|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

سوویت یونین کا انہدام بیسویں صدی کے آخر کا محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا۔ اس نے عالمی مزدور تحریک کی نظریاتی اور تنظیمی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ سوویت یونین کی موجودگی کا مطلب یہ تھا کہ دنیا کے محنت کشوں کے سامنے سرمایہ داری کا ایک متبادل نظام مسخ شدہ شکل میں ہی سہی لیکن عملی صورت میں موجود تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سرمایہ دار اور حکمران طبقات مزدور مطالبات کو یکسر نظر انداز نہیں کر سکتے تھے اور مزدور تحریک کے اندر یہ اعتماد قائم رہتا تھا کہ وہ سرمائے کے خلاف لڑ سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ٹریڈ یونین اشرافیہ کی مراعات یافتہ پرت اس وقت بھی موجود تھی، مگر نیچے سے مزدوروں کا دباؤ اور نظریاتی ماحول اسے محدود رکھتا تھا۔
انہدام کے بعد یہ توازن بگڑ گیا۔ سرمایہ داری کے ”ناگزیر“ ہونے کا پروپیگنڈا عام ہوا، مزدور نظریات پسپا ہوئے اور یونینیں نظریاتی سمت کھو کر سمجھوتوں اور مفاد پرستی کی طرف جھکتی چلی گئیں۔ اس کے اثرات عالمی سطح پر ہر جگہ محسوس ہوئے اور پاکستان اور بلوچستان کے محنت کش بھی ان سے محفوظ نہ رہے۔ ٹریڈ یونین اشرافیہ کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا اور مزدور تحریک کا زوال، جو اس وقت ہمیں بلوچستان میں اپنی انتہا پر نظر آتا ہے، دراصل اسی تاریخی عمل کا تسلسل ہے۔
اس زوال کی ایک تلخ مثال 2019ء میں سامنے آئی، جب بلوچستان میں باسٹھ ٹریڈ یونینوں پر ایک جنبشِ قلم سے پابندی لگا دی گئی۔ سرمایہ داری جب بحران کا شکار ہوتی ہے تو بظاہر کمزور دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے فیصلے اور زیادہ جابرانہ اور فرعونیت پر مبنی ہو جاتے ہیں۔ پابندی کے بعد بھی سلسلہ رکا نہیں۔ بیوروکریسی، عدلیہ، انتظامیہ اور حکمران طبقہ، سب مزدور دشمن اقدامات میں شریک نظر آئے اور ٹریڈ یونینوں پر قدغنیں بڑھتی چلی گئیں۔
اسی مرحلے پر مزدور کی تعریف کا مسئلہ بھی کھڑا کیا گیا، اس لیے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مزدور کون ہے۔ مزدور وہ ہے جو اپنی جسمانی یا ذہنی قوتِ محنت بیچ کر اجرت یا تنخواہ پر زندگی گزارتا ہے، خواہ وہ کارخانے میں کام کرے یا سرکاری اور عوامی اداروں میں خدمات انجام دے۔ ٹریڈ یونین ایسے محنت کشوں کی وہ تنظیم ہے جو اجتماعی سودے بازی، احتجاج اور ہڑتال کے حق کے ذریعے ان کے معاشی اور جمہوری حقوق کا دفاع کرتی ہے۔ ایسوسی ایشن عموماً پیشہ وارانہ یا فلاحی نوعیت کا پلیٹ فارم ہوتی ہے، جس کے پاس اجتماعی سودے بازی کی وہ قانونی اور عملی طاقت نہیں ہوتی جو ٹریڈ یونین کو حاصل ہے۔
جب باسٹھ یونینوں پر پابندی لگی تو مختلف انتظامی اداروں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ ملازمین مزدور ہی نہیں، لہٰذا انہیں یونین کی بجائے ایسوسی ایشن بنانی چاہیے۔ اس کا مقصد مزدوروں کی تعریف کو مسخ کر کے انہیں ان کی شناخت اور اس حق سے محروم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ منظم ہو کر لڑ سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کی طرف دھکیلنے کا مطلب دراصل مزدوروں کی اجتماعی طاقت کو بے ضرر بنا دینا ہے۔
یہ سب کچھ کسی خلا میں نہیں ہو رہا۔ بیوروکریسی، عدلیہ اور حکمران طبقہ پورے پاکستان میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامراجی فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ پاکستانی ریاست اپنے آغاز سے کبھی عوام دوست نہیں رہی۔ ہم ہمیشہ سے یہی سنتے آئے ہیں کہ ملک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، تھوڑی مشکل برداشت کریں، اگلے موڑ پر دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ یہ جملہ آج بھی لوگوں کے کانوں میں گونجتا ہے، مگر عملاً پچھلے کئی برسوں میں تنخواہوں میں معمولی اضافے ہوئے اور کورونا وبا کے بعد مزدوروں کی حالت مزید خراب ہو گئی۔
اسی دباؤ کے تحت ملازمین نے ملک گیر سطح پر اگیگا جیسا اتحاد قائم کیا، جو ایک انتہائی مثبت قدم تھا اور اس نے ثابت کیا کہ مزدور لڑنا جانتے بھی ہیں اور لڑنا چاہتے بھی ہیں۔ ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس، یعنی ڈی آر اے، کی جدوجہد سے انہیں خاطر خواہ فائدہ بھی ہوا۔ مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ اس سال اور گزشتہ سال نہ ڈی آر اے دیا گیا اور نہ ہی تنخواہوں میں ملازمین کی توقعات کے مطابق اضافہ ہوا۔
بلوچستان میں اس جدوجہد کا مرکزی پلیٹ فارم ’بلوچستان گرینڈ الائنس‘ رہا ہے، جس میں چالیس کے قریب تنظیمیں شامل بتائی جاتی ہیں۔ اس کے زیرِ اہتمام ایک حد تک سڑکوں پر ہلچل رہی اور جون جولائی تک بھی احتجاج جاری رہے۔ مگر یہاں ایک سنجیدہ سوال اٹھتا ہے: کیا الائنس میں شامل یہ تنظیمیں واقعی اس پوری جدوجہد میں اپنی افرادی قوت کا اظہار کر پاتی تھیں؟ اگر نہیں، تو ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہو گا۔
بطور انقلابی کمیونسٹ ہم یقین رکھتے ہیں کہ مزدور طبقے کی جدوجہد ہی اس سماج کو بدلنے میں فیصلہ کن قوت ہے۔ ہماری تنقید کا مقصد سماج کی دیگر پرتوں کی طرح مزدور تحریک کو کوسنا ہرگز نہیں۔ ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان سمیت پورے ملک میں ملازمین کی اتحاد تنظیمیں اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہو رہیں۔ اس سوال کا جواب مزدور نظریات کی اہمیت کو سمجھے بغیر نہیں مل سکتا اور نہ ہی نجکاری کے معاملے کو اس صورتحال سے جوڑے بغیر۔
میونسپل کارپوریشن کوئٹہ اس کی نمایاں مثال ہے۔ یہاں کے مزدور اپنے احتجاجوں میں اکثر کچرا اٹھانے والی گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کر کے اپنے مطالبات منواتے تھے۔ یہ کوئی دور کی بات نہیں، صرف دو تین سال پہلے کی بات ہے۔ پھر اچانک میونسپل کارپوریشن کو اونے پونے داموں بیچ دیا گیا اور پورے معاملے میں ٹریڈ یونین قیادت یا تو خوابِ خرگوش میں رہی یا سودے بازی کا شکار ہو گئی۔ آج اسی ادارے کے مرکزی دروازے پر نوٹس آویزاں ہے کہ یہ لوگ ادارے کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ نجکاری کے نتیجے میں شروع ہونے والا صفا پروجیکٹ آج محنت کشوں کے استحصال کی ایک نئی کہانی رقم کر رہا ہے۔
یہی کہانی اب بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔ اسے تحلیل کرنے یا مکمل طور پر ختم کرنے کا پروگرام تقریباً حتمی مراحل میں پہنچ چکا ہے، مگر مزدور تنظیمیں محض واویلا کر رہی ہیں کہ اتھارٹی کو بیچا جا رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے میونسپل کارپوریشن کو بیچا گیا تھا۔ واویلا اور مؤثر مزاحمت میں فرق ہوتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے تجربے سے سبق سیکھنے کی بجائے وہی کمزوری دہرائی جا رہی ہے جو پہلے ادارے کی نجکاری پر منتج ہوئی۔
ہائیڈرو یونین کی حالت بھی اسی کہانی کا حصہ ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ ملک کی سب سے مضبوط یونینوں میں شمار ہوتی تھی، آج یہ پابندیوں کا شکار ہے۔ واپڈا کی نجکاری اور اس کی مختلف کمپنیوں کو بیچنے کا جو سلسلہ آج جاری ہے، وہ ہائیڈرو یونین کی اپنی کمزوری کا بھی نتیجہ ہے۔ اگر یہ یونین مضبوط ہوتی، پورے واپڈا کے محنت کشوں کو یکجا کرتی اور ذاتی مفادات اور مراعات سے بالاتر ہو کر نجکاری کے خلاف لڑتی، تو شاید آج اسے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ آج حالت یہ ہے کہ ہائیڈرو یونین کی قیادت مختلف دفاتر کے سامنے کھڑی رہتی ہے اور انہیں دروازہ کھولنے اور اندر جانے کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ ریلوے ہو یا وفاقی اور صوبائی سطح کے دیگر عوامی ادارے، ان کی یونینوں کو بھی مکمل طور پر سبوتاژ کیا گیا ہے۔
دوسری طرف حملے کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ مختلف عوامی اداروں میں مستقل روزگار کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جا رہی ہیں، جس سے محنت کشوں سے ملازمت کا تحفظ اور یونین سازی کی بنیاد، دونوں چھینی جا رہی ہیں۔ چند دن پہلے وزیراعلیٰ بلوچستان نے مختلف سیکرٹریوں سے اداروں کی مفصل رپورٹ جلد از جلد تیار کرنے کا کہا، تاکہ انہیں یا تو ختم کیا جائے یا دوسرے اداروں میں ضم کر دیا جائے۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ یہ عوامی ادارے قومی خزانے پر بوجھ ہیں اور ان میں سیاسی بھرتیاں ہوتی رہی ہیں۔ اسی دوران محنت کشوں کی حاضری یقینی بنانے کے نام پر مصنوعی ذہانت کے نظام مسلط کر کے انہیں ذہنی اذیت کا شکار کیا جا رہا ہے اور مختلف صحت کے اداروں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے یا کیا جا چکا ہے، جہاں ملازمین کو اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ غرض نجکاری، اداروں کی تحلیل، خاتمہ اور انضمام اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور المناک پہلو یہ ہے کہ بلوچستان میں غیر رسمی معیشت سے وابستہ محنت کشوں کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے، مگر ان کی کوئی منظم آواز نہیں۔ کان کنی سے منسلک محنت کشوں کی تنظیمیں محض برائے نام ہیں اور ماہی گیری کے شعبے کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ وہ محنت کش ہیں جو بلوچستان کی معیشت اور سماج میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی آواز بننا اور انہیں یونینائز کرنا بنیادی طور پر عوامی اداروں کے منظم محنت کشوں کی جدوجہد سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن جب یہ منظم پرت خود پابندیوں کا شکار ہو، تو غیر منظم محنت کشوں کی رہنمائی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ منظم پرت اپنی پابندیوں کا حل سڑکوں کی طاقت کی بجائے عدالتی کاروائیوں میں تلاش کرتی ہے۔ ہمیں بخوبی ادراک ہے کہ عدالتیں کتنی مزدور دوست ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں دوستی کا کوئی عنصر موجود نہیں، یہ حکمران طبقے کے ہاتھ میں ایک اوزار ہیں اور ہمیشہ مزدور دشمن ہی ثابت ہوئی ہیں۔ جو عدالتیں خود ان پابندیوں کو جائز ٹھہراتی ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پابندیاں ختم کریں گی، خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ پابندیوں کا خاتمہ اور مختلف اداروں میں یونین کے حق کی بحالی صرف اور صرف محنت کشوں کی اداروں کے اندر ہونے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی منظم جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اب یہ لڑائی مزدور یونینوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال بنتی جا رہی ہے۔ بے روزگاری کا عفریت پورے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کو نگل رہا ہے اور روزگار کی عدم موجودگی میں وہ مختلف سرگرمیوں کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ جب مستقل نوکریاں ختم کی جائیں اور ادارے بیچے یا تحلیل کیے جائیں، تو اس کی قیمت صرف موجودہ ملازمین نہیں بلکہ پوری نوجوان نسل ادا کرتی ہے۔
بطور انقلابی کمیونسٹ ہم ان تمام پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے روزِ اول سے ان کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی اٹھاتے رہیں گے۔ ہم مزدور جدوجہد، ان کی تنظیموں اور ان کے جمہوری حقوق کی بحالی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ مگر جب ذمہ داری کا سوال آتا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ حکمران طبقے اور ریاست کا کام ہی اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا ہے۔ جب آوازیں دبائی جاتی ہیں تو اس کے خلاف مزاحمت ہوتی ہے، مگر آج ہمیں مزاحمت کہیں نظر نہیں آ رہی۔ اس کی بنیادی وجہ ٹریڈ یونین اشرافیہ کی وہ مراعات یافتہ پرت ہے جس نے پوری مزدور تحریک کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا اور مزدور نظریات سے مکمل طور پر دوری اختیار کی۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی ایک بار پھر ٹریڈ یونینوں پر عائد پابندیوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ ساتھ ہی ہمارا مؤقف یہ ہے کہ مزدور تحریک کا احیا مزدور نظریات کے بغیر ناممکن ہے۔ جب موجودہ قیادت مزاحمت کی بجائے سمجھوتے اور عدالتوں کا راستہ اختیار کر چکی ہو تو پھر بلوچستان اور پاکستان بھر کے مزدور ساتھیوں کو بدعنوان ٹریڈ یونین اشرافیہ کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے نئی قیادت تراشنی ہو گی جو انقلابی نظریات سے لیس ہو اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو جڑوں سے اکھاڑنے کی جدوجہد کے لیے پر عزم ہو۔