امریکی سامراج کے سیاہ جرائم کی داستان

|تحریر: ثاقب اسماعیل|

امریکی سامراج جدید تاریخ کی سب سے بڑی رجعتی قوت ہے۔ پچھلی آٹھ دہائیوں سے دنیا میں ہونے والی زیادہ تر خونریزی، جنگ و جدل، خانہ جنگی، دہشت گردی اور دیگر انسانیت سوز واقعات کا سلسلہ بالآخر امریکی سامراج سے جا کر جڑتا دکھائی دیتا ہے اور امریکی سامراج کے ان اقدامات میں یورپی سامراجی قوتیں بھی بھرپور حصہ لیتی رہی ہیں۔ وسائل پر قبضے، حکومتوں کی تبدیلیاں، دیگر ممالک کے سربراہان کو اغوا کرنا، ناکہ بندیاں، اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جانا، یقیناً یہ الفاظ پڑھ کر آپ کے ذہن میں موجودہ امریکہ کا تصور آیا ہو گا مگر امریکی سامراج کی یہ حرکات کوئی آج کی بات نہیں ہیں۔ اس کی گزشتہ دو سو سال کی تاریخ اس طرح کے جرائم سے بھری پڑی ہے۔ ٹرمپ سے پہلے کے امریکی صدور بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں، کیونکہ ان اقدامات کے پیچھے ہمیشہ امریکی کمپنیوں اور بینکوں کے مفادات کار فرما رہے ہیں، جنہیں اپنی لوٹ مار کے لیے نئی منڈیاں درکار ہوتی ہیں۔

جیسا کہ 1898ء میں امریکی سینیٹر البرٹ جے بیورِج نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: ”امریکی فیکٹریاں اس سے زیادہ پیداوار کر رہی ہیں جتنی امریکی عوام استعمال کر سکتے ہیں اور امریکی زمین اس سے زیادہ پیدا کر رہی ہے جتنا وہ خود کھا سکتے ہیں، تقدیر نے ہمارے لیے ہماری پالیسی لکھ دی ہے۔ دنیا کی تجارت ہماری تھی، ہماری ہے اور ہماری رہے گی۔“ اب آپ دنیا بھر میں امریکی سامراج کے ان اقدامات کے پیچھے موجود وجوہات اور محرکات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

ویسے تو 1846ء میں ہی امریکی سامراج نے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت اپنے سے کمزور ملک میکسیکو پر حملے کرتے ہوئے کیلیفورنیا، ٹیکساس اور دیگر علاقوں کو جبراً امریکہ کا حصہ بنایا جس میں 25 ہزار میکسیکن جبکہ 13 ہزار 283 امریکی مارے گئے، امریکی فوجیوں نے اس دوران میکسیکو میں عام لوگوں کے خلاف بدترین جبر روا رکھا۔ اسی طرح 1898ء میں ہسپانوی-امریکی جنگ جس میں سپین کے زیر قبضہ فلپائن، کیوبا، پورٹو ریکو اور گوام کو سپین سے آزادی دلانے کے نام پر امریکہ نے حملہ کرتے ہوئے سپین سے ”آزادی“ تو دلا دی مگر پھر خود ان کالونیوں کا مالک بن بیٹھا اور ان کالونیوں پر سپین سے زیادہ ظالمانہ اور جابرانہ تسلط قائم کیا۔ پھر جب فلپینیوں نے امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت کی تو بدترین جبر روا رکھا گیا۔ فلپائن میں سامراجی بربریت کی وہ داستان رقم کی گئی جس کی اس وقت سے پہلے تاریخ میں شاید مثال نہ ملے، 55 سال تک امریکہ کا قبضہ جاری رہا۔ کیوبا 1902ء میں براہ راست امریکی کنٹرول سے تو نکل گیا مگر 1959ء کے انقلاب تک عملاً امریکہ کی نو آبادی ہی رہا۔ گوام اور پورٹو ریکو آج بھی امریکی قبضے میں ہیں۔

کیوبا 1902ء میں براہ راست امریکی کنٹرول سے تو نکل گیا مگر 1959ء کے انقلاب تک عملاً امریکہ کی نو آبادی ہی رہا۔ گوام اور پورٹو ریکو آج بھی امریکی قبضے میں ہیں۔

بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ اپنی فوجی مداخلتوں اور قبضوں کا نشانہ ڈومینیکن ریپبلک، نکاراگوا، ہونڈوراس، ہیٹی اور دیگر ملکوں کو بناتا ہے۔ 1903ء میں بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کو ملانے کے لیے، تاکہ امریکی تجارتی راستہ آسان ہو اور ایشیا اور لاطینی امریکہ تک رسائی ہو سکے اور فوج کی بحری نقل و حرکت بھی آسان ہو، امریکہ نے کولمبیا کے علاقے پاناما میں مصنوعی نہر بنانے کے لیے پاناما کی کولمبیا سے علیحدگی کی حمایت کی کیونکہ کولمبیا نے یہ نہر بنانے کی اجازت نہیں دی تھی، جس کے بعد پاناما ایک الگ ملک بنا اور پھر نہرِ پانامہ تعمیر ہوئی۔ اسی طرح یونائیٹڈ فروٹ کمپنی کی لوٹ مار کو تحفظ دینے کے لیے 1928ء میں کولمبیا کی آرمی نے امریکی ”حکم نامے“ پر ہڑتال کرنے والے مزدوروں پر سیدھا فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 1000 سے 3000 ہزار تک مزدور اور ان کے خاندانوں کے افراد مارے گئے تھے۔ لاطینی امریکہ میں اس کمپنی کی لوٹ مار کی ایک پوری تاریخ ہے۔

اسی دوران پہلی عالمی جنگ کے اواخر میں روس میں سوشلسٹ انقلاب اور بعد ازاں یورپ کے دیگر حصوں میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں سے خوفزدہ ہو کر، کہ کہیں یہ تحریکیں امریکہ تک نہ پھیل جائیں، ”جمہوریت پسند“ اور اظہارِ رائے کی آزادی کے دعویدار امریکہ نے سیاسی آزادیوں پر شدید قدغنین لگائیں۔ مزدور یونینز اور بائیں بازو کے کارکنان کے خلاف بدترین سیاسی جبر روا رکھا گیا۔ یہ امریکی سامراج کے جرائم کی دوسری عالمی جنگ سے قبل کی مختصر تاریخ ہے۔ اب ہم دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی سامراج کے انسانیت سوز جرائم کا تفصیلی جائزہ لینے کی کوشش کریں گے، جب برطانوی سامراج کے زوال کے بعد امریکہ اس کی جگہ دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت بن کر ابھرا۔

ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملے

آج ایران پر حملہ آور امریکی سامراج نے اس جارحیت کے حق میں یہ جواز تراشا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب ہے اور دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ دنیا میں صرف ایک ہی ملک ایسا ہے جس نے کسی دوسرے ملک پر ایٹم بم گرائے ہیں اور وہ امریکہ ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتامی مراحل میں 6 اگست 1945ء کو امریکہ نے جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا، جس کے نتیجے میں فوری طور پر تقریباً 70 ہزار افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 1945ء کے اختتام تک جن میں جلنے، زخمی ہونے اور تابکاری سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات بھی شامل تھیں، مرنے والوں کی مجموعی تعداد تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی۔

اس کے تین دن بعد ایک اور جاپانی شہر ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا گیا، جس کے نتیجے میں فوری طور پر تقریباً 40 ہزار افراد مارے گئے، جبکہ بعد ازاں مجموعی اموات 80 ہزار سے تجاوز کر گئیں۔ ہم اس حملے کے پسِ منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گو کہ کمیونسٹ کسی بھی جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ کبھی نہیں دیکھتے کہ پہلا گولا کس نے چلایا کیونکہ سامراجی طاقتیں ہمیشہ اس حوالے سے کوئی نہ کوئی جواز گھڑ لیتی ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتامی مراحل میں 6 اگست 1945ء کو امریکہ نے جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا، جس کے نتیجے میں فوری طور پر تقریباً 70 ہزار افراد ہلاک ہو گئے۔

مختلف سامراجی قوتوں کے درمیان نوآبادیات پر قبضے اور منڈیوں تک رسائی کے لیے لڑی جانے والی دوسری عالمی جنگ میں کروڑوں عام لوگ مارے گئے تھے۔ برطانوی سامراج اس وقت ایک زوال پذیر سامراجی طاقت تھا، جبکہ امریکہ اس کی جگہ لے رہا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں امریکی صدر نے جنگ میں نہ کودنے کا اعلان کیا تھا کیونکہ امریکی عوام میں اس کی حمایت نہیں تھی، مگر دنیا کی ابھرتی ہوئی نئی سامراجی طاقت امریکہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس سے دور رہے۔ امریکی صدر روزویلٹ نے 1935ء میں ایک تقریر میں کہا تھا: ”اگر امریکہ اپنے لوگوں کے لیے مضبوط اور دیرپا خوشحالی واپس لانا چاہتا ہے، تو اسے بیرونی ممالک کی منڈیوں پر دوبارہ اپنا کنٹرول حاصل کرنا ہو گا۔“

ایشیا اور لاطینی امریکہ میں جاپان اور جرمنی کا بڑھتا اثر و رسوخ، خصوصاً بحر الکاہل اور ایشیا میں امریکہ اور جاپان کے تجارتی مفادات کا فیصلہ کن ٹکراؤ اور دنیا پر اپنی برتری ثابت کرنا، ان وجوہات کی بنا پر روزویلٹ کی شدید خواہش تھی کہ وہ اس جنگ میں کودے۔ چونکہ امریکی عوام میں بیرونی جنگیں لڑنے کی کوئی حمایت نہیں تھی اس لیے کسی جواز کے بغیر جنگ میں جانا ممکن نہیں تھا اور یہی وجہ ہے روزویلٹ نے جاپان کو پرل ہاربر پر حملے کے لیے ارادتاً دھکیلا۔

پرل ہاربر کے واقعے سے ایک سال پہلے امریکہ نے جاپان کو تیل اور فولاد جیسے اہم وسائل کی فروخت سے انکار کر دیا تھا اور دیگر ذرائع سے ان کے حصول میں بھی بحری رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دی تھیں۔ ان پابندیوں نے جاپان میں جنگ کے حامی طبقے کو اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے۔ اس جنگی گروہ نے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اقتصادی وسائل حاصل کر سکیں جن سے انہیں امریکہ نے محروم کر دیا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس کو اس حملے سے پہلے جاپانی منصوبہ بندی کا بڑی حد تک اندازہ ہو گیا تھا مگر حیران کن طور پر اس خطرے سے نپٹنے کے لیے کوئی ہنگامی اقدامات نہیں کیے گئے۔ یوں پرل ہاربر پر جاپانی حملے کے بعد امریکہ کو اس جنگ میں کودنے کا مضبوط جواز مل گیا۔

امریکی سامراج نے اپنے اس بھیانک جرم، جو اس نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں سر انجام دیا، اس کی مضحکہ خیز ”وضاحت“ یہ دی کہ یہ اس لیے ضروری تھا کہ جاپان ہتھیار ڈالے اور جنگ کا فوری خاتمہ ہو۔ مگر 1946ء میں امریکہ کی جانب سے تیار کردہ ایک رپورٹ، جس کا نام ”Strategic Bombing Survey in Japan“ تھا، کے مطابق جنگ جیتنے کے لیے ایٹمی حملے ضروری نہیں تھے۔ اس رپورٹ کو تیار کرنے کے لیے جاپانی سویلین اور فوجی رہنماؤں سے انٹرویوز لیے گئے اور مختلف دستاویزات و مراسلات کا جائزہ بھی لیا گیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے: ”حقائق کی تفصیلی تحقیق اور اس میں زندہ بچ جانے والے جاپانی رہنماؤں کی شہادت کی بنیاد پر، سروے کی رائے یہ ہے کہ یقیناً 31 دسمبر 1945ء سے پہلے اور غالب امکان کے ساتھ 1 نومبر 1945ء سے بھی پہلے، جاپان ہتھیار ڈال دیتا، چاہے ایٹم بم نہ بھی گرائے گئے ہوتے، چاہے روس جنگ میں داخل نہ بھی ہوا ہوتا اور چاہے کسی حملے کا کوئی منصوبہ بنایا یا زیر غور نہ بھی ہوتا۔“

جنگ کے اختتامی مراحل میں نازی افواج کو شکست دیتے ہوئے سوویت یونین مشرقی یورپ کی طرف بڑھ رہا تھا اور امریکہ کے مقابلے کی طاقت بن گیا تھا۔ صرف اور صرف سوویت یونین کو دھمکانے اور اس کے سامنے اپنی طاقت منوانے کے لیے یہ ایٹمی حملے کیے گئے تھے۔ یہ وہ اصل وجہ ہے جس بنا پر 2 لاکھ سے زائد عام انسانوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا۔ یوں اپنے سامراجی تسلط کے تحفظ کے لیے ایٹم بموں کا استعمال جو کہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جرم ہے، امریکی سامراج کے سر جاتا ہے۔

ویت نام جنگ

امریکہ سامراج کی جابرانہ تاریخ کی انتہا ہمیں ویت نام جنگ میں نظر آتی ہے اور یہ وہ پہلی جنگ تھی جس میں امریکہ نے بربریت کا ہر ہتھیار استعمال کیا لیکن پھر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1972ء میں مارکسی رہنما ٹیڈ گرانٹ ویت نام جنگ سے متعلق ایک آرٹیکل میں لکھتا ہے کہ: ”جیت حاصل کرنے کی شدید خواہش میں انہوں (امریکہ) نے جنگ کو ہر بار پہلے سے زیادہ خطرناک اور خوفناک بنا دیا، ایک وقت ایسا بھی آیا جب ویتنام میں تقریباً 6 لاکھ امریکی اور اتحادی فوجی موجود تھے۔ انہوں نے 20 لاکھ سے زیادہ ویتنامی لوگوں کو قتل کیا، جو شمالی اور جنوبی ویتنام کی مشترکہ آبادی کے ہر 17 افراد میں سے تقریباً 1 فرد بنتا ہے۔ امریکہ صرف ویتنام جنگ پر ہی ہر سال 9 ارب پاؤنڈ سے زیادہ خرچ کر رہا تھا، جو برطانوی سرمایہ دارانہ نظام کے پورے فوجی بجٹ سے تین گنا زیادہ تھا۔ انہوں نے جنگ کی تاریخ کے سب سے ہولناک ہتھیار استعمال کیے، یہاں تک کہ اگر ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹمی بموں کو بھی شامل کیا جائے۔ شمالی ویتنام پر مسلسل اور اندھا دھند بمباری میں اتنے دھماکہ خیز مواد استعمال کیے گئے جتنے ایٹمی بموں میں ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر شمالی اور جنوبی ویتنام پر گرائے گئے دھماکہ خیز مواد کی مقدار ایک ہزار ہیروشیما بموں کے برابر تھی۔ برطانیہ سے کچھ ہی بڑا ایک ملک، یعنی ویتنام، پر اتنے زیادہ بم گرائے گئے جتنے دوسری عالمی جنگ میں تمام متحارب ممالک پر ملا کر بھی نہیں گرائے گئے تھے۔“

امریکہ سامراج کی جابرانہ تاریخ کی انتہا ہمیں ویت نام جنگ میں نظر آتی ہے اور یہ وہ پہلی جنگ تھی جس میں امریکہ نے بربریت کا ہر ہتھیار استعمال کیا لیکن پھر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹیڈ اسی آرٹیکل میں مزید لکھتا ہے کہ: ”امریکی سامراجی طاقتیں شمالی ویتنام پر شدید اور بے رحمانہ بمباری کر کے اسے مجبور کرنا چاہتی ہیں کہ وہ کسی طرح سمجھوتہ کر لے۔ ان کے ایک جنرل نے یہاں تک کہا تھا کہ وہ ’شمالی ویتنام کو پتھر کے زمانے میں واپس پہنچا دیں گے‘، یعنی وہ ملک کو مکمل طور پر تباہ کر دینا چاہتے تھے۔ وہ منظم طریقے سے ویتنام کی معیشت اور عام زندگی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے موسم کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی تاکہ بعض علاقوں میں مصنوعی سیلاب پیدا کیا جا سکے۔ شمالی ویتنامی حکومت کے مطابق، امریکہ ان بندوں پر بھی بمباری کر رہا تھا جو پانی اور سیلاب کو روکنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ اگر یہ بند ٹوٹ جاتے تو بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتا تھا اور لاکھوں لوگوں کی جان جا سکتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ میں نازیوں نے ہالینڈ میں بھی ایسا ہی کیا تھا اور اسی وجہ سے نورمبرگ ٹرائلز میں ان پر جنگی جرائم کے مقدمات چلائے گئے تھے“۔

امریکی فوج نے جنگ کے دوران نیپالم (Napalm) اور ایجنٹ اورنج (Agent Orange) جیسے کیمیائی مادّے استعمال کیے۔ نیپالم پہلے شعلہ پھینکنے والے ہتھیاروں میں استعمال ہوتا تھا، مگر بعد میں اسے طیاروں کے ذریعے بموں کی شکل میں گرایا جانے لگا۔ یہ مادّہ شدید آگ بھڑکا دیتا تھا جو متاثرہ علاقے میں موجود انسانوں، گھروں، جنگلات اور ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیتی تھی۔ ایجنٹ اورنج ایک کیمیائی نباتات کش مادّہ تھا جسے جنگلات کے وسیع علاقوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ ویت کانگ (کمیونسٹ گوریلا فوج) کے جنگجوؤں کی چھپنے کی جگہیں ختم کی جا سکیں۔ تاہم اس کے اثرات نہایت خطرناک ثابت ہوئے۔ یہ مادّہ طویل عرصے میں کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا تھا اور اس کے اثر میں آنے والے بہت سے ویتنامی شہری اور امریکی فوجی بعد میں کینسر سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔

فرانسیسی سامراج کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے بعد امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ ویتنام میں کمیونسٹ اقتدار میں آ جائیں۔ کیونکہ اس وقت ہو چی من کی قیادت میں ویت نامی کمیونسٹ پارٹی باغی گوریلاؤں کی قیادت کر رہی تھی جو کہ ایک سٹالنسٹ پارٹی تھی۔ اس پارٹی کے اقتدار میں آ جانے کا واضح مطلب تھا سوویت یونین کے اثر و رسوخ کا بڑھ جانا۔ چین میں بھی 1949ء میں انقلاب آ گیا تھا۔ امریکی بربریت کے خلاف ویت نامی مزدوروں اور کسانوں نے انتھک اور جرات مندانہ بغاوت کی لازوال تاریخ رقم کی لیکن اس کے ساتھ امریکہ کے اپنے اندر بھی ایک بہت بڑی جنگ مخالف تحریک ابھری۔ جیسے جیسے ویت نام میں امریکی حملوں میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے امریکہ میں اس کے خلاف احتجاجی تحریک بڑھتی گئی۔ 1965ء کے اوائل میں، جب بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی سٹوڈنٹس ڈیموکریٹک سوسائٹی نے احتجاجی مظاہرے کی کال دی تو واشنگٹن میں 25 ہزار افراد جمع ہوئے جو کہ توقعات سے بڑھ کر تھے اسی طرح نیویارک میں 20 ہزار اور برکلے کیلیفورنیا میں 15 ہزار افراد جنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اپریل 1967ء میں، نیویارک میں ایک اور احتجاجی مظاہرہ ہوا اور اب مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد 3 لاکھ تھی۔ ان دنوں میں 15 اکتوبر 1969ء وہ دن تھا جب وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، ایک اندازے کے مطابق کسی نہ کسی صورت میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگ مختلف قسم کی جنگ مخالف سرگرمیوں میں شامل تھے۔ ان سرگرمیوں میں احتجاجی مظاہرے، دھرنے، تعلیمی نشستیں جن کو ٹیچ اِنز (Teach-ins) کہا جاتا تھا جب طلبہ کسی جگہ پر اکٹھے ہوتے اور ویت نام کی تاریخ اور جنگ کی وجوہات اور اس کے خاتمے کے لیے کیسے جدوجہد کی جائے، جیسے موضوعات پر نشستیں رکھتے تھے، اسی طرح دیگر منظم سرگرمیاں کی گئیں۔ کچھ اور اقدامات بھی تھے جیسے شمع روشن کرنا یا گاڑیوں کی ہیڈلائٹس آن چھوڑ دینا۔

سب سے بڑے مظاہرے 24 اپریل 1971ء کو ہوئے۔ سان فرانسسکو میں تقریباً 3 لاکھ لوگ اکٹھے ہوئے، جبکہ واشنگٹن میں 5 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار لوگ جمع ہوئے۔ یہ شاید اس وقت تک کی امریکہ کی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مظاہرے تھے۔ امریکی محنت کشوں نے اس دوران تواتر کے ساتھ ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھا جس میں ٹرانسپورٹ اور تعمیرات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے محنت کش سب سے آگے تھے۔ اس دوران امریکی فوج، جس میں محنت کش طبقے کے گھرانوں اور خصوصاً سیاہ فاموں کو جبراً بھرتی کیا گیا تھا، مسلسل حوصلہ ہارتی رہی، کیونکہ امریکی حکمران طبقے کے جھوٹ جب بے نقاب ہوتے گئے اور سپاہیوں کو احساس ہوتا گیا کہ وہ ناانصافی پر مبنی جنگ لڑ رہے ہیں اور گھر میں یعنی امریکہ میں بھی اس کی حمایت نہیں، ایسے میں اس فوج سے مزید جنگ لڑوانا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ یوں امریکہ کو بالآخر اس جنگ میں ایک ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

لاطینی امریکہ

لاطینی امریکہ میں پچھلی صدی امریکی فوجی مداخلتوں کی تاریخ سے بھری پڑی ہے اور بیشتر فوجی مداخلتیں امریکی کمپنی یونائیٹڈ فروٹ کے مفادات کو بچانے کے لیے کی گئیں۔ 1954ء میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی کے کہنے پر گوئٹے مالا کے جمہوری طور پر منتخب صدر جیکوبو آربینز کے خلاف فوجی کُو کروا کے اس کی حکومت گرا دی گئی۔

اربینز زرعی اصلاحات (Land Reform) پر عمل کر رہا تھا۔ اس نے 4 لاکھ ایکڑ غیر کاشت شدہ نجی زمین کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا، جس کا زیادہ تر حصہ یونائیٹڈ فروٹ کمپنی کی ”ملکیت“ تھا۔ فوجی کُو کے بعد ان کی جگہ امریکہ کے حمایت یافتہ دائیں بازو کے کرنل کاسٹیلو آرماس کو اقتدار میں لایا گیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اس کی فوجی حکومت نے اربینز کی زرعی اصلاحات ختم کر دیں اور تقریباً پانچ لاکھ کسانوں کو ان زمینوں سے بے دخل کر دیا جو انہیں اصلاحات کے تحت ملی تھیں۔

لاطینی امریکہ میں پچھلی صدی امریکی فوجی مداخلتوں کی تاریخ سے بھری پڑی ہے اور بیشتر فوجی مداخلتیں امریکی کمپنی یونائیٹڈ فروٹ کے مفادات کو بچانے کے لیے کی گئیں۔

اسی طرح امریکی سرپرستی میں گوئٹے مالا کے عوام کے لیے ایک ایسا خوفناک دور شروع ہوا جو آج تک مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ امریکی آشیرباد کے ساتھ وہاں کی فوجی حکومت نے ”وائٹ ٹیرر“ (White Terror) کا آغاز کیا، جس کے دوران سینکڑوں بائیں بازو کے کارکنوں، مزدور یونین کے رہنماؤں اور کسانوں کو قتل کر دیا گیا۔ گوئٹے مالا اور پورا وسطی امریکہ عدم استحکام اور بدامنی کا شکار ہو گیا۔ کاسٹیلو آرماس کو تین سال بعد نامعلوم حملہ آوروں نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد گوئٹے مالا کئی سال تک خانہ جنگی میں مبتلا رہا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نسل کشی جیسے مظالم ہوئے۔ یہاں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی حکومت کس حد تک یونائیٹڈ فروٹ جیسی بڑی کارپوریشنز کے اثر میں تھی اور یہ بھی کہ امریکی خارجہ پالیسی کس حد تک بڑی کاروباری مفادات کے زیرِ اثر طے کی جاتی ہے۔

اسی طرح 1960ء اور پھر 1963ء ایکواڈور میں سی آئی اے وہاں ہونے والی فوجی بغاوتوں میں شامل تھی۔ 1964ء میں برازیل میں سوشل ڈیموکریٹک صدر گولارٹ کے خلاف ہونے والے فوجی کُو کی بھی حمایت کی گئی۔ 1971ء میں بولیویا میں دائیں بازوں کے فوجی افسران کے کُو کی حمایت کی۔ 1976ء میں ارجنٹائن میں فوجی کُو کی حمایت کی۔ پھر 1989ء میں پاناما میں ایک بار پھر فوجی مداخلت کی اور اس وقت کے صدر کو ”گرفتار“ کر کے امریکہ لے گئے اور پھر 1994ء میں ہیٹی میں فوجی مداخلت کی۔ لاطینی امریکہ میں مداخلتوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے، رواں سال کے آغاز میں وینزویلا کے صدر مادورو اور اس کی بیوی کو راتوں رات اغوا کر لیا گیا۔ اسی طرح کیوبا کی بحری ناکہ بندی کی گئی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی دی گئی غربت، بے روزگاری اور ذلت سے تنگ چِلی کی عوام جب بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے سلواڈور الاندے کو منتخب کرتے ہیں تو امریکہ کے لیے یہ کہاں قابل قبول تھا۔ 11 ستمبر 1973ء میں امریکہ کی ”خفیہ“ حمایت کے ساتھ بغاوت کرنے والے فوجی جرنیلوں نے صدارتی محل پر حملہ کیا، جس کے دوران جمہوری طور پر منتخب صدر سلواڈور آلاندے ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد جنرل پنوشے کی فوجی حکومت نے ملک پر سخت آمرانہ کنٹرول قائم کر لیا۔ ہزاروں شہریوں کو گرفتار کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، بہت سے افراد کو قتل کیا گیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو جلاوطنی پر مجبور ہونا پڑا۔ امریکی کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پنوشے کی حکومت کے جبر کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 ہزار تھی۔ 28 ہزار افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، 2279 افراد کو سزائے موت دی گئی اور مزید 1248 افراد لاپتہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ تقریباً 2 لاکھ افراد کو جلاوطنی پر مجبور کیا گیا۔

انڈونیشیا

انہی سالوں میں جب ویت نام میں امریکی سفاکیت جاری تھی، انڈونیشیا میں بھی بیسویں صدی کا بدترین قتلِ عام جاری تھا۔ انڈونیشین کمیونسٹ پارٹی (PKI)، جس کے 1965ء میں تیس لاکھ ممبران اور ایک کروڑ ہمدرد تھے، کے لاکھوں ممبران اور ہمدردوں کو بھرپور امریکی آشیرباد کے ساتھ چن چن کر قتل کر دیا گیا۔

امریکہ کو شدید خدشہ لاحق تھا کہ ایک اور ملک کمیونزم کے ”زیرِ اثر“ نہ آ جائے۔

امریکہ کو شدید خدشہ لاحق تھا کہ ایک اور ملک کمیونزم کے ”زیرِ اثر“ نہ آ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قتل عام میں انڈونیشیا کی رجعتی فوجی آمریت کو امریکی و برطانیہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ امریکی حکومت نے قتل کرنے والے شراکت السلام جیسے مسلح اسلامی بنیاد پرستوں کو کمیونسٹ پارٹی کے ممبران اور ہمدردوں کی لسٹیں فراہم کیں جبکہ برطانوی جاسوسوں نے نہ صرف کمیونسٹ مخالف پروپیگنڈے میں حصہ لیا بلکہ ان کو قتل کروانے میں بھی شامل رہے۔

عراق

امریکی سامراج کی بربریت کا شکار ہونے والا عراق جسے امریکی سامراج نے صدام حسین کی آمریت سے ”آزاد“ کرانا تھا، جمہوریت لانی تھی اور ”بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں“ کا خاتمہ کرنا تھا، نے امریکہ کا بھیانک چہرہ دنیا بھر میں بے نقاب کر دیا۔ یہ عراقیوں کے لیے کیسی آزادی تھی جس میں لاکھوں عراقی مارے گئے؟ اس سے قبل صدام حسین امریکی سامراج کی کٹھ پتلی کا کام کرتا رہا تھا اور ایران میں انقلابی تحریک کو کچلنے کے لیے وہاں جنگ بھی سامراجی طاقتوں کے مفادات کے لیے مسلط کی تھی۔ لیکن بعد میں اس کے اپنے آقاؤں سے اختلافات ہو گئے تھے۔ اگست 1990ء کے بعد عراق اقوام متحدہ جیسے سامراجی ادارے کی پابندیوں اور امریکی و برطانوی بموں کا شکار رہا۔

4مارچ 2000ء کی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق: ”عراق پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے بعد پانچ لاکھ بچے جاں بحق، برطانیہ اور امریکہ کی بھرپور حمایت، اقوام متحدہ کے تین عہدیدار مستعفی، اس دوران عراق پر تقریباً روزانہ بمباری جاری ہے۔“

اسی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ: ”عراق کے بچوں کے خلاف دو طرفہ جنگ ہے؛ ایک طرف مسلسل بمباری، جس پر گزشتہ سال برطانوی عوام کے ٹیکسوں سے 6 کروڑ پاؤنڈ خرچ کیے گئے اور دوسری طرف جدید تاریخ کی سب سے سخت اقتصادی ناکہ بندی۔ یونیسف کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح 4 ہزار ماہانہ سے زیادہ ہے، یعنی ہر مہینے 4 ہزار اضافی بچے مر رہے ہیں، جو پابندیوں سے پہلے نہیں ہوتے تھے۔ اس حساب سے آٹھ سال میں تقریباً پانچ لاکھ بچے جان سے جا چکے ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار سمجھنا مشکل لگیں تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جس دن آپ یہ خبر پڑھ رہے ہیں، ممکن ہے اسی دن بھی 200 تک عراقی بچے بلا ضرورت جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ اگرچہ عراق میں ہونے والی تمام تکالیف کی ذمہ داری صرف بیرونی عوامل پر نہیں ڈالی جا سکتی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر سلامتی کونسل کی طویل پابندیاں اور جنگ کے اثرات نہ ہوتے تو عراقی عوام اس قدر شدید محرومی اور تباہی کا شکار نہ ہوتے۔“

دوسری عراقی جنگ میں 10 لاکھ سے زیادہ اموات ہوئیں، 92 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، غربت کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور عراق کا زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ تباہ حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

1991ء سے دوسری عراقی جنگ سے پہلے تک مختلف رپورٹس کے مطابق اقتصادی پابندیوں اور جنگ کے مجموعی اثرات نے دس لاکھ کے قریب لوگوں کی جانیں لے لیں تھی۔ جیسے آج ایران کو نام نہاد آزاد دنیا کے لیے خطرہ قرار دے کر امریکی و اسرائیلی سامراج اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں، اسی طرح آج سے 23 سال پہلے عراق پر حملے کرتے ہوئے یہی بیانیہ اپنایا گیا تھا، سامراجیوں کو ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ اس وقت 9/11 کا بہانہ مل گیا تھا مگر جب صدام حسین کا 9/11 سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا اور جھوٹ سب کے سامنے آ گیا تو بیانیہ بدلتے ہوئے کہا گیا عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جو پوری دنیا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ امریکی سامراج آج تک یہ ثابت نہیں کر سکا۔

دوسری عراقی جنگ میں 10 لاکھ سے زیادہ اموات ہوئیں، 92 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، غربت کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور عراق کا زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ تباہ حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ عراق مختلف مسلح مذہبی تنظیموں کا گڑھ بن گیا اور کئی سالوں تک شدید خانہ جنگی رہی جو آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جاری اس ساری صورتحال کا فائدہ اسلحہ ساز کمپنیوں نے حاصل کیا، سال 2013ء میں دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ بیچنے والی دس کمپنیوں نے 23 ارب ڈالر کا منافع کمایا جن میں 6 کمپنیاں امریکی تھیں جبکہ باقی کمپنیاں برطانیہ، فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز کی تھیں۔

افغانستان

افغانستان میں 1978ء میں نور محمد ترکئی اور حفیظ الامین کی قیادت میں ثور انقلاب نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا، افغانستان جیسے ملک میں سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کی تعمیر پوری دنیا کے محنت کشوں کے لیے ایک مثال بن سکتی تھی۔ سو ویت یونین کی فوجی مداخلت سے پہلے ہی امریکی سامراج نے ثور انقلاب کو کچلنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا تھا۔ بعد ازاں سوویت فوجی مداخلت کو جواز بناتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کی مدد سے بڑے پیمانے پر ڈالر جہاد کا آغاز کیا گیا، بڑے پیمانے پر جہادی تیار کیے گئے، اربوں ڈالر خرچے گئے۔ پاکستان کی سرزمین اس کام کے لیے استعمال کی جاتی رہی اور پاکستان سے بھی ہزاروں نوجوانوں کو امریکہ کے اس ڈالر جہاد میں دھکیلا گیا جس کا مجرمانہ اعتراف پاکستان کا وزیر دفاع خواجہ آصف کر چکاہے۔

امریکی سامراج نے اس جنگ پر تین ٹریلین ڈالرز سے زائد خرچ کیے جبکہ افغانستان میں 2 لاکھ 20 ہزار اور پاکستان میں 80 ہزار لوگ اس جنگ کا نشانہ بنتے ہوئے مارے گئے اور آج بھی مارے جا رہے ہیں۔

1992ء میں ”جہادی“ قوتیں اقتدار پر قبضہ کر لیتی ہیں اور پھر ایک خونریز خانہ جنگی کے دوران امریکی اجازت اور پاکستانی و سعودی پشت پناہی کے ساتھ وہ سیاہ رجعتی قوت ابھرتی ہے جسے آج طالبان کے نام سے جانا جاتا ہے اور امریکہ نے جب اس خطے میں اپنے مفادات حاصل کر لیے تو ان ”جہادیوں“ کو اچانک دہشت گرد ڈیکلیئر کر دیا گیا۔ یہی طالبان جنھیں کل امریکہ نے بنایا تھا اب امریکہ کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ 9/11 کے بعد نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ کے نام پر امریکہ اکتوبر 2001ء میں پاکستانی سہولت کاری کے ساتھ اپنی فوجیں افغانستان میں اتارتا ہے اور ایک مہینے بعد کابل میں طالبان کے اقتدار کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اگلے 20 سالوں تک افغانستان میں مسلسل خونریزی جاری رہتی ہے، جس سے پاکستان بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ امریکی سامراج نے اس جنگ پر تین ٹریلین ڈالرز سے زائد خرچ کیے جبکہ افغانستان میں 2 لاکھ 20 ہزار اور پاکستان میں 80 ہزار لوگ اس جنگ کا نشانہ بنتے ہوئے مارے گئے اور آج بھی مارے جا رہے ہیں۔ امریکی سامراج بدترین خونریزی کے باوجود یہاں بھی اپنا کوئی مقصد حاصل کیے بنا 2021ء میں دم دبا کر بھاگ جاتا ہے اور طالبان دوبارہ اقتدار میں واپس آ کر رجعت اور بربریت کے ایک نئے دور آغاز کرتے ہیں۔

مذہبی بنیاد پرستی کا استعمال

1950ء سے لے کر 1970ء کے عرصے کے دوران دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً مشرقِ وسطیٰ، جن میں مصر، شام، یمن، ایتھوپیا، صومالیہ شامل ہیں، بائیں بازو کی طرف رجحان بڑھ رہا تھا اور یہ ممالک سوویت یونین کے اثر و رسوخ میں آ رہے تھے۔ اسی دوران دنیا بھر میں سامراج مخالف تحریکیں بھی زوروں پر تھیں اور بائیں بازوں کی تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل کر رہی تھیں۔ 1968ء میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی انقلابی تحریک میں مزدوروں اور کسانوں میں سوشلزم کا نعرہ مشہور ہو رہا تھا۔ اس سب نے سامراجیوں کو خوفزدہ کر دیا اور بائیں بازو کی ان ترقی پسند قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں اسلامی بنیاد پرستی کا استعمال مفید نظر آیا۔ القاعدہ، داعش، طالبان اور اس طرح کی دیگر مسلح تنظیموں کے قیام میں آنے کے قلابے اسی عرصے میں امریکی سامراج کی جانب سے اسلامی بنیاد پرستی کو دی گئی حمایت کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ اسی طرح مصر میں اخوان المسلمین کی نہ صرف حمایت کی گئی بلکہ سپانسر بھی کیا گیا اور یہاں تک حماس، جو کہ اخوان المسلمین سے ہی نکلی ہے، کو بھی ایک وقت میں اسرائیلی و امریکی سامراج کی حمایت حاصل رہی اور انہیں مکمل سپیس فراہم کی گئی تاکہ فلسطین میں PLO جیسی بائیں بازو کی طاقت کو روکا جا سکے۔ اسی طرح انڈونیشیا کمیونسٹوں کا قتلِ عام کرنے والی شراکت السلام کو بھی امریکہ کی حمایت حاصل رہی۔

القاعدہ، داعش، طالبان اور اس طرح کی دیگر مسلح تنظیموں کے قیام میں آنے کے قلابے اسی عرصے میں امریکی سامراج کی جانب سے اسلامی بنیاد پرستی کو دی گئی حمایت کے ساتھ جا ملتے ہیں۔

1971ء میں سابقہ مشرقی پاکستان میں تحریک کو کچلنے کے لیے جماعت اسلامی کو سعودی عرب کے ذریعے امریکہ کی حمایت حاصل رہی اور پھر اسی جماعت اسلامی نے افغانستان میں امریکہ کے ڈالر جہاد میں بہت بڑی تعداد میں عام نوجوانوں کو جھونکا۔ مختصر یہ کہ ماضی میں ان تمام اسلامی بنیاد پرست تنظیموں کو امریکہ کی بھرپور حمایت رہی ہے جن کے خلاف پچھلے بیس سالوں میں امریکہ نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ لڑتا رہا ہے۔ یہاں تک اب بھی جہاں ضرورت ہو امریکی سامراج اسلامی بنیاد پرستی کو استعمال میں لانے سے دریغ نہیں کرتا۔ شام کی خانہ جنگی میں ان وحشیو ں کو حاصل امریکی، اسرائیلی، سعودی اور قطری حمایت اس امر کا واضح ثبوت ہے۔

اپنی کتاب اسلام اِن انڈیا اینڈ پاکستان – اے ریلیجس ہسٹری میں یوگیش پرتاپ سنگھ لکھتے ہیں: ”اسلامی بنیاد پرستی سامراجی طاقتوں کی دوغلی پالیسی کی ایک واضح مثال ہے۔ آج امریکہ اور مغربی سامراجی ممالک خود کو اسلامی بنیاد پرستی کا سب سے بڑا دشمن ظاہر کرتے ہیں اور مغربی ممالک کے محنت کش لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ بنیاد پرستی دنیا کے امن کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی سامراجی طاقتیں مختلف مسلم ممالک میں بائیں بازو کی تحریکوں اور ترقی پسند قوتوں کے خلاف انہی بنیاد پرست گروہوں کو استعمال کرتی رہی ہیں۔“

امریکہ کی دیگر فوجی مداخلتوں کا مختصر جائزہ

اسی طرح دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی سامراج کی اور بے تحاشا فوجی مداخلتوں، پراکسی جنگوں، حکومتوں کی تبدیلیوں کی تاریخ ہے جس کے تفصیلی ذکر کی ہمارے پاس جگہ نہیں ہے۔ لیکن اس سب کی مختصراً فہرست درج ذیل ہے۔

چین: 1946ء سے 1949ء میں چینی کمیونسٹ پارٹی اور بورژوا قوم پرست کومنتانگ کے درمیان جاری خانہ جنگی میں امریکی سامراج نے کمیونسٹوں کے خلاف کومنتانگ کو بھرپور مالی و عسکری امداد فراہم کی، جس میں بمبار اور لڑاکا طیارے، مختلف اقسام کے جدید اسلحہ، ٹینک، راکٹ لانچر، خود کار رائفلیں، نیز پٹرول بم، گیس کے گولے اور دیگر جنگی ساز و سامان شامل تھا۔

یونان: اسی طرح 1947ء میں یونان کی خانہ جنگی کے دوران کمیونسٹوں کے خلاف دائیں بازو کے گروپس کی امریکہ نے ہر طرح سے امداد کی۔

اٹلی: مسولینی کے فاشزم کے خاتمے کے بعد اٹلی میں 1948ء میں ہونے والے پہلے انتخابات میں امریکہ نے مداخلت کرتے ہوئے کمیونسٹ مخالف کرسیچن ڈیموکریٹس کی نہ صرف مالی امداد کی بلکہ بدترین پراپیگنڈہ بھی کیا جس میں مذہب کا استعمال بھی شامل تھا۔

کوریا: 1950ء میں کوریا میں مزدوروں اور کسانوں کی انقلابی کمیٹیوں کو کچلنے کے لیے امریکہ نے اقوام متحدہ جیسے سامراجی ادارے کی آڑ لیتے ہوئے بھرپور فوجی مداخلت کی جس کا نتیجہ کورین جنگ کی صورت میں نکلا۔ اس جنگ میں لاکھوں کورین عوام کا قتل عام ہوا اور کوریا دو ممالک میں تقسیم ہو گیا جن کے درمیان دشمنی آج تک چل رہی ہے۔

ایران: 1953ء میں منتخب ایرانی صدر مصدق نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا کیونکہ یہ صنعت برطانیہ کے کنٹرول میں تھی جس کا فائدہ ایران کو بالکل بھی نہیں ہو رہا تھا بلکہ سامراجی جکڑ بندی بڑھ رہی تھی۔ مصدق کے اس اقدام کے بعد امریکہ نے برطانیہ کے ساتھ مل کر فوجی کُو کروا کے مصدق کی حکومت گرِا دی اور سامراجیوں کے گماشتہ رضا شاہ پہلوی کی طاقت بحال کر دی گئی جس نے امریکی و برطانوی سامراج کی ایما پر ایران میں بدترین ظلم و ستم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایرانی عوام امریکی سامراج سے شدید نفرت کرتی ہے۔ امریکہ کا ایران میں مجرمانہ کردار ابھی بھی جاری ہے۔ حالیہ امریکی جارحیت میں ہزاروں عام شہری مارے گئے، جس میں سکولوں اور ہسپتالوں پر بھی شدید بمباری کی جا رہی ہے۔ اس امریکی جارحیت کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔

امریکہ نے برطانیہ کے ساتھ مل کر فوجی کُو کروا کے مصدق کی حکومت گرِا دی اور سامراجیوں کے گماشتہ رضا شاہ پہلوی کی طاقت بحال کر دی گئی جس نے امریکی و برطانوی سامراج کی ایما پر ایران میں بدترین ظلم و ستم کیا۔

لبنان: 1958ء میں بائیں بازو کا راستہ روکنے کے لیے امریکہ بیروت میں اپنے فوجی اتارتا ہے۔

کیوبا: ویسے تو کیوبا میں انقلاب کے بعد ہی امریکہ نے کیوبا کو مختلف پابندیوں اور ناکہ بندیوں کا شکار بنایا ہوا ہے جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ کیوبن انقلاب کو کچلنے کے لیے 1961ء میں امریکہ کی مدد سے 1400 کے قریب جنگجوؤں نے سابقہ ڈکٹیٹر بتیستا کے دور کے سابق فوجی افسران، جاگیردار اشرافیہ، کاروباری مالکان اور دیگر کے ساتھ مل کر کیوبا پر حملہ کیا تاکہ واپس سرمایہ دارانہ نظام بحال کیا جا سکے مگر انہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کانگو: وسائل سے مالا مال کانگو میں 1960ء میں لومومبا کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے امریکی سامراج نے اس کے مخالفین کی مدد کی۔

ڈومینیکن رپبلک: 1963ء میں جمہوری طور پر منتخب صدر خوان بوش جو کہ اصلاح پسند تھا اور بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا، کے خلاف امریکہ نے فوجی کُو کی حمایت کی اور پھر جب 1965ء میں خوان بوش کے اقتدار کی بحالی کے لیے بغاوت کا آغاز ہوا، جس میں بڑی تعداد میں عام شہری، سپاہی اور جونئیر فوجی افسران شامل تھے، تو امریکہ نے مداخلت کرتے ہوئے بغاوت کو کچلنے کے لیے اپنے ہزاروں فوجی ڈومینیکن ریپبلک میں اتارے۔

برطانوی گیانا: 1964ء میں برطانوی سامراج کی کالونی گیانا میں بائیں بازو کے رجحانات رکھنے والے چیڈی جگن، جو کہ کئی بار انتخابات جیت چکا تھا اور وسیع تر عوامی حمایت رکھتا تھا اور برطانوی سامراج سے آزادی بھی چاہتا تھا، کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے امریکی سامراج نے برطانوی سامراج کے ساتھ مل کر مختلف پابندیاں لگا کر، حکومت مخالفین کو فنڈنگ فراہم کر کے، نجی ملیشیاؤں کی ٹریننگ کی تاکہ کُو کروایا جا سکے جس میں کامیابی نہیں مل سکی۔

گوئٹے مالا: 1964ء میں گوئٹے مالا میں ایک بار پھر امریکہ نے اپنی مسلط کردہ فوجی آمریت کو بچانے کے لیے اور بائیں بازو کے گوریلا جنگجوؤں کا راستہ روکنے کے لیے اسے ہر طرح کی انٹیلیجنس سپورٹ کے ساتھ ٹریننگ بھی فراہم کی۔

لاؤس: 1964ء میں لاؤس میں زیادہ تر خفیہ آپریشنز، جاسوسی اور پراکسی فورسز کے ذریعے امریکہ نے بڑے پیمانے پر مداخلت کی۔

پیرو: 1965ء میں پیرو میں بائیں بازو کے گوریلاؤں کا راستہ روکنے کے لیے امریکہ نے مداخلت کرتے ہوئے فوجی امداد، خفیہ معلوماتی تعاون، اور انسدادِ بغاوت کی تربیت کے ذریعے مداخلت کی۔

کمبوڈیا: 1969ء میں مشرقی کمبوڈیا میں ”ویت نامی گوریلاؤں کی موجودگی کا جواز تراش کر“ امریکہ نے بمباری کا آغاز کیا جس میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے۔

نکاراگوا: 1979ء کے ساندنیستا انقلاب کے بعد، بائیں بازو کی حکومت جسے ساندنیستا نیشنل لبریشن فرنٹ (FSLN) کہا جاتا ہے، اقتدار میں آ گئی اور اس نے سوموزا دیبایلے کے خاندان کی طویل عرصے سے قائم آمریت کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر زرعی اصلاحات کا آغاز کیا جس میں بے زمین کسانوں کو زمینیں دی گئیں اور اس کے علاوہ دیگر اس طرح کے اقدامات کیے گئے۔ امریکہ نے انقلاب کو کچلنے کے لیے باغی گروپوں کی حمایت کا آغاز کیا، انہی ٹریننگ دی، اسلحہ اور فنڈز فراہم کیے۔ نکاراگوا پر شدید معاشی پابندیاں بھی لگائی گئیں۔

گریناڈا: 1983ء میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ گریناڈا پر حملہ کر دیتا ہے جہاں شدید بمباری کی جاتی ہے یہاں تک کہ ہسپتال بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔

اس کے علاوہ صومالیہ، یمن، یوگوسلاویہ، سوڈان، بوسنیا، شام، ایل سلواڈور، ہونڈوراس اور مزید کئی ملکوں میں امریکی مداخلت کی ایک لمبی فہرست ہے جس کا ذکر کریں تو صفحات کم پڑ جائیں گے۔ مثال کے طور پر فلسطین جو آج اسرائیلی بربریت کا نشانہ بنا ہوا ہے، وہاں انسانی تاریخ کے بھیانک ترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ اس سب میں امریکہ کی اسرائیل کو مکمل حمایت حاصل ہے۔ امریکی فنڈز اور امریکی اسلحہ فلسطین میں لاکھوں لوگوں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، کو قتل کرنے میں استعمال ہو رہا ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں جیسا کہ لبنان اور شام میں اسرائیلی بمباری بھی امریکی آشیرباد کے ساتھ ہو رہی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ میں امریکہ کا سب سے بڑا مجرمانہ کردار رہا ہے۔ یوکرین بنیادی طور روس کے خلاف امریکہ کی پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔ امریکہ نے یوکرین کو اس جنگ میں دھکیلا ہے اور اب تک لاکھوں یوکرینی اور روسی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

امریکی سامراج کو شکست سوشلسٹ انقلاب ہی دے سکتا ہے!

گو کہ امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت ہے مگر عالمی سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کے کارن آج کا امریکہ اپنے ماضی کی نسبت بہت کمزور ہو چکا ہے۔ حالیہ ایران جنگ میں امریکہ کی کمزوری سب کے سامنے آ چکی ہے۔ بدترین بمباری کے باجود امریکہ ایران کو زیر نہیں کر پایا بلکہ خود شکست کھا گیا ہے اور اپنا کوئی جنگی مقصد حاصل نہیں کر سکا۔ آبنائے ہرمز کی بندش ختم کروانے کے لیے امریکی صدر کو دنیا کے دیگر ممالک سے اپیلیں کرنی پڑیں۔ کسی بھی جدید سامراجی طاقت کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ اس وقت سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا میں زوال کا شکار ہے اور اس زوال سے نکلنے کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ مگر یہ نظام خود بخود ختم نہیں ہو گا۔ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اسے ختم کرنا پڑے گا۔ ایران جنگ میں امریکہ کی ذلت آمیز شکست امریکہ کو مزید کمزور ضرور کرے گی لیکن امریکی سامراج کی حتمی شکست ممکن نہیں ہو گی۔ امریکی سامراج کو حتمی شکست عالمی محنت کش طبقہ خصوصاً امریکی محنت کش طبقہ ہی دے سکتا ہے۔

فلسطین میں حالیہ سیز فائر معاہدے کے پیچھے یورپ خصوصاً اٹلی،سپین اور فرانس کے محنت کشوں کی غزہ کے حق میں کی گئی عام ہڑتالیں ہیں، جو انہوں نے پچھلے سال کیں تھیں۔

جس طرح ویت نام جنگ میں امریکی محنت کشوں کی ہڑتالوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح فلسطین میں حالیہ سیز فائر معاہدے کے پیچھے یورپ خصوصاً اٹلی،سپین اور فرانس کے محنت کشوں کی غزہ کے حق میں کی گئی عام ہڑتالیں ہیں، جو انہوں نے پچھلے سال کیں تھیں۔ اسی طرح 1917ء میں روس میں جب سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا گیا تھا اور مزدوروں نے بالشویکوں کی قیادت میں سوشلسٹ انقلاب برپا کیا تب جا کر پہلی عالمی جنگ کی خونریزی کا خاتمہ ہوا تھا۔ آج بھی دنیا بھر میں خونریزی اور سامراج کا حتمی خاتمہ ایک سوشلسٹ انقلاب سے ہی ممکن ہے۔