|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے 4، 5 اور 6 ستمبر 2026ء کو فورٹ منرو، ڈیرہ غازی خان میں کمیونسٹ سکول گرما 2026ء کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان بھر سے تقریباً 100 کے قریب کامریڈز نے اس وقت دنیا کو درپیش مسائل کو سمجھنے اور اس دنیا کو بدلنے کی جدوجہد کے لیے سیاسی و نظریاتی بحثوں میں حصہ لیا۔ پاکستانی زیرِ انتظام ”آزاد“ کشمیر میں جاری اس خطے کی تاریخ کی شاندار انقلابی تحریک، پاکستان بھر میں بڑھتا ریاستی جبر و تشدد، بد امنی و بدترین مہنگائی کا یہ عہد پاکستان بھر میں محنت کش عوام اور خصوصاً نوجوانوں کے شعور کو جھنجوڑ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ نسل اس عہد میں انقلابی نتائج حاصل کر رہی ہے۔ ایسے میں انقلابی کمیونسٹوں کی طرف سے منعقد کیے جانے والا یہ کمیونسٹ سکول کوئی معمولی ایونٹ نہیں ہے۔
ہم یہاں ان تین دنوں کی بحثوں کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ تین روزہ سکول مجموعی طور پر پانچ سیشنز پر مشتمل تھا، جن میں موجودہ عالمی و ملکی صورتحال میں انقلاب کے تناظر، کثیر قطبیت اور مارکسزم؛ کمیونسٹ سامراجیت کے خلاف کیسے لڑتے ہیں؟، مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس، پاکستانی زیرِ انتظام ”آزاد“ کشمیر میں جاری انقلابی تحریک کے اسباق اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی بحث ہوئی۔
پہلا سیشن: عالمی و پاکستان تناظر
کمیونسٹ سکول کے پہلے سیشن کو حیدرآباد سے کامریڈ علی عیسیٰ نے چیئر کیا جبکہ اس موضوع پر تفصیلی بحث کراچی سے آئے ہوئے کامریڈ آنند پرکاش نے کی۔

کامریڈ آنند نے موجودہ عالمی معاشی و سیاسی بحران، سامراجی طاقتوں کے باہمی تضادات، جنگوں اور دنیا بھر میں ابھرنے والی عوامی تحریکوں کا مارکسی تجزیہ پیش کیا۔ ان کے مطابق امریکی سامراج نے طویل عرصے تک عالمی سطح پر اپنی بالادستی قائم رکھی اور اس بالادستی کے تحت ایک عالمی ورلڈ آرڈر قائم رہا ہے تاہم اب امریکی سامراج اپنے ماضی کی نسبت کمزور ہو گیا ہے اور اس کی بالادستی میں قائم ورلڈ آرڈر ختم ہو گیا ہے، امریکی سامراج کے زوال کی وجہ امریکی سامراج کی بنیاد میں موجود سرمایہ دارانہ نظام کا بحران ہے جس کے اثرات پوری دنیا میں پڑ رہے ہیں۔ یہ بحران دنیا کے مختلف حصوں میں معاشی بے یقینی، جنگوں، سیاسی عدم استحکام اور عوامی مزاحمت کی صورت میں اپنا اظہار کر رہا ہے۔
حالیہ ایران جنگ میں امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اسے پوری دنیا میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایران جنگ نے امریکی سامراج کے بحران کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف چین اور روس ایک نئی طاقت کے طور پر سامنے آ رہے ہیں مگر یہ طاقتیں ابھی بھی امریکہ کی جگہ لینے کے قابل نہیں ہوئیں اور ان طاقتوں کی بنیاد بھی سرمایہ دارانہ نظام ہی ہے۔ دوسری طرف عالمی سیاست میں یورپی یونین کی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
گفتگو کے دوران 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کا بھی حوالہ دیا گیا اور اس امر پر بحث کی گئی کہ اگرچہ سرمایہ دار طبقہ اس بحران سے کسی حد تک نکلنے میں کامیاب رہا، لیکن سرمایہ داری کے موجودہ بحران کی نوعیت اور شدت ماضی سے یکسر مختلف ہے۔ کامریڈ کے مطابق معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ سماج میں اخلاقی اور ثقافتی زوال بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس تناظر میں عالمی اشرافیہ سے متعلق سامنے آنے والے اسکینڈلز، بالخصوص ایپسٹین اسکینڈل، پر بھی گفتگو کی گئی اور اسے سرمایہ دار طبقے کے طاقت اور مراعات کے حامل کردار کی مثال کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔
پاکستان کے حالات بھی اس سب سے مختلف نہیں ہیں، عالمی بحران کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ یہاں کا حکمران طبقہ کوئی بھی مسئلہ حل کرنے میں مکمل طور ناکام ہے اور انہیں شدید خوف ہے کہ عنقریب یہ محنت کش عوام کے انقلابی غیض و غضب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرح کی جمہوری آزادیاں سلب کر لی گئی ہیں، عوامی تحریکوں پر بدترین ریاستی جبر جاری ہے، مگر اس سب میں کشمیر کی انقلابی عوامی تحریک اس ریاستی جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے جو کہ پاکستان بھر کے محنت کش طبقے کے لیے ایک مثال بن رہی ہے۔ نہ صرف ملکی سطح بلکہ عالمی سطح پر جاری تحریکوں کا سبق یہی ہے کہ فوری بنیادوں پر کمیونزم کے انقلابی نظریات سے لیس ایک انقلابی پارٹی تعمیر کی جائے جو حکومتوں کی تبدیلی کی بجائے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ کر ایک سوشلسٹ نظام قائم کرے۔
سیشن کی بحث میں کامریڈ کریم، کامریڈ سلمیٰ، کامریڈ پارس، کامریڈ آصف لشاری، کامریڈ علیشہ، کامریڈ فہد اور کامریڈ ولید نے بھی حصہ لیا۔ مختلف کامریڈز نے امریکی سامراج، بھارت میں کسان تحریک، روس یوکرین جنگ، جنوبی کوریا، معیشت اور اوور پروڈکشن سمیت مختلف موضوعات پر اپنے خیالات پیش کیے۔
تفصیلی بحث کے بعد سیشن کا سم اپ کیا گیا اور پہلے دن کا پہلا مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔
دوسرا سیشن: کثیر قطبیت اور مارکسزم؛ کمیونسٹ سامراجیت کے خلاف کیسے لڑتے ہیں؟
لنچ بریک کے بعد دوسرے سیشن کا آغاز ہوا، جس کو بلوچستان سے آئے ہوئے کامریڈ عمر نے چیئر کیا، جبکہ اسلام آباد سے کامریڈ عثمان سیال نے اس پر لیڈ آف دی۔

بحث کا آغاز اس سوال سے ہوا کہ آج دنیا میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، انہیں ہم کس طرح سمجھیں۔ بعض پروفیسرز اور دیگر لوگ یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ دنیا جو ہمیں نظر آ رہی ہے، حقیقت میں ویسی نہیں ہے۔ اِن حضرات کے مطابق پہلی عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے اپنی غیر معمولی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے دنیا میں لوٹ مار اور استحصال کے نظام کو برقرار رکھا اور اس کے بعد ہونے والی جنگیں بنیادی طور پر امریکی پالیسیوں کا نتیجہ تھیں، جن میں سرمایہ داری کا کوئی براہِ راست کردار نہیں تھا۔ اس مؤقف پر تنقیدی بحث کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا جنگوں کو صرف کسی ایک ریاست کی پالیسی یا خارجہ حکمتِ عملی کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے، یا ان کے پیچھے سرمایہ داری اور سامراج کے معاشی و سیاسی مفادات بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں؟
آج دنیا میں روس یوکرین کی جنگ، فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت اور ایران کے خلاف جاری جنگ جیسی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
کثیر قطبیت کے حامی ”نام نہاد بائیں بازو“ کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایک قطبی دنیا میں چونکہ ایک ہی سامراجی طاقت، یعنی امریکہ، اپنی مرضی مسلط کرتا تھا، اس لیے اب اگر روس اور چین اس کے مقابل ایک طاقت کے طور پر کھڑے ہوں گے تو طاقت کا توازن قائم ہو گا، دنیا میں استحکام آئے گا اور ریاستیں عالمی قوانین کی پابندی کریں گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر نئے عالمی نظام کے آنے سے امن قائم ہونا ہے تو ہمیں دنیا میں وہ امن کہیں نظر کیوں نہیں آ رہا؟
ایک طرف امریکی سامراج نسبتاً زوال کا شکار ہے اور پوری دنیا میں اس کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف چین کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور وہ امریکہ کی جانب سے چھوڑے جانے والے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن اس پورے عمل میں ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یورپ اور تیسری دنیا کے ممالک کے حکمران طبقات کے مفادات امریکی اور چینی سامراج کے حکمران طبقات سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بھی حکمران طبقے کے مفادات امریکی اور چینی سامراج کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان کے محنت کش طبقے کے مسائل اور مفادات کی انہیں کوئی فکر نہیں۔
بحث میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ چینی سامراج فنانس کیپیٹل کے ذریعے استحصال کر رہا ہے، لیکن ابھی تک چین اور روس نے امریکہ کی طرح براہِ راست جنگوں میں وہ کردار ادا نہیں کیا جو امریکی سامراج نے کیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چین کا کردار سامراجی نہیں ہے۔ چینی سامراج کا جنگوں کی صورت میں کردار ابھی پوری طرح ہمارے سامنے نہیں آیا، اس لیے صرف اس بنیاد پر یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ مستقبل میں بھی وہ جنگوں کی صورت میں سامنے نہیں آئے گا۔ محنت کش طبقے کو کسی بھی سامراجی طاقت کو محض اس لیے ترقی پسند یا نجات دہندہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ امریکی سامراج کے مقابل کھڑی ہے۔
اس بحث کو سمجھنے کے لیے سامراج کے بدلتے ہوئے کردار کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ لینن کے دور میں جس سامراج کا ظہور ہوا تھا، آج اس کی شکل تبدیل ہو چکی ہے، لیکن اس کی بنیاد اب بھی سرمایہ داری، فنانس کیپیٹل اور سرمایہ دارانہ ملکیت کے نظام میں موجود ہے۔ آج ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی سرمایہ پوری دنیا کی پیداوار کو اس حد تک باہم مربوط کر چکے ہیں کہ ایک موبائل فون کی بیٹری ایک ملک میں تیار ہوتی ہے، چِپس کسی دوسرے ملک میں بنتی ہیں اور اس کی پیداوار اور سپلائی کئی مختلف ممالک سے جڑی ہوتی ہے۔ یعنی دنیا کی پیداوار پہلے سے کہیں زیادہ سماجی اور عالمی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اسی کے ساتھ دنیا کا محنت کش طبقہ بھی عالمی پیداوار کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ایک ملک کا مزدور دوسرے ملک کی صنعت اور پیداوار سے وابستہ ہے۔ یہاں سرمایہ داری کا بنیادی تضاد مزید واضح ہوتا ہے: ایک طرف پوری دنیا کی پیداوار سماجی اور باہم مربوط ہو چکی ہے، جبکہ دوسری طرف اس پیداوار کی ملکیت اور اس سے پیدا ہونے والی دولت چند ہاتھوں میں مسلسل مرتکز ہو رہی ہے۔
یہی وہ تضاد ہے جس کی طرف لینن نے اشارہ کیا تھا: ایک طرف پوری دنیا کا محنت کش طبقہ اجتماعی پیداوار کے ذریعے دنیا کو چلا رہا ہے اور دوسری طرف دولت اور ذرائعِ پیداوار چند سرمایہ دار اور سامراجی ہاتھوں میں مرکوز ہیں۔ لہٰذا سامراج کا خاتمہ کسی ”بیلنس آف پاور“ سے نہیں ہو سکتا۔ امریکہ، چین اور روس جیسے مختلف سامراجی مراکز کے درمیان طاقت کا توازن دنیا میں مستقل امن پیدا نہیں کر سکتا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی سامراج کا خاتمہ نہ چین اور روس کے سامراج کریں گے اور نہ ہی کوئی نیا عالمی نظام خود بخود امن لے کر آئے گا۔ سامراج کے خاتمے کی واحد انقلابی قوت محنت کش طبقہ ہے۔ محنت کش طبقے کو اپنی انقلابی پارٹی تعمیر کرتے ہوئے اقتدار اپنے قبضے میں لینا ہو گا، محنت کش ریاست قائم کرنا ہو گی اور سرمایہ داری، نجی ملکیت اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
اسی طرح بینکاری کے اس نظام کو، جو آج امریکی اور چینی سامراج، آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی سرمایہ کے مفادات کے تحت کام کر رہا ہے، اسے محنت کش طبقے کے کنٹرول میں لانا ہو گا۔ بینکوں اور معیشت کے وسائل کو سرمایہ دار طبقے کے منافع کی بجائے محنت کش طبقے کے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے انقلاب کی طرف بڑھنا ہو گا۔ اس پورے عمل کا مقصد صرف ایک ملک میں تبدیلی نہیں بلکہ عالمی محنت کش انقلاب کی تعمیر ہونا چاہیے، کیونکہ سرمایہ اور پیداوار پہلے ہی عالمی سطح پر جڑ چکے ہیں۔ اسی لیے محنت کش طبقے کی جدوجہد بھی عالمی نوعیت کی ہونی چاہیے۔
اس سیشن میں کامریڈ آصف لشاری، ولید، ثناء اللہ، پارس جان اور آدم پال نے بھی بحث میں حصہ لیا، جس کے بعد کامریڈ عثمان سیال نے سیشن کا سم اپ کیا۔
تیسرا سیشن: مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس
اس سیشن کو کراچی سے کامریڈ وحید نادان نے چیئر کیا جبکہ اس پر لیڈ آف کامریڈ ثاقب اسماعیل نے دی۔

کامریڈ ثاقب نے ڈسکشن کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مارکس وادیوں پر ہمیشہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ہم لوگ محض اکانومی کو زیر باعث لاتے ہیں اور تمام تر واقعات کو معیشت سے زبردستی جوڑنے کی طرف جاتے ہیں جبکہ حقیقت میں مارکس وادیوں نے کبھی بھی فلسفہ، سائنس، تاریخ سیاست اور معیشت کو ایک دوسرے سے کاٹنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کے برعکس موجودہ جدید دور میں حکمرانوں اور دانشوروں نے ہمیشہ فلسفہ کی اہمیت کو نظر انداز کیا۔ اس عہد کو محض سائنس کا عہد کہہ کر فلسفے کو نہ صرف سائنس سے الگ کرنے کی کوشش کی بلکہ ایک قدم مزید بڑھ کر فلسفہ کے خاتمہ کا علان کر دیا، جسے ہم مارکس وادی مکمل طور پر رد کرتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ فلسفے کا سائنس کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ فلسفہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کامریڈ نے واضح کیا کہ ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام کے رکھوالے دنیا بھر کے محنت کشوں کی تحریکوں پہ براہ راست جبر کرتے ہیں تو دوسری طرف یہی حکمران طبقہ اپنے بحران زدہ نظام کو بچانے کے لیے میڈیا، تعلیمی نصاب اور مختلف ذرائع کو بروکار لاتے ہوئے محنت کش عوام کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے پروپیگنڈا اور لایعنی جواز کا سہارا بھی لیتا ہے اور نظام کے بحران کو کسی انفرادی شخص یا کسی ایک واقعہ کے رونما ہونے سے جوڑ دیتا ہے یا اس دنیا میں موجود مسائل کو قسمت کا لکھا یا فطری کہا جاتا ہے۔ اس لیے حکمران طبقے کے انقلاب دشمن نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے محنت کش طبقے کو بھی انقلابی نظریے و فلسفے کی ضرورت ہے۔
سائنس پر بات کرتے ہوئے کامریڈ نے واضح کیا کہ علم پوری انسانیت کی میراث ہے اور اس کی ترقی انسانی سماج کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ جس طرح انسانی سماج آگے بڑھتا گیا اسی کے ساتھ ہی انسانی علم و منطق آگے بڑھی۔ ہر دور میں حکمران اشرافیہ نے نئے نظریات پر پابندیاں لگائیں، انہیں دبایا۔ عہدِ وسطیٰ میں بہت سے سائنس دانوں کو اس لیے مارا گیا کہ وہ نئی دریافتیں سامنے لے کر آ رہے تھے اور یہ سائنسی نظریات و دریافتیں حکمران اشرافیہ کے نظام کو چیلنج کر رہی تھیں اور جب اس وقت کے حکمران اشرافیہ کا نظام ختم ہوا اور اس کی جگہ ایک نئے نظام نے لی جو کہ انقلابات کے ذریعے آیا تھا، پھر سائنس میں بھی ترقی ہوئی۔
آج جب سرمایہ دارانہ نظام زوال کا شکار ہے تو آج کا حکمران طبقہ اپنے نظام کو بچانے کے لیے غیر سائنسی نظریات کو پھیلا رہا ہے اور ان نظریات کو سائنسی کہہ کر اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے، جیسا کہ آج حکمران یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جرائم کی سماجی وجوہات نہیں ہیں بلکہ یہ موروثی خامی ہے۔ امریکہ میں باقاعدہ اس پر ریسرچ سنٹر قائم کیے گئے اور کہا جانے لگا کہ سیاہ فام افراد جرائم اس لیے کرتے ہیں کہ ان کی جینز میں کوئی مسئلہ ہے یعنی یہ موروثی مسئلہ ہے۔ جبکہ حقیقت میں جرائم کی وجہ سیاہ فام لوگوں کی محرومیاں، ان کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک اور غربت تھا، یقیناً ”انسانی فطرت خود غرض ہے یا سوشلزم غیر فطری ہے“ جیسی باتیں پھیلانے کے پیچھے حکمران طبقے کا اپنا فلسفہ ہے۔
کامریڈ نے بات کو آگے بڑھتے ہوئے فلسفہ پر تفصیلی بات رکھی جس میں رسمی منطق (Formal logic) کے آج تک کے سائنس میں اہم کردار اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی محدودیت پر بات کی۔
جدلیاتی مادیت (Dialectical Materialism) اور اس کے قوانین جیسا کہ مقدار کا معیار میں تبدیل ہو جانا (Quantity Changes into Quality) تضادات کا اتحاد (Unity of Opposites)، نفی کی نفی (Negation of the Negation) پر بھی بحث کی اور وضاحت کی کہ سادہ چیزیں ہم رسمی منطق کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں مگر پیچیدہ سائنسی سوالات، سماج اور اس میں چلنے والے بحرانات کے نتائج میں ہونے والی جنگوں اور ان کا سد باب کرنے کے لیے ہمیں جدلیاتی منطق کی ضرورت پڑتی ہے، فزکس میں بِگ بینگ اور کیمسٹری میں پیراڈک ٹیبل اور اس کی اٹامک نمبر کی بنیاد پر ترتیب کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔
اس سیشن میں لاہور سے کامریڈ جواد، شعیب اور عدیل زیدی جبکہ کراچی سے کامریڈ آنند پرکاش، ملتان سے کامریڈ راول اسد نے بھی بحث میں حصہ لیا۔
کامریڈ آدم پال نے بھی بات کی اور زمان و مکاں جیسے فلسفیانہ سوالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بظاہر وقت کے حوالے سے ہمارے ذہن میں ایک نہایت سادہ سا خاکہ موجود ہے مگر جب ہم وقت پر بات کرنا شروع کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ اتنا سادہ سوال نہیں مزید انہوں نے وضاحت کی کہ وقت کا تصور مادے اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں، انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ دور میں نصاب میں پڑھایا اور پرموٹ کیے جانے والا فلسفہ محض لفاظی کے سوا کچھ نہیں۔ تمام انقلابی نوجوانوں کو مارکسی نظریات سے لیس ہو کر ان انسان دشمن نظریات کا مقابلہ کرتے ہوئے سماج کی انقلابی تبدیلی کی جدوجہد میں حصہ لینا چاہیے۔ آخر میں کامریڈ ثاقب نے ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے اس سیشن کا سم اپ کیا۔
چوتھا سیشن: ”آزاد“ کشمیر کی انقلابی تحریک سے حاصل ہونے والے اسباق
ایک گھنٹے کے لنچ بریک کے بعد چوتھے سیشن کا آغاز ہوا۔ اس سیشن کو کامریڈ سلمیٰ نے چیئر کیا جبکہ کامریڈ پارس جان نے اس پر لیڈ آف دی۔

کامریڈ پارس نے کشمیر کی سیاسی تاریخ اور عوامی مزاحمت کے مختلف ادوار کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ کشمیر کی تاریخ عوامی مزاحمت اور سیاسی جدوجہد سے عبارت رہی ہے اور مختلف ادوار میں ریاستی جبر کا سامنا کرنے کے باوجود عوامی مزاحمت کے رجحانات موجود رہے ہیں۔
گفتگو میں طلبہ سیاست کے کردار پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔ کشمیر میں گزشتہ تین برس کے دوران بجلی کی قیمتوں اور دیگر معاشی مسائل کے خلاف ابھرنے والی تحریک کو خصوصی طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ کامریڈ کے مطابق اس تحریک نے محض معاشی مطالبات تک محدود رہنے کی بجائے عوام کے سیاسی شعور کو بھی متاثر کیا ہے اور اس میں طبقاتی تضادات زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔
تحریک میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جس نے تحریک کے اندر ایک نئی توانائی پیدا کی ہے۔
تاہم بحث میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ عوامی تحریکوں کی کامیابی کے لیے محض عوامی غصہ اور مزاحمت کافی نہیں؛ ایک واضح نظریاتی پروگرام، منظم انقلابی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے کشمیر کی تحریک میں موجود انقلابی امکانات اور قیادت کے بحران کو زیرِ بحث لایا گیا۔ کشمیر میں جاری تحریک میں یہ بھرپور امکان موجود رہا ہے کہ وہاں عوام کی اپنی انقلابی حکومت کا قیام کیا جا سکتا تھا مگر حادثاتی قیادت کی نظریاتی کمزوریوں کی وجہ سے تحریک کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔
اس کے بعد کشمیر سے آئے ہوئے کامریڈ عبید زبیر اور کامریڈ شہداب، جو اس تحریک میں شاندار کردار ادا کر رہے ہیں، نے اپنے تجربات شرکا کے ساتھ شیئر کیے۔ بعد ازاں کامریڈ کریم پرہار، رائے اسد، ثناء اللہ جلبانی اور کامریڈ آدم پال نے کشمیر کی تحریک اور اس سے حاصل ہونے والے انقلابی اسباق پر گفتگو میں حصہ لیا۔
یوں چوتھا سیشن بھی تفصیلی بحث کے بعد اختتام پذیر ہوا۔
پانچواں سیشن: انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر
کمیونسٹ سکول کے آخری سیشن کا آغاز 6 ستمبر کو ہوا۔ اس سیشن کو کامریڈ کریم نے چیئر کیا جبکہ لاہور سے آئے ہوئے کامریڈ شعیب نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کے موضوع پر لیڈ آف پیش کی۔

کامریڈ شعیب نے اپنی گفتگو میں ایک نظریاتی اور کیڈرز پر مشتمل انقلابی پارٹی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق دنیا ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں مختلف ممالک میں عوامی تحریکیں بار بار ابھر رہی ہیں۔ نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور کشمیر سمیت مختلف خطوں کی تحریکوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ عوامی مزاحمت کے باوجود نظریاتی قیادت اور منظم انقلابی پارٹی کی عدم موجودگی اکثر تحریکوں کو فیصلہ کن سماجی تبدیلی تک پہنچنے سے روک دیتی ہے۔
اس تناظر میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی (RCP) کی تعمیر، برانچ میٹنگز، پارٹی اسٹرکچر کو مضبوط بنانے، نئے کیڈرز کی تربیت اور پارٹی کے نظریاتی معیار کو بلند کرنے کو بنیادی اہمیت دی گئی۔
لیڈ آف کے بعد کامریڈ سلمیٰ، کامریڈ کریم، کامریڈ دانی، کامریڈ عثمان سیال، کامریڈ ثاقب، کامریڈ علی عیسیٰ اور کامریڈ عبید نے اپنے اپنے علاقوں میں پارٹی تعمیر کے تجربات پیش کیے۔
مختلف کامریڈز نے بتایا کہ کس طرح نوجوانوں، خصوصاً کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ، سوشل میڈیا کے ذریعے انقلابی کمیونسٹ پارٹی سے رابطہ کر رہے ہیں اور سرگرمیوں میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان نسل میں انقلابی نظریات کو سمجھنے اور سیکھنے کی شدید پیاس موجود ہے اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے پاس وہ نظریات موجود ہیں جن کی بنیاد پر ہم سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور ایک سوشلسٹ نظام کے قیام کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

سکول کے دوران مارکسی اور انقلابی لٹریچر کا بک سٹال بھی لگایا گیا، جس میں مختلف مارکسی کتب، پمفلٹس اور انقلابی لٹریچر دستیاب تھا۔ بک سٹال نے سکول میں شریک نوجوانوں اور کامریڈز کی خصوصی توجہ حاصل کی اور بڑی تعداد میں شرکا نے مختلف کتابوں اور لٹریچر میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ تین روزہ سکول کے دوران تقریباً 18,000 روپے کا مارکسی لٹریچر فروخت ہوا۔ بک سٹال کی سرگرمی اس بات کا اظہار تھی کہ نظریاتی بحث کے ساتھ ساتھ مارکسی لٹریچر کا مطالعہ بھی نوجوانوں اور کامریڈز میں انقلابی نظریات کو سمجھنے اور آگے بڑھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
کمیونسٹ سکول کا اختتام
کمیونسٹ سکول کے اختتام پر کامریڈ آدم پال نے کمیونسٹ سکول کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کمیونسٹ سکولوں کے انعقاد نے نظام کی انقلابی تبدیلی کے خواہاں نوجوانوں کی نظریاتی و سیاسی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کشمیر میں سالانہ بنیادوں پر منعقد ہونے والے اس سکول نے اس خطے میں سیاسی شعور پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں اور مستقبل میں بھی اس طرح کے سکولوں کا انعقاد جاری رہے گا۔

اختتامی مرحلے کا ایک اہم اور حوصلہ افزا لمحہ اس وقت آیا جب ایک نوجوان، جس نے سکول میں شرکت کی تھی، نے باقاعدہ طور پر اپنی پارٹی رکنیت کا اعلان کیا۔ نوجوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ واپس جا کر اپنے دوستوں کو بھی انقلابی سیاست اور پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت کے طور پر سامنے آیا کہ نظریاتی بحث اور اجتماعی سیاسی تجربہ نئے لوگوں کو بھی منظم انقلابی سیاست کی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فورٹ منرو میں منعقد ہونے والا کمیونسٹ سکول گرما 2026ء محض چند دنوں پر مشتمل ایک نظریاتی اجتماع نہیں تھا بلکہ موجودہ عہد کے بنیادی سیاسی، معاشی اور سماجی سوالات کو مارکسی نقطہ نظر سے سمجھنے کی ایک اجتماعی کوشش تھا۔
عالمی سرمایہ دارانہ بحران سے لے کر سامراجیت اور بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن، مارکسی فلسفے اور جدید سائنس سے لے کر کشمیر کی عوامی تحریک، اور بالآخر انقلابی پارٹی کی تعمیر تک، سکول کے پانچوں سیشنز نے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سوالات کو بحث کا موضوع بنایا۔
تین روزہ سکول میں ہونے والی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ موجودہ بحران محض سرمایہ داری کے معاشی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی، سماجی، اخلاقی اور ثقافتی تضادات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دنیا کے مختلف حصوں میں عوامی مزاحمت اور تحریکوں کا ابھرنا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موجودہ نظام کے خلاف بے چینی وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ لیکن اس بے چینی کو ایک شعوری، منظم اور فیصلہ کن انقلابی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے نظریاتی وضاحت، سیاسی تربیت، مستقل تنظیم اور ایک مضبوط انقلابی پارٹی بنیادی ضرورت ہیں۔