|تحریر: زلمی پاسون|

14اکتوبر وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں نافذ کی گئی ایمرجنسی اور گورنر راج کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے منظوری دے دی۔ جبکہ 15 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ سیشن سے بھی منظور کرایا گیا۔ وفاقی حکومت نے یہ اقدام صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر کاروائی نہ کرنے اور وفاق سے دانستہ عدم تعاون کے الزامات کے تحت کیا تھا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، 2021ء سے 2024ء کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے 2911 واقعات پیش آئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025ء سے 9 اکتوبر 2026ء تک یہ تعداد بڑھ کر 3787 ہو گئی۔ انہوں نے صوبائی حکومت، خصوصاً وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، کو امن و امان کی صورتِ حال اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی تحریک انصاف کے سابقہ دورِ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ارکان کی دوبارہ آبادکاری کی کوششوں پر سوالات اٹھائے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ایک بار پھر اس حقیقت کو عریاں کرتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت فوجی اشرافیہ کے گھر کی لونڈی سے زیادہ کچھ نہیں، جسے ضرورت کے وقت سجایا جاتا ہے اور ضرورت پوری ہونے پر دھتکار دیا جاتا ہے۔ 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی تجویز پر دستخط کر کے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔ اس کے فوراً بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے دیگر وزراء ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا، جنہیں بعد میں حفاظتی تحویل میں رکھنے کا بتایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اس کھیل میں شروع دن سے اسٹیبلشمنٹ کی معاون رہی ہیں اور آج بھی اسی کردار میں نظر آتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی تاریخ میں 1973ء میں بلوچستان اور سرحد کی حکومتوں کی برطرفی ہے اور 2009ء میں پنجاب کا گورنر راج بھی۔ 2013ء میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر خونریز حملوں کے بعد اسی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے دہشت گردی ہی کو جواز بنا کر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔ وہاں بھی دعویٰ امن کی بحالی کا تھا، مگر بعد کے برسوں نے ثابت کیا کہ اس سے دہشت گردی ختم نہیں ہوئی۔ آج وہی نسخہ خیبرپختونخوا پر آزمایا جا رہا ہے۔
گورنر راج کے تحت قائم کیا گیا انتظام اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ یہ محض دہشت گردی سے نمٹنے کا اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ اور مشیروں کے تمام اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے اور اس کی مدد کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل بنائی گئی، جس کے ارکان کو وفاق نے تجربہ کار پیشہ ور افراد قرار دیا جنہیں میرٹ پر چنا گیا۔ مگر ان میں سے کوئی بھی صوبے کے عوام کا منتخب نمائندہ نہیں۔ منتخب حکومت کی جگہ اب وفاق کا نامزد گورنر، جو حکمران اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی کا نمائندہ ہے، اور اس کی چنی ہوئی ٹیکنوکریٹ کونسل صوبہ چلا رہی ہے۔ اسی طرح بارہ اضلاع کو براہ راست چلانے کے لیے گورنر کی نگرانی میں ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ بنایا گیا ہے، جس کی نگرانی غیر منتخب مقامی سہولت کاروں پر مشتمل کونسل کرے گی۔ ان اضلاع میں سابقہ فاٹا کے علاقے شامل ہیں اور آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ یہ 2018ء کے فاٹا انضمام کی عملاً نفی ہے، جس میں سابق قبائلی علاقوں کو باقی صوبے کے برابر شہری حقوق اور منتخب نمائندگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ آج انہی علاقوں کو، جو دو دہائیوں کے فوجی آپریشنوں کی تباہی بھگت چکے ہیں، دوبارہ وفاق کے براہ راست انتظام میں دے دیا گیا ہے، یعنی وہی نوآبادیاتی طرز کا نظام نئے نام کے ساتھ واپس آ رہا ہے جس میں مقامی آبادی پر نامزد افسران اور مقامی سہولت کار حکومت کرتے تھے۔
اسی تناظر میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایسے اقدامات کے ذریعے مبینہ طور پر اٹھارہویں ترمیم کو مختلف طریقوں سے رول بیک کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اٹھائیسویں ترمیم کے حوالے سے جن تجاویز کی خبریں سامنے آئیں ان میں نئے صوبے بنانے کا اختیار صرف وفاقی پارلیمان کے سپرد کرنا، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے 57.5 فیصد کے آئینی تحفظ کو لچکدار بنانا اور معدنیات کو وفاقی دائرہ اختیار میں واپس لانا شامل ہیں۔ معدنیات کے معاملے میں خدشات پہلے سے موجود تھے۔ اپریل 2025ء میں خود پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل اسمبلی میں پیش کیا تھا، جس پر اے این پی نے اعتراض کیا کہ یہ اٹھارہویں ترمیم کے منافی ہے اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کی APC نے متفقہ طور پر اسے مسترد کیا اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور وفاقی معدنی وِنگ کے کردار پر خاص تشویش ظاہر کی۔ ان خدشات کو ہم ایک حد تک درست سمجھتے ہیں، کیونکہ جب صوبے کے وسائل اور اختیارات پر بحث ہو رہی ہو اور اسی دوران منتخب حکومت ہٹا کر نامزد کونسلیں اور وفاقی سیکرٹریٹ مسلط کر دیے جائیں تو شک پیدا ہونا فطری ہے کہ مقصد صرف امن و امان نہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سب ایک ہی عمل کی کڑیاں ہیں، جس میں پشتون خطے کے وسائل اور اختیارات پر مرکز کا کنٹرول مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ ان وسائل کے اصل مالک محنت کش عوام کو کسی فیصلے میں شریک نہیں کیا جاتا۔ ٹیکنوکریٹ اور میرٹ کے الفاظ کے پردے میں یہ نام نہاد سرمایہ دارانہ جمہوریت کے نام پر آمریت کا نفاذ ہے۔
گورنر راج کے بعد خاموشی: پاپولزم کی حدیں اور لفاظیاں
چار اکتوبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دعویٰ تھا کہ گورنر راج لگا تو لوگ ترکی کی مثال بھول جائیں گے۔ زمینی حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کے آبائی علاقے خیبر کے علاقے باڑہ کے سوا کہیں قابلِ ذکر احتجاج نہیں ہوا اور پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے کوئی فعال حمایت سامنے نہیں آئی۔ لاہور، کراچی اور پشاور کی بار کونسلوں کی مذمتی قراردادوں اور عدالتی بائیکاٹ سے بات آگے نہ بڑھی۔ پی ٹی آئی نے بھی سڑک کی بجائے عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔

پارٹی اس خاموشی کو ریاستی جبر اور گرفتاریوں کا نتیجہ قرار دیتی ہے اور جبر ایک حقیقت ہے جس پر آگے بات ہو گی، مگر خاموشی کی وجہ صرف یہی نہیں۔ صوبائی اور مقامی قیادت کا بڑا حصہ عملاً پیچھے ہٹ گیا اور عوام میں بھی اس معاملے پر کوئی نمایاں جوش دکھائی نہیں دیا۔ اس بے رخی کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پارٹی کی تیرہ سالہ حکومت نے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو سختی سے نافذ کیا، جن میں نجکاری، پنشنوں کا خاتمہ اور ایم ٹی آئی ایکٹ کا نفاذ شامل ہیں۔ پھر 2024ء کے بعد پارٹی کی سیاسی تحریک بنیادی طور پر بانی کی رہائی تک محدود رہی اور صحت، تعلیم اور نجکاری جیسے عوامی مسائل پر اس کی پالیسیاں عوامی حمایت کو کمزور کرتی رہیں۔ حتیٰ کہ پارٹی کے اندرونی مخالف دھڑے بھی، جو سینئر سیاسی کارکنوں کی نظراندازی جیسے رویوں سے ناخوش تھے، موجودہ صورتحال پر زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتے۔ ان سب کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت کی سیاست ایک شخصیت اور اس کے گرد بنے بیانیے پر کھڑی رہی، کوئی گہری نظریاتی یا تنظیمی بنیاد نہیں تھی۔ پوری لڑائی کا مرکز صرف خیبر پختونخوا کو بنایا گیا، دیگر صوبوں میں حمایت منظم نہیں کی گئی اور خود خیبر پختونخوا کے عوام کے جذبات کی بھی مؤثر نمائندگی نہیں ہو سکی۔
اپوزیشن اتحاد کی صورتِ حال بھی مختلف نہیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان، جس کی قیادت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں، اس میں مجلس وحدت المسلمین اور سردار اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی شامل ہیں، جبکہ جمعیت علمائے اسلام بھی اپوزیشن کی صف میں ہے۔ اس کے باوجود یہ اتحاد بیانات اور مذمت سے آگے نہیں بڑھا۔ نہ کوئی مشترکہ احتجاجی کال آئی، نہ مشترکہ حکمتِ عملی۔ جماعتِ اسلامی نے الگ سے گورنر راج کی مخالفت کی اور ایچ آر سی پی نے تشویش ظاہر کی، مگر یہ آوازیں بھی منظم دباؤ میں نہ ڈھل سکیں۔ نتیجہ یہ کہ پی ٹی آئی کو عملاً اکیلے لڑنا پڑ رہا ہے اور ریاست کو کسی متحد سیاسی ردِعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اس سیاسی کمزوری کے ساتھ ریاستی جبر ایک اہم عنصر ہے۔ پشاور میں راستے بند کیے گئے اور ریڈ زون مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، وزیراعلیٰ اور وزراء کی گرفتاری ہوئی اور قبائلی اضلاع میں فوج تعینات ہوئی، جس کے خوف سے لوگ باہر نکلنے میں ناکام رہے۔ مگر سب سے بنیادی کمزوری یہ ہے کہ زمین پر ایسی قیادت موجود ہی نہیں تھی جو اس پورے عمل کو منظم کر سکے۔ جب اوپر کی قیادت گرفتار ہو جائے اور نیچے تنظیمی ڈھانچہ نہ ہو تو احتجاج بکھر جاتا ہے۔ یہی پاپولزم کی سب سے بڑی خامی ہے۔ پاپولزم کی سیاست کسی نظریے اور تنظیمی ڈھانچے سے بالاتر ہو کر محض پاپولسٹ نعروں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ وہ حکمران طبقے کی آپسی لڑائیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش تو کرتی ہے، مگر عوام کو منظم کرنا اور کسی پروگرامیٹک لائن کے تحت آگے بڑھانا اس کا درد سر ہی نہیں ہوتا۔ نتیجتاً وہ جلسوں اور نعروں میں طاقتور دکھائی دیتی ہے، مگر ادارہ جاتی بنیاد کے بغیر دباؤ کے پہلے امتحان میں بے بس ہو جاتی ہے۔
دہشتگردی کا سوال اور اختلافات کی نوعیت
دہشت گردی کے نام پر نافذ کی گئی ایمرجنسی یا گورنر راج کے پس منظر میں اصل پیش رفت 27 ستمبر کا وہ لانگ مارچ تھا جو پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب کرنا تھا۔ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی مداخلت پر حکومت سے مذاکرات شروع ہوئے اور لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت، ان کے بقول، کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے ہی تھی کہ وفاقی کابینہ نے 11 اکتوبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔
اس صورتِ حال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں، دیگر سیاسی جماعتوں اور بالخصوص عوامی سطح پر کیا مؤقف پایا جاتا ہے اور اختلافات کی نوعیت کیا رہی ہے۔ یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے فوراً بعد، ان کے آبائی علاقے خیبر میں، گزشتہ سال سردیوں کے شدید موسم میں آپریشن شروع ہوا، جس سے لوگوں کو سخت سردی میں بے گھر ہونا پڑا۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس آپریشن پر اعتراض کیا، مگر یہ اعتراض نظرانداز کر دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اس کا اصل مقصد بالخصوص سہیل آفریدی جبکہ بالواسطہ طور پر تحریک انصاف، پر دباؤ ڈالنا تھا، تاکہ وہ اپنی دائرے سے باہر نہ نکلیں۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی، خصوصاً ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشنز کے بارے میں تحریک انصاف کا مؤقف مبہم رہا ہے۔ عوامی سطح پر تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جس غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے، پارٹی نے آج تک ٹی ٹی پی کی اس انداز میں کھلی مذمت نہیں کی۔ پارٹی کا بظاہر مؤقف یہ رہا ہے کہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے، جن میں عوام اور خیبر پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لیا جائے، اسے قبول نہیں ہوں گے۔ مگر عوام اس ابہام کو اب بخوبی سمجھنے لگے ہیں، یا کم از کم سمجھنے لگے تھے۔ اس ضمن میں ریاستی بیانیے سے اختلاف کا مطلب دہشت گردوں سے نرمی نہیں ہو سکتا اور ریاستی بیانیے سے اتفاق کا مطلب بھی ریاست کی حمایت نہیں، مگر زمینی حقائق نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ پی ٹی آئی تیرہ سال سے خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار ہے اور اس دوران اس کی دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی سوالات کی زد میں ہے۔ اسی کے دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور جنگجوؤں کی آبادکاری کا منصوبہ بنا۔ عمران خان خود اس منصوبے کا دفاع کر چکا ہے، اگرچہ شیریں مزاری کے مطابق اس کی تجویز جنرل باجوہ کی تھی، جو اس معاملے میں ریاستی اداروں کی شراکت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ذمہ داری کسی ایک جماعت پر ڈالنا کافی ہے، یا یہ ریاستی اور سیاسی دونوں سطحوں کی ناکامی ہے۔ اس کے باوجود یہ اختلافات اتنے شدید نہیں تھے کہ معاملہ گورنر راج یا ایمرجنسی تک پہنچتا۔ زیادہ تر خیال یہ ہے کہ اس بار سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی موبلائزیشن ریاست کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتی دکھائی دے رہی تھی، جہاں انہوں نے پورے صوبے میں احتجاجی مظاہروں اور سلسلہ وار احتجاج کا آغاز کیا تھا۔ تاہم اس نتیجے کو بھی حتمی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ تحریک انصاف کسی واحد نظریے پر قائم جماعت نہیں بلکہ اس کے اندر مختلف دھڑے موجود ہیں اور ریاست کی منظم تیاری کے مقابلے میں پارٹی کی تیاری اس سطح کی نہیں تھی۔ پھر بھی ایک سیاسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے دہشت گردی کو جواز بنانا پورے معاملے کی اصل نوعیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مگر ان تمام حقائق کی بنیاد پر کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم پاکستان تحریک انصاف کے دفاع میں کھڑے ہیں۔ ہم ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب تحریکِ انصاف کی حمایت نہیں۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے کم و بیش ڈیڑھ دہائی کے اقتدار کا بے رحم پوسٹ مارٹم کرنا ضروری ہے۔ اس جماعت نے صوبے میں رائج کرپشن کے نظام کو مضبوط کرنے کے ساتھ نئے ریکارڈز قائم کیے اور صحت، تعلیم اور دیگر عوامی شعبوں میں نجکاری کی بنیادیں بھی گہری کیں، یعنی حکمران طبقے کی وہی مجرمانہ پالیسیاں عوام پر مسلط کیں جو باقی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ خیبرپختونخوا میں، بالخصوص مڈل کلاس میں، اسے اب بھی عوامی حمایت حاصل ہے، مگر اس کی مقبولیت کا گراف اپنی کارکردگی کی بنا پر مسلسل گرتا رہا ہے۔ جب بھی اس کی مقبولیت زوال پذیر ہوتی ہے تو اسے سیاسی شہید بنا کر اس کی حمایت کو مصنوعی سانسیں فراہم کر دی جاتی ہیں۔ 2024ء کے عام انتخابات کے دوران یہی ہوا اور آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں عوام سے کٹ چکی ہیں، مگر تحریکِ انصاف کی جڑیں مڈل کلاس میں اس لیے باقی ہیں کہ اسے وفاقی سطح پر مکمل طور پر بے نقاب نہیں کیا گیا اور اس سے بھی اہم سطح پر فی الوقت کوئی متبادل بھی نہیں ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی اور ن لیگ جیسی پارٹیوں سے نفرت کا اظہار بھی پی ٹی آئی میں ہوتا ہے۔ اب ایمرجنسی اس بے نقابی کو ایک بار پھر مؤخر کر دے گی اور اس کے دورِ حکومت کا احتساب پس منظر میں چلا جائے گا۔
دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی
جس دہشت گردی کو جواز بنا کر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے اور اس کے ضمن میں ریاستِ پاکستان کی پالیسیوں کا کردار کیا رہا ہے، یہ حقیقت آج بچے بچے کی زبان پر ہے۔ مگر بات کو محض نعروں تک محدود رکھنے کی بجائے دلیل اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس دہشت گردی کے فرینکنسٹائن کا مختصر تاریخی جائزہ لیں، جسے حکمران طبقات نے اپنے مفادات کے لیے خود تراشا اور پھر وہ انہی کے گلے پڑ گیا۔
اس تاریخ کو سامنے رکھیں تو آج کے دعوے خود بخود بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کا جو دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کے پیچھے وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے؟ فوجی آپریشنز کے علاوہ ریاست کے پاس کوئی دوسرا نسخہ نہیں اور ان آپریشنز کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔ راہِ حق، راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب، ردالفساد اور آخر میں عزمِ استحکام کے ناموں پر کیے گئے فوجی آپریشنز نے قبائلی اضلاع اور سوات سے لے کر پورے صوبے کے محنت کش عوام کو تباہ و برباد کر دیا۔ یہ تباہی دراصل اسی فرینکنسٹائن کی پیدا کردہ ہے جسے ریاستی پالیسیوں نے جنم دیا اور جسے ہر بار ایک نیا نام دے کر مزید طاقت سے کچلنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
ہر فوجی آپریشن کے اختتام پر دہشت گردی کے خاتمے کا اعلان ہوتا رہا، مگر چند برس بعد وہی گروہ نئے نام اور نئی شکل کے ساتھ واپس آتے رہے۔ ان آپریشنز کی سب سے بھاری قیمت لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہونے والے عام محنت کش عوام نے تباہ حال بستیوں اور اجڑی معیشت کی صورت میں چکائی، جبکہ دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ، یعنی اس کی نظریاتی اور مالی جڑیں اور ریاستی سرپرستی کا ماضی، جوں کا توں رہا۔ خود وفاقی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق مارچ 2024ء سے ستمبر 2026ء کے درمیان خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا، تحریکِ طالبان پاکستان کا دوبارہ ابھرنا اس تشدد کا بنیادی محرک ہے۔
اس دوران کاروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2024ء میں صوبے میں 14535 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوئے جن میں 769 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ 2025ء میں یہ تعداد 14658 رہی اور خیبرپختونخوا میں 1803 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ PICSS نے، جس کا طریقہ شمار مختلف ہے اور جو صرف نمایاں کاروائیاں گنتا ہے، ملک بھر میں 2024ء کی 296 اور 2025ء کی 482 کاروائیاں ریکارڈ کیں، جن میں بالترتیب 950 اور 2138 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ ستمبر 2026ء میں صرف ایک مہینے میں 74 اہم کاروائیاں ہوئیں۔ دونوں کے اعداد الگ ہیں، مگر رجحان ایک ہے؛ کاروائیوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود حملے کم نہیں ہوئے؛ PICSS کے مطابق ستمبر 2026ء میں 225 حملے ریکارڈ ہوئے جو 12 سال کی بلند ترین ماہانہ تعداد ہے اور آئی ایس پی آر کے مطابق 2025ء میں ملک کے 71 فیصد دہشت گرد واقعات (5397 میں سے 3811) خیبرپختونخوا میں ہوئے۔ یعنی ریاست کے اپنے اعداد و شمار ہی بتاتے ہیں کہ آپریشنوں کا پھیلاؤ مسئلے کو حل نہیں کر سکا۔ وفاقی حکومت اور آئی ایس پی آر کا مؤقف ہے کہ صوبے میں ”سیاسی طور پر سازگار ماحول“ اور سیاسی، مجرمانہ اور دہشت گرد گٹھ جوڑ مسئلے کی بڑی وجہ ہے اور اس کی تائید میں کابینہ کو پیش کی گئی رپورٹوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ دعویٰ، اگر مان بھی لیا جائے، آپریشنوں کی ناکامی کا جواب نہیں بن سکتا اور اس سے گورنر راج کی نوعیت بنیادی طور پر سیاسی ہی نظر آتی ہے۔ گورنر راج کے تحت اختیارات وفاق اور گورنر کے ہاتھ میں آ جاتے ہیں، یعنی عملاً وہی فوجی حل زیادہ سخت شکل میں دہرایا جائے گا۔ جب دو دہائیوں کے آپریشن مسئلہ حل نہیں کر سکے تو ایک انتظامی تبدیلی اسے کیسے حل کرے گی؟ اس کا حقیقی نتیجہ مزید بے دخلی، مزید جبر اور مزید بداعتمادی کی صورت میں نکلے گا۔

دوسری جانب وفاق کا یہ دعویٰ بھی کہ دہشت گردی کا ذمہ دار صوبائی حکومت ہے، خود اس کے اپنے ریکارڈ سے کمزور پڑتا ہے۔ بلوچستان، جہاں کی صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے، پی آئی سی ایس ایس کے اعداد و شمار کے مطابق کئی مہینوں میں ملک کا واحد سب سے متاثرہ صوبہ رہا ہے۔ اگست 2026ء میں بھی سکیورٹی صورتحال سب سے سنگین بلوچستان میں رہی، جہاں حملے 83 سے بڑھ کر 89 ہو گئے۔ اگر ایک تابع فرمان صوبائی حکومت کے باوجود وہاں دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی تو خیبرپختونخوا میں اس کا سبب صرف پی ٹی آئی کی حکومت کیسے ہو سکتی ہے۔ مسئلہ ریاستی پالیسی کا ہے، کسی صوبائی حکومت کا نہیں۔
2021ء میں طالبان کے سامراجی پشت پناہی سے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہونے لگی۔ اس کے نتیجے میں دہشت گردی کا یہ فرینکنسٹائن اب طالبان اور ریاستِ پاکستان کے درمیان باہمی تضادات، سرحدی جھڑپوں، فضائی بمباریوں اور تعلقات کی ابتری کی شکل میں سامنے آ رہا ہے، جس پر آگے چل کر بات کی جائے گی۔ تاہم یہاں چند باتوں کا ذکر ضروری ہے۔ طالبان کے حوالے سے جو پالیسی اس وقت اپنائی گئی ہے، وہ درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کی آپسی نورا کشتی کا اظہار بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ عالمی دباؤ، بالخصوص امریکی سامراج کے افغانستان سے شرمناک انخلاء کے بعد اپنی شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی صورت میں بھی ظاہر ہو رہی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ اپنی ماضی کی پالیسیوں میں تبدیلی کا تاثر دے کر عالمی برادری کو یقین دلانا چاہتی ہے کہ ہم نے اپنا قبلہ درست کر لیا ہے اور اب دہشت گردی کی کسی بھی شکل کو برداشت نہیں کریں گے۔ حقیقت میں یہ تصویر کا محض ظاہری رخ ہے۔ طالبان کے ساتھ تعلقات کی ابتری کے دوران پچھلے تین سال میں ریاستِ پاکستان کی جانب سے بارہا فضائی بمباری کی گئی۔ اس کے نتیجے میں بالخصوص کابل میں نشے کے عادی افراد کے ہسپتال پر بمباری سے سینکڑوں اموات ہوئیں اور آج تک ہونے والی تمام فضائی بمباریوں میں عام سویلین آبادی ہی نشانہ بنی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ان فضائی حملوں پر طالبان نے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا اور ان کا ردعمل محض چند اخباری بیانات تک محدود رہا ہے۔ سرحدی جھڑپوں کو طالبان افغان عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس پوری صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی بنیاد پرستوں، جن میں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی دونوں شامل ہیں، کے درمیان کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ بھی نہیں، جس کا اظہار مختلف مواقع پر ہوتا رہا ہے۔
اس نام نہاد تعلقات کی ابتری کا ملبہ پاکستان میں پچھلی چار دہائیوں سے مقیم افغان محنت کشوں اور مہاجرین پر گرا ہے، جن کی لاکھوں کی تعداد میں جبری بے دخلی تاحال جاری ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری، سرحدی جھڑپوں، فضائی حملوں اور راستوں کی بندش نے حالات کو مزید خراب کیا ہے، جس کے اثرات دونوں ممالک کی معیشت اور بالخصوص ڈیورنڈ لائن کے آر پار بسنے والے محنت کش عوام پر پڑ رہے ہیں۔
اس بحران کا ایک گہرا معاشی پہلو بھی ہے، جس پر عموماً بات نہیں ہوتی۔ گزشتہ چار پانچ دہائیوں کی جنگوں نے سرحدی پٹی میں اسلحے، منشیات، کرنسی اور اسمگل شدہ اشیا پر مبنی ایک متوازی معیشت کو جنم دیا ہے۔ تحقیقی رپورٹوں کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا ایک بڑا حصہ اسمگلنگ کے راستے واپس پاکستان آتا رہا اور اسی نظام میں اسلحے کی ترسیل بھی ہوتی رہی۔ ایسا نظام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ملی بھگت اور مقامی طاقتور حلقوں کے مفادات کے بغیر چل نہیں سکتا۔ یوں جب راستے بند ہوتے ہیں تو اس کی قیمت عام مزدور، چھوٹا تاجر اور سرحد کے دونوں طرف کے محنت کش چکاتے ہیں، جبکہ اس متوازی معیشت سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور حلقوں کے مفادات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ جب کسی بحران کے ساتھ اتنے لوگوں کی آمدن اور اثر و رسوخ جڑ جائے تو اس کا خاتمہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے یہی وہ پہلو ہو جو یہ سمجھنے میں مدد دے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے اعلانات کے باوجود اس کا بنیادی ڈھانچہ برقرار کیوں رہتا ہے۔
علاوہ ازیں ڈیورنڈ لائن کے اُس پار افغان طالبان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اگرچہ اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ناکامیوں کا الزام افغانستان پر ڈال دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس کے بقول مذاکرات کو بار بار سبوتاژ کرنے والے پاکستانی سیاست دان نہیں بلکہ بعض فوجی حلقے ہیں۔ یوں طالبان یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ پاکستان اپنے اندرونی بحران کی ذمہ داری افغانستان کے سر ڈالنا چاہتا ہے۔
مجاہد کے اس بیان کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ طالبان کے مرکزی ترجمان مذاکرات کی ناکامی اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں ابتری کا ذمہ دار ہمیشہ پاکستانی فوج کے چند جرنیلوں کو ٹھہراتے آئے ہیں، جو کہ ریاستِ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے اندر دھڑے بندی کابیرونی اظہار ہے۔ دوسری جانب طالبان بھی کوئی متحد گروہ نہیں۔ اس وقت ان کے اندر قندھار، کابل اور حقانی نیٹ ورک کے دھڑے موجود ہیں، اور قندھار اور حقانی نیٹ ورک کی مرکزی قیادت کے پاکستان کے ساتھ روابط کو خارج از امکان قرار دینا سیاسی سادہ لوحی ہو گی۔ جس کا اظہار پاکستانی حملوں کے نتیجوں میں ان کے بیانات سے بھی واضح ہوتا ہے۔ اس تشویش کا اظہار صرف طالبان تک محدود نہیں۔ افغانستان کے سابق وزراء اور مشیروں کا بھی یہی خیال ہے کہ خطے میں ایک نئی گیم شروع ہونے جا رہی ہے اور اسی لیے وہ ان تبدیلیوں کو انتہائی انہماک سے دیکھ رہے ہیں۔
مگر ہم واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ طالبان بے قصور نہیں ہیں۔ یہ دہشت گرد ہیں۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی جیسی مذہبی بنیاد پرست دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے موجود ہیں اور طالبان ان کے وجود سے انکار کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی نظریاتی اور تنظیمی جڑ کی شاخیں ہیں، آپس میں گھلے ملے ہیں اور انہیں کسی بھی صورت ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے بگڑتے تعلقات کی بنیادی وجہ اب تک انہی کے باہمی رشتے کو بتایا جاتا رہا ہے۔
لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ معاملہ صرف اتنا نہیں۔ جب طالبان حالتِ جنگ میں تھے تو ان کے آقا پاکستان یا ایک دو دوسرے ممالک ہو سکتے تھے، مگر اقتدار اور ایک ریاست کی خودمختاری ملنے کے بعد ان کی ترجیحات بدل گئیں اور وہ پراکسی کی بجائے پالیسی ساز بن گئے۔ آج طالبان افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بظاہر ایک خواب لگتا ہے، کیونکہ عالمی سیاست اخلاقی اصولوں کی نہیں بلکہ سامراجی اور علاقائی مفادات کی پابند ہوتی ہے۔ اس وقت طالبان کو تسلیم کرنے والا واحد ملک روس ہے، جس کے اپنے مفادات اس خطے میں ہیں، جبکہ چین، ایران اور انڈیا بھی کابل کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔ پاکستانی ریاست کو یہ سب اس لیے ہضم نہیں ہو رہا کہ وہ چاہتی ہے کابل اپنی خارجہ پالیسی اس سے پوچھے بغیر ترتیب نہ دے۔ لہٰذا ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسندوں کے حوالے سے عائد کیے جانے والے الزامات میں اگرچہ کچھ سچائی ضرور ہے، مگر اصل مسئلہ ریاستِ پاکستان کی اسٹریٹجک ڈیپتھ کی پالیسی کی ناکامی ہے۔ یہی ناکامی اسے بار بار اس رجعتی پالیسی کو دوبارہ زندہ کرنے پر مجبور کر رہی ہے اور اس کی قیمت ہمیشہ دونوں طرف کے محنت کش اور غریب عوام ادا کرتے ہیں۔
دہشت گردی کے اس فرینکنسٹائن کا مختصر تاریخی جائزہ
پاکستان سمیت پوری دنیا میں مذہبی دہشت گردی کی کوئی عوامی بنیادیں شروع دن سے نہیں رہیں، بلکہ یہ سرمایہ داری کے زوال اور سامراجی پالیسیوں کا نتیجہ رہی ہے۔ بالخصوص جب ہم پاکستان اور افغانستان میں مذہبی دہشت گردی کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کی جڑیں تاریخ کے ان سیاہ ادوار میں ملتی ہیں جن کے بارے میں آج بظاہر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس وقت کی تمام سیاسی جماعتیں اور بالخصوص اسٹیبلشمنٹ، اس بربریت سے بری الذمہ ہیں۔
اس فرینکنسٹائن کی بنیادیں خود ریاستِ پاکستان کی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ 1973ء میں جب افغانستان میں سردار داؤد نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے پشتونستان کا مسئلہ دوبارہ اٹھایا۔ پشتونستان کی تحریک کی جڑیں کتنی مضبوط اور عوامی تھیں، یہ ایک الگ بحث ہے جس میں پڑنے سے ہم اپنے اصل موضوع سے ہٹ جائیں گے۔ سردار داؤد کی اس پالیسی کی وجوہات بھی ڈیورنڈ لائن کی سامراجی لکیر اور سرد جنگ سے جڑی تھیں۔ افغانستان بظاہر غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا حصہ تھا، مگر اس پر سوویت یونین کے اثرات موجود تھے، جبکہ ریاستِ پاکستان اپنے قیام سے لے کر آج تک امریکی سامراج کی آشیرباد کے تحت رہی ہے۔ سردار داؤد کی پشتونستان پالیسی کے خلاف اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے افغان مذہبی بنیاد پرستوں کی سرپرستی شروع کی۔ ان میں گلبدین حکمت یار، برہان الدین ربانی، عبدالرب رسول سیاف، جلال الدین حقانی اور یونس خالص شامل تھے، جبکہ جمعیت اسلامی کے نوجوان کمانڈر احمد شاہ مسعود بھی ان میں تھے۔ انہی کی سربراہی میں بنیاد پرستی کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیموں کی داغ بیل ڈالی گئی۔ البتہ احمد شاہ مسعود کو مذہبی بنیاد پرستی کے معاملے میں ایک حد تک رعایت دی جا سکتی ہے۔
بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد تاریخ کے انتہائی رجعتی فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق (1977ء-1988ء) نے، جسے ”ضیاء الباطل“ کہا جاتا ہے، ان پالیسیوں کو ریاستی پالیسی کا درجہ دے دیا۔ پیٹرو ڈالر جہاد کی بنیادیں یہیں سے رکھی گئیں، جس کے نتیجے میں پورا پشتون سماج اس سامراجی کھلواڑ کی نذر ہو کر تخت و تاراج ہوا۔ 1979ء میں سوویت فوجوں کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد آئی ایس آئی امریکی اور سعودی ہتھیاروں اور پیسوں کی ترسیل کا مرکزی ذریعہ بنی اور پشاور میں قائم سات افغان مجاہدین تنظیموں کے ذریعے جنگ چلائی گئی، جن میں حکمت یار کی حزبِ اسلامی کو ترجیح ملی۔ اس عرصے میں مدرسوں کا جال، جہادی تربیتی کیمپ، لاکھوں افغان مہاجرین اور اسلحے و منشیات کی معیشت نے پاکستانی سماج میں جڑیں پکڑ لیں، جبکہ ملک کے اندر فرقہ وارانہ تنظیمیں بھی ابھریں۔
ضیاء کے بعد 1989ء میں قائم ہونے والی نام نہاد جمہوری حکومت، جو پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہی میں تھی، نے اس پالیسی کو بدلنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ اور امریکی سامراج کی آشیرباد کے تحت جاری رکھا۔ اسی سال جلال آباد پر ناکام حملے کی پشت پر پاکستانی خفیہ اداروں کا ہاتھ تھا۔ 1992ء میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان کابل میں اپنی پسند کی حکومت چاہتا رہا، جس کے لیے گلبدین حکمت یار کو، جسے ”قصاب کابل“ کہا جاتا تھا، ریاستِ پاکستان کی مکمل پشت پناہی حاصل رہی۔ اس کی توپوں نے کابل کو کھنڈر بنا دیا۔ 1989ء سے 1992ء کی خانہ جنگی تک اور پھر نام نہاد مجاہدین کے تخت اقتدار پر آنے کے بعد بھی، افغانستان میں تباہی مسلسل جاری رہی۔
جب یہ کوشش ناکام ہوئی تو 1994ء کے آس پاس قندھار کے مدرسوں سے نکلنے والے طالبان کو، جن میں بہت سے پاکستانی مدرسوں کے تربیت یافتہ تھے، آگے بڑھایا گیا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت میں وزیرِ داخلہ نصیراللہ بابر نے طالبان کی پشت پناہی میں کردار ادا کیا، جمعیت علمائے اسلام نے مدرسوں اور افرادی قوت کا دروازہ کھولا اور پاکستانی خفیہ اداروں کی لاجسٹک مدد سے طالبان نے 1995ء میں ہرات اور ستمبر 1996ء میں کابل پر قبضہ کر لیا۔ پاکستان نے مئی 1997ء میں ان کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔
فرینکنسٹائن کی پرورش: 2001ء سے آج تک
2001ء میں امریکی حملے کے بعد کابل میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو پاکستانی ریاست نے، جو کل تک اس حکومت کی سب سے بڑی حمایتی تھی، مشرف کی قیادت میں امریکہ کی اتحادی کا کردار اپنا لیا۔ مگر یہ تبدیلی ظاہری تھی۔ طالبان کی قیادت اور جنگجوؤں کا بڑا حصہ پاکستانی سرزمین، خصوصاً کوئٹہ، پشاور اور سابقہ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہو گیا اور 2005ء کے آس پاس افغانستان میں طالبان کی دوبارہ منظم کاروائیاں شروع ہوئیں۔ ان کی منظم واپسی کے پیچھے پاکستانی اداروں کی مدد کے الزامات افغان اور مغربی حکام کی طرف سے سامنے آئے، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ ان کی تردید کی۔ مگر اس دہرے کھیل کی تصدیق وقتاً فوقتاً خود ریاست کے بالا حکام اور سابق اہلکاروں کی زبانی ہو چکی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے برطانوی چینل اسکائی نیوز کو انٹرویو میں تسلیم کیا کہ پاکستان تقریباً تیس برس تک امریکہ اور مغرب کے لیے یہ گندا کام کرتا رہا اور اسے غلطی قرار دیا جس کی قیمت پاکستان نے ادا کی۔ فروری 2026ء میں قومی اسمبلی میں اس نے افغان جنگوں کو مذہبی فریضہ کہنے کے بیانیے کو چیلنج کیا اور کہا کہ ضیاء الحق اور مشرف نے یہ کام اسلام کے لیے نہیں بلکہ ایک سپر پاور کو خوش کرنے کے لیے کیا۔ اس سے پہلے ایک وفاقی وزیر نے پارلیمان میں کہا تھا کہ ہم نے مجاہدین بنائے اور پھر وہ دہشت گرد بن گئے۔ خود پرویز مشرف نے 2010ء میں ڈیر اشپیگل (Der Spiegel) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مانا کہ کشمیر کے لیے زیر زمین عسکری گروہ واقعی بنائے گئے تھے۔ آئی ایس آئی کے سابق افسر کرنل امام، جنہیں طالبان کا باپ کہا جاتا ہے اور جنہوں نے ملا عمر، احمد شاہ مسعود اور حکمت یار کو تربیت دی، نے جیو نیوز کے انٹرویو میں کھل کر طالبان کی حمایت کا اعتراف کیا اور اس سلسلے میں سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل حمید گل کا نام بھی لیا، جو برسوں اپنے بیانات میں افغان جہاد اور اس کے جنگجوؤں کے کھلے حامی رہے۔ یہ دہرا کھیل خود خواجہ آصف کے اپنے رویے سے بھی عیاں ہے۔ جب 2021ء میں طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو اس وقت اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس نے ملا برادر اور امریکی وزیر خارجہ پومپیو کی تصویر لگا کر لکھا کہ طاقت تمہارے پاس ہو گی مگر خدا ہمارے ساتھ ہے، یعنی اسے ایک فتح کے طور پر منایا، جبکہ آج وہی وزیر دفاع کے طور پر اسلام آباد کے خودکش دھماکے کو افغان طالبان کا پیغام قرار دیتے ہیں۔
مسئلہ ریاست کی نیت کا نہیں، اس کی پالیسی کے تسلسل کا ہے ان اعترافات کو ہمیشہ ماضی کی غلطی کہہ کر ختم کر دیا جاتا ہے، جبکہ ڈالر بھی لیے جاتے رہے اور اچھے برے طالبان کی تقسیم بھی قائم رہی۔ برسوں تک ریاست نے طالبان کو ”اچھے“ اور ”برے“ میں بانٹا۔ جو گروہ پاکستان پر حملہ آور تھے وہ دشمن ٹھہرے اور جو افغانستان کی طرف متوجہ تھے اور ریاست سے امن معاہدے کیے ہوئے تھے، انہیں برداشت کیا گیا۔ حافظ گل بہادر اس تقسیم کی نمایاں مثال ہیں۔ انہوں نے 2008ء میں حکومت سے امن معاہدہ کیا، جو اسی دور کے شکئی اور سراروغہ جیسے معاہدوں کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ مبصرین کے مطابق آپریشن راہِ نجات میں ملا نذیر کے گروہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور ضربِ عضب سے پہلے حافظ گل بہادر کو پیشگی خبر مل گئی تھی۔ یہ دعوے بحث طلب ہیں، مگر نتیجہ واضح ہے: جس ”اثاثے“ کو کل برداشت کیا گیا، وہ آج ریاست ہی کے خلاف صف آرا ہے۔ جو ریاست تیس برس تک اس کا نتیجہ بھگتنے کے بعد بھی اس پالیسی کی سیاسی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں، وہ اس کے خاتمے میں سنجیدہ کیسے ہو سکتی ہے؟ اس دہرے کھیل کی قیمت پشتون محنت کش عوام سمیت ملک بھر کے محنت کشوں نے چکائی۔
2004ء میں جنوبی وزیرستان میں آپریشن سے سابق فاٹا میں فوجی کاروائیوں کا آغاز ہوا اور اسی دور میں شکئی اور سراروغہ جیسے امن معاہدوں کے ذریعے مقامی جنگجو کمانڈروں سے سمجھوتے بھی کیے گئے۔ جنہیں کئی تجزیہ کار عسکری گروہوں کے لیے تنظیم نو کا موقع قرار دیتے ہیں۔ 2007ء میں لال مسجد آپریشن کے بعد دسمبر میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں تحریکِ طالبان پاکستان قائم ہوئی۔ اس کے بعد راہِ حق، راہِ راست اور راہِ نجات سے ضربِ عضب (2014ء) اور ردالفساد (2017ء) تک آپریشنوں کا طویل سلسلہ چلا، جن میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، بستیاں اجڑیں اور معیشت تباہ ہوئی۔ 2018ء میں فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کر دیا گیا، مگر مقامی لوگوں کے مسائل کی بنیاد، یعنی ریاستی جبر، بے روزگاری اور بدحالی، حل نہیں ہوئی۔ 2004ء سے 2018ء تک ان فوجی آپریشنوں نے جو تباہی مچائی، یعنی کرفیو، چیک پوسٹوں پر تذلیل، بارودی سرنگیں، لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل، اس کے خلاف عوام کا اجتماعی اظہار پشتون تحفظ موومنٹ کی شکل میں سامنے آیا۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد ابھرنے والی اس تحریک نے پہلی بار ان آپریشنوں کی قیمت چکانے والوں کی آواز کو ریاست کے سامنے منظم انداز میں رکھا۔
اگست 2021ء میں امریکی انخلاء اور طالبان کے کابل پر دوبارہ قبضے نے خطے کا توازن بدل دیا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کیا اور اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید کی کابل میں موجودگی اس کی علامت بنی۔ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اسے غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے سے تعبیر کیا اور وزیر داخلہ شیخ رشید نے طورخم پر ایک نئے بلاک کی پیش گوئی کی۔ اسی دور میں تحریکِ انصاف کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ افغان طالبان کی ثالثی میں مذاکرات کیے اور جنگ بندی ہوئی اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجو اور ان کے خاندانوں کو سابق فاٹا اور سوات و دیر جیسے علاقوں میں واپس آباد ہونے کی اجازت دی گئی۔ اس کے خلاف خیبرپختوانخوا کے محنت کش عوام نے (اولسی پاسون) کے نام سے بڑے احتجاجی مظاہرے کیے، جن میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن گروہوں کے خلاف آپریشنوں میں ہماری بستیاں اجڑیں، انہیں دوبارہ کیوں بسایا جا رہا ہے۔ یہی پالیسی بعد میں اسٹیبلشمنٹ کی اندرونی دھڑے بندی اور اقتدار کی لڑائی کا حصہ بنی، جس میں ایک دھڑے نے دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، پی ٹی آئی اور آج ایمرجنسی لگانے والی جماعتیں، سب اس پالیسی کے شریکِ کار تھے اور اس کا خمیازہ عام محنت کشوں اور نچلے رینک کے سکیورٹی اہلکاروں نے بھگتا۔
آج کی صورتحال میں ٹی ٹی پی اور افغان طالبان نظریاتی، تنظیمی اور تاریخی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اگرچہ طالبان اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی کی موجودگی کی تردید کرتے ہیں۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانے افغانستان میں ہیں اور طالبان انہیں تحفظ دے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیموں کی رپورٹیں بھی ان تعلقات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دونوں کا یہ تعلق پاکستان کے اندر سکیورٹی کی صورتحال پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ مگر یہ تمام کشمکش ریاستی اداروں اور مسلح گروہوں کے درمیان طاقت کا کھیل ہے، جس میں پالیسیاں بدلتی ہیں اور دشمن اور دوست بدلتے رہتے ہیں۔
اس عفریت کا ایک تازہ اظہار یہ ہے کہ ان گروہوں کا ظہور اب خیبرپختونخوا سے لے کر بلوچستان کے پشتون اضلاع تک ہو رہا ہے۔ جولائی 2026ء میں کوئٹہ کے مضافات اور زیارت میں ایسے واقعات نے اس کی مثال پیش کی۔ 5 جولائی کو ہنہ اوڑک کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے پانچ شہریوں کو ہلاک، آٹھ کو زخمی اور گیارہ کو اغوا کیا۔ اگلے ہی دن زیارت کے ضلع میں مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن کی پولیس چوکی پر حملے میں 27 پولیس اہلکار مارے گئے، جن میں نو ابتدائی حملے میں اور اٹھارہ اغوا کے بعد قتل ہوئے۔ یوں چند دنوں میں تقریباً 32 جانیں گئیں۔ ان واقعات کے خلاف عوام نے کوئٹہ میں ایئرپورٹ روڈ اور کوئلہ پھاٹک (شہدائے زیارت چوک) پر دھرنے دیے۔ ہنہ اوڑک کے دھرنے کے رہنماؤں نے لاپتہ افراد کی بازیابی، مسلح گروہوں کے خاتمے اور ریاست کے بااختیار نمائندوں سے مذاکرات کے مطالبات رکھے۔ پانچ روز بعد وزیراعلیٰ بگٹی سے مذاکرات کے نتیجے میں دھرنا ختم ہوا اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ، سرکاری ملازمتیں اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات کی یقین دہانی کرائی گئی۔ زیارت کے شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا دس روزہ دھرنا بھی 18 جولائی کو حکومت سے معاہدے کے بعد ختم ہوا، جن کا بنیادی مطالبہ زیارت اور ہنہ اوڑک دونوں واقعات کی عدالتی کمیشن سے تحقیقات تھا۔ یہ منظر نامہ اس نتیجے کو مضبوط کرتا ہے کہ ریاست کے پاس عوام کو دینے کے لیے معاوضے، وعدے اور معاہدوں سے آگے کوئی حل نہیں اور جب تک اس عفریت کی بنیادی جڑیں، یعنی ریاستی پالیسی اور سرپرستی کا ڈھانچہ، نہیں ٹوٹتیں، دہشت گردی پشتون خطے کو اسی طرح نگلتی رہے گی۔
دہشت گردی کا عفریت اور محنت کش عوام کا شعور
2021ء کے آخر اور 2022ء کے اوائل میں خیبرپختونخوا کے محنت کش عوام نے معروف احتجاجی تحریک ”اولسی پاسون“ کے ذریعے ریاستی پالیسیوں کو ناکام بنایا۔ اس کے علاوہ عوامی سطح پر اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ لوگ دہشت گردی کے عفریت کو ٹھیک سے پہچان گئے ہیں، یعنی یہ کہ دہشت گردی کون اور کیوں کر رہا ہے۔ نام نہاد پیٹرو ڈالر جہاد اور ”وار آن ٹیرر“ کے بعد عوامی شعور میں یہ تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ تاہم موجودہ دہشت گردی کی لہر کو عوامی بنیادوں پر سمجھنے میں ایک مخصوص حد تک کمی اب بھی موجود ہے۔
عوامی نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ان دہشت گردوں کو اب بھی ریاستی سیکیورٹی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے، مگر اس نکتے میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ٹی ٹی پی ہو یا ٹی ٹی اے، دونوں ایک متحدہ قوت نہیں ہیں۔ ٹی ٹی اے کے حوالے سے جیسا ذکر ہو چکا ہے، اسی طرح ٹی ٹی پی بھی ایک متحدہ قوت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بعض دھڑے اب بھی ریاستی کنٹرول میں ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض دھڑوں کو ٹی ٹی اے بطور پراکسی استعمال کر سکتی ہے۔
ٹی ٹی پی کے اندر اس وقت اتحادالمجاہدین، ٹی ٹی پی اور احرارالپاکستان کے علاوہ دیگر غیر معروف گروہ بھی سطح پر موجود ہیں۔ ان میں اتحاد المجاہدین پاکستان خاص طور پر قابلِ توجہ ہے، جو اپریل 2025ء میں قائم ہوا اور جس کی قیادت حافظ گل بہادر کو کرنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ جولائی 2024ء میں بنوں چھاؤنی پر حملہ بھی انہی کے گروہ سے منسوب کیا گیا۔ یعنی جس گروہ سے ریاست نے کبھی امن معاہدہ کیا تھا، آج اسی کا نام ریاستی تنصیبات پر حملوں میں لیا جاتا ہے۔ انہیں یکسر ریاستی اداروں کے کنٹرول میں قرار دینا، یا پھر ریاستی کنٹرول سے مکمل طور پر آزاد کہنا، دونوں قیاس آرائیاں قبل از وقت ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان حملوں کی نوعیت، یعنی پولیس اور لیویز فورس کا زیادہ نشانہ بننا اور سابقہ فاٹا کے چند علاقوں میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ ملنا، عوامی شکوک و شبہات کو تقویت دیتی ہے۔ یہ درست ہے کہ پولیس اور لیویز کی چیک پوسٹوں کے ساتھ ساتھ فوج پر بھی حملے ہوتے ہیں، مگر ان حملوں کی اکثریت پولیس اور لیویز کی چیک پوسٹوں پر ہی ہوتی ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں اس پورے معاملے میں پولیس کی جانب سے فوج پر بھروسے کے فقدان کا اظہار سامنے آیا ہے اور پولیس کئی بار اس پر احتجاج بھی کر چکی ہے۔
دہشت گردی اور سیاسی پارٹیاں
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا میں، دہشت گردی کے سوال پر سیاسی پارٹیاں ڈھکے چھپے الفاظ میں مذمت تو کرتی ہیں۔ البتہ ایک مخصوص وقت میں چند سیاسی پارٹیوں، یعنی قوم پرست جماعتوں، نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی اور اس وقت تک ان کی عوامی بنیادیں بھی موجود تھیں۔ مگر دہشت گردی کے خلاف ان کا مؤقف کسی نظریاتی پروگرام کی بجائے اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے جذباتی قوم پرستی پر قائم تھا، جس کی وجہ سے وہ دہشت گردی کی بنیادوں کو ختم کرنے میں ناکام رہیں۔ اگرچہ ان پارٹیوں نے بے تحاشا قربانیاں بھی دیں، مگر دہشت گردی کا عفریت برقرار رہا۔
پھر حالات بدلے۔ 2008ء کے عالمی بحران اور امریکی سامراج کے موجودہ نسبتی زوال کے آغاز نے سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کا آغاز کیا اور یہی عمل پوری دنیا میں تحریکوں کی بنیاد بھی بنا۔ امریکہ خود بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا، جہاں وال اسٹریٹ کی مشہور احتجاجی تحریک ”آکوپائی وال اسٹریٹ“ نے سرمایہ دارانہ نظام کی عدم مساوات کو چیلنج کیا۔ یوں بحران اور تحریکیں ایک ہی عمل کے دو مختلف اظہار کے طور پر سامنے آئیں، جن کا ایک اظہار ہم عرب سپرنگ کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس کا اظہار فوری اور کھلی عوامی تحریک کی شکل میں تو نہیں ہوا، مگر اس عالمی بحران اور بیداری کے اثرات سے یہاں بھی سیاسی پارٹیوں کی عوامی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو گئیں۔ لوگوں کا روایتی سیاست پر اعتماد کم ہوتا گیا اور ایک مختصر عرصے میں یہ پارٹیاں ہوا میں معلق ہو کر اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیاں ڈھونڈنے پر مجبور ہو گئیں۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ بعد کے برسوں میں جو عوامی تحریکیں ابھریں، وہ روایتی سیاسی پارٹیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے سامنے آئیں۔ خیبرپختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ اور ”اولسی پاسون“، گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی، نام نہاد ”آزاد“ کشمیر میں جاری تحریک کی قیادت کرنے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سندھ میں چھ نہروں کے خلاف اٹھنے والی تحریک اسی رجحان کی علامت ہیں۔ پاکستان میں بعض پارٹیاں، بالخصوص پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این، ایسی بھی ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ نے ایک عرصے میں خود بنایا اور ہائبرڈ رجیم کے تحت برسرِ اقتدار رکھا اور ضرورت پڑنے پر انہیں نکال بھی دیا۔ وہ مزاحمت اس لیے نہیں کر سکتی تھیں کہ ان کے پاؤں ہوا میں تھے۔
اس پورے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت کوئی سیاسی پارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے۔ درحقیقت اینٹی اسٹیبلشمنٹ صرف وہ چند عوامی تحریکیں ہیں جنہوں نے اب تک اس غلیظ سیاست سے دوری اختیار کیے رکھی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی جب باری آتی ہے تو ریاستی دھڑے بندیوں کے آپسی تضادات کے ساتھ مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان جو تناؤ دیکھنے میں آتا ہے، وہ درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کی دھڑے بندیوں ہی کا کمال ہے۔ اس وقت ریاستی دھڑے بندیوں میں برسرِ اقتدار دھڑے نے اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں مرتکز کرنے کے لیے پرانا روایتی طریقہ کار چھوڑ دیا ہے اور مخالف ریاستی دھڑے کو زیرِ عتاب رکھا ہوا ہے۔ مگر وہ دھڑا اب تک مکمل ختم نہیں ہو سکا اور اسٹیبلشمنٹ کے اندر لڑائیاں جاری ہیں۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ کے اندر اس تناؤ اور مخالفت کی بنیاد محض مال بٹورنے، پیسہ بنانے اور لوٹ مار پر ہے، اس میں کوئی نظریاتی اختلاف موجود نہیں۔
2024ء کے انتخابات پاکستانی تاریخ کے اب تک کے بدترین انتخابات رہے ہیں۔ ان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو پورے ملک میں پاپولسٹ ووٹ ملا تھا، مگر صرف خیبرپختونخوا کو لیبارٹری کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو وہاں حکومت بنانے کی اجازت دی گئی تاکہ لوگوں کا غصہ زائل ہو سکے۔

یہاں ایک چیز کا ذکر بہت ضروری ہے کہ اس وقت ریاستِ پاکستان، بالخصوص اسٹیبلشمنٹ، کی ساکھ نام نہاد عالمی برادری اور بالخصوص امریکہ بہادر کی نظر میں نظریہ ضرورت کے تحت کچھ بہتر ہوئی ہے۔ ایک طرف پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ جنگ میں نام نہاد جیت اور ٹرمپ کی انڈیا کے خلاف ہرزہ رسائی کے تحت جنگی طیاروں کی تعداد میں اضافے نے ان کے غرور کو مزید مضبوط کیا۔ پھر امریکی سامراج کے کہنے پر غزہ بورڈ آف پیس کی رکنیت کے موقع پر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ اس کے علاوہ امریکی سامراج کے نسبتی زوال کے نتیجے میں خطے میں بننے والے نئے اتحادی بلاک، یعنی سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ پاکستان کے اتحاد، نے بھی اس میں کردار ادا کیا۔ ان عوامل کے نتیجے میں اب اسٹیبلشمنٹ کا برسرِ اقتدار دھڑا خود کو زمینی خدا سمجھنے لگا ہے، جس کی آڑ میں پورے ملک میں عوامی مزاحمت پر قدغن لگائی جا رہی ہے، جمہوری آوازوں پر پابندیاں ہیں اور بزورِ طاقت سب کو سجدہ ریزی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے خلاف اس وقت کوئی سیاسی آواز مذکورہ پارٹیوں کی شکل میں موجود نہیں۔ جو آوازیں دبی ہوئی ہیں یا مستقبل میں اٹھیں گی، وہ ان سیاسی رجحانات کو بائی پاس کرتے ہوئے ہی اٹھیں گی، جیسا کہ پہلے بھی اٹھ چکی ہیں۔ تاہم مستقبل کی آوازوں میں محنت کش طبقے کی ممکنہ تحریکوں کی اٹھان کو کسی بھی صورت خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دہشت گردی پر نیا ریاستی پروپیگنڈا
اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے چند چہیتوں کی جانب سے اس دہشت گردی، یعنی فرینکنسٹائن، کے بارے میں انتہائی بدبودار اور غلیظ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ دہشت گردی پشتون قوم کے آپسی قبائلی تنازعات کا شاخسانہ ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، جس کا اوپر مفصل ذکر کیا جا چکا ہے۔ اس پروپیگنڈے کے ذریعے پنجابی اشرافیہ کے کرائے کے دلال محنت کش عوام کے درمیان نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ اب بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے اور پنجاب کے محنت کش عوام بھی ریاستی بربریت کی پالیسیوں سے آشنا ہونے لگے ہیں۔
ایک وقت تھا جب ریاست پنجابی محنت کش طبقے کو ملک کے دیگر محنت کش عوام، دہشت گردی کے عفریت اور مظلوم اقوام کی تحریکوں سے کاٹ کر رکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اب یہ صلاحیت معدوم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ ریاست کے پاس اب وہ معاشی، اخلاقی، سیاسی اور سب سے بڑھ کر ریاستی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ اسی لیے وہ اب گھٹیا ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، جہاں وہ پنجابی قوم کو مہذب اور باقی اقوام کو غیر مہذب دکھانے میں مگن ہے۔ ان ہتھکنڈوں کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی تحریک اٹھتی ہے تو اسے قومی، لسانی اور دیگر بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تیاری ابھی سے شروع کر دی جائے۔ یوں ریاست محنت کش عوام کی ممکنہ یکجہتی کو پیشگی طور پر کمزور کرنا چاہتی ہے، تاکہ کوئی بھی تحریک ابھرتے ہی نفرتوں اور تعصبات کی نذر ہو جائے۔
حل کیا ہے؟
دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے، وہ سیاسی پارٹیاں جو دہشت گردی کی مخالف تھیں یا اب بھی ہیں، اس کا صفایا اس لیے نہیں کر سکتیں کہ ان کے پاس اسے ختم کرنے کا کوئی متبادل نظریاتی پروگرام موجود نہیں۔ بطور انقلابی کمیونسٹ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی، بدامنی، غربت، بے روزگاری، ظلم، جبر، بربریت اور تمام غیر انسانی رویوں اور جرائم کی جڑیں اسی نظام، یعنی سرمایہ دارانہ نظام، کے اندر پیوست ہیں۔ ہم دہشت گردی کے اس مخصوص مسئلے پر بارہا تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور ہمارا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ اس نظام کے اندر چہروں کی تبدیلی، طرزِ حکومت کی تبدیلی یا دیگر اصلاحات کے ذریعے ناممکن ہے۔ مسئلے کا حل اس نظام کے خاتمے سے جڑا ہے۔

تاہم ہم صرف یہیں نہیں رکتے، بلکہ موجودہ حالات میں دہشت گردی کا مقابلہ عوام کی منظم قوت کے ذریعے کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے محنت کش طبقے کی قیادت میں فی الفور عوامی جمہوری دفاعی کمیٹیوں کا قیام ضروری ہے، جنہیں کھیتوں، کھلیانوں، کارخانوں، عوامی اداروں، گلی کوچوں، محلوں، دیہاتوں، یونین کونسلوں، تحصیلوں اور اضلاع کی ٹھوس بنیادوں پر تعمیر کرنا ناگزیر ہے۔ یہ کمیٹیاں کسی بھی صورت نام نہاد ریاستی امن کمیٹیوں جیسی نہیں ہوں گی، بلکہ ان سے یکسر مختلف ہوں گی، کیونکہ جو امن کمیٹیاں اس وقت موجود ہیں یا بنائی جا رہی ہیں، ان میں وہی عناصر شامل ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح دہشت گردی سے تعلق رہا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کی لڑائی کو اس نظام کے دیے ہوئے دیگر مسائل، یعنی غربت، بے روزگاری، وسائل کی لوٹ مار، مہنگائی اور جبر کی ہر قسم کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس نظام کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔ اس لڑائی کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لیے ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر اتنی ہی ضروری ہے جتنی زندہ رہنے کے لیے آکسیجن۔ لہٰذا ہم خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر کے تمام نوجوانوں، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور بالخصوص محنت کشوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور اس انقلابی متبادل کی تعمیر میں ہمارا ساتھ دیں، تاکہ نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہو، بلکہ دہشت گردی سمیت ان تمام جرائم کی جڑ، یعنی سرمایہ دارانہ نظام، کو اکھاڑ کر ایک سوشلسٹ سماج کی تعمیر ممکن بنائی جا سکے۔ یہی واحد راہِ نجات ہے، اس کے علاوہ جتنے بھی راستے ہیں وہ بند گلی کی طرف جاتے ہیں۔ بقولِ ایک انقلابی رہنما، انسانیت کے پاس دو ہی راستے ہیں: سوشلزم یا بربریت۔