فرانس: 5 نومبر کی عام ہڑتال، فیصلہ کن کامیابی کیسے ممکن ہے؟

|تحریر: جیروم میٹیلس، ترجمہ: علی عیسیٰ|

17اکتوبر طبقاتی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس روز ہائی سکولوں اور یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ بڑی تعداد میں محنت کش بھی احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو گئے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ہر شعبہ ہائے زندگی سے منسلک لوگ ان مظاہروں میں موجود تھے۔ مختصراً فضا میں انقلابی رنگ رچ بس چکا تھا۔ اکثریتی مظاہرین محض کسی ایک دو مطالبات کے لیے سراپا احتجاج نہیں تھے بلکہ وہ حکومت اور پورے نظام کی مکمل تبدیلی کی بات کر رہے تھے۔ یعنی وہ انقلاب کے حق میں نعرہ بلند کر رہے تھے۔

ریاست کی جانب سے دھمکیوں، جھوٹ اور ریاستی تشدد کی صورت میں اس کا رد عمل سامنے آیا۔ بورژوا سیاست دان اور صحافیوں کی جانب سے دن رات ہائی سکول کے طلبہ کی تحریک کے ”پر تشدد“ ہونے کا شور و غوغا مچانے کے بعد مبینہ طور پر ژاں لک میلانشون کی قیادت میں ”انتہائی بائیں بازو کے غنڈوں“ کی جانب سے ”غیر معمولی تشدد“ کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ حکومت کی جانب سے ”ملک کو لا فرانس انسومیز (LFI) کے چنگل سے بچانے کے نام پر پولیس اور عدالتی جبر میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے کرفیو نافذ کیا گیا ہے، مظاہروں پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ فوج اور انسدادِ دہشت گردی پولیس کے خصوصی دستوں کو بھی متحرک کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

24اکتوبر کو ہونے والے مظاہرے بھی گزشتہ ہفتے منعقد مظاہروں کی طرح بڑی عوامی شرکت اور ریڈیکل نوعیت کے تھے۔ اس عوامی طاقت کا مظاہرہ اس لیے بھی زیادہ قابلِ ذکر ہے کیونکہ میکرون نے جمعرات کو ”مظاہرے نہ کرنے کی سفارش کی تھی“، اس ”سفارش“ پر عمل درآمد کروانے کے غرض سے حکومت نے مظاہرین کو دھمکیاں دینے سے لے کر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنے، مظاہروں پر پابندیاں حتیٰ کہ آخری لمحے میں مظاہروں کے راستے تبدیل کرنے جیسے عجیب و غریب اقدامات کیے۔ مختصراً عوامی اجتماع اور احتجاج میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن حکومتی ہتھکنڈے ناکام ثابت ہوئے۔ یہ حکومت کی مکمل ناکامی جبکہ سڑکوں پہ موجود نوجوانوں اور محنت کشوں کی نمایاں فتح کا عکس ہے۔

مظاہرین کی جانب سے تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل، بالخصوص 5 نومبر کو اعلانیہ ملک گیر احتجاجی سرگرمیاں زیر بحث ہیں۔ بدھ 21 اکتوبر کو سی جی ٹی (CGT) کی سیکریٹری جنرل صوفی بینے (Sophie Binet) نے یہ بیان جاری کیا کہ:

”تحریک کو ایک نیا رخ دینے کا وقت ہو چکا ہے، ہڑتال کو تحریک کا مرکزی محور بننا چاہیے۔ لہٰذا اسی مقصد کے تحت سی جی ٹی دیگر یونینوں کے ساتھ مشترکہ طور پر 5 نومبر کے گرد وسیع پیمانے پر عوام کو متحرک کرنے کی اپیل کرتی ہے۔ بالخصوص ہم محنت کشوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہر جگہ، کام کی جگہوں سے لے کر ہر محکمے، ہر شعبے اور ہر فیکٹری میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ 5 نومبر کی ہڑتال کے دائرہ کار کو وسیع اور کامیاب کرنے کے لیے جنرل اجلاس کا انعقاد کریں۔ ہڑتال ہی کو ایجنڈے پر سر فہرست رکھیں۔ جب کام رک جاتا ہے تو پورا ملک جام ہو جاتا ہے، معیشت کا پہیہ حرکت چھوڑ دیتا ہے اور اسی طرح ہی ہمارے مطالبات سنے جا سکتے ہیں۔“

یہ بیان ٹریڈ یونین کنفیڈریشنز کی قیادت کے رویے کی تبدیلی کا واضح اظہار ہے۔ جبکہ ان کی جانب سے ایک طویل وقت یعنی ستمبر کے آغاز سے 17 اکتوبر کو احتجاجی تحریک کو منظم یا متحرک کرنے کی اپیل کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ لیکن اس دن کی غیر معمولی کامیابی نے انہیں جدوجہد کو مزید آگے بڑھانے کی جانب (کم از کم زبانی طور پر سہی) ایک اہم قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب صوفی بینے 5 نومبر اور اس کے بعد بھی ”ہڑتال کے دائرہ وسیع کرنے“ کی بات کر رہی ہے تو یہ بالکل واضح طور پر ایک ایسے راستے کا انتخاب ہے جس کے ذریعے حکومت کی گھناؤنی حکمت عملی کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

سب سے زیادہ لڑاکا سیاسی اور ٹریڈ یونین کارکنوں کو چاہیے کہ وہ صوفی بینے کی اس اپیل پر لبیک کہیں۔ ہمیں اپنی تمام تر قوتوں کو 5 نومبر اور آگے ہونے والی ہڑتالوں کو منظم تحریک کی صورت میں تعمیر کرنے کی ہر ممکن کوشش پر وقف کر دینا چاہیے۔ آگے کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے اور کس پروگرام کے تحت منظم ہونا چاہیے؟ ان سوالات کو آگے زیر بحث لایا جائے گا۔ لیکن اس سے قبل ہمارے لیے اپنے طبقاتی دشمنوں یعنی سرمایہ دار، ان کی حکومت اور سیاست دانوں کو درپیش عمومی صورتِ حال کا درست تجزیہ انتہائی ضروری ہے۔

کریک ڈاؤن کے معاشی وجوہات

لینن نے یہ وضاحت کی تھی کہ ”سیاست کچھ اور نہیں بلکہ معیشت کا مجتمع شدہ اظہار ہوتی ہے“۔ موجودہ صورتِ حال اس کی ایک نمایاں تصویر ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حکومت کی جانب سے جاری کریک ڈاؤن کو فرانسیسی معیشت کے گہرے بحران، بالخصوص بڑھتے ہوئے قرضوں سے الگ کر کے سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔

گزشتہ سال جون میں فرانسیسی حکومت کے 10 سالہ سرکاری بانڈز پر شرح سود تقریباً 3.7 فیصد تھی جبکہ 21 اکتوبر کو یہ بڑھ کر 5 فیصد کی حد سے بھی تجاوز کر گئی۔ دوسرے الفاظ میں یہ فرانسیسی ریاست کے لیے قرضوں کی مد میں دسیوں ارب یورو کی طویل مدتی اضافی ادائیگی ہے۔

یورو زون کی دوسری بڑی معیشت عین اسی راستے پر ہی رواں دواں ہے جس ڈگر پر 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کے وقت میں یونانی معیشت گامزن تھی۔ 2007ء میں یونانی حکومت 4.5 فیصد شرحِ سود پر قرض لے رہی تھی جو 2009ء میں بڑھ کر پانچ فیصد ہو گئی۔ جنوری 2010ء میں شرحِ سود چھ فیصد تک اور اسی سال کے اختتام دسمبر تک 12 فیصد تک بڑھ گئی۔ شرحِ سود میں یہ اضافہ مسلسل جاری رہا تاہم 2010ء کے بعد مالیاتی منڈیوں کو آئی ایم ایف اور یورپی مرکزی بینک (ECB) نے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یونان کے نام نہاد ”مالیاتی بیل آؤٹ“ (Bailout) کو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک کی سخت ترین اور وسیع ترین بجٹ کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ محض چند ہی سالوں کے اندر یونان کے عوام شدید غربت، معاشی بدحالی اور سماجی بحران کا شکار ہو گئے۔

بورژوا تجزیہ نگار چھاتی پیٹتے ہوئے یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ ’فرانس، یونان نہیں ہے۔‘ یہ مخلوق شرحِ سود میں اس قدر شدید اضافے اور بالخصوص آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے امکان کو مکمل مسترد کر رہے ہیں جبکہ یہ معاشی ڈھانچے میں رد و بدل کے نام پر اصلاحات اور انتہائی سخت بجٹ کٹوتیوں جیسے اقدامات کو مسترد تو دور، فوری عمل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو کہ بلاشبہ ”یونانی طرز“ ہی ہے۔ اس مجوزہ عوامی اخراجات میں کٹوتی کی وسیع لہر کے اختتام پر سروس سیکٹر کا انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہو چکا ہے، آبادی کی بھاری اکثریت کا معاشی قتل کیا گیا لیکن بقول ان کے قومی وقار بدستور محفوظ ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے مداخلت نہیں کی ہے۔

اگر آنے والے ہفتوں میں حکومت کی جابرانہ حکمت عملی ناکام ہو جاتی ہے اور جدوجہد مزید شدت اختیار کر لیتی ہے تو بورژوازی تحریک کے سامنے اہم رعایتیں دینے کی بجائے میکرون کو قربان کرنا زیادہ بہتر سمجھے گی۔

یہی وہ ایجنڈا ہے جس کو بورژوا سیاست دان فرانسیسی آبادی کی بھاری اکثریت پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے فائدہ بینکوں اور ذرائع پیداوار پر قابض صرف ان مٹھی بھر امیر زادوں یعنی سرمایہ دار طبقے کو ہی ہوا ہے۔

اسی کے پیش نظر اور بانڈ مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے بورژوازی اور اس کی حکومت مظاہرہ کرنے والے سکولوں کے طلبہ، یونیورسٹی کے طلبہ اور محنت کشوں کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے ریاستی جبر اور اسی جھوٹ و مکر کا سہارا لینے کو ترجیح دے رہی ہے۔

اس مقصد کے لیے سرمایہ دارانہ ریاست ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے، پولیس گردی اور اشتعال انگیزی کے حربے استعمال کر رہی ہے۔ چنانچہ 17 اکتوبر کو ریاستی جبر کے اداروں کا جو ”نظام بکھرتا“ دکھائی دیا، اس کی وجہ صرف عوامی تحریک کی دھماکہ خیز قوت نہیں تھی بلکہ ایک ایسے نظام کی جانب سے ”افراتفری“ کا باقاعدہ اہتمام بھی تھا جو سنسنی خیز مناظر کی تلاش میں ہے۔ اس کے بعد سے اس نام نہاد ’افراتفری‘ کی تصاویر اور مناظر مسلسل دکھائے جا رہے ہیں۔ انہیں ہمارے بنیادی جمہوری حقوق، بالخصوص احتجاج اور مظاہرہ کرنے کے حق، پر ایک وحشیانہ حملے کے جواز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہاں ہم مئی 1871ء میں پیرس کمیون کے خونریز ریاستی جبر پر کارل مارکس کے الفاظ نقل کرتے ہیں کہ:

”محنت کشوں کا پیرس، اپنی جرات مندانہ قربانی کے عمل میں، عمارتوں اور یادگاروں کو بھی اپنے شعلوں کی لپیٹ میں لے آیا۔ ورسائی (Versailles) کی حکومت چیخ اٹھی، ’آتش زنی!‘ اور اپنے تمام کارندوں کے کانوں میں یہ بات ڈال دی، حتیٰ کہ دور دراز دیہات تک بھی، کہ ہر جگہ اپنے دشمنوں کو پیشہ ور آتش زن ہونے کے شبہے میں تلاش کیا جائے۔ پوری دنیا کی بورژوازی، جو جنگ کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے قتلِ عام کو اطمینان سے دیکھ رہی تھی، اینٹ اور گارے کی عمارتوں کی بے حرمتی پر خوف و ہراس سے تڑپ اٹھی!“

آج کے بورژوا صحافی اور سیاست دان بھی وہی روش اپنائے ہوئے ہیں، پولیس اور عدالتی جبر کی کھلے عام حمایت کرتے ہیں، ”اینٹ اور گارے کی عمارتوں کی بے حرمتی“ پر اسی طرح مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔

اگر آنے والے ہفتوں میں حکومت کی جابرانہ حکمت عملی ناکام ہو جاتی ہے اور جدوجہد مزید شدت اختیار کر لیتی ہے تو بورژوازی تحریک کے سامنے اہم رعایتیں دینے کی بجائے میکرون کو قربان کرنا زیادہ بہتر سمجھے گی۔ یعنی صدارتی انتخابات کو چند ماہ پہلے منعقد کرانے کا راستہ اختیار کرے گی۔ کیونکہ تحریک کو دی جانے والی ایسی رعایتیں ان مطالبات کے بالکل برعکس ہوں گی جن کا تقاضا مالیاتی منڈیاں کر رہی ہیں۔

اخبار لے موند (Le Monde) سمیت دیگر اخبارات روزانہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ میکرون کے استعفے کا امکان بھی زیرِ غور ہے۔ ’لبرل‘ بورژوازی کے اس قدیم اور معروف اخبار کا خیال ہے کہ ایک خاص مرحلے پر صرف قبل از وقت صدارتی انتخابات ہی جدوجہد کی بڑھتی ہوئی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔

لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے یعنی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ صورتِ حال قابو میں آ جائے گی۔ ممکن ہے کہ متحرک عوام انتخابی شیڈول میں محض معمولی تبدیلی سے مطمئن نہ ہوں۔ لیکن بورژوازی کے لیے اس راستے میں ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ میکرون کے استعفے کی قیاس آرائیوں کے نتیجے میں فرانس کے عوامی قرضوں کی مالی اعانت کرنے والے سٹہ بازوں اور سرمایہ دار پر عدم تحفظ اور عدم اعتماد جیسے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور مجموعی طور پر یہ اثرات لازماً بورژوازی کے حق میں نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقہ تمام تر قوت ریاستی جبر اور پولیس گردی کی یلغار کے ذریعے تحریک کو کچلنے پر صرف کر رہا ہے۔

اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسا کرنے سے بغاوت کی آگ ٹھنڈی ہونے کی بجائے مزید بھڑک اٹھے گی۔ استحصال اور جبر کے شکار لاکھوں عوام پولیس کی بربریت اور جمہوری حقوق کو بے رحمی سے سلب کیے جانے پر شدید غم و غصے میں ہیں۔ اس کے علاوہ بورژوا میڈیا کی جانب سے چوبیس گھنٹے جھوٹ اور حقائق کو مسخ کرنے کے جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیے ہوئے ہیں اس کے سبب عوام ان سے بھی بیزار ہو چکے ہیں۔ یہ سب کچھ ان حقائق کے بالکل برعکس ہے جنہیں لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں خواہ براہِ راست یا سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لاتعداد ویڈیوز کی شکل میں۔ اسی طرح 17 اور 18 اکتوبر کو دو افراد کی ہلاکت کے واقعات پر چھائی خاموشی بھی ایسی حکومت کے خلاف عوامی بداعتمادی کو مزید بڑھا رہی ہے جس کی اخلاقی ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

بالآخر، ہر شخص جمعے کے روز ٹریپس (Trappes) میں ایک فرانسیسی نژاد کانگولی شخص کو گولی مارے جانے اور متعدد دیگر افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کا تعلق اس نسل پرستانہ پروپیگنڈے سے سمجھتا ہے جسے تمام بورژوا سیاست دان اور صحافی (خواہ ان کا تعلق انتہائی دائیں بازو سے ہو یا نام نہاد ”اعتدال پسند مرکز“ سے) کئی برسوں سے مسلسل پھیلا رہے ہیں۔ میکرون اس سانحے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ موقع پرستانہ چال عوام کے غصے کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔

ایل ایف آئی کے خلاف مہم

اس پس منظر میں ایل ایف آئی (La France Insoumise) کے خلاف جاری مہم ایک نئی شدت اختیار کر رہی ہے۔ میلانشون اور اس کے ساتھیوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس ”تشدد“ کی ”سخت الفاظ میں مذمت“ کریں کیونکہ وہ اس کے ذمہ دار محرک بھی انہی کو قرار دے رہے ہیں۔ منطقی طور پر دیکھا جائے تو ان سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ہی مذمت نہایت ”سختی“ سے کریں، بلکہ یہاں تک کہ خود کو عدالتوں کے حوالے کر دیں اور اپنے خلاف سخت ترین مثالی سزاؤں کا مطالبہ بھی کریں!

ریپبلکن پارٹی (Les Républicains) کے صدر برونو ریتایو (Bruno Retailleau) اور سینیٹر ژیرار لارشے (Gérard Larcher) کے ایل ایف آئی پر ”پابندی عائد کرنے“ کے امکان سے متعلق بیانات یقیناً انتخابی مفادات کے تحت دیے جا رہے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی اور اس کے متنازع امیدوار کو صدارتی انتخابات میں ایک اور عبرتناک شکست کا خوف ہے۔ نام نہاد ”اعتدال پسند“ ایدوار فیلیپ (Édouard Philippe) اور میرین لے پین کے درمیان سیاسی کشمکش میں گھرا ہوا برونو ریتایو اب اپنے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی (RN) کے ووٹ بینک سے دائیں بازو کے ووٹ اپنی طرف منتقل کرنا ہے۔

میلانشون اور اس کے ساتھیوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس ”تشدد“ کی ”سخت الفاظ میں مذمت“ کریں کیونکہ وہ اس کے ذمہ دار محرک بھی انہی کو قرار دے رہے ہیں۔

اب جبکہ ایل ایف آئی (LFI) پر پابندی عائد کرنے کا معاملہ اٹھایا جا چکا ہے، مرکزی دھارے کا میڈیا اس کے ”حق اور مخالفت“ میں دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ حقیقت میں یہ سب کچھ محض ایک مضحکہ خیز اور بنیادی طور پر مایوسی پر مبنی پروپیگنڈا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ریاست ایل ایف آئی پر پابندی عائد نہیں کرے گی۔ عوام کا شدید ردِعمل جو اس تحریک کے روایتی ووٹروں سے کہیں زیادہ وسیع حلقوں تک پھیل سکتا ہے پورے سیاسی نظام کو بہا لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عمومی طور پر بورژوازی کے مفاد میں یہ نہیں ہے کہ فرانس کو بوناپارٹسٹ نظام کی جانب دھکیلا جائے یعنی ایک ایسی فوجی اور پولیس آمریت کی طرف لے جایا جائے جس سے موجودہ مرحلے پر اس صورت میں بورژوازی کے لیے سب کچھ کھو دینے کا قوی امکان موجود ہے۔ ہم جس صورتِ حال کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ بوناپارٹسٹ نظام کے ظہور کی علامت نہیں جیسا کہ اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے۔

موجودہ ریاستی جبر ہمیں 2018ء اور 2019ء کی یلو ویسٹ تحریک (Yellow Vest Movement) کی یاد دلاتا ہے جس نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ پولیس کی بربریت اور جمہوری حقوق پر قدغنیں بورژوا ”جمہوریت“ کے بنیادی طریقہ کار کے ساتھ بیک وقت موجود رہ سکتی ہیں۔ اس سے ریاست کی بنیادی ماہیت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ جیسا کہ لینن نے واضح کیا تھا، ریاست آخری تجزیے میں ”مسلح افراد کا جتھہ“ ہے جو حکمران طبقے کی مراعات اور ملکیت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

طبقاتی جدوجہد کے موجودہ دھماکہ خیز مراحل میں نام نہاد ”بورژوا جمہوری ریاستیں“ وردی پوش انسان نما کتوں کو عوام پر کھلا چھوڑ دیتی ہیں۔ اس کے جواب میں ہمیں خصوصاً محنت کشوں اور عمومی طور پر تمام مظلوم و استحصال زدہ طبقات کے حقوق پر ہونے والے ہر حملے کے خلاف ایک وسیع اور غیر متزلزل جدوجہد کرنی ہو گی۔ فاشسٹ یا بوناپارٹسٹ نظام کے ظہور کی مسلسل پیش گوئیاں کرنے کی بجائے مزدور تحریک کی قیادت کو چاہیے کہ وہ نام نہاد ”جمہوری“ بورژوازی کے تمام موجودہ حملوں کے خلاف سنجیدگی سے جدوجہد کریں بالخصوص ان متعدد نوجوان مظاہرین کی قید کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ جمعے کے روز شائع ہونے والے اخبار لُومانی تے (L’Humanité) کے مطابق 17 اکتوبر سے اب تک 174 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پوری مزدور تحریک کو ان تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی اور ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرنا چاہیے!

جنگ کی تیاری

چونکہ حکومت کوئی سنجیدہ رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس لیے اس نے ریاستی جبر اختیار کر لیا ہے۔ لیکن عوامی تحریک کو کمزور کرنے کی بجائے اس حکمت عملی نے تحریک کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور سماج کے مختلف مظلوم طبقات اور پرتیں روز بروز اس میں شامل ہو رہی ہیں۔

اسی کے پیش نظر صوفی بینے نے یونینوں کے اتحاد کی نمائندگی کرتے ہوئے ”5 نومبر کو ایک وسیع پیمانے پر عام ہڑتال“ اور آگے اسی ہڑتال کو جاری رکھنے کی اپیل کی۔ اگر اس حکمت عملی پر عمل کیا جاتا ہے تو 5 نومبر کو مسلسل اور وقفے وقفے سے دہرائی جانے والی ہڑتالوں کی ایک وسیع تحریک شروع ہو جاتی ہے تو حکومت دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گی اور اسے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی۔ حکومتی حکام کو اپنے ڈنڈے، ’فلیش بالز‘ (flash-balls) اور آنسو گیس کے شیل ایک طرف رکھنے پر مجبور کرنے کا مؤثر ترین طریقہ یہی ہے کہ محنت کش طبقہ غیر معینہ مدت کی ہڑتالوں کی صورت میں بڑے پیمانے پر تحرک میں آئے۔ بالفاظ دیگر معیشت کا پہیہ جام کر دیا جائے۔

صوفی بینے محنت کشوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ”ہر جگہ، اپنے تمام کام کی جگہوں پر اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ، ہر محکمے اور ہر فیکٹری میں جنرل اجلاس منعقد کریں تاکہ عام ہڑتال کو عملی ایجنڈے کا حصہ بنایا جا سکے۔ بالکل یہی وہ طریقہ ہے جس کی ضرورت ہے۔ تاہم، ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ تمام کام کی جگہوں کی صورتِ حال یکساں نہیں ہے۔ نہ ہی ہر جگہ ٹریڈ یونین تنظیم کا ایک جیسا ڈھانچہ موجود ہے اور نہ ہی جدوجہد کی روایات اور تجربات کی سطح یکساں ہے۔

مزید برآں، تمام کمپنیوں کا معاشی وزن بھی یکساں نہیں ہوتا اور نہ ہی پیداوار کو روکنے میں ہر کمپنی ایک جیسا کردار ادا کر سکتی ہے۔ صوفی بینے کی پورے محنت کش طبقے کو متحرک ہونے کی اپیل درست ہے لیکن اس عمومی اپیل کے ساتھ ایک ٹھوس اور واضح لائحہ عمل کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے جو ہماری حقیقی تنظیمی قوت اور موجودہ حالات پر مبنی ہو بالخصوص ٹریڈ یونینز کی قوت اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔

اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ محنت کش طبقے کے ان شعبوں کو متحرک کیا جائے جو ایک طرف مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور جدوجہد کی روایات رکھتے ہیں اور دوسری طرف ملک کی معاشی زندگی میں کلیدی حیثیت کے حامل ہیں۔ اس حوالے سے بالخصوص ٹرانسپورٹ، توانائی اور بندرگاہوں کے شعبوں کے محنت کشوں کی اہمیت نمایاں ہے۔ اگر یہ محنت کش عام ہڑتال کی ایک مضبوط تحریک شروع کرتے ہیں تو وہ محنت کش طبقے کے دیگر اہم شعبوں کو فیصلہ کن محرک فراہم کریں گے۔ ان شعبوں میں دھات سازی کی صنعت، بینکاری کا شعبہ اور مجموعی طور پر سرکاری ملازمین شامل ہیں۔

یہ محض اتفاق نہیں کہ ہم نے ٹرانسپورٹ، توانائی اور بندرگاہوں کے محنت کشوں کا ذکر کیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان تینوں شعبوں کے محنت کش ہڑتالوں کی کئی لہریں شروع کر چکے ہیں۔ تاہم، اس وقت کی حکومتوں نے کوئی رعایت نہیں دی، کیونکہ ہر مرتبہ یہ ہڑتالیں دوسرے شعبوں تک پھیلنے میں ناکام رہیں۔

اس جدوجہد میں شریک محنت کشوں کے حافظے میں آج بھی ان شکستوں کی یاداشت موجود ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اس مرتبہ ہمارے طبقے کے ان مضبوط مراکز کو متحرک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک واضح لائحہ عمل موجود ہو، جس سے سب آگاہ ہوں، جس پر سب کے درمیان بحث ہو اور جس میں عام ہڑتالوں کو معیشت کے دیگر اہم شعبوں تک تیزی سے پھیلانے کا منصوبہ شامل ہو۔ بصورتِ دیگر بندرگاہوں، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے محنت کش ایک بار پھر طویل جدوجہد میں شامل ہونے سے ہچکچا سکتے ہیں۔

ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم اس طبقاتی جنگ میں درکار جنگی حکمت عملی فراہم کر رہے ہیں بلکہ ٹریڈ یونینز خواہ وہ مقامی سطح کے ہوں یا قومی سطح کے، مختلف شعبوں میں محنت کشوں کے رجحانات اور مزاج کو ہم سے کہیں بہتر جانتے ہیں۔ وہ 5 نومبر سے شروع ہونے والی ہڑتالوں کی تحریک کو منظم اور مربوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں اور انہیں یہ کردار ادا کرنا بھی چاہیے۔

ٹریڈ یونین تحریک کے اندر موجود تمام قوتوں کو متحرک کرنا ہو گا اور اس جدوجہد میں بنیاد پرست بائیں بازو کی تمام قوتوں، بشمول ایل ایف آئی، کی حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہڑتال کا کنٹرول مضبوطی سے خود محنت کشوں کی ہڑتالی کمیٹیوں کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔ صوفی بینے تمام محنت کشوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جنرل اجلاسوں میں شریک ہوں۔ یہ اجلاس مختلف شعبوں کے محنت کشوں کے مابین ان کی آپسی اجلاس کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں جن میں مختلف شعبوں کے محنت کش ہڑتال کو پھیلانے کی تجاویز اور عملی اقدامات پر بات کریں۔ ان اجلاسوں میں ایسے مندوبین بھی منتخب کیے جا سکتے ہیں جنہیں جدوجہد میں رابطہ کاری اور جنرل اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملی طور پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی جائے۔

ہائی سکولوں کے طلبہ اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی جدوجہد کے اس نئے مرحلے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 2006ء میں محنت کشوں کے حقوق پر حملوں کے خلاف چلنے والی وسیع عوامی تحریک کے دوران یونیورسٹیوں کے جنرل اجلاسوں نے طلبہ اور سکول کے نوجوانوں کے اجتماعات منظم کیے جنہیں ریلوے اسٹیشنوں اور کام کی جگہوں کی جانب بھیجا گیا تاکہ کام بند کرایا جا سکے۔ یہ کوششیں اکثر کامیاب رہیں۔ تحریک کی فتح میں یہ ایک بنیادی عنصر ثابت ہوا۔

طلبہ اور نوجوان جو محنت کشوں کے فیصلہ کن کردار سے بخوبی آگاہ ہیں انہیں جدوجہد کی ان عظیم روایات سے دوبارہ اپنا تعلق جوڑنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے طلبہ تنظیموں کو یونیورسٹیاں قبل از وقت بند نہیں کرنی چاہئیں بلکہ وہاں روزانہ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر جنرل اجلاس منعقد کرنے چاہییں جن میں سکولوں کے طلبہ اور محنت کشوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے۔ ان جلسوں کا مقصد عام ہڑتال کو آگے بڑھانے میں عملی کردار ادا کرنا ہونا چاہیے۔ 2 نومبر کو یونیورسٹیاں دوبارہ کھلتے ہی طلبہ تحریک کی اولین ترجیح یہی ہونی چاہیے۔ اس کام کو سکولوں کے طلبہ کی تحریک اور محنت کشوں کی تنظیموں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری میں آگے بڑھانا ہو گا۔

جدوجہد کا پروگرام

عام ہڑتال کی تحریک کی بنیاد ایک واضح پروگرام پر ہونی چاہیے۔ محنت کش محض چند معمولی مراعات حاصل کرنے کی امید میں اس پیمانے کی تحریک شروع نہیں کریں گے۔ اس جدوجہد میں شامل ہونے کی قربانیوں کا کوئی ٹھوس مقصد ہونا چاہیے۔ تحریک کے مقاصد اس میں دی جانے والی قربانیوں کے متناسب ہونے چاہییں۔ جیسے کہ 19 اکتوبر کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں سی جی ٹی کی کنفیڈرل ایگزیکٹو نے درج ذیل مطالبات پیش کیے:

”پارکورسوپ (اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے لیے استعمال ہونے والے آن لائن پورٹل) کا خاتمہ، سکولوں اور یونیورسٹیوں کے لیے فنڈز کی فراہمی، اجرتوں میں اضافہ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، پنشن، طلبہ کے وظائف اور تمام سماجی مراعات میں اضافہ، بیمار افراد پر ٹیکس عائد کرنے اور عوامی ادارے بالخصوص ہسپتالوں میں کٹوتیوں کا خاتمہ، اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی اور ملازمتوں سے برطرفیوں کا سلسلہ روکنا۔“

ان تمام مطالبات کو یکجا کیا جائے تو یہ کوئی معمولی مطالبات نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ ٹوٹل انرجیز (TotalEnergies) کو قومی تحویل میں لینے کا مطالبہ بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم واقعی ”قیمتوں کو منجمد“ کرنے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ موجودہ حالات میں ان مطالبات کی منظوری تحریک کی ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔ تاہم، حکومت کسی بھی صورت ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی بلکہ وہ مستقبل میں مسلسل ایسے اقدامات کرے گی جن کے ذریعے آبادی کی بھاری اکثریت پر مزید 54 ارب یورو کی ”عوامی اخراجات میں کٹوتیاں“ مسلط کی جا رہی ہیں۔

ہائی سکولوں کے طلبہ اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی جدوجہد کے اس نئے مرحلے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایک بار پھر لیکورنو حکومت کے پیشِ نظر صرف ایک ہی مقصد ہے: بانڈ مارکیٹوں کو ”عوامی اخراجات میں کمی“ پر مبنی بجٹ مسلط کرنے کی پیشکش کی ہے۔ چنانچہ اگر مسلسل ہڑتالوں کی ایک طاقتور لہر اٹھتی ہے تو بورژوازی تحریک کے مطالبات پر کوئی سنجیدہ رعایت دینے کی بجائے میکرون کے استعفے کا کارڈ کھیلنے کو ترجیح دے گی، یعنی قبل از وقت صدارتی انتخابات کا اعلان کر دیا جائے گا۔

تاہم، ممکن ہے کہ بورژوازی یہ کارڈ کھیلنے میں بہت دیر کر دے۔ اگر مئی 1968ء جیسی وسیع تحریک ابھر کر سامنے آتی ہے جس کا مطالبہ صوفی بینے کر رہی ہے تو معیشت کا مفلوج ہو جانا محنت کشوں کے شعور پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ ہمیشہ کی طرح ایک غیر معینہ مدت کی عام ہڑتال اقتدار کے سوال کو جنم دے گی یعنی یہ سوال کہ سماج پر حق حکمرانی کس طبقے کا ہونا چاہیے؟ سرمایہ دار جو عوام سے منافع بٹورتے ہیں یا محنت کش طبقہ جو تمام دولت کا خالق ہے اور معیشت کو اکثریت کے مفاد میں چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ ہماری پارٹی انقلابی کمیونسٹ پارٹی (پارٹی کمیونسٹ ریولوشنیئر) اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جدوجہد کے پروگرام کا اختتام ایک سادہ سے مطالبے پر ہونا چاہیے کہ ”امیر زادوں کی آمریت نامنظور! آگے کا راستہ مزدور راج!“ ہمیں اپنے طبقے کو ابھی سے ہی اقتدار پر قبضہ کرنے کے امکان کے لیے تیار کرنا ہو گا۔ آئندہ ہفتوں میں جدوجہد جو بھی رخ اختیار کرے ہمیں محنت کش طبقے کی تمام پرتوں اور نوجوانوں کے درمیان اس خیال اور مقصد کا مسلسل دفاع کرنا ہو گا۔

خود صوفی بینے نے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ: ”جب کام رک جاتا ہے تو ملک کا پہیہ جام ہو جاتا ہے اور معیشت مکمل مرگ بستر پر چلی جاتی ہے“۔ بالکل درست اور یہی وجہ ہے کہ محنت کشوں کو معیشت کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینا ہو گا اور معاشرے کو سوشلسٹ بنیادوں پر از سرِ نو منظم کرنا ہو گا۔ ہمیں بورژوازی کو اس کی ملکیت سے محروم کرنا ہو گا اور ”آزاد منڈی“ کے انتشار کی جگہ پیداوار کی معقول اور جمہوری منصوبہ بندی کو رائج کرنا ہو گا۔ سی جی ٹی (CGT) کو فوری طور پر اس بنیادی نظریے کی طرف واپس آنا چاہیے، جو ایک طویل عرصے سے اس کے پروگرام کا مرکزی ستون رہا ہے۔