مشرق وسطیٰ میں طاقتوں کے توازن میں تبدیلی

|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: آصف لاشاری|

مشرق وسطی میں جنگ کے مسلسل بجتے ہوئے طبل روز بروز مزید گرج دار اور زیادہ دھمکی آمیز ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتوں میں ہونے والے واقعات ایسی شکل اختیار کر گئے کہ یوں لگنا شروع ہو گیا جیسے صورتحال لامحالہ طور پر امریکہ و ایران کے درمیان فوجی تنازعے کی از سر نو شروعات کی طرف بڑھ رہی ہے۔

یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس پیچیدہ مساوات میں نئے عناصر داخل ہو رہے ہیں، فریقین تشدد و تباہی کے خون آشام شطرنج پر نئے پیادے اتار رہے ہیں اور جو مزید تباہ کن جنگی کاروائیوں کا باعث ہیں۔

لیکن پھر بھی پوری تصویر ایک بالکل نہ سمجھ آنے والی پہیلی کی طرح ہے کہ جس میں امریکی صدر کی جانب سے ایک انتہائی حیران کن اعلان کے بالکل ہی الٹ چیز اس کا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں بیٹھے شخص کے اکثر دہرائے جانے والے ورد کے مطابق امریکہ کی طاقتور فضائی طاقت کی جانب سے ایران کی فوجی طاقت کا کم از کم ایک درجن بار مکمل طور پر خاتمہ کیا جا چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیاں دیتا رہا ہے کہ اگر ایران ڈیل نہیں کرتا ہے تو وہ ایران میں سے تہذیب کا مکمل خاتمہ کر دے گا۔ ہیگستھ نے کہا کہ اگر ایران ہماری شرطیں نہیں مانتا تو ان کے توانائی گھر، پُل، تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر ہمارا اگلا ٹارگٹ ہوں گے۔

لیکن ابھی تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے جو یہ دکھا سکے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کوئی ڈیل کی ہے۔ در حقیقت ایران نے کئی دفعہ عوامی سطح پر یہ کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

اور پھر کچھ حیرت انگیز وجوہات کی بنا پر، جن کی وضاحت صرف وائٹ ہاؤس میں بیٹھا شخص ہی کر سکتا ہے، ایران ابھی تک پورے مشرق وسطیٰ میں بیلاسٹک میزائلوں سے حملے کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور اس نے حال ہی میں جارڈن میں امریکی بیس پر بھی ایک حملہ کیا ہے۔

ان حملوں سے ہونے والی تباہی کی اصلی سطح کی کبھی بھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن یہ یقیناً اتنی خاطر خواہ ضرور ہو گی کہ امریکہ نے خطے میں اپنے اڈوں سے اپنی فورسز کو واپس ہٹا دیا۔

تھیوڈور روز ویلٹ کا انتہائی دلچسپ مقولہ تھا: ”نرمی سے بات کرو اور ایک بڑا ڈنڈا اپنے ساتھ رکھو۔“ لیکن ٹرمپ اس سے بالکل برعکس عمل کرتا ہے۔ پورا زور لگا کر چیخو چلاؤ، دہشت زدہ کر دینے والی دھمکیاں دو اور کاغذ کی بنی ہوئی تلوار ہوا میں لہراتے رہو۔

اس فضول پالیسی جسے آج کل امریکی سفارت کاری گردانا جاتا ہے، کا واحد نتیجہ دنیا کی نظروں میں امریکیوں کی رسوائی ہے۔

پتا نہیں کتنی دفعہ امریکی صدر دھمکیاں دے چکا ہے کہ وہ اتنے تباہ کن بم برسائے گا کہ پورا ایران دھواں چھوڑتے ہوئے ملبے کا ڈھیر بن جائے گا؟ ایسی قیامت ڈھانے کے حوالے سے پتا نہیں کتنی دفعہ وہ تاریخیں دے چکا ہے؟

ہم گنتی بھول چکے ہیں مگر صدر صاحب کی ڈیڈ لائن آتی ہے اور پھر ڈیڈ لائن گزر جاتی ہے۔ اور پھر ہمیشہ کی طرح بالکل آخری لمحوں میں اپنا بیان بدل دیتا ہے اور سب کچھ بھول جاتا ہے۔

اس کی بدقسمتی کے طور پر اس کے دشمن نہ تو یہ بھولتے ہیں اور نہ ہی معاف کرتے ہیں۔ وہ انتہائی درست طور پر شش و پنج کی اس کیفیت کو ٹرمپ کمزوری کی علامت سمجھتے ہیں اور اسی مناسبت سے جواب دیتے ہیں۔

امریکی دفاعی سیکرٹری پیٹ ہیگستھ نے اپریل میں فخریہ انداز میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ نے اس کی میزائل اور دوسرے جدید ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

ہیگستھ نے رپورٹرز کو بتایا: ”ہم نے ایران کی دفاعی صنعتی بنیاد کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا ہے جو ہمارے مشن کا ایک بنیادی ستون تھا۔“

اس نے کہا: ”اب وہ میزائل نہیں بنا سکتے، راکٹ نہیں بنا سکتے، لانچرز نہیں بنا سکتے اور نہ ہی ڈرون بنا سکتے ہیں۔ ان کی فیکٹریاں زمین بوس کر دی گئی ہیں۔“

لیکن حقائق ہیگستھ اور ٹرمپ کی ان بھڑکوں اور بلند و بانگ دعوؤں کا منہ چڑاتے ہیں۔

پہلے بھی اس وقت اسرائیلی دعوی کر رہے تھے کہ ایران کے پاس ہزار یا اس سے زائد میزائلوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے اور وہ اپنی پیداوار میں مسلسل اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں ہچکچاہٹ اور کنفیوژن کو پرکھتے ہوئے ایرانی مزید بااعتماد اور لڑاکا ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بجائے پاسدارانِ انقلاب، جو کہ ایران کی سب سے بڑی طاقتور قوت ہیں، نے اعلان کیا کہ وہ اب ہرمز کے مغرب کی طرف اپنا کنٹرول بڑھاتے ہوئے ہرمز پر کنٹرول مزید سخت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کے برعکس پاسداران ہمیشہ اپنے دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ کوئی بھی ٹینک جو آبنائے ہرمز تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، دور سے ہی پاسداران کے حملے کا نشانہ بن سکتا ہے، تاوقتیکہ وہ ایران سے گزرنے کی اجازت حاصل کر لیں۔

جلتی پر نمک چھڑکنے کے مترادف، ایرانیوں نے جارڈن اور خطے میں دوسری جگہ موجود امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔

ان ایرانی حملوں کے پیچھے ان کا مقصد واضح ہے۔ ان کا مقصد کوئی خاطر خواہ مادی نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ امریکیوں کو رد عمل پر اکسانا تھا اور جس کے نتیجے میں امریکہ کے انتہائی قیمتی اور انتہائی کم ہوتے ہوئے فضائی دفاعی میزائلوں کا مزید استعمال کریں۔

ایسا لگتا ہے کہ ایران کے حالیہ حملوں میں یہ مقصد پورا بھی ہو گیا ہے جنہیں ناکام بنانے کے لیے امریکہ نے 60 پیٹریاٹ PAC 3 میزائل انٹر سپٹرز لانچ کیے۔

ایک مہینہ قبل یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ امریکہ کے پاس ان میزائلوں کا ذخیرہ تقریباً 640 کے لگ بھگ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان حملوں کے بعد امریکہ کے پاس موجود پیٹریاٹ میزائلوں کے انتہائی قلیل ذخیرے میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

یہ بے انتہا مہنگے میزائل انتہائی پیچیدہ ہیں اور ان کے کچھ اہم پرزے زیادہ تر ہاتھوں سے بنائے جاتے ہیں۔ امریکیوں کو اس طرح کا ایک میزائل بنانے میں دو سال لگتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر امریکی ان میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ بنا رہے ہوں تو بھی ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ حالیہ ہونے والے نقصان کو ہی جلد از جلد پورا کر سکیں۔

امریکیوں کے لیے اس سے زیادہ خطرناک صورتحال یہ ہے کہ ایرانی میزائلوں کی درستی اور رینج انتہائی زیادہ بڑھ چکی ہے۔

وہ انتہائی باریک بینی کے ساتھ امریکی دفاع میں موجود کمزوریوں کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوئے امریکی اڈوں سمیت متواتر اپنے ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور یہ سب کچھ صرف روس اور ممکنہ طور پر چین کی براہِ راست مدد سے ہی ممکن ہے۔

اس صورتحال سے پینٹاگون میں خطرے کی تمام گھنٹیاں بجنا شروع ہو چکی ہیں، جو درست طور پر خوفزدہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ایرانی میزائلوں کو امریکی بیڑوں اور خطے میں موجود اڈوں کے لیے اور بھی خطرناک بنا دیتی ہے۔

وال سٹریٹ جنرل کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے کئی جرات مندانہ الفاظ کے ساتھ ساتھ جو کہ وہ اکثر ایسے موقعوں پر دہراتا رہتا ہے، ٹرمپ کو خفیہ طور پر یہ اطلاع بھی دی گئی کہ ایران کے ساتھ جنگ ممکنہ طور پر اس کی صدارت کے عرصے کے ختم ہونے تک جاری رہ سکتی ہے۔

امن کی کوئی آشا نہیں بلکہ یہی حقیقت کم از کم موجودہ وقت میں ٹرمپ کی ایران کو تباہ کرنے کی دہشت آمیز دھمکیوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکنے کی ناکامی کی وضاحت کرتی ہے۔

حوثی باغی میدان میں ہیں

پہلے ہی صورتحال انتہائی مخدوش تھی۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے لیے خطے کے انتہائی اہم حصے میں ایک انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہونے کی خبر اس کے کانوں تک پہنچی۔

حالانکہ ابھی ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ جاری ہے اور ابھی تک آبنائے ہرمز بند ہے، سعودی اور یمن میں حوثی تحریک کے درمیان تنازعہ از سر نو بھڑک اٹھا ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی حالیہ فتوحات سعودی حمایت یافتہ صدارتی لیڈر شپ کونسل اور حوثیوں کے درمیان جاری خانہ جنگی کا حصہ ہیں۔

2015ء سے لے کر 2022ء تک انتہائی مشکل سے ہونے والی جنگ بندی تک حوثیوں کے خلاف ہونے والی انتہائی ظالمانہ فضائی اور زمینی کاروائیوں کے پیچھے سعودی عرب ہی بنیادی طاقت تھا۔ یہ کمزور جنگ بندی اس سال تک قائم رہی۔

لیکن اس جنگ بندی کا خاتمہ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے دارالخلافہ صنعا پر سعودی بمباروں کے بغیر کسی وجہ کے حملے سے ہوا۔ اور اب حوثیوں کے انتہائی تیز رفتار نہ رکنے والے ردعمل نے اس جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔

اس جنگ کی ایک واضح تصویر کشی مشکل ہے لیکن یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ حوثی انتہائی برق رفتاری سے آگے بڑھے ہیں اور انتہائی بڑے علاقے پر قبضہ کر چکے ہیں اور سب سے بڑھ کر انہوں نے حکومت کی کمزور قوتوں کو ایک طرف دھکیل دیا ہے اور جنوب کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ وہ اب بحیرہ احمر کے قریب یمن کے انتہائی مشرقی حصے تک پہنچ گئے ہیں۔

یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس حاصل کرنے کی تگ و دو کرتی رہی ہے۔

کچھ رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے کچھ مخالف گروہ دوسرے علاقوں میں جوابی حملے کر رہے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود حوثی آج کے یمن کی سب سے بڑی فوج طاقت بن چکے ہیں۔

درحقیقت یمن میں اگر کوئی غیر منظم گروہ ہے تو وہ یہ حوثی مخالف مختلف دھڑے ہیں (کچھ سعودی یافتہ اور کچھ دبئی کے حمایت یافتہ) جو جنگ کے درمیان میں ایک دوسرے سے لڑنے اور مارنے میں مصروف ہیں تاکہ لوٹ مار میں زیادہ حصہ وصول کر سکیں اور ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ وہ حوثیوں کی طرف توجہ دے سکیں۔

حوثیوں کی پیش قدمی سے انہیں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل ہو رہا ہے۔ وہ اب جبوتی (Djibouti) میں واقع امریکی فوجی اڈے سے محض 32 کلو میٹر دور ہیں، جبوتی بحیرہ احمر کے مشرقی حصے پر باب المندب کی دوسری طرف افریقی خطے میں چھوٹا سا ایک ملک ہے۔

15ستمبر کو گارڈین نے ان افعال کے نتیجے میں مغربی حکومتوں کے بڑھتے ہوئے خوف کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کیا:

”یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل دو اہم جزائر پر قبضہ کر لیا ہے اور ایران کے حمایت یافتہ گروہ نے اس سے ایک اہم تجارتی راستے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کر لی ہے اور چہ میگوئیاں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں کہ دنیا ایک اور تیل کے بحران کا سامنا کرنے والی ہے۔

آبنائے باب المندب کے جزیرے پیرم (Perim) اور موکھا (Mokha) بندرگاہ پر قبضے کے بعد حنیش جزیرے کے بڑے اور چھوٹے حصے پر ان کا حالیہ قبضہ حوثیوں کی حالیہ تیز ترین پیش قدمی کا حصہ ہے۔

یہ جزیرے آبنائے سے شمال میں تقریباً 160 کلو میٹر پر واقع ہیں جو کہ ایک ایسا تنگ راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو کھلے سمندر اور سعودیہ کے لیے اہم ترین ایشیائی مارکیٹوں سے جوڑتی ہے۔“

یہ آبنائے سمندری راستے کی ایک اہم ترین گزر گاہ ہے جو بحیرہ روم کو بحر ہند سے جوڑتی ہے۔ خلیج ہرمز کی مکمل بندش کے بعد یہ خطے سے تیل، مائع گیس اور دوسری چیزوں کے لانے اور لے جانے کا واحد ممکنہ راستہ بچتا تھا۔

خاص طور پر سعودی عرب نے اپنی تیل کی برآمدات کا تقریباً 64 فیصد خشکی کے راستے پر مشرق سے مغرب کی سمت بچھائی گئی ایک پائپ لائن کے ذریعے موڑ دیا تھا اور اسے اپنی یانبو (Yanbu) بندرگاہ منتقل کر کے وہاں سے باب المندب آبنائے کے ذریعے باہر برآمد کر رہا تھا۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودیہ عرب کے تجارتی جہاز اور سعودی تیل ان کا نشانہ ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے اندر بھی ٹرکوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔

یہ پائپ لائن انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ سعودی اس کے ذریعے اپنا تیل آبنائے ہرمز سے دور بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی طرف بھیج رہے تھے۔ لیکن اس پائپ لائن پر ظاہری طور پر عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا جو پہلے بھی اہم فوجی اور معاشی ٹارگٹس پر ڈرون اور بیلاسٹک میزائلوں کے ذریعے حملے کرتے آ رہے ہیں۔

اس سے پہنچنے والے نقصان نے ایشیاء کی طرف سعودیہ کی تیل برآمد کو مفلوج کر دیا ہے۔ سعودی حکام نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ نقصان بڑے پیمانے کا تھا اور اس وجہ سے انہوں نے پائپ لائن کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ پائپ لائن کو پہنچنے والے اس نقصان کی مرمت میں کئی ہفتے لگیں گے بشرطیکہ اس اثنا میں مزید حملے کوئی نقصان نہ کریں۔

اس پیش قدمی نے حوثیوں کی باب المندب آبنائے سے نکلنے والے ٹینکرز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو انتہائی زیادہ بڑھا دیا ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودیہ عرب کے تجارتی جہاز اور سعودی تیل ان کا نشانہ ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے اندر بھی ٹرکوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔

لیکن یورپ، ایشیاء اور افریقہ کے ممالک آبنائے باب المندب کے راستے سے گزرنے والی اشیا پر انحصار کرتے ہیں۔ تیل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب سے جانے والی رسد افریقہ اور ایشیاء کی معیشتوں کے لیے انتہائی اہم ہے جو مشرق وسطیٰ سے تیل کی درآمد پر مکمل طور پر انحصار کرتے ہیں۔

لیکن یہی چیز بڑے پیمانے پر عالمی معیشت و تجارت کے لیے ایک خطرہ بھی ہے۔ حوثی باغی اب اس پوزیشن میں آ گئے ہیں کہ آبنائے باب المندب سے ہونے والی عالمی جہاز رانی کو کنٹرول یا منتشر کر سکتے ہیں۔ ہلکے اور غیر متناسب ذرائع جیسا کہ ڈرون اینٹی شپ میزائل اور چھوٹی تیز کشتیوں کے ذریعے سمندری ٹریفک کو فوری روکا جا سکتا ہے۔

محمد بن سلمان بوکھلا گیا ہے

1930ء میں بادشاہت کی بنیاد رکھے جانے کے بعد سے یہ سب سے بڑا بحران ہے جس کا آج سعودی عرب کو سامنا ہے۔ یہ سعودیہ کے حکمران حلقوں بالخصوص اس کے بادشاہ اور مطلق العنان حاکم محمد بن سلمان السعود جسے ایم بی ایس (MbS) بھی کہا جاتا ہے، کے اضطراب کو بڑھا رہا ہے۔

سعودی عرب کے اس بظاہر انتہائی طاقتور شخص کے پاؤں بھی ریت کے ثابت ہو رہے ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ اس کی گھبراہٹ صاف دکھائی دے رہی ہے اور اس کی وجہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

اب یہ ایک کھلا راز ہے کہ 28 فروری کو امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے سے پہلے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) اور خلیجِ فارس کے دیگر عرب رہنما ٹرمپ پر اس کاروائی کے لیے زور دے رہے تھے۔ یہ اُن عوامل میں سے ایک تھا جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو حملے کا فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔ ایم بی ایس واضح طور پر یہ سمجھ رہا تھا کہ امریکی حملہ ایک مختصر اور فیصلہ کن فتح پر منتج ہو گا اور اس کے نتیجے میں ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ ایرانی حکومت اکھاڑے جانے کی بجائے اور بھی زیادہ مضبوط ہوئی۔ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی اور سعودی تیل کی تنصیبات حملوں کا نشانہ بنیں۔ اب بحران یمن تک پھیل گیا ہے اور مشرق سے بحیرہ احمر تک رسائی کو بھی حوثیوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک انتہائی اہم پائپ لائن جس پر سعودی عرب انحصار ار کرتا ہے اب بند کر دی گئی ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے بڑھتے چلے جا رہے ہیں جن کو محفوظ رکھنا سعودیوں کے لیے مشکل ہوتا جائے گا کیونکہ پیٹریاٹ PAC 3 میزائل انٹر سپٹرز کی قلت کا سامنا ہے۔

مایوسی کے عالم میں محمد بن سلمان نے ”ٹرمپ کو ذاتی طور پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف فوجی ایکشن لے کیونکہ حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں کی طرف انتہائی تیزی سے پیش قدمی کی ہے، اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ اور محمد بن سلمان نے حالیہ دنوں میں بگڑتی ہوئی خطے کی صورتحال پر کئی دفعہ گفتگو کی ہے۔“

لیکن یہ سب پریشان کن درخواستیں بے سود ثابت ہوئیں۔ آرٹیکل میں مزید لکھا ہے:

”ذرائع کے مطابق، جنہیں حساس معاملات پر گفتگو کے لیے شناخت ظاہر نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، محمد بن سلمان کے بار بار اصرار کے باوجود فی الحال ڈونلڈ ٹرمپ نے براہِ راست امریکی فوج کو شامل کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کی بجائے انٹیلیجنس دینے اور ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔“

اپنے دشمن کو کمزور سمجھنا جنگ میں سب سے بڑی غلطی گردانی جاتی ہے اور امریکہ اس غلطی کا کئی بار مرتکب ہوا ہے۔

انہوں نے روسیوں کی طاقت کو اہمیت نہیں دی جب انہوں نے یوکرین کے لوگوں کو جنگ کا ایندھن بناتے ہوئے جانتے بوجھتے ایک بے مقصد جنگ کا آغاز کیا۔ اب اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے چین کی طاقت اور اس کی معاشی کامیابیوں کو بھی ہمیشہ کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے حالانکہ چین اب دنیا کا سب سے زیادہ صنعتی طاقت رکھنے والا ملک ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کی سطح کم از کم امریکہ کے برابر یا غالباً اس سے بھی بہتر ہے۔

انہوں نے افغانستان میں طالبان کی طاقت کو بھی کم سمجھا جہاں انہیں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح اب تک وہ حوثیوں کی طاقت کو بھی کم کر کے دیکھتے رہے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ مسلسل حوثیوں کو ایک منتشر غیر منظم اور معمولی سی جنگجو قوت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، گویا ان کے پاس نہ کوئی فوجی مہارت ہے اور نہ ہی امریکہ جیسے ملک کی زبردست عسکری طاقت اور جدید ترین ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت۔

لیکن تجربے نے ان کے اس تصور کو غلط ثابت کیا ہے اور یہ تصور سامراجی تکبر اور پسماندہ لوگوں سے جبلی طور پر برتر ہونے کے غلط نظریے کی پیداوار ہے۔ میڈیا کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ مضحکہ خیز اور بدنیتی پر مبنی خاکہ معلوم حقائق سے کھلا تضاد رکھتا ہے۔

اس وقت محمد بن سلمان کو اپنا دفاع مضبوط کرنے کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔

حوثی درحقیقت ایک انتہائی منظم فوجی طاقت ہیں اور انتہائی مضبوط اور ثابت قدم جنگجوؤں پر مشتمل ہیں۔ اپنے نظریاتی جنون اور غیر معمولی استقامت کے علاوہ انہوں نے فوجی حکمتِ عملی اور جنگی تدابیر کے میدان میں بھی قابلِ تعریف مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ فضائی بحری یا زمینی راستوں سے ہونے والی بمباری کے باوجود مسلسل لڑتے رہے ہیں۔ برسوں کی طویل اور سخت جدوجہد نے انہیں ایک ایسی طاقتور فوجی قوت میں تبدیل کر دیا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں ایران (اور بلاشبہ روس اور چین) کی مدد سے اب ان کے پاس اپنا ایک فعال فضائی دفاعی نظام بھی موجود ہے جس کے باعث اب ان پر کوئی بھی فضائی حملہ کرنا حملہ آور کے لیے بہت بھاری قیمت کا سودا ثابت ہو گا۔

پینٹاگون کے اعلیٰ حکام نے بالآخر ان حقائق کو دیر سے ہی سہی مگر سمجھنا شروع کر دیا ہے اور اب وہ جنگ میں احتیاط برتنے کی افادیت کا ادراک کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے یقیناً خاصے سخت انداز میں اپنے تحفظات خود امریکی صدر تک پہنچا دیے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا: ”نہیں، بہت بہت شکریہ!“ امریکہ پہلے ہی ایک جنگ (درحقیقت دو جنگوں) میں الجھا ہوا ہے اور اس کی ایک ایسی لڑائی میں کودنے کی کوئی خواہش نہیں ہے جس میں اس کے جیتنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھلے ایسا نہ چاہتا ہو لیکن پینٹاگون کا یہی مؤقف ہے۔

یہ انکار محمد بن سلمان کو اچانک پیٹ میں لگنے والے مکے کی طرح محسوس ہوا ہو گا۔ اب وہ یقیناً ایک گھبرایا ہوا شخص ہے جسے اس کے وائٹ ہاؤس میں موجود مبینہ اتحادی نے اسے تنہا چھوڑ دیا ہے اور جو کسی حقیقی مدد کے امکان کے بغیر ایک سفاک اور بے رحم دشمن کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔

اس وقت محمد بن سلمان کو اپنا دفاع مضبوط کرنے کی انتہائی اشد ضرورت ہے اور وہ زیلنسکی کی طرح مزید پیٹریاٹ میزائلوں کی ترسیل کے لیے منتیں کر رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان میزائلوں کی شدید قلت ہے۔ بہت کم امکان ہے کہ اس کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے گا اور جس تعداد کا وہ مطالبہ کر رہا ہے وہ تو یقیناً ملنے والی نہیں۔

پرانے حساب کتاب

بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے انتہائی اہم راستے پر حوثیوں کا قبضہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا انتہائی اہم موڑ ہے۔ اگرچہ ایران نے کبھی تسلیم نہیں کیا لیکن یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ حوثیوں نے ایران کی رضا مندی کے بغیر ایسا کیا ہو۔

اب حوثیوں اور ایران کی عالمی جہاز رانی کے دو انتہائی اہم پانی کے راستوں پر مکمل گرفت ہے۔ اب وہ اس کے ذریعے سے عالمی معیشت اور بالخصوص امریکہ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور اس چیز نے انہیں اپنے دشمن پر فوقیت دے دی ہے۔

یہ حقیقت حوثیوں اور ایران کے انتہائی بلند پیمانے کے اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ اس سب نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایک طویل جنگ سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔

ٹرمپ نے اظہار کیا ہے کہ تب تک امریکی فوج کا استعمال نہیں کیا جائے گا جب تک ’ضروری نہ ہو‘۔ لیکن یہاں لفظ ’ضروری‘ سے ان کی مراد کیا ہے؟

سعودی ولی عہد کی جانب سے یمن میں حوثیوں پر حملوں میں حصہ لینے کی درخواست کو رد کر دیا گیا اور اس بارے میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے امریکہ سے مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آخر کار اوول آفس میں محبت اور عقلمندی غالب آ گئی ہے؟ کیا ہم یہ نتیجہ نکالنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے شخص نے ایک نئی جنگ کے امکان کو خارج از امکان کر دیا ہے۔

ایسا سوچنا یقیناً خوشگوار ہو گا لیکن ماضی کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے شخص کے مستقبل کے افعال کے بارے میں کوئی بھی نتیجہ نکالنے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ تمام شواہد کے باوجود سعودی عرب کے انہدام کے ممکنہ نتائج کے خوف سے ٹرمپ آخرکار براہِ راست مداخلت کا فیصلہ کر لے۔ چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں؟

واشنگٹن سے آنے والے بیانات اتنے ہی مبہم اور پراسرار ہیں جتنے ڈیلفی کے غیب کا علم بتانے والے کے پراسرار کلمات تھے۔ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ یمن کی صورتِ حال پر ”بہت قریب سے“ نظر رکھے ہوئے ہے۔ لیکن محکمہ خارجہ نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ان بیانات کے اصل مضمرات کیا ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا سربراہ ایڈمرل بریڈلی کوپر گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں رابطہ کاری کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کے لیے موجود تھا۔ آخر ان مذاکرات میں کیا بات ہوئی؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ بہرحال ان مذاکرات کے بارے میں اب تک کوئی بیان عوام کے سامنے نہیں آیا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ امریکہ ”اپنے بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے مثلاً بحیرہ احمر میں آزادانہ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانا جبکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کو اس قابل بنانا کہ وہ علاقائی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے اور انہیں حل کرنے میں قائدانہ کردار ادا کریں۔“

اس عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ ”علاقائی استحکام کے حوالے سے سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔“ لیکن عملی طور پر اس کا کیا مطلب ہے؟

ہمیں یہ معلوم ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ایک اتحاد بنانے اور حوثیوں پر حملے کی صورت میں ایران کی جوابی کاروائی سے اپنی مملکت کو محفوظ رکھنے کے لیے بے تحاشا کوششیں کر رہا ہے۔

لیکن ٹرمپ مزید کسی تنازع میں الجھنے سے بچنے کے لیے خواہ کتنا ہی بے تاب کیوں نہ ہو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسا کرنا محض سعودی عرب ہی نہیں بلکہ خلیجی ریاستوں میں سے ہر ایک کے لیے غداری کے مترادف ہو گا، کیونکہ یہ تمام ریاستیں روایتی طور پر امریکہ کی پشت پناہی کرتی رہی ہیں۔

حوثیوں اور ایرانیوں کے ہاتھوں سعودی عرب کی شکست ایسی چیز ہے جسے ٹرمپ اور امریکہ کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔

اسی وجہ سے ٹرمپ کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو گا کہ وہ اپنی فوجی طاقت کو سعودی عرب کے حق میں استعمال کرے۔ مِڈ ٹرم انتخابات کے حوالے سے ریپلکن کے کنونشن کے دوران اپنی حالیہ تقریر میں ٹرمپ کا کہنا تھا:

”ہم نے دنیا کی سب سے زیادہ مضبوط فوجی طاقت بنائی ہے۔ ہم اسے میری توقع سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔“

یہ الفاظ واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ ڈونلڈ جے ٹرمپ سمجھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا ابھی کچھ ادھورا کام باقی ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔

پینٹاگون کے تمام تر مشوروں کے باوجود وائٹ ہاؤس میں موجود شخص نے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے اور تہران کو اپنی مرضی کے آگے جھکنے پر مجبور کرنے کے اپنے منصوبے ہرگز ترک نہیں کیے ہیں۔

جوہری ہتھیاروں کا بار بار ذکر محض اصل مقصد سے توجہ ہٹانے کا ایک بہانہ ہے۔ اصل مقصد تو یقیناً آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا اور اگر ممکن ہو ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے۔

پاگل پن کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ بار بار ناکام ہونے والی اسی غلطی کو اس پختہ یقین کے ساتھ دہراتے رہنا کہ آخرکار کامیابی ضرور ملے گی۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا طرزِ عمل لفظی معنوں میں پاگل پن ہے۔

پاگل پن کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ بار بار ناکام ہونے والی اسی غلطی کو اس پختہ یقین کے ساتھ دہراتے رہنا۔

لیکن ماضی میں اس چیز نے ٹرمپ کو کبھی نہیں روکا۔ اس لیے یہ فرض کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں کہ اب وہ اپنے اس لائحہ عمل پر آگے بڑھنے سے رک جائے گا جسے وہ ’ضروری‘ سمجھتا ہے خصوصاً جب مِڈ ٹرم انتخابات بخیر و عافیت گزر چکے ہوں گے۔

صدر کے پیچیدہ اور حد سے زیادہ متحرک دماغ میں جو بھی منصوبے پک رہے ہوں، ایک بات بالکل واضح ہے کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد کبھی حاصل نہیں کر سکے گا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو وہ بہت پہلے ہی اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہوتا۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی حوثیوں پر کئی مرتبہ بے رحمی سے بمباری کر چکے ہیں۔ 2025ء کے موسمِ بہار میں امریکیوں نے بھی حوثیوں کے خلاف بڑی مقدار میں قیمتی گولہ بارود استعمال کیا لیکن اس سے حاصل کچھ نہیں ہوا۔

اس سب کے باوجود حوثیوں کے عزم میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی۔ لہٰذا یہ تصور کرنا حماقت ہے کہ دوبارہ بمباری کرنے سے یمن کی جنگ کا رخ بدل جائے گا۔

اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکہ کے پاس پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز، تھاڈ (THAAD) میزائلوں اور کروز میزائلوں جیسے اہم ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں حالانکہ کسی بھی طویل جنگ میں ان ہتھیاروں کی انتہائی اہمیت ہو گی۔

بہرحال، تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے کہ محض فضائی طاقت کے استعمال سے کبھی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ حوثیوں کے خلاف کسی بھی سنجیدہ فوجی مہم میں بالآخر زمینی فوج اتارنا ناگزیر ہو گا اور یہ بلاشبہ ایک انتہائی خطرناک حکمتِ عملی ہو گی۔

امریکہ کی بااثر اور ممتاز یو ایس کونسل آن فارن ریلیشنز (US Council on Foreign Relations) نے 22 ستمبر کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں درست نشاندہی کی ہے کہ:

”حوثیوں اور ایران کے خلاف فضائی حملوں کی مہمات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس نوعیت کی جنگ کی اپنی حدود ہیں۔ اگر ٹرمپ اور سعودی عرب حوثیوں کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے محض فضائی حملوں سے کہیں زیادہ کچھ کرنا ہو گا۔“

مضمون میں مزید کہا گیا ہے:

”حوثیوں کو ان علاقوں سے بے دخل کرنے کے لیے جہاں ان کا آبنائے باب المندب پر کنٹرول ہے، امریکہ کی کسی بھی فوجی کاروائی میں ایک بڑے پیمانے پر مربوط زمینی آپریشن شامل کرنا ہو گا۔ لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ایک طرف یمنی حکومت کی افواج کمزور ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب اپنی فوج کو اس جنگ میں جھونکنے سے گریزاں ہے۔“

المختصر، حوثیوں کے خلاف فضائی حملے شاید سعودی عرب کو انتہائی قلیل عرصے کے لیے فوری شکست سے بچا لیں لیکن ان کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔

ممکنہ نتائج

اب یہ بات روز بروز واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ان کے ایسے نتائج بھی نکلیں گے جنہیں دیکھنے یا سمجھنے سے وہ یا تو قاصر ہے یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔

کسی بھی حملے کے نتیجے میں ایران، حوثی اور ان کے علاقائی اتحادی (عراق کی شیعہ ملیشیائیں اور لبنان کی حزب اللہ تحریک) مزید سخت جوابی کاروائیاں کرنے کی طرف جائیں گے۔

حوثی قیادت نے امریکہ سے اس تنازع سے دور رہنے کی درخواست کرتے ہوئے واشنگٹن کو یقین دلانے کی پوری کوشش کی ہے کہ ان کا مقصد بحیرہ احمر میں تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت روکنا نہیں بلکہ صرف سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانا ہے۔

اگر امریکہ حوثیوں پر حملہ کرتا ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ ایرانی بھی یہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں جوابی کاروائی کرنا ہو گی کیونکہ ایسا نہ کرنا حوثیوں کے ساتھ غداری سمجھا جائے گا اور وہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ظاہر ہے اگر ایران پر براہِ راست حملہ کیا گیا تو یہ امکان اور بھی بڑھ جائے گا۔

اس مرحلے پر پھر کوئی مصلحت باقی نہیں رہے گی۔ حوثی امریکی اور دیگر مغربی تجارتی جہازوں کے لیے بحیرہ احمر کو بند کرنے سے ہرگز نہیں ہچکچائیں گے اور یوں عالمی معیشت کا بحران بالکل ایک نئی سطح تک پہنچ جائے گا۔

ایرانیوں کی جانب سے ممکنہ جواب صرف سعودی تیل کی تنصیبات، ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں، بندرگاہوں، آئل ٹینکروں اور کمزور پائپ لائنوں پر حملوں تک محدود نہیں ہو گا بلکہ کہیں زیادہ سنگین طور پر وہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس جیسی انتہائی اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے سعودی عرب اور اس کے ہر ایک خلیجی اتحادی کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

کیا یہ ایک محدود مدت کی جنگ ہو گی؟

ایک چیز یقینی ہے اگر جنگ ایک دفعہ پھیل گئی تو اس کی کوئی حد نہ ہو گی۔ کسی مختصر اور کامیاب فوجی مہم کا تصور ایک احمقانہ سراب ہے جو تمام معلوم حقائق سے متصادم ہے۔

ایرانیوں اور حوثیوں دونوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتہائی سفاک جنگوں کا بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں نہ تو ایک طویل جنگ لڑنے کے عزم کی کمی ہے اور نہ ہی فوجی صلاحیت کے اعتبار سے اس کے لیے درکار وسائل کی۔

ایک چیز یقینی ہے اگر جنگ ایک دفعہ پھیل گئی تو اس کی کوئی حد نہ ہو گی۔

اس کے برعکس امریکہ میں ان دونوں چیزوں کا فقدان ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایسی جنگ امریکہ کے لیے ایک تباہ کن صورتِ حال ثابت ہو گی۔ پینٹاگون کے رہنما بار ہا اس کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی کاروائیوں کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل بڑی تعداد میں فوجی دستے تعینات رکھنے سے دنیا کے دیگر حصوں میں پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کی امریکی فوج کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے حتیٰ کہ خود امریکہ کے دفاع کی صلاحیت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔

پینٹاگون کے خدشات پوری طرح جائز ہیں۔ لیکن اس کے سب سے سنگین اثرات سیاست کے میدان اور لاکھوں لوگوں کے شعور پر مرتب ہوں گے۔

ایران کی جنگ کو امریکہ میں عوامی رائے کی کوئی حمایت حاصل نہیں۔ تقریباً 60 فیصد امریکی اس فوجی کاروائی کی مخالفت کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ حالیہ تاریخ کی بڑی اور انتہائی غیر مقبول جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔

یہ مخالفت ٹرمپ کے اپنے ووٹرز میں بھی بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے جو اس کے اس وعدے کو نہیں بھولے کہ وہ ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگوں‘ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی جنگوں کا خاتمہ کرے گا۔

تمام شواہد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ایک بڑے اور مسلسل بڑھتے ہوئے سلسلے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جہاں ایک شیطانی گرداب میں ’سبب‘ ’نتیجہ‘ بنتا ہے اور ’نتیجہ‘ دوبارہ ’سبب‘ اور یوں تشدد اور افراتفری کا یہ نہ ختم ہونے والا چکر مزید گہرا ہوتا جاتا ہے۔ آخر یہ صورتِ حال ہمیں کہاں لے جائے گی، کوئی کچھ کہہ سکتا ہے؟

عالمی معیشت میں زلزلہ

دریں اثنا، عالمی معیشت ایندھن کی قیمتوں میں بے قابو اضافے اور آسمان کو چھوتی مہنگائی کا سامنا کر رہی ہے۔

خام تیل کی بینچ مارک قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اور یہ تو صرف آغاز ہے۔ دی گارڈین نے 15 ستمبر کو لکھا:

”تحقیقی کمپنی رِسٹاد انرجی (Rystad Energy) کے مطابق اگست کے اواخر سے یومیہ اوسطاً 26 لاکھ سے 40 لاکھ بیرل تیل پائپ لائن کے ذریعے یانبو کی بندرگاہ تک پہنچ کر وہاں سے روانہ ہو رہا تھا اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اب یہ مقدار ’مارکیٹ سے غائب‘ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

”منگل کی صبح برینٹ خام تیل کی قیمت 1.17 فیصد بڑھ کر 106.92 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت گزشتہ ہفتے پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔“

چنانچہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے بھی پہلے امریکہ کے پٹرول پمپس پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں۔

اور عالمی سطح پر تیل کی قلت مزید سنگین ہونے والی ہے۔ بینک آف امریکہ نے تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔ لیکن بعد میں یہ پیش گوئی بھی حد سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر حالات اسی طرح بگڑتے رہے تو تیل کی قیمت باآسانی 200 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا بحران توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بانڈ مارکیٹوں کے مسائل مل کر ہر حکومت (روس اور چین کے علاوہ) کے سامنے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا بحران کھڑا کر رہے ہیں۔ خطے میں جنگ کی تجدید اور اس کے نتیجے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل کا انہدام ان تمام مسائل کو کہیں زیادہ سنگین بنا دے گا۔

مرکزی بینکوں کو مجبوراً شرحِ سود میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں طلب میں تیزی سے کمی آئے گی جو معیشت کو کسادِ بازاری، منافعوں میں کمی، سرمایہ کاروں کے اعتماد کے خاتمے اور اسٹاک مارکیٹ کے بحران کی جانب ایک نہ رکنے والے سفر پر ڈال دے گی۔

کارخانوں کی بندش، بے روزگاری میں تیز اضافے اور معیارِ زندگی اور ٹیکس آمدنی میں کمی کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو تعلیم، صحت اور دیگر سماجی سہولیات پر ہونے والے سرکاری اخراجات میں بھی بڑی کٹوتیاں کرنا پڑیں گی۔

شعور میں تیز تبدیلیاں

یہ صورتِ حال خاص طور پر یورپ کے لیے سنگین ہے جہاں قدرتی گیس کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہیں۔ یورپ میں گیس کی قلت کے حوالے سے پہلے ہی گھبراہٹ بڑھ رہی ہے لیکن یورپی حکومتیں عوام میں خوف و ہراس پھیلنے کے خدشے کے باعث اس مسئلے کا ذکر کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔

یورپ کے عوام انتہائی سخت موسم سرما کی توقع کر سکتے ہیں۔ طوفانی بادل جمع ہو رہے ہیں اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی یقیناً ممکن ہے کہ یورپی رہنما ’سمندر میں آزادانہ آمد و رفت کے دفاع‘ کا بہانہ بنا کر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں خود کو الجھا کر اپنے ہاں جاری معاشی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کریں۔

یہاں وہ معروف کہاوت یاد آتی ہے کہ احمق وہاں جا گھستے ہیں جہاں فرشتے بھی قدم رکھنے سے ڈرتے ہیں۔ خارجہ پالیسی میں ہر قابلِ تصور غلطی کرنے کے بعد اور کئی ایسی غلطیاں بھی جن کا تصور کرنا بھی مشکل ہے، یہ نالائق لوگ اس وقت بھی خود کو کسی فوجی مہم جوئی میں جھونکنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں جب ان کی اپنی فوجیں قابلِ رحم حالت میں ہوں۔ خزانے خالی ہوں اور ووٹر بھی ایسی مہم جوئی کی حمایت کرنے کے موڈ میں نہ ہوں۔

لیکن پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کی حماقت کی کوئی حد ہی نہیں۔

تاہم ایسی فوجی مہم جوئی کے لازماً یورپ کے ہر ملک کے لیے انتہائی سنگین سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔

اس پوری صورتِ حال میں ایسے اچانک اور شدید موڑ پہلے ہی مضمر ہیں۔ یہ اس سماجی و معاشی نظام کے اندرونی عدم استحکام کا سب سے واضح اظہار ہیں جو اپنی افادیت کھو چکا ہے اور انسانی ترقی کی ضروریات سے متصادم ہو چکا ہے۔

جس طرح ابتدائی میکینکس میں ہر عمل کا ایک برابر اور مخالف ردِعمل ہوتا ہے اسی طرح سیاست میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

لیکن اس کے نتیجے میں عوامی شعور میں بھی اتنی ہی اچانک اور شدید تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ ایک قابلِ عمل بائیں بازو کے متبادل کی عدم موجودگی میں ٹرمپ یا جرمنی کی اے ایف ڈی (AfD) جیسی دائیں بازو کی عوامی جذبات بھڑکانے والی قوتوں کے لیے راستہ کھل جاتا ہے۔

یہ دائیں بازو کے عوامی جذبات بھڑکانے والے رہنما اچانک ابھر سکتے ہیں اور کچھ عرصے کے لیے کچھ کامیابی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن بالآخر انہیں سرمایہ داری کے ان تضادات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ پھر وہ بھی اتنی ہی تیزی سے زوال کا شکار ہوں گے جتنی تیزی سے ابھرے تھے۔

اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ٹرمپ سے وابستہ وہ خوش فہمیاں جو ماضی میں خاصی مضبوط تھیں۔ کتنی تیزی سے دم توڑنے لگی ہیں اور ان کی جگہ غصے، الزام تراشی اور سخت ردِعمل کے رجحانات لے رہے ہیں خصوصاً ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر۔

ایسی جنگ جس کے نہ واضح مقاصد ہوں اور نہ اختتام کی کوئی صورت نظر آتی ہو اور جس کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی شرح بھی بلند ہو۔ یہ چیز عوامی غصے اور بڑے پیمانے پر مظاہروں کی ایسی لہر کو جنم دے گی جو ویتنام جنگ کے بعد سے نہیں دیکھی گئی۔ یہ ٹرمپ کے سیاسی کیریئر کے آخری اور فیصلہ کن انہدام کا باعث بنے گی۔

جس طرح ابتدائی میکینکس میں ہر عمل کا ایک برابر اور مخالف ردِعمل ہوتا ہے اسی طرح سیاست میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک بار ٹرمپ ازم کا طلسم ٹوٹ گیا تو بند ٹوٹ جائیں گے اور بنیاد پرستی اور انقلابی رجحانات کا ایک ایسا سیلاب امڈ آئے گا جو امریکی معاشرے کو اس کی بنیادوں تک ہلا دے گا اور یوں پینڈولم کے دائیں سے بائیں جانب ایک شدید جھکاؤ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

ٹرمپ کی امریکہ میں کمیونزم کے عروج کے حوالے سے کی جانے والی قیامت خیز پیش گوئیاں اب وہ نہیں رہیں گی جو اب تک رہی ہیں یعنی ایک دیوالیہ ہو چکے سیاست دان کی بے ہنگم بڑبڑاہٹ جو امریکہ کے عوام کو درپیش حقیقی مسائل سے ان کی توجہ ہٹانے کا کوئی راستہ ڈھونڈنے کے لیے بے تاب ہے۔

بلکہ انہیں نوجوانوں کے وسیع حصوں میں بائیں جانب بڑھتی ہوئی ریڈیکلائزیشن اور کمیونزم و انقلاب کے نظریات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی ایک درست پیش بینی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

یہی مظہر ایک کے بعد دوسرے ملک میں دیکھنے کو ملے گا۔ جرمنی میں ہونے والے حالیہ انتخابات ایک واضح انتباہ تھے کہ عوام میں بے اطمینانی کا احساس مسلسل بڑھ رہا ہے۔ موجودہ سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور حکومتوں سے بد دلی بڑھتی جا رہی ہے اور پرانی بے فکری کی جگہ بغاوت کے ایک نئے اور جارحانہ مزاج نے لے لی ہے۔

مختصراً موجودہ حالات طبقاتی جدوجہد کے ایک بے مثال پیمانے پر دھماکہ خیز ابھار کے لیے ایک مکمل نسخہ بنتے جا رہے ہیں۔