اپریل تھیسس
[تحریر: وِلادیمیر لینن، ترجمہ: صبغت وائیں] اس مضمون میں لینن کے معروف ’’اپریل تھیسِس‘‘ کو پیش کیا گیا ہے جو کہ لینن نے مزدوروں اور سپاہیوں کے نمائندگان کی سوویتوں (پنچائتوں) کی کل روس کانفرنس کی دو میٹنگوں میں 4 اپریل 1917ء کو پڑھے تھے۔
فریڈرک اینگلز کی وفات پرلینن کی تحریر
کیا عقل کا چراغ تھا خاموش ہو گیا۔ ۔ ۔ کیا دل تھا، دھڑکنوں کے تلاطم میں سو گیا
فلسفے کی ضرورت اور اہمیت
[تحریر: ماہ بلوص اسد] تقریباََ چار ارب سال پہلے اس کرۂ ارض پرحادثاتی طور پر چند معدنی عناصر نے زندگی کی صورت اختیار کی۔ ایک ادھورے پروکریوٹک (Prokeryotic) خلیے سے زندگی کا آغاز ہوا جو کہ چارارب سالوں میں ارتقا پاتے ہوئے آ ج اس کرۂ ارض پر مختلف انواع و اقسام کے 80 لاکھ […]
نوجوانوں کی انجمنوں کے فریضے
روسی نوجوان کیمونسٹ لیگ کی تیسری کل روسی کانگریس 2 تا 10 اکتوبر 1920، ماسکو میں منعقد ہوئی۔ لینن نے 2 اکتوبر کی شام کو اس کانگریس کے پہلے سیشن سے خطاب کیا۔ کانگریس میں 600 سے زائد ڈیلیگیٹس نے شرکت کی۔ لینن کی تقریر کا مکمل متن نیچے دیا گیا ہے۔ (کانگریس میں بہت […]
مارکس کا فلسفے میں انقلاب،’’فیورباخ پر تھیسس‘‘ کا ایک تجزیہ
[تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: صبغت وائیں] ’’یہ سوال کہ آیا انسانی غور و فکر بجائے خود حقیقی وجود رکھتا ہے یا نہیں، کسی طرح بھی نظریاتی سوال نہیں، یہ عملی سوال ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ عمل میں اپنے غورو فکر کی صداقت ثابت کر کے دکھائے، یعنی اس کی اصلیت اور اس کی […]
ولادیمیرلینن: عالمی سوشلسٹ انقلاب کا عظیم سپاہی
ٹیڈ گرانٹ کی کتاب ’’روس انقلاب سے رد انقلاب تک‘‘ سے اقتباس
مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس
مارکسزم کی سچائی کو آج پوری دنیا کے حالات ثابت کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام آج حالتِ مرگ کو پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ سال 2011ء انقلابی اٹھانوں کا سال تھا اور ان تمام تر انقلابی تحریکوں نے ثابت کیا کہ یہ نظام انسانوں کو سہولتیں دینے سے قاصر ہو چکا ہے اور اس نظام […]
قدر، قیمت اور منافع
’’قدر ، قیمت اور منافع‘‘ یا ’’اجرت ، قیمت اور منافع‘‘ در اصل کارل مارکس کی ان تقاریر پر مبنی ہے جو انہوں نے 20اور 27جون 1865ء کو پہلی انٹرنیشنل کی جنرل کونسل کے دو اجلاسوں میں کیں۔
سرمایہ دارانہ نظام بمقابلہ سائنس
تحریر:مائیک پیلیسک:- (ترجمہ :اسدپتافی) ایک تواتر و تسلسل کے ساتھ، اٹھتے بیٹھتے ہم پر یہ ہو شربا راز آشکارکیاجاتاہے کہ سرمایہ دارانہ نظام‘ٹیکنالوجی، ایجادات کو نہ صرف آگے بڑھاتا ہے بلکہ سائنسی ترقی کو بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی دینے میں محواور مگن چلاآرہاہے۔
سروینٹیز کے شاہکار ناول ڈان کیخوٹے کی 400ویں سالگرہ پر لکھی گئی ایلن ووڈز کی خصوصی تحریر، دوسرا اور آخری حصہ
تحریر : ایلن ووڈز:۔ (ترجمہ : آدم پال) تغیر کا دور ’’مارکس سروینٹیز اور بالزاک کو باقی تمام ناول نگاروں سے زیادہ پسند کرتا تھا۔ ڈان کیخوٹے میں اسے پرانی رسمی شجاعت آخری سانسیں لیتی ہوئی نظر آئی جس کا ابھرتے ہوئے بورژوا سماج میں مذاق اْڑایا جاتا تھا۔‘‘