راست مداخلت اور انتظام کے بغیر کبھی بھی پھل پھول نہیں سکتی۔ افسر شاہی بدانتظامی، ضیاع، مٹھی بھر افراد کی بے لگام عیاشی اور کرپشن کی آماجگاہ ہے۔

سوویت یونین کی طرح حتمی طور پر افسر شاہی کا ایک حصہ ذارئع پیداوار کے منتظم سے بڑھ کر اس کی ملکیت کے خواب دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔

اب امریکی سامراج کے بے پناہ دباؤ کے نتیجے میں کیوبا کی قیادت نے بہت سارے معاشی اقدامات کیے ہیں۔ اگر یہ اقدامات پوری آب و تاب کے ساتھ لاگو ہو جاتے ہیں تو منصوبہ بند معیشت کا خاتمہ ہو جائے گا اور سرمایہ دارانہ منڈی کا تسلط قائم ہو جائے گا۔ ان میں سے کئی چینی یا ویتنامی ماڈل کی جانب دیکھ رہے ہیں جہاں سرمایہ داری بحال ہو چکی ہے لیکن نام نہاد ”کمیونسٹ“ پارٹی آج بھی برسر اقتدار ہے۔ کچھ کو لگتا ہے کہ موجودہ بند گلی سے باہر نکلنے کا یہی راستہ ہے اور ایک فریب موجود ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں معاشی نمو ہو گی اور اس کے ساتھ کیوبا کی خودمختاری بھی قائم رہے گی۔ ہم سختی سے خبردار کر رہے ہیں کہ منصوبہ بند معیشت کے خاتمے کا مطلب کیوبا کے انقلاب کی تمام حاصلات کا خاتمہ ہے (جو شدید کمزوری کے باوجود آج کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں)۔ کیوبا واپس سال 1958ء میں پہنچ جائے گا۔ معاشی اور سیاسی طور پر امریکی فنانس سرمایے سے منسلک اور اس کے زیر تسلط۔ ایک مٹھی بھر اقلیت دولت کے سمندر میں غوطے لگائے گی اور دوسری طرف عوام کی بھاری اکثریت کا مقدر غربت، بیروزگاری اور افلاس ہو گا۔

1920ء کی دہائی میں جب سوویت یونین کو عالمی تنہائی اور معاشی انہدام کا سامنا تھا تو اسے مجبوراً منڈی کو کچھ جزوی مراعات دینی پڑیں۔ لیکن لینن نے واضح الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ یہ ایک پسپائی ہے۔ ان رعایتوں کے ساتھ محنت کشوں کے کنٹرول اور نگرانی کو مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات بھی کیے گئے۔ یہ دو گھڑی سانس لینے کے لیے اقدامات تھے جن کو عالمی انقلاب برپاء کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش پر خرچ کیا گیا تھا۔

کیوبا میں حالیہ معاشی اقدامات کی منظوری نے جزیرے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی افراد صورتحال میں موجود ممکنہ خطرات کو واضح طور پر دیکھتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ متبادل کیا ہے؟

کیوبا کے انقلاب کو درپیش مسائل کی بنیادی وجہ اس کی تنہائی ہے۔ کیوبا کے انقلاب پر امریکی سامراج کے تازہ حملوں نے کثیر قطبی دنیا کے بطور ایک ترقی پسند قدم کا پردہ بھی چاک کر دیا ہے۔ چین اور روس نے اعلامیے جاری کرنے کے علاوہ کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا ہے اور لاطینی امریکہ کی نام نہاد ”ترقی پسند“ حکومتوں میں ویسے ہی امریکی بدمعاش کی حکم عدولی کرنے کی ہمت نہیں ہے۔

اس تنہائی کو توڑنے کا ایک ہی طریقہ کار ہے کہ عالمی سطح پر دیگر ممالک میں انقلاب کو پھیلایا جائے۔ 1960ء کی دہائی میں کیوبا کی قیادت نے اس جانب اقدامات کرنے کی کوشش کی تھی۔ چے گوویرا نے کہا تھا کہ ہم دو، تین، کئی ویتنام بنائیں گے۔ عمومی سوچ درست تھی اگرچہ گوریلا طریقہ کار عملی طور پر غلط ثابت ہوا۔

بعد میں انقلاب کے پھیلاؤ کی پالیسی کو ترک کر دیا گیا تھا اور کیوبا سوویت یونین کی پالیسی سے ہم آہنگ ہو گیا۔ نیکاراگوا ساندینیستاز کو نصیحت ہوئی کہ سرمایہ داری کو ختم نہیں کرنا بلکہ ایک ”مخلوط معیشت“ قائم کرنی ہے جس کے تباہ کن نتائج مرتب ہوئے۔ وینزویلا میں بولیوارین انقلاب کو کیوبا کی تقلید سے باز رکھا گیا (سرمایہ داری کا خاتمہ) جس کے ایک مرتبہ پھر تباہ کن نتائج مرتب ہوئے جن کا براہ راست کیوبا کے انقلاب پر منفی اثر پڑا اور اس کی تنہائی کو مزید تقویت ملی۔

کیوبا کے انقلاب کا حقیقی اتحادی عالمی محنت کش طبقہ اور غریب عوام ہیں۔ آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ عالمی سوشلسٹ انقلاب کی پالیسی اپنائی جائے (”کثیر قطبی“ یا ”نیو لبرلزم کے خلاف جدوجہد“ کی بھونڈی پالیسیوں سے سختی سے اجتناب کیا جائے)۔ کیوبا کے انقلاب کے مقدر کا فیصلہ حتمی طور پر عالمی طبقاتی جدوجہد کے میدان میں ہی ہونا ہے۔

شاید مجبوری کے تحت منڈی کو کچھ رعایتیں دینی پڑیں لیکن یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ یہ ایک پسپائی ہے اور اس کا ”کیوبا کے سوشلسٹ ماڈل کی نوک پلک سنوارنے“ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے ساتھ کرپشن اور افسر شاہی کے خلاف غیر مصالحانہ جدوجہد لازم ہے جس کا واحد طریقہ کار محنت کش کی زیادہ سے زیادہ اکثریت کا ریاستی امور اور معیشت کے انتظام میں جمہوری اور براہ راست شمولیت ہے۔

عالمی کمیونسٹ انٹرنیشنل کیوبا کے انقلاب کے لیے غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتی ہے اور اپنی تمام قوتوں کو اس کے دفاع کے لیے ہر ممکن وسیع جدوجہد کے لیے وقف کرتی ہے۔ کیوبا کے انقلاب کی شکست پورے عالمی محنت کش طبقے اور عالمی انقلابی تحریک کے لیے کاری زخم ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے ہمارے امریکی سیکشن، ریوولوشنری کمیونسٹس آف امریکہ، کی خاص طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ امریکی سامراج کے خلاف کیوبا کے انقلاب کے دفاع کا علم بلند تر کریں۔

حتمی طور پر کیوبا کے انقلاب کو ممکنہ بربادی میں گھسیٹنے والی اس کی عالمی تنہائی اس تاخیر کا نتیجہ ہے جس میں عالمی سطح پر وہ لازم انقلابی قیادت تعمیر ہو جو محنت کش طبقے کے اقتدار پر قبضے کو یقینی بنا سکتی ہے۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم پوری دنیا میں انقلابی کمیونزم کی قوتو ں کو تعمیر کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیں گے!

امریکی سامراج مردہ باد!
کیوبا کے انقلاب کا دفاع کرو!
دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!