
آج دنیا میں انقلابات اور عوامی تحریکوں کا ابھرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ اس وقت فرانس میں سکولوں کے طلبہ کی ملک گیر تحریک جاری ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق آٹھ لاکھ سے زائد طلبہ شریک ہیں اور ملک کے تمام اہم شہروں میں بھرپور احتجاج کر رہے ہیں۔ان کے مطالبات ہیں کہ ان کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی، کلاس روم کے حالات اور عمارتوں کی مرمت سمیت دیگر بنیادی سہولیات کے لیے درکار بجٹ فوری طور پر مہیا کیا جائے ورنہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ان احتجاجوں پر پولیس کی جانب سے بد ترین جبر کیا جارہا ہے اور ہزاروں کم عمر کو طلبہ کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو طلبہ اس جبر کے نتیجے میں اپنے ایک ہاتھ سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔فرانس کا حکمران طبقہ اس تحریک سے خوفزدہ ہے اور یہ تحریک اساتذہ کی یونینوں سمیت محنت کش طبقے کے دیگر حصوں میں بھی پھیل رہی ہے اور انقلابی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
اسی طرح اسپین میں مکانوں کے بڑھتے کرایوں کے خلاف ایک ملک گیر تحریک موجود ہے جس میں لاکھوں لوگ پورے ملک میں احتجاج کر رہے ہیں۔ فرانس میں 5نومبر جبکہ اسپین میں 11نومبر کو عام ہڑتال کی کال دی جا چکی ہے۔ یہ تحریکیں پورے یورپ میں پھیل چکی ہیں اور اس وقت اٹلی، جرمنی، یونان،البانیہ، بیلجئیم، آسٹریا اور دیگر کئی یورپی ممالک ایسی ہی تحریکوں کی زدمیں آ چکے ہیں۔20نومبر کو پورے براعظم کے طلبہ نے احتجاج کی کال دے دی ہے۔
اسی طرح انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں مودی سرکار کیخلاف ایک دفعہ پھر تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور اس دفعہ الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مودی سرکار اس تحریک کو کچلنے کے لیے انڈیا کی تاریخ کا بدترین ریاستی جبر مسلط کر رہی ہے اور سیاسی کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔مودی سرکار کیخلاف پورے ملک میں شدید نفرت موجود ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے، بڑھتی مہنگائی، بیروزگاری اور روپے کی قدر میں تیز ترین گراوٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔دوسری جانب اپوزیشن پارٹیاں عوام کو کوئی بھی متبادل دینے میں ناکام رہی ہیں اس لیے ایک نئی پارٹی ابھر کر سامنے آئی ہے جو مودی حکومت کے لئے خطرہ بنتی جارہی ہے۔

اس سے قبل نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں عوامی تحریکیں حکومتوں کا تختہ الٹ چکی ہیں۔دنیا کے دیگر خطوں کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ جنگوں کی لپیٹ میں ہے اور ان جنگوں سے ناگزیر طور پر نئی انقلابی تحریکیں جنم لیں گی اور اس وقت موجود بادشاہتوں اور آمریتوں کا دھڑن تختہ کریں گی۔
سرمایہ داری کا مالیاتی بحران بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور امریکی معیشت سمیت دنیا بھر کی معیشتیں بد ترین بحرانوں کا شکار ہیں۔امریکی ڈالر پر دنیا کا اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے اور امریکی بانڈز میں ہونے والی سرمایہ کاری تیزی سے کم ہو رہی ہے جس کا اظہار ان ٹریژری بانڈز کی شرح سود میں اضافے سے ہورہا ہے جو 2002ء کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔ بہت سے ماہرین عالمی معیشت میں ایک ڈپریشن یا بہت بڑی گراوٹ اور کساد بازاری کی پیش گوئی کر رہے ہیں جس کے بعد دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں، بینک اور ریاستیں دیوالیہ ہونے کی طرف جا سکتی ہیں اور کروڑوں لوگ بیروزگار ہو جائیں گے۔
اس بحران سے نپٹنے کے لیے بینک اور بورژوا ماہرین ہر ملک کے حکمرانوں کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ عوام پر کیے جانے والے اخرجات پر کٹوتیاں لگائیں، صحت، تعلیم کا بجٹ کم کریں، پنشن اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کم کریں، ان اداروں کی نجکاری کریں اور دوسری طرف سرمایہ داروں کو سستے قرضے دیں اور ان کے منافعوں کا تحفظ کریں۔ اسی طرح دفاعی اخراجات میں بھی بڑے پیمانے پر اضافے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہر ملک میں طبقاتی جنگ کا بگل بج چکا ہے اور سرمایہ دار طبقہ اپنے نظام اور منافعوں کے تحفظ کے لیے عوام کے معیار زندگی پر بد ترین حملے کر رہا ہے۔ایسی صورتحال میں یہ واضح ہے کہ عوام اپنی بقا کی جنگ میں ان حملوں کیخلاف باہر نکلے گی اور انقلابی تحریکوں کا سلسلہ ایک کے بعد دوسرے ملک میں جاری رہے گا۔
لیکن ابھی تک ان انقلابی تحریکوں کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں کے با وجود عوام کی حالت زار میں بڑے پیمانے پر بہتری کسی جگہ پر نہیں آ سکی بلکہ حالات پہلے سے بھی بد تر ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تحریکوں سے کئی جگہوں پر حکومتیں تو تبدیل ہوئی ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ایسے میں بہت سے لوگ یہ غلط نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انقلابات کا کوئی فائدہ ہی نہیں اور اس سے عوام کی صورتحال تبدیل نہیں ہوتی۔ درحقیقت یہ لوگ سب سے پہلے اس دیو ہیکل سماجی عمل کو فراموش کر دیتے ہیں جس میں عوام کو دہائیوں بعد اپنی طاقت کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنی اجتماعی طاقت سے اپنے پر مسلط حکمران اٹھا کر پھینک دیتے ہیں اور کسی نئی حکومت کو سامنے لاتے ہیں۔
یہ سارا عمل حکمران طبقے کے پورے نظام اور اس کی دانش کو رد کر دیتا ہے اور اس نظام کی نام نہاد جمہوریت، عدالت اور دیگر اداروں کی متروکیت کا اعلان کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ محنت کش عوام ہی ہیں جو اس سماج کو چلاتے ہیں لہٰذا اس پر حکمرانی کرنے کا حق بھی صرف ان کا ہی ہے۔ یہ عمل ان دانشوروں کو بھی تھپڑ رسید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ انقلاب آ ہی نہیں سکتے اور عوام ہمیشہ سے غلام ہیں اور ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔اس طرح حکمرانوں کی حاکمیت کو ازلی اور ابدی بنا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ انقلابی تحریک واضح اعلان کرتی ہیں کہ درحقیقت انقلابات ہی تاریخ کا انجن ہوتے ہیں اور آج کے سماج کو تشکیل دینے میں ماضی کے انقلابات کا کلیدی کردار ہے۔
دوسری طرف یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی بڑی انقلابی بغاوتوں کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام ختم نہیں کیا جا سکا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ کہنا کہ انقلاب کبھی نہیں ابھرے گا۔ درحقیقت 1917ء کا انقلاب روس ہمیں آج بھی یہ یاد دلاتا ہے کہ ایسا ممکن ہے اور ایک صدی سے زائد عرصے قبل اسی کرۂ ارض پر یہ تاریخی واقعات وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ 1917ء میں روس میں لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں بالشویک پارٹی موجود تھی جس کے پاس دنیا کے جدید ترین نظریات موجود تھے۔

اسی بدولت وہ دنیا کے سب سے بڑے رقبے کے ملک میں سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوئے اور سرمایہ داری کو جڑ سے اکھاڑتے ہوئے ایک مزدور ریاست قائم کی جس میں مزدور طبقے کی حاکمیت تھی اور سرمایہ دار طبقے کی تمام دولت و جائیداد ضبط کر لی گئی۔ اس وقت انہوں نے سامراجی طاقتوں کی جارحیت کا بھی مقابلہ کیا اور منصوبہ بند معیشت کے ذریعے دنیا کی تیز ترین ترقی حاصل کرتے ہوئے اس پسماندہ خطے کو دنیا کی دوسری بڑی سپر پا ور اور ترقی یافتہ طاقت بنایا۔ آج دنیا کے کسی بھی ایک ملک میں ایسی پارٹی موجود ہو جو انہی انقلابی نظریات سے لیس ہو تو آج کے عہد میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں کو بھی فیصلہ کن کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور سوشلسٹ انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ کسی ایک ملک میں برپا ہونے والا انقلاب تیزی سے پوری دنیا میں پھیلے گا اور پوری دنیا سے سرمایہ داری کا خاتمہ کرنے کی جانب بڑھے گا تا کہ دنیا سے جنگوں، خونریزی، ریاستی جبر، بھوک اور غربت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔
انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل پوری دنیا میں اسی مقصد کے لیے کام کر رہی ہے اور انقلابی قوتوں کو منظم کر رہی ہے۔ اگر آپ اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو آج ہی ہم سے رابطہ کریں۔