|تحریر: آدم پال|

پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ایک کمزور کڑی ہے۔ آج پوری دنیا میں یہ نظام زوال پذیر ہے اور اس کے خلاف ایک کے بعد دوسرے ملک میں بغاوتیں ابھر رہی ہیں تو یہ نظام یہاں بھی لرز رہا ہے۔ اس نظام میں انسانیت کو ترقی، خوشحالی اور امن دینے کی صلاحیت کب کی ختم ہو چکی ہے اور آج اپنے زوال کے بدترین عہد میں یہ دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو بدترین غربت،بھوک، بیماری اور جنگوں میں دھکیل رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس نظام کاحکمران سرمایہ د ار طبقہ اس نظام کو ہر صورت میں جاری رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے کیونکہ نہ صرف اس طبقے کی حاکمیت بلکہ اس کے منافع اور سرمائے کا تحفظ اسی نظام کے ساتھ جڑا ہے۔
پاکستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ایک طرف آبادی کا وسیع تر حصہ بد ترین حالات زندگی میں رہنے پر مجبور ہے جبکہ اس ملک کا سرمایہ دار طبقہ اور سامراجی طاقتیں یہاں پیدا کردہ دولت کابڑا حصہ ہڑپ کرتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف پٹرول، ڈیزل، بجلی اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ہورہا ہے، تعلیم اور صحت کے بجٹ میں تاریخ کی سب سے بڑی کٹوتیاں لگائی جا رہی ہیں جس کے باعث ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں آئے روز جان لیوا حادثات ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سرمایہ دار طبقے کے منافع تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے بینکوں نے سال 2025ء میں 671ارب روپے کے خالص منافع کمائے جو ایک سال قبل حاصل ہونے والے منافع سے 11فیصد زائد تھا۔
2026ء کے پہلے چھ ماہ میں یہ بینک 370ارب روپے کے منافع کما چکے ہیں یعنی اندازوں کے مطابق اس سال کے منافع پچھلے سال سے بھی کہیں زیادہ ہوں گے۔اسی طرح گاڑیوں کے شعبے کی صنعت کے منافع صرف2026ء کی ایک سہ ماہی میں 28.4ارب روپے ظاہر کیے گئے ہیں۔مالی سال 2026ء میں ٹیکسٹائل کی20 بڑی صنعتوں کے منافع 52ارب روپے رہے جو ایک سال قبل سے 11.4فیصد زیادہ تھے۔خوراک اور بوتلیں بنانے والی بڑی کمپنیوں کے منافع 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں 15فیصد اضافے کے ساتھ 17ارب روپے رہے۔اسی طرح دیگر شعبوں کی تفصیلات بھی موجود ہیں جن میں تمام شعبوں کے منافعوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
ان اعداد و شمار میں سرمایہ داروں کی جانب سے کیے گئے دھوکے، فراڈ اور ہیرا پھیری سے چھپائی گئی رقم شامل نہیں جو پاکستان جیسے ملکوں میں دکھائی گئی رقم سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر سرمایہ داروں کی جانب سے سیلز ٹیکس کی چوری ایک روٹین عمل ہے جس میں یہ رقم صارف سے وصول کر لی جاتی ہے لیکن سرکاری خزانے میں جمع نہیں کروائی جاتی۔اگر ان منافعوں پر ٹیکسوں کی وصولی پوری کی جائے اور ان میں اضافہ کیا جائے تو پاکستان میں تیل اور بجلی کی قیمتیں فوری طور پر نصف کی جا سکتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں پاکستان کے محنت کش طبقے کی جانب سے پیدا کی جانے والی دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ ملکی معیشت کا بحران بڑھ رہا ہے۔حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کا سالانہ جی ڈی پی 450ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے جبکہ صرف پانچ سال قبل تک یہ 348ارب ڈالر کے قریب تھا۔ان اعدادو شمار میں یہاں پیدا ہونے والی وہ دولت شامل نہیں جو سرکاری ریکارڈ میں نہیں آتی یا جسے بلیک اکانومی کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ اس میں ہونڈی کے ذریعے آنے والی رقوم سے لے کر دیگر بہت سے غیر رسمی ذرائع تجارت اور معیشت شامل ہیں۔خود بہت سے سرکاری اہلکار کہہ چکے ہیں کہ اس دولت کا حجم بھی اگر رسمی معیشت سے زیادہ نہیں تو ا س جتنا ضرور ہے۔ اس دعوے کو سچ مان لیا جائے تو یہاں پیدا ہونے والی دولت کا حجم لگ بھگ 900ارب ڈالر سالانہ بنتا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ بنتا ہے کہ دولت کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود محنت کش عوام کی زندگیاں پہلے سے بد تر ہوتی چلی جا رہی ہیں اور انہیں مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور بدترین ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تو اس کا جواب اس سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں میں موجود ہے جس پر براجمان حکمران طبقہ یہاں پیدا ہونے والی تمام تر دولت ہڑپ کرجانے کی کوشش کرتا ہے اور یہ دولت پیدا کرنے والے محنت کشوں کو بھوک اور بیماری سے مرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
یہاں پر بہت سے سیانے ہمیں دنیا اور خطے کے خراب حالات سمجھانے کی کوشش کریں گے اور بہت سی جنگوں کے بارے میں بتائیں گے۔ اسی طرح حکمرانوں کے کاسہ لیس دانشور بھی میدان میں کود پڑیں گے اور بتائیں گے کہ حکمران کتنی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن وہ یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ یہ تمام مسائل بھی اسی نظام کے پیدا کردہ ہیں اور ان کی بنیاد میں بھی سرمایہ دار طبقے اور سامراجی طاقتوں کی منافعوں کی ہوس اور منڈیوں پر قبضے کا لالچ ہی ہے جس کے باعث قیمتی انسانی جانیں ان جنگوں میں جھونکی جا رہی ہیں اور خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف جنگیں بھی سرمایہ دار طبقے کے لیے ہوشربا منافعوں کے مواقع لے کر آتی ہیں۔
حالیہ جنگیں بھی مختلف نہیں اور ذخیرہ اندوز کئی گنا قیمت پر وہ اشیا بیچتے ہیں۔ اسی طرح تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے تیل سے منسلک ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مقامی سرمایہ داروں نے بہت بڑے منافع کمائے ہیں اور ابھی تک کما رہے ہیں۔مالی سال 2026ء میں تیل اور گیس سے منسلک پاکستانی کمپنیوں نے 459.9ارب روپے کے منافع کمائے جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً31فیصد زیادہ تھے۔ اس میں او جی ڈی سی ایل نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا منافع 242.4ارب روپے کمایا۔ عالمی سطح پر موجودملٹی نیشنل کمپنیوں کے منافعوں کی صورتحال اس سے کہیں ہوشربا ہے۔ 2026ء کی دوسری سہ ماہی میں تیل کی آٹھ بڑی کمپنیوں نے 93 ارب ڈالر کے منافع کمائے۔ سال کی تیسری سہ ماہی میں یہ منافع اور بھی بڑھ چکے ہیں۔ صرف ایک کمپنی برٹش پٹرولیم کے تیسری سہ ماہی کامنافع پچھلے سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 155فیصدبڑھ چکا ہے۔دیگر بڑی کمپنیوں کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ دفاع اور ہتھیاروں سے جڑی کمپنیوں کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔
پاکستان میں محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت کا بڑا حصہ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے لوٹ کر لے جاتے ہیں جنہوں نے بینکاری اور سود کے نظام کے تحت اس پورے سماج کو جکڑرکھا ہے۔پاکستان کی حالت یہ ہے کہ یہ اپنی مرضی سے وزیر خزانہ بھی نہیں لگا سکتا اور اسے آئی ایم ایف کی اجاز ت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی حال وزیر داخلہ جیسے اہم منصب کے لیے بھی ہے جس کے لیے امریکی آشیر باد کی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت پاکستان پر بیرونی قرضوں کا حجم 138.8ارب ڈالر ہے۔ 2026ء میں پاکستان نے 23ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں بیرونی قرضوں کی مد میں کرنی ہیں جبکہ اندرونی قرضوں کی ادائیگیاں اس کے علاوہ ہیں۔اسی طرح پاکستان آئی پی پیز کو بھی ادائیگیاں کر رہا ہے جو بجلی بنائے بغیر صرف انسٹالڈ کیپیسٹی کے نام پر وصولیاں کر رہے ہیں۔ مالی سال 2026ء میں یہ ادائیگیاں تین ہزار ارب روپے کے قریب بنتی ہیں جبکہ موجودہ مالی سال میں ان کا حجم مزید بڑھ جائے گا۔ ان کی وصولی بھی بجلی کے بلوں سمیت دیگر ٹیکسوں کے ذریعے عوام سے ہی کی جاتی ہے۔
دوسرے الفاظ میں عالمی مالیاتی ادارے، بینک، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور مقامی سرمایہ دار طبقہ سب مل کے اس ملک میں پیدا ہونے والی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں جبکہ عوام کی اکثریت کے پاس کھانے کی دو وقت کی روٹی بھی نہیں۔
حکومت اور سیاسی پارٹیوں کا کردار
اس حوالے سے اس ملک پر براجمان حکمران سرمایہ دار طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے ان کی دولت میں اضافہ ہو اور مزدور کا مزید استحصال کیا جا سکے۔ان حکمرانوں میں جرنیل، جج اور سیاستدان سب ہی شامل ہیں اور سب ہی اس ظالمانہ نظام کو عوام پر مسلط رکھنے کے لیے دن رات مصروف ہیں۔دوسرے الفاظ میں سرمایہ دارانہ نظام میں حکومت سرمایہ دار طبقے کی نمائندہ کمیٹی کا کردار ادا کرتی ہے اور اس طبقے کے مفادات کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے۔یہ یہاں پر موجود نام نہاد جمہوریت ہو یا پھر آمریت دونوں صورتوں میں اس کا حتمی مقصد سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا ہی تحفظ کرنا ہے۔ بہت سے ملکوں میں بادشاہتیں بھی ابھی تک موجود ہیں اور کئی جگہ پر نام نہاد سوشلسٹ پارٹیاں بھی بر سر اقتدار ہیں لیکن آخری تجزیے میں وہ اسی سرمایہ دار طبقے کے ہی مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔

اس نظام سے جڑی تمام سیاسی پارٹیاں بھی حتمی طور پر سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا ہی تحفظ کرتی ہیں اور ان کی ہی آلہ کار ثابت ہوتی ہیں۔ اس دوران ہمیں دائیں سے لے کر بائیں بازو تک مختلف نظریات کی حامل سیاسی قوتیں نظر آتی ہیں جنہیں ایک وقت میں عوام کے ایک حصے کی حمایت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ہمیں مذہبی پارٹیوں سے لے کر قوم پرست اور اصلاح پسند بائیں بازو سے لے کر انتہائی دائیں بازو کے فاشسٹ رجحانات والی پارٹیاں بھی نظر آتی ہیں جبکہ طالبان اور دیگر ناموں سے دہشت گرد تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ لیکن آخر کار یہ تمام پارٹیاں اور تنظیمیں سرمایہ دار طبقے کے ہی کسی ایک حصے کے مفادات کی ترجمانی کر رہی ہوتی ہیں اور جب انہیں اقتدار میں آنے کا موقع ملتا ہے تو یہ اس نظام کے رکھوالے کے طور پر ہی اپنے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔
اس موقع پر یہ کہنا ضروری ہے کہ اس نظام میں حکمران طبقے کے درمیان آپسی تضادات کا ابھرنا اور ان کا اظہار سیاسی لڑائیوں یا پھر ایک کھلی جنگ کی شکل میں ہونا بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ لیکن اس تمام لڑائی میں اس نظام کی حدود کو مقدس قرار دے دیا جاتا ہے اور کوئی بھی پارٹی ان حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش نہیں کرتی کیونکہ اس نظام سے باہر ان کے اپنے وجود کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
اس نظام میں سرمایہ دار طبقے کا دشمن اگر کوئی طبقہ موجود ہے جو اسے فیصلہ کن شکست دے سکتا ہے تو وہ مزدور طبقہ ہے۔طبقاتی نظام میں دو طبقات کے درمیان جاری کشمکش کبھی ختم نہیں ہوتی لیکن یہ کبھی ایک ہی رفتار کے ساتھ جاری بھی نہیں رہتی۔ کبھی یہ ماند پڑ جاتی ہے اور کبھی شدت اختیار کر جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی ہمیں مزدور طبقے کی جدوجہد کی شاندار تاریخ نظر آتی ہے جب اس نے سرمایہ دار طبقے کی حکمرانی کو چیلنج کیا اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی۔ لیکن مزدور طبقے کے پاس اپنی ایسی کوئی پارٹی نہیں تھی جو انقلابی نظریات سے لیس ہوتی اور اس جنگ کو فیصلہ کن انداز میں کامیاب کرتی۔ لیکن اس کے باوجود مزدور طبقے نے ایسی حادثاتی قیادتوں کو بھرپور موقع دیا جنہوں نے اس کی ترجمانی کا دعویٰ کیا، سرمایہ داری ختم کرنے اور سوشلزم لانے کے نعرے لگائے اور روٹی، کپڑا، مکان ہر شخص کو دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن ان لیڈروں نے بھی مزدور طبقے سے غداریاں کیں اور عظیم الشان انقلاب کو اسی نظام کی حدود کے اندر مقید رکھا۔

1968-69ء کے انقلاب کے دوران شروع ہونے والی لڑائی کئی دہائیوں تک جاری رہی اور ابھی تک مزدور طبقہ مختلف طریقوں سے اپنی جدوجہد کرتا آیا ہے۔ لیکن دوسری طرف حکمران طبقے نے بھی عوامی تحریکوں کو کچلنے اور اپنا اقتدار مضبوط کرنے کے بہت سے اوزار بنا رکھے ہیں اور انہیں بقدر ضرورت استعمال کرتا رہتا ہے۔ ان ہتھیاروں میں سب سے بڑا ہتھیار سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس میں عدالتیں، پارلیمنٹ، بیوروکریسی اور فوج شامل ہے اور ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جن کے ذریعے سرمایہ دار طبقے کی نجی ملکیت اور منافعوں کو تحفظ دیا جا سکے۔ا سکے علاوہ سیاسی پارٹیاں، میڈیا، ملا اور دیگر ذرائع بھی بقدر ضرورت استعمال کیے جاتے ہیں۔
دوسری طرف مزدور طبقہ بھی اپنے تجربات سے بہت کچھ سیکھ چکا ہے اور حکمران طبقے کے تمام ہتھکنڈوں کو پہچانتا چلا جا رہا ہے۔ اس دوران ایک کے بعد دوسرے علاقوں میں عوامی تحریکیں بھی ابھری ہیں جن میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، پشتون اور بلوچ علاقے شامل ہیں جن میں محنت کش عوام نے حکمرانوں سے اپنی نفرت کا بھرپور اظہار کیا ہے اور اپنے معاشی،قومی وجمہوری حقوق کی خاطر شاندار جدوجہد کی ہے لیکن ان تحریکوں میں ابھرنے والی حادثاتی قیادتوں کے پاس اس نظام اور اس پر براجمان سرمایہ دار طبقے سے لڑنے کا کوئی نظریہ اور کوئی پروگرام نہیں تھا۔ ان قیادتوں نے گھسے پٹے اصلاح پسندی اور قوم پرستی کے فرسودہ نظریات ہی ان تحریکوں پر مسلط کیے اور ان کے تحت ہی تحریکوں کو کامیاب کرنے کی کوشش کی جن میں انہیں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ آج دنیا میں ابھرنے والی تحریکیں اور ان میں شامل عوام ان سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔دوسری طرف حکمران طبقے کے بحرانوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔پاکستان کی ریاست آج اپنی تاریخ کے سب سے گہر ے بحران میں دھنس چکی ہے۔ایک طرف ان کا آقا امریکی سامراج بد ترین زوال کا شکار ہے اور دنیا میں اس کی طاقت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے جبکہ سرمایہ داری کے مالیاتی بحران بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگیں اس ریاست پر دباؤ میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ سعودی عرب کی یمن کے حوثیوں کے ہاتھوں بنتی درگت نے تمام خلیجی ممالک کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پہلے ہی ایران کی امریکہ اور اسرائیل کیخلاف جنگ میں دبئی سمیت تمام خلیجی ممالک بدترین مالیاتی اور ریاستی بحران کا شکار تھے۔ان ممالک میں موجود 60لاکھ کے قریب پاکستانی نہ صرف معیشت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ سیاست میں بھی ان کا کردار ہے۔اگر ان کے روزگار ختم ہوتے ہیں اور خلیجی ممالک سے آنے والے قرضے اور مالیاتی امداد ختم ہوتی ہے تو ریاست کا بحران شدت اختیار کرے گا۔
نئے صوبے؟
حکمران طبقے کے منافعوں اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کے لیے نئے صوبوں کا شوشہ بھی چھوڑا جا رہا ہے۔ اس کا حتمی مقصد این ایف سی ایوارڈ میں رد و بدل کرتے ہوئے فیڈرل ٹیکس ریونیو میں سے بڑی رقم وفاقی بجٹ کے لیے مختص کروانا ہے جو اٹھاروہیں ترمیم کے بعد زیادہ تر صوبائی بجٹ میں جا رہی تھی۔ اس تبدیلی سے جہاں آئی ایم ایف، عالمی مالیاتی اداروں اور ملکی نجی بینکوں کو لوٹ مار کے مزید مواقع ملیں گے وہاں دفاعی بجٹ میں بڑے اضافے کی راہ بھی ہموار ہو گی۔لیکن اس شوشے کو چھوڑنے کا ایک مقصد سماج میں صوبائی،قومی اور لسانی تعصب کا زہر انڈیلنا بھی ہے۔حکمران طبقے کا سب سے بڑا خوف محنت کش طبقے کا اتحاد اور یکجہتی ہوتی ہے اور وہ اسے توڑنے کے لیے مختلف حربے آزماتے رہتے ہیں۔
اس میں قومی اور لسانی تعصب ان کا پرانا اور کارآمد نسخہ ہے جسے ایک دفعہ پھر عوامی تحریکوں کو ابھرنے سے پہلے ہی کچلنے کے لیے پھیلایا جا رہا ہے۔اس طریقے سے ایک طرف مظلوم قومیتوں پر بد ترین جبر جاری رکھا جاتا ہے اور ان کے وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف اس جبر کیخلاف ابھرنے والی تحریکوں کو زہریلے قومی تعصب کے ذریعے دیگر علاقوں کے محنت کش عوام سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ان تمام حملوں کا مقابلہ انقلابی کمیونزم کے نظریات سے کیا جا سکتا ہے جن کے ذریعے نہ صرف قومی محرومی کا خاتمہ ہو سکتا ہے بلکہ سرمایہ دار طبقے کیخلاف مشترکہ جدوجہد کرتے ہوئے اس کے اقتدار کا خاتمہ کیا جا سکتاہے۔
پختونخواہ میں گورنر راج
اسی دوران حکمران طبقے کی آپسی لڑائی میں بھی شدت آ رہی ہے اور ان کے مختلف دھڑے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ ان میں اپوزیشن دھڑے کی قیادت تحریک انصاف کر رہی ہے جو اس وقت بر سر اقتدار دھڑے کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔تحریک انصاف بھی اسی سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ ہے اور اپنے دور اقتدار میں اس نے بھی اس نظام کو مسلط رکھنے کی پوری کوششیں کی ہیں۔ لیکن اس کا حامی ریاستی دھڑا اپنی حاکمیت برقرار نہیں رکھ سکا اور نہ ہی بر سر اقتدار ریاستی دھڑے کو ابھی تک شکست دے سکا ہے۔
اس لڑائی کے آغاز پر عمران خان کا اقتدار ختم کیا گیا اور پھر اس کو جیل میں ڈال دیا گیا اور وہ ابھی تک قید ہے لیکن اب پختونخواہ میں اس کی پارٹی کی منتخب حکومت کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے اور وہاں پر انتہائی جابرانہ انداز میں گورنر راج مسلط کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ موجودہ حکمرانوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے نام نہاد قوانین اور جمہوریت کو پامال کیا ہے اور ایک منتخب حکومت کو جبر کے ذریعے ختم کیا ہے۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر اہم وزرا اور ممبران اسمبلی ابھی تک لا پتہ ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنان کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں یا ان پر جھوٹے مقدمے قائم کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کی بنیاد صوبے میں جاری دہشت گردی کو بنایا ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس کا مقابلہ کرنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی تھی۔اس حوالے سے تحریک انصاف پر یہ الزام بھی موجود ہے کہ وہ درپردہ طالبان کی حامی ہے اور ماضی میں عمران خان کو بھی طالبان خان کہا جاتا رہا ہے۔ کابل میں 2021ء میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کو بھی عمران خان نے خوش آمدید کہا تھا۔ لیکن نواز شریف اور زرداری سمیت دیگر حکمرانوں کی پالیسی بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں رہی۔ طالبان کا قیام ہی بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ہوا تھا اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کر کے ان کو کھلی چھوٹ دی ہے۔یہی حال نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کا ہے۔

دوسری جانب متعدد فوجی آپریشنوں سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو سکا سوائے اس کے کہ مقامی عوام کی ہزاروں قیمتی جانیں قربان ہوئیں اور لاکھوں مقامی افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی اور ان کی زندگی کی اذیتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔درحقیقت امریکی سامراج بھی طالبان کے قیام سے لے کر ان کے خلاف جنگ تک تمام حربے استعمال کر چکا ہے اور افغانستان میں مسلط کردہ جنگ کے بیس سال میں بھی مذاکرات اور فوجی کاروائیوں سمیت تمام طریقے آزما چکا ہے لیکن اسے ان سب میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ مسئلہ اس وقت پاکستان کی ریاست کے بحران اور زوال کے ساتھ جڑا ہے اور ریاست کا یہ بحران سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کی پیداوار ہے۔ اس نظام کے حکمرانوں میں اس وقت اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ ملک میں موجود کسی بھی سنجیدہ مسئلے کو حل کر سکیں اور نہ ہی اس ریاست کے اداروں میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ دہشت گردی پر مکمل طور پر قابو پا سکیں۔سب سے بنیادی عنصر اس ریاست اور اس نظام پر عوام کا عدم اعتماد ہے جو پورے ملک کے چپے چپے پر موجود ہے۔ریاست کے کسی ادارے پر عوام کا اعتما دموجود نہیں۔اس حکومت کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ فارم 47کی حکومت ہے یعنی موجود حکمرانوں کے پاس کسی بھی قسم کی عوامی حمایت موجود نہیں۔ تحریک انصاف کی جو تھوڑی بہت حمایت ہے وہ بھی صرف اس لیے کہ یہ موجود ہ حکمرانوں سے نفرت کرتی ہے اور بر سر اقتدار جرنیلی ٹولے کے زیر عتاب ہے۔ پختونخواہ میں اپنی حکومت کے دوران اس پارٹی نے بھی عوام دشمن اقدامات مسلط کیے اور تعلیم اور صحت کی نجکاری سے لے کر لاکھوں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں کٹوتیاں کیں۔ ابھی بھی اس کے پاس عوامی مسائل کے حل کا کوئی پروگرام موجود نہیں اور یہی وجہ تھی کہ اس کے لانگ مارچ کی کال پر زیادہ بڑی موبلائزیشن نہیں ہو سکی گوکہ اس کے کارکنان پر ریاستی جبر بھی موجود تھا۔ درحقیقت اس وقت اس کی صوبائی حکومت ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کی حمایت میں بڑی کمی آ چکی ہے۔
ایسے میں دیکھا جائے تو رائج الوقت کسی بھی پارٹی کی وسیع عوامی حمایت موجود نہیں۔ لیکن دوسری طرف جو بھی حکمرانوں کیخلاف نفرت کا اظہار کرتا ہے یا بیان دیتا ہے وہ راتوں رات مقبول ہو جا تا ہے اور ا سکی حمایت بڑھ جاتی ہے۔ درحقیقت یہاں پر ایک انقلاب کے لیے حالات پک رہے ہیں اور پورا سماج ایک آتش فشاں کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ایک انقلابی تحریک کے دوران جہاں بہت سے حادثاتی کردار ان حکمرانوں اور ان کے مظالم کیخلاف آواز بلند کریں گے وہاں وہ اس نظام کیخلاف ایک واضح پروگرام اور لائحہ عمل دینے سے قاصر رہیں گے۔
ایک انقلابی تحریک کا آغاز خواہ کسی بھی فوری مطالبے سے ہو جس میں مہنگائی اور بیروزگاری سے لے کر قومی جبر کے خاتمے اور خواتین کے بنیادی حقوق کی فراہمی سمیت کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن جب اس میں لاکھوں لوگ شامل ہوتے ہیں تو وہ اس نظام کے لیے ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کے حکمران ایسی تحریکوں کو کچلنے کا پرانا تجربہ رکھتے ہیں اور اس کی تیاری پہلے سے کر رہے ہیں۔ ان کے لیے ایسی تحریکوں کو خون میں ڈبو دینا مشکل نہیں یا پھر کسی بیرونی جنگ کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے۔
لیکن انقلابی تحریک کو کامیاب کرنے اور مزدور طبقے کو اس نظام سے حتمی طور پر نجات دلوانے کے لیے ضروری ہے کہ اس تحریک میں کمیونسٹ نظریات سے لیس ایک انقلابی پارٹی موجود ہو جو نہ صرف فوری مطالبات اور بنیادی جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرے بلکہ اس سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کا مکمل پروگرام بھی پیش کرے اور عوام کی حمایت جیتتے ہوئے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اس نظام اور اس پر براجمان سرمایہ دار طبقے کی تمام دولت اور جائیداد ضبط کرتے ہوئے اسے عوامی ملکیت میں لینے کا اعلان کرے، روٹی، کپڑا، مکان ہر شخص کو مفت فراہم کرے اور ہر شخص کو صحت او رتعلیم فراہم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرے۔ ہم پاکستان میں ایسی ہی انقلابی پارٹی کی تعمیر کر رہے ہیں، اگر آپ اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہم سے فوری رابطہ کریں۔