|تحریر: زلمی پاسون|

گزشتہ عرصے کے دوران بلوچ قومی سوال پر ہونے والی جدوجہد کی ایک نئی لہر ایک بار پھر پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں نمایاں ہوئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بلوچ سماج میں ایک نئی سیاسی بیداری اور مزاحمت کا ابھرنا ہے، جس نے ریاستی جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وقتی اور سطحی جمود کو توڑ دیا۔ بلوچ نوجوان، طلبہ اور سیاسی کارکن ایک بار پھر سڑکوں پر نکلے اور ایک نئی عوامی تحریک (بی وائی سی) نے جنم لیا۔ اس تحریک نے نہ صرف بلوچ سماج کو متحرک کیا بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں تک بھی بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اور ظلم کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، تاکہ ملک کی دیگر مظلوم اقوام اور محنت کش طبقہ بھی بلوچستان کی حقیقی صورتِ حال سے آگاہ ہو اور اس جدوجہد سے جڑ سکیں۔ تاہم، یہ کوشش ایک وسیع عوامی اتحاد کی شکل اختیار نہ کر سکی۔ حسبِ روایت قوم پرستی کی محدود تنگ نظر سیاست اور مزدور طبقے کے قائدانہ اور فیصلہ کن کردار سے انکار نے بلوچ تحریک کو ملک کی دیگر مظلوم اقوام اور محنت کش طبقے سے جوڑنے کی بجائے ان سے الگ رکھا۔
اس کے ساتھ ہی بی وائی سی کے پاس بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ کوئی واضح اور متبادل سیاسی پروگرام بھی موجود نہیں تھا اور قوم پرستی کی شکل میں مزدور دشمن نظریات تحریک پر مسلط کیے جا رہے تھے۔ یوں تحریک ایک طرف وسیع عوامی اتحاد قائم نہ کر سکی اور دوسری طرف کوئی واضح متبادل راستہ بھی پیش نہ کر پائی، جس کے نتیجے میں وہ نسبتاً کمزور ہوتی گئی۔ اس نسبتی کمزوری کے ماحول میں بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد صوبے میں جاری عسکریت پسندی کی طرف متوجہ ہونے لگی اور گزشتہ تین برسوں کے دوران بلوچ عسکریت پسندی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ عسکریت پسند تنظیموں نے ایک طرف بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کیا، تو دوسری طرف اپنے حملوں کا دائرہ بلوچستان کے پشتون علاقوں تک بھی وسیع کیا۔ ان حملوں میں شدت آنے کی کئی وجوہات ہیں، لیکن ان میں ایک اہم وجہ نوجوانوں کی بڑی تعداد میں ہونے والی ریکروٹمنٹ بھی ہے۔ ان میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو عسکریت پسند تنظیموں میں شامل ہونے کے صرف چند ماہ بعد ہی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
دوسری جانب ریاست کی طرف سے فوجی اور فضائی کاروائیاں بھی بدستور جاری ہیں۔ کئی علاقوں میں پورے کے پورے دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں، فصلوں اور باغات کو تباہ کیا جا رہا ہے، جبکہ جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے نتیجے میں بلوچستان کے وسیع علاقوں میں ریاستی رِٹ شدید کمزور ہو چکی ہے۔ بعض علاقوں میں صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ریاستی انتظام اور اختیار عملاً چند بڑے شہری مراکز مثلاً کوئٹہ جیسے شہر کے محض ریڈ زون تک محدود دکھائی دیتا ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود ریاست اپنے نام نہاد سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ذریعے بلوچستان کی ایک مصنوعی اور جھوٹی تصویر ملک کے عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان ذرائع کے ذریعے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بلوچستان میں حالات معمول کے مطابق ہیں، جبکہ زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بلوچستان کے عوام ایک طرف ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں اور دوسری طرف عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھی عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
لہٰذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال محض چند واقعات یا کسی ایک فریق کی کاروائی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں سے جاری قومی محرومی، ریاستی جبر، معاشی استحصال اور سیاسی بے اختیاری کے عوامل موجود ہیں جس کی بنیاد میں سرمایہ دارانہ نظام کا جبر موجود ہے۔ پاکستان ایک سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس پر سرمایہ دار طبقے کی حکمرانی ہے اور ریاست کے تمام ادارے اسی سرمایہ دار طبقے کے منافع کی ہوس کو پورا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں سرمایہ داری کسی انقلاب کے ذریعے نہیں آئی بلکہ برطانوی سامراج کے جبر تلے اسے مسلط کیا گیا تھا اور یہ کبھی بھی ترقی پسندانہ کردار ادا نہیں کر سکی۔ اسی لیے یہاں ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کی طرح کے جمہوری حقوق عوام کو کبھی بھی نہیں مل سکے اور نہ اس نظام میں آئندہ کبھی مل سکیں گے۔ یہاں پر اصل حکمرانی بینکوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی ہے اور یہاں پیدا ہونے والی دولت اور یہاں کے معدنی وسائل کو لوٹنے کے لیے ہی سرمایہ دار طبقے کے حق میں تمام پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ دیگر ریاستی ادارے بشمول عدلیہ، فوج، پارلیمنٹ اور بیوروکریسی اس مالیاتی نظام کو تحفظ دینے اور سرمایہ دار طبقے کی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے ہی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر تاخیر زدہ ہونے کے باعث اس ملک کا حکمران طبقہ سامراجی طاقتوں کا بھی ہمیشہ سے مطیع رہا ہے اور لوٹ مار کا بڑا حصہ ان ممالک کے سرمایہ دار طبقے کی جھولی میں ڈالنے پر مجبور ہے۔ سرمایہ داری کے عالمی مالیاتی نظام سے جڑے ہونے کے باعث یہ سامراجی طاقتوں کی مسلط کردہ پالیسیوں سے بھی فرار حاصل نہیں کر سکتے۔ لیکن لوٹ مار پر مبنی یہ سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا میں زوال پذیر ہے اور اس کے بحرانوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی باعث مظلوم قومیتوں پر بھی جبر بڑھتا جا رہا ہے اور ان کے وسائل کی لوٹ مار اور ان کے استحصال میں بھی شدت آ رہی ہے۔
اس صورتحال میں اس نظام اور اس کے جبر کے خلاف ہونے والی جدوجہد کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے اور ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اس نظام کو اکھاڑنے کے لیے انقلابی پارٹی کی تعمیر کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بنیادی سوالات کے جواب دینا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ موجودہ عوامی مزاحمت کس سمت آگے بڑھ سکتی ہے، قوم پرستی کی سیاست اس بحران کا حل دینے میں کیوں ناکام رہی ہے اور عسکریت پسندی کے راستے کے مقابلے میں محنت کش عوام کے پاس کیا متبادل موجود ہے؟ ان ہی بنیادی سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچ قومی سوال، ریاستی جبر، عوامی مزاحمت اور سوشلسٹ انقلاب کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ کیونکہ محنت کش طبقے کی قیادت میں برپا ہونے والے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی قومی جبر کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور محنت کش طبقہ اپنے تمام مسائل سے نجات بھی حاصل کر سکتا ہے۔
ریاستی جبر: مسئلہ دبانے یا ابھارنے کی کوشش؟
بلوچستان میں ریاستی جبر کی مختلف شکلیں روزِ اول سے موجود رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ وقت اور حالات کے ساتھ ریاستی جبر کی شدت اور اس کے طریق کار میں بھی تبدیلی آتی رہی ہے۔ فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، سیاسی آزادیوں پر قدغن، میڈیا پر پابندیاں اور اجتماعات و احتجاج کو روکنا اب معمول بن چکا ہے۔ تاہم حالیہ عرصے میں ریاستی جبر کی شکلیں مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دیہاتوں کو خالی کرانا، فصلوں اور باغات کو تباہ کرنا، خواتین کو جبری طور پر لاپتا کرنا، خواتین کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا اور ان کے سروں پر انعامات مقرر کرنا بھی معمول بنتا جا رہا ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود ریاست اور اس کے دلال و حواری مسلسل یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ وہ طاقت کے ذریعے بلوچستان کے مسئلے کو حل کر دیں گے۔ دوسری طرف وہ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو محض چند ”سر پھروں“ کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف حقائق سے روگردانی ہے بلکہ حقائق کو مسخ کرنے اور ملک بھر کے محنت کشوں اور مظلوم اقوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی جبر مسئلے کو ختم کرنے کی بجائے اسے مزید گہرا کر رہا ہے۔ ایک طرف جبر کے نتیجے میں مسئلے کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے، تو دوسری طرف عوامی تحریکوں پر اعلانیہ پابندیاں نوجوانوں کے ایک حصے کو پہاڑوں کا رخ کرنے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اس عمل میں ایک المناک پہلو یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کے لیے پرامن سیاسی اظہار کے راستے سکڑتے جائیں تو مسلح راستہ زیادہ قابلِ رسائی دکھائی دینے لگتا ہے۔ یوں نئی نسل میں بیگانگی، غصے اور مزاحمت کے جذبات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
لیکن ریاستی جبر کے اثرات صرف سیاسی یا عسکری میدان تک محدود نہیں رہتے۔ جب کسی خطے میں سیاسی سرگرمیوں، نقل و حرکت، تجارت اور روزگار کے ذرائع مسلسل دباؤ کا شکار ہوں تو اس کے نتیجے میں پورا سماج معاشی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اسی معاشی پہلو کو بھی بحث کا مرکزی حصہ بنانا ضروری ہے، کیونکہ بلوچ سماج پر جاری دباؤ میں معاشی جبر ایک انتہائی اہم عنصر ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
بلوچستان کی سیاسی معیشت میں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت ایک اہم حصہ رکھتی ہے۔ بالخصوص مکران اور رخشان ڈویژن سمیت بلوچستان کے وسیع علاقوں میں محنت کش عوام کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی شکل میں اس تجارت پر انحصار کرتی ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں زراعت محدود سطح پر ہے، جبکہ لائیو اسٹاک، خدمات، کان کنی، ماہی گیری اور صنعتی شعبے بھی روزگار کے محدود مواقع فراہم کرتے ہیں۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ، بعض اندازوں میں 50 فیصد سے زیادہ، کسی نہ کسی صورت میں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت سے وابستہ ہے۔
ایسے میں سرحدی تجارت پر عائد پابندیوں یا اس کے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی کنٹرول کے اثرات محض تجارت تک محدود نہیں رہتے بلکہ براہِ راست عام لوگوں کے روزگار اور معاشی بقا کو متاثر کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے ساتھ سرحدی تجارت پر بالواسطہ یا براہِ راست سیکیورٹی اداروں کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے، جسے ناقدین کے مطابق عوام پر دباؤ ڈالنے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک ایسے صوبے میں جہاں متبادل روزگار کے ذرائع پہلے ہی محدود ہوں، سرحدی تجارت پر قدغنیں ہزاروں خاندانوں کو معاشی عدم تحفظ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ اس طرح ریاستی جبر صرف سیاسی آزادیوں کو محدود نہیں کرتا بلکہ لوگوں کے روزگار، آمدنی اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
یہاں سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: ریاستی جبر آخر کیوں پیدا ہوتا ہے اور حکمران طبقے کے لیے جبر کا استعمال کیوں ضروری ہو جاتا ہے؟ محض بلوچستان کے مخصوص واقعات کو دیکھنے سے اس سوال کا مکمل جواب نہیں ملتا۔ اس کے لیے ہمیں ریاست اور معیشت کے باہمی تعلق اور بالخصوص سرمایہ داری کی طبقاتی ساخت کو سمجھنا ہو گا۔
مارکسی نقطہ نظر سے سرمایہ دارانہ ریاست بنیادی طور پر نجی ملکیت اور موجودہ معاشی و طبقاتی نظام کے تحفظ کے لیے قائم اداروں کے مجموعے کے طور پر کام کرتی ہے۔ حکمران طبقہ اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی طاقت اور جبر کے مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے۔ بلوچستان کے مخصوص حالات میں ان ذرائع میں فوجی آپریشنز کے ساتھ ساتھ ڈیتھ اسکواڈز، مسلح جتھے اور مذہبی بنیاد پرست تنظیمیں بھی مختلف ادوار میں استعمال ہوتی رہی ہیں۔
اس نقطہ نظر سے بلوچستان میں ریاستی جبر کو محض کسی ایک حکومت، ادارے یا چند مخصوص افراد کی پالیسی سمجھنا مسئلے کے بنیادی ڈھانچے کو نظر انداز کرنا ہو گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک ایسا ریاستی ڈھانچہ کیوں موجود ہے جو مختلف ادوار میں سیاسی مطالبات کے جواب میں مذاکرات، اصلاحات یا جمہوری اظہار کی بجائے طاقت کے استعمال کی طرف جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومی سوال اور طبقاتی سوال ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں، کیونکہ قومی محرومی اور سیاسی بے اختیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحصال بھی عام محنت کش آبادی کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ریاستی جبر کے ذریعے نام نہاد امن قائم کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ ریاست کا دعویٰ ہوتا ہے کہ اسی جبر کے ذریعے وہ بلوچ قومی سوال کو حل کر سکتی ہے۔ لیکن اگر گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربے کو دیکھا جائے تو جبر نے قومی سوال کو حل کرنے کی بجائے اسے مزید پیچیدہ اور متشدد بنایا ہے۔ جبر کے نتیجے میں سماج ایک مخصوص وقت کے لیے خاموش ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اس خاموشی کو حقیقی امن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست اور اس کے دلال و حواری اسی سطحی خاموشی کو ”امن“ کا نام دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں امن اور خاموشی کے درمیان بنیادی فرق موجود ہے۔
خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ اگر کسی سماج میں لوگوں کو خوف، جبر اور طاقت کے ذریعے خاموش کر دیا جائے تو یہ امن نہیں بلکہ عارضی سکوت ہوتا ہے۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا جن سے مزاحمت جنم لیتی ہے، تب تک یہ خاموشی کسی بھی وقت دوبارہ احتجاج، سیاسی مزاحمت یا بغاوت کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ حقیقی امن محض سڑکوں پر خاموشی یا احتجاج کے فقدان کا نام نہیں بلکہ ان سیاسی، قومی، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کا نام ہے جو مسلسل بے چینی اور مزاحمت کو جنم دیتے ہیں۔
اسی لیے موجودہ صورتحال میں ریاست کا یہ دعویٰ کہ طاقت کے ذریعے بلوچستان کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے، اپنے اندر ایک بنیادی تضاد رکھتا ہے۔ اگر طاقت مسئلے کو حل کر رہی ہوتی تو کئی دہائیوں کے فوجی آپریشنز، گرفتاریوں، پابندیوں اور جبر کے بعد قومی سوال کی شدت میں کمی آنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس، ریاستی جبر اور مزاحمت ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہوئے ایک طویل بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب بلوچستان کے حکام خود صوبے کی صورتحال کو ”حالتِ جنگ“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگر بلوچستان واقعی حالتِ جنگ میں ہے تو پھر اس صورتحال کو کسی بھی صورت میں معمول کے امن کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ یہ اس امر کا اعتراف ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کی ریاستی پالیسی بلوچستان کے قومی سوال کو حل کرنے کی بجائے اسے مزید گہرا کرنے کا باعث بنی ہے۔
یہاں ایک بنیادی مسئلہ پھر سامنے آتا ہے کہ اگر ریاست ایک طرف طاقت کے استعمال کو مسئلے کے حل کا ذریعہ قرار دیتی ہے اور دوسری طرف اسی طاقت کے استعمال کے باوجود صورتحال کو ”حالتِ جنگ“ قرار دینا پڑتا ہے، تو پھر یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا موجودہ پالیسی واقعی مسئلے کا حل فراہم کر رہی ہے یا بحران کو مزید طول دے رہی ہے؟ اس سوال کا جواب محض سرکاری دعووں سے نہیں بلکہ زمینی حالات اور گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربے سے تلاش کرنا ہو گا۔
بلوچ عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل میں ریاستی جبر کے مزید شدت اختیار کرنے کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ عرصے میں جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں، گرفتاریوں، گھروں اور بستیوں کی تباہی، جبری بے دخلی اور معاشی و سماجی زندگی کو مفلوج کرنے کے واقعات جس تسلسل سے سامنے آ رہے ہیں، وہ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر موجودہ پالیسی جاری رہی تو ریاستی ردِعمل مزید سخت گیر شکل اختیار کر سکتا ہے۔
بلوچستان ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تقریباً آٹھ سو افراد کے جبری طور پر لاپتا کیے جانے اور 456 مسخ شدہ لاشوں کی بازیابی کے اعداد و شمار، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، اس صورتِ حال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر یہ رجحان مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات محض عسکریت پسند گروہوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے بلوچ سماج، بالخصوص نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور عام آبادی پر پڑیں گے۔ وسیع پیمانے پر جبر، اجتماعی بے دخلی اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر سکتی ہیں جس میں سماجی و سیاسی زندگی مزید سکڑ جائے اور ایک پوری نسل سیاسی طور پر خاموش یا بے دخل ہونے پر مجبور ہو۔
اس صورتحال کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ریاستی جبر عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی بجائے بعض حالات میں اسے زیرِ زمین دھکیلنے، نئی بھرتیوں کے لیے ماحول پیدا کرنے اور تشدد کے ایک نئے چکر کو جنم دینے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ ریاستی جبر لازماً بلوچ عسکریت پسندی کے لیے عوامی ہمدردیوں اور حمایت میں مسلسل اضافے کا باعث بنتا رہے گا۔ دونوں صورتوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے کہ ریاستی جبر سے پیدا ہونے والا غصہ لازماً کسی مخصوص عسکری تنظیم کی حمایت میں تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ وہ مختلف سیاسی، سماجی اور مزاحمتی راستوں کی طرف بھی جا سکتا ہے۔
درحقیقت ریاستی جبر اور بلوچ عسکریت پسندی کے درمیان جاری تصادم کی سب سے بھاری قیمت بلوچ محنت کش عوام ادا کر رہے ہیں۔ ایک طرف ریاستی جبر نے جبری گمشدگیوں، قتل و غارت، بے دخلی، معاشی پابندیوں اور سیاسی گھٹن کے ذریعے ان کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا ہے، تو دوسری طرف عسکریت پسندانہ کاروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں، خوف، عدم تحفظ اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹیں بھی عام لوگوں کی زندگیوں کو مزید ویران کر رہی ہیں۔
چنانچہ بلوچ محنت کش عوام کے لیے بنیادی سوال کسی ایک فریق کے تشدد کے ساتھ کھڑا ہونا نہیں بلکہ ریاستی جبر، عسکریت پسندی اور اس پورے متشدد چکر سے نجات حاصل کرنا ہے۔ ان کے لیے جان و مال کا تحفظ، معاشی بقا، سیاسی آزادی اور اجتماعی حقوق کا حصول بنیادی ضروریات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو صرف ریاست بمقابلہ عسکریت پسند تنظیموں کے تصادم تک محدود کر دینا عام بلوچ عوام کے حقیقی مسائل کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
اگر ریاستی جبر اور عسکریت پسندی کا یہ باہمی تصادم اسی طرح جاری رہتا ہے تو اس کا نتیجہ محض کسی ایک فریق کی فتح یا شکست کی صورت میں نہیں نکلے گا، بلکہ اس کے نتیجے میں بلوچ سماج کی مزید معاشی، سیاسی اور انسانی تباہی کا خطرہ موجود رہے گا۔ اس لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان کی مزاحمت کو ایسے سیاسی راستے کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے جو ریاستی جبر کے خلاف جدوجہد کو عام محنت کش عوام کے معاشی اور سیاسی مطالبات کے ساتھ جوڑ سکے؟ اور کیا قومی محرومی کے خلاف جدوجہد کو اس وسیع تر طبقاتی جدوجہد کا حصہ بنایا جا سکتا ہے جس میں بلوچستان کے محنت کش عوام ملک کے دیگر مظلوم اقوام اور محنت کش طبقات کے ساتھ مشترکہ سیاسی مفادات کی بنیاد پر متحد ہو سکیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں بلوچ قومی سوال محض قومی جبر کے سوال سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تر سیاسی اور طبقاتی سوال بن جاتا ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کیے بغیر ریاستی جبر اور عسکریت پسندی کے موجودہ چکر سے نکلنے کا راستہ واضح نہیں ہو سکتا۔
ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت:
بلوچستان میں قومی جبر اور اس کے خلاف جاری مزاحمت، دونوں اتنی ہی پرانی ہیں جتنی اس ریاست کی عمر ہے۔ اس ضمن میں ہم اپنی پرانی تحریروں میں بار ہا تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ قومی جبر کے خلاف جاری عسکریت پسندی کا یہ پانچواں مرحلہ 2005ء کے بعد سے شدت اختیار کر گیا، بالخصوص جب اگست 2006ء میں نواب اکبر بگٹی کے ریاستی قتل کا واقعہ رونما ہوا، جس کے بعد یہ سلسلہ مختلف نشیب و فراز کے ساتھ ہنوز جاری ہے۔
سیاسی اور عوامی سطح پر دیکھا جائے تو 2013ء میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) اگرچہ عوامی جدوجہد کر رہی تھی، مگر اس کا جھکاؤ بھی عسکریت پسندی ہی کی جانب تھا۔ اس کے نتیجے میں جب مذکورہ طلبہ تنظیم پر پابندی عائد ہوئی، تو بلوچ سماج میں منظم عوامی جدوجہد کا تسلسل ٹوٹ گیا اور وہ تقریباً مفقود ہو کر رہ گئی۔ اس خلا کے نتیجے میں ایک طویل خاموشی چھا گئی، لیکن طلبہ سیاست کی حد تک بساک نے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی، مگر وہ بی ایس او (آزاد) کا متبادل نہیں بن سکی۔ لیکن جیسا کہ ہم نے تحریر کے آغاز میں 2018ء کے موڑ کا ذکر کیا تھا، جہاں عوامی مزاحمت کا دوبارہ آغاز ہونے لگا اور یوں عوامی مزاحمت کی اس نئی اٹھان سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی شکل میں ایک نئی اور طاقتور عوامی مزاحمتی تحریک کا ابھار ہوا۔ اس عوامی تحریک نے ریاستی جبر اور ریاست کے سامراجی عزائم کو نہ صرف پورے ملک میں بے نقاب کیا، بلکہ دنیا کے مختلف کونوں تک بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم کی آواز کو مؤثر انداز میں پہنچایا۔ ریاست کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی شکل میں سڑکوں پر اٹھنے والی یہ پرامن اور عوامی آوازیں مکمل طور پر ناقابل برداشت تھیں۔ اسی لیے اس تحریک کی اندرونی کمزوری یعنی متبادل سیاسی پروگرام کی عدم موجودگی کا ریاست نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس کا استعمال کرتے ہوئے تحریک کی قیادت کو جھوٹے مقدمات کی آڑ میں قید کر دیا، جبکہ ان کے سینکڑوں کی تعداد میں کارکنان بھی اس وقت مقید ہیں۔ 2018ء ہی کے دوران عوامی مزاحمت کے متوازی، عسکری محاذ پر بلوچ عسکریت پسندی نے بھی اپنے اندرونی معاملات اور تضادات کو حل کرتے ہوئے بی ایل اے کی موجودہ شکل اختیار کی، جس کی قیادت بشیر زیب کر رہا ہے۔ دوسری جانب بی ایل ایف کو بھی اس پورے سیاسی اور سماجی ماحول کی تبدیلی سے نئی آکسیجن اور طاقت ملی۔ اس تمام صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سماج کی عمومی سیاسی و سماجی تحرک کے ساتھ ہی عسکریت پسندی کا عمل بھی جڑا ہوتا ہے۔
بلوچ عسکریت پسندی میں حالیہ اضافہ اور وسعت
گزشتہ چند برسوں کے دوران بلوچ عسکریت پسندی میں نہ صرف نمایاں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کے دائرہ کار اور جغرافیائی پھیلاؤ میں بھی وسعت آئی ہے۔ اس اضافے کو محض چند مسلح کاروائیوں یا واقعات کی تعداد میں اضافے کے طور پر دیکھنا کافی نہیں ہو گا، بلکہ اسے بلوچستان میں پیدا ہونے والی وسیع تر سیاسی اور سماجی صورتحال کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ ایک طرف ریاستی جبر، مسلسل فوجی کاروائیاں، جبری گمشدگیاں، سیاسی بے اختیاری اور معاشی محرومی نے بلوچ سماج میں گہرے اضطراب کو جنم دیا ہے، جبکہ دوسری طرف گزشتہ برسوں میں پیدا ہونے والی عوامی سیاسی تحریک (بی وائی سی) اپنے لیے کوئی ایسا واضح اور متبادل سیاسی راستہ تشکیل نہیں دے سکی جو اس بے چینی کو ایک وسیع اور منظم عوامی قوت میں تبدیل کر سکتا۔
اسی سیاسی خلا اور مسلسل ریاستی جبر کے ماحول میں بلوچ نوجوانوں کا ایک حصہ عسکریت پسندی کی طرف متوجہ ہوا۔ چنانچہ حالیہ برسوں میں بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی کاروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان کی سرگرمیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع علاقوں تک پھیلتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس تبدیلی کو صرف عسکری تنظیموں کی داخلی قوت کے نتیجے کے طور پر نہیں بلکہ اس وسیع سیاسی بحران کے ایک اظہار کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے، جس میں ایک طرف ریاست طاقت کے ذریعے قومی سوال کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اس سوال کا کوئی قابلِ قبول سیاسی حل سامنے نہیں آ رہا۔
اس پھیلاؤ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بلوچ عسکریت پسند اپنی کاروائیوں کا دائرہ بلوچستان کے پشتون علاقوں تک بھی بڑھا رہے ہیں۔ اس کے کئی ممکنہ سیاسی اور عسکری محرکات ہو سکتے ہیں، جن میں اپنی کاروائیوں کے لیے وسیع تر جغرافیائی میدان پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کے لیے بلوچستان کے بڑے حصوں میں مشکلات پیدا کرنا شامل ہے۔ تاہم اس عمل کا ایک نہایت اہم اور پیچیدہ پہلو پشتون علاقوں میں موجود دیگر مسلح گروہوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ بالخصوص ریاستی اداروں سے تاریخی طور پر جڑی مذہبی بنیاد پرست تنظیم ٹی ٹی پی کے ساتھ بلوچ عسکریت پسندوں کا باہمی تعاون اور اشتراک اس پورے عمل کو ایک وسیع تر علاقائی عسکری تناظر سے جوڑتا ہے۔ ٹی ٹی پی کے افغان طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات اور اسے افغان طالبان کی ایک پراکسی کے طور پر دیکھے جانے کے باعث، اس نوعیت کا تعاون بلوچ عسکریت پسندی کو بلوچستان کے داخلی دائرے سے نکال کر افغانستان اور پاکستان کے سرحدی و پشتون علاقوں کی وسیع تر دہشت گردی کے نیٹ ورک سے بھی جوڑ دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بلوچ عسکریت پسندوں کو بعض علاقوں میں اپنی کاروائیوں کے لیے نئے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی قومی، مذہبی اور سیاسی گراوٹ مزید زوال پذیر اور عوام دشمن بھی ہو جاتی ہے۔
اسی طرح بلوچ عسکریت پسندی کے حالیہ پھیلاؤ کو ریاستی اداروں، بالخصوص پیراملٹری فورسز کی مجموعی صورتحال کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھنا ضروری ہے۔ مسلسل فوجی کاروائیوں اور طویل عرصے سے جاری سیکیورٹی آپریشنز کے باوجود اگر ریاست کو وسیع علاقوں میں مؤثر انتظام اور کنٹرول برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں تو اس سے ایسے خلا پیدا ہوتے ہیں جنہیں مسلح گروہ اپنے اثر و رسوخ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز کے نچلے اہلکاروں اور اعلیٰ افسران کے درمیان موجود معاشی و طبقاتی تفاوت، مراعات میں عدم مساوات اور طویل جنگ کے اثرات بھی ریاستی مشینری کے اندر مسائل کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے عسکریت پسندی کے پھیلاؤ کو صرف عسکری تنظیموں کی صلاحیت سے نہیں بلکہ ریاستی مشینری کے اندر موجود تضادات اور کمزوریوں کے ساتھ ملا کر دیکھنا بھی ضروری ہے۔
جرنیل شاہی نے سیکیورٹی فورسز کے ان مسائل کے جواب میں ان کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اضافے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ بلوچستان کے مخصوص پس منظر میں پولیس اور لیویز فورس کو ضم کرنے کی حالیہ پالیسی کو بھی اسی پیرائے میں دیکھنا ضروری ہے۔ بلوچستان میں لیویز اور پولیس فورس کی مجموعی تعداد کم و بیش ایک لاکھ کے قریب ہے اور یہی فورسز محدود پیشہ ورانہ تیاری کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اے ٹی ایف اور سی ٹی ڈی جیسے اداروں کو بھی انہی مقاصد کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ فوج اور بالخصوص جرنیل شاہی عام عوام سے ”لشکر“ بنانے کی باتیں کر رہی ہے، تاکہ عام لوگوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید جھونکا جا سکے۔
اس تمام تر صورتحال کے نتیجے میں ریاستی کنٹرول اور عسکریت پسندی کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا ہو رہا ہے جسے مختلف مسلح گروہ اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ خلا بالخصوص پشتون علاقوں میں بھی نمایاں ہو رہا ہے، جہاں ریاست کی یہ شعوری کوشش بھی نظر آتی ہے کہ وہ دو برادر مظلوم اقوام کے درمیان تصادم کو ہوا دے۔ ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں حالیہ واقعات کو بھی اسی وسیع تر صورتحال کے ایک ابتدائی اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں ریاستی جبر، عسکریت پسندی، مذہبی بنیاد پرستی اور قومی تضادات ایک دوسرے کو تقویت دینے والی ایسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں جس میں بلوچستان کا بحران مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
تاہم، بلوچ عسکریت پسندی میں حالیہ اضافے اور اس کے جغرافیائی پھیلاؤ کو صرف داخلی عوامل تک محدود رکھنا بھی کافی نہیں ہو گا۔ سیاسی عوامل کے ساتھ ساتھ اسے مختلف علاقائی و عالمی سامراجی طاقتوں کے مفادات اور کسی نہ کسی نوعیت کی ممکنہ حمایت کے تناظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، معدنی و قدرتی وسائل، بحیرہ عرب تک رسائی اور خطے میں موجود اہم تجارتی و اسٹریٹجک راستوں کے باعث یہ خطہ طویل عرصے سے مختلف علاقائی اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ تاہم بلوچستان میں موجود ان وسیع سامراجی مفادات اور بلوچ قومی سوال کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں ہو گا۔ بلوچ قومی سوال کی بنیاد تاریخی قومی محرومی، ریاستی جبر، معاشی استحصال اور سیاسی بے اختیاری میں ہے، جبکہ بلوچ عسکریت پسندی اس قومی سوال کے مخصوص تاریخی حالات میں اختیار کیا جانے والا ایک عسکری راستہ ہے۔
یہ ایک بنیادی اور عملی حقیقت ہے کہ جب کوئی گروہ کسی ریاست کے خلاف مسلح جنگ لڑتا ہے تو اسے اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے اسلحے، مالی وسائل، محفوظ ٹھکانوں اور دیگر ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وسائل کہیں نہ کہیں سے حاصل کرنے پڑتے ہیں اور بعض حالات میں اس کے لیے کسی علاقائی یا سامراجی طاقت کی مدد پر انحصار بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں کوئی عسکری تحریک مکمل طور پر پراکسی بنے بغیر بھی متعلقہ طاقتوں کے مفادات اور ترجیحات کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ اس لیے بلوچ عسکریت پسندی میں موجودہ اضافے کے پیچھے مختلف سامراجی طاقتوں کی حمایت یا سرپرستی کے امکان کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اس حقیقت کی نشاندہی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بلوچ قومی سوال کو کسی بیرونی سازش کا نتیجہ قرار دے دیا جائے یا پاکستانی ریاست کے بیانیے کی تائید کی جائے۔
ریاست پاکستان کا مؤقف انتہائی رجعتی اور قابلِ مذمت ہے، کیونکہ ریاست ایسے غیر ملکی الزامات کی آڑ میں بلوچ قوم پر مسلط کردہ اصل جبر کو چھپانے اور اس تاریخی ظلم کو محض سامراجی طاقتوں اور ان کے حکمران طبقوں کی باہمی لڑائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بلوچ قومی سوال کی تاریخی بنیاد اور بلوچ عسکریت پسندی کے سامراجی تناظر کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے: ایک طرف قومی محرومی، ریاستی جبر اور معاشی استحصال کی حقیقی بنیادوں کو سامنے رکھنا ہو گا، اور دوسری طرف عسکریت پسندی سے جڑے ممکنہ علاقائی و عالمی مفادات اور سامراجی مداخلت کا بھی تنقیدی جائزہ لینا ہو گا۔ یہی تفریق ہمیں ریاست کے اس بیانیے سے بھی دور رکھتی ہے جو بلوچستان کے قومی سوال کی داخلی اور تاریخی بنیادوں کو بیرونی طاقتوں کی مداخلت میں تحلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر اس پوری صورتحال کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ سامراجی عہد میں دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت نے مختلف خطوں کے قومی، سیاسی اور عسکری تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سامراجیت کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں مظلوم اقوام کے قومی سوالات اور داخلی تضادات کو اپنے اسٹریٹجک، سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ کرد قومی تحریک اس کی ایک تاریخی مثال ہے، جہاں مختلف ادوار میں علاقائی اور عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کے مطابق اس مسئلے سے تعلق قائم کیا۔ بلوچستان کے تناظر میں بھی اس تاریخی سبق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اس کا بنیادی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کسی بھی سامراجی طاقت کی حمایت پر انحصار حقیقی قومی آزادی یا جبر کے مستقل خاتمے کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ قومی آزادی اور سماجی نجات کا سوال بالآخر خود محکوم اور محنت کش عوام کی آزاد سیاسی قوت اور جدوجہد سے جڑا ہوا ہے۔
بلوچ عسکریت پسندی: اندرونی و بیرونی چیلنجز
عسکریت پسندی کا راستہ بالعموم ایک سخت اور کٹھن راستہ ہوتا ہے، کیونکہ مسلح جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیے مسلسل انسانی، مالی اور عسکری وسائل درکار ہوتے ہیں۔ تاہم، بلوچ عسکریت پسندی کے سوال میں عسکری صلاحیت سے زیادہ بنیادی مسئلہ اس کی نظریاتی اور سیاسی سمت کا ہے۔ موجودہ بلوچ قومی آزادی کی بحث بڑی حد تک آزادی کے مجرد نعرے کے گرد گھومتی ہے؛ اس کے ساتھ کسی متبادل سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا واضح تصور موجود نہیں، جو یہ بتا سکے کہ آزادی کے بعد سماج کس بنیاد پر منظم ہو گا اور محنت کش عوام کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے۔
یہی نظریاتی خلا اس کا بنیادی داخلی چیلنج ہے۔ کسی بھی قومی تحریک کے لیے محض ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کافی نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک واضح نظریاتی بنیاد، سیاسی پروگرام اور سماجی متبادل پیش کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ بلوچ قومی آزادی کی سیاست میں آزادی کے مجرد مطالبے سے آگے کسی متبادل سیاسی و معاشی نظام کی واضح بحث موجود نہیں۔ اگر قومی آزادی کو معاشی استحصال، طبقاتی نابرابری، زمین، روزگار، تعلیم، صحت اور قدرتی وسائل پر عوامی اختیار کے سوالات سے نہیں جوڑا جائے گا تو قومی جدوجہد ایک محدود سیاسی مطالبے تک سمٹ سکتی ہے۔
اس نظریاتی خلا کا تعلق قوم پرستی کی بنیادی محدودیت سے بھی ہے۔ قوم پرستانہ نظریات میں بذاتِ خود وہ نظریاتی بنیاد موجود نہیں جو انہیں محنت کش طبقے کی مستقل اور شعوری سیاسی قوت سے جوڑ سکے۔ سوویت یونین کے وجود کے دور میں بعض قومی تحریکوں اور محنت کش طبقات کے درمیان جو نسبتاً قربت دکھائی دیتی تھی، وہ بڑی حد تک ایک غیر نامیاتی اور مخصوص تاریخی حالات سے پیدا ہونے والا تعلق تھا، نہ کہ قوم پرستی کے اپنے نظریاتی اصولوں کا نتیجہ۔ چنانچہ جب قومی آزادی کی جدوجہد طبقاتی و سوشلسٹ نظریے سے الگ ہو جائے تو وہ زوال پذیر ہو کرقومی شناخت تک محدود ہونے لگتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی زنجیروں میں جکڑی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بلوچ قوم پرست سیاست میں غیر بلوچ آبادی کو ”دوسرے“ یا دشمن کے طور پر دیکھنے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ سوشلسٹ متبادل کی عدم موجودگی بلوچ قومی جدوجہد کو وسیع تر محنت کش طبقے سے جوڑنے میں ایک بنیادی رکاوٹ ہے۔
ریاستی جبر، محرومی، بے روزگاری اور غربت نے بلوچ سماج میں شدید غصہ اور بے چینی پیدا کی ہے، لیکن عوامی غصہ بذاتِ خود منظم سیاسی قوت نہیں بنتا۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی، مزدوروں، ملازمین، طلبہ اور دیگر محنت کشوں کی مختلف جدوجہدوں کے باوجود قومی تحریک اور وسیع تر محنت کش تحریک کے درمیان مضبوط سیاسی و نظریاتی ربط قائم نہیں ہو سکا۔ اگر قومی آزادی کے ساتھ ایک سوشلسٹ متبادل موجود ہوتا تو بلوچ اور بلوچستان کے محنت کشوں کے ساتھ پاکستان کے دوسرے علاقوں کے محنت کشوں کو بھی مشترکہ طبقاتی مفادات کی بنیاد پر جوڑنے کی زیادہ گنجائش پیدا ہوتی۔
اسی تناظر میں عسکریت پسندی کے تنظیمی مسائل بھی بنیادی طور پر نظریاتی سوال سے جڑ جاتے ہیں۔ جب واضح نظریاتی سمت اور سیاسی پروگرام موجود نہ ہو تو بندوق سیاست پر غالب آ جاتی ہے اور عسکری کاروائی خود مزاحمت کا مرکزی اظہار بننے لگتی ہے۔ نتیجتاً تنظیمی ڈھانچہ بھی سیاسی و نظریاتی تربیت کی بجائے عسکری ضرورتوں کے گرد تشکیل پاتا ہے۔ بعض علاقوں میں مالی مفادات، بھتہ خوری، مقامی لوگوں کی گاڑیوں یا دیگر وسائل پر قبضے اور رقم کے مطالبات جیسی سرگرمیوں کا عسکری سیاست سے جڑ جانا اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کرتا ہے۔ مضبوط نظریاتی بنیاد ہی سیاسی جدوجہد اور محض عسکری مفادات کے درمیان واضح امتیاز قائم کر سکتی ہے۔
اسی وجہ سے بلوچ قومی سوال کو صرف ”بلوچ بمقابلہ ریاست“ کے تضاد تک محدود کرنا بھی مسئلے کو مزید تنگ کر دیتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سمیت بلوچ قوم کے بہت سے افراد حکمران طبقے کے جبر کو عوام پر مسلط کرنے میں اپنا پورا حصہ ڈالتے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بلوچ اور پشتون محنت کشوں سمیت مختلف مظلوم طبقات کے معاشی مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر قومی جدوجہد ان مشترکہ مفادات سے کٹ جائے تو قومی تقسیم اور باہمی بداعتمادی بڑھ سکتی ہے؛ لیکن اگر قومی حقوق کو طبقاتی اور سوشلسٹ مطالبات کے ساتھ جوڑا جائے تو مختلف اقوام کے محنت کشوں کے درمیان مشترکہ سیاسی بنیاد پیدا ہو سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نظریہ محض تشریح نہیں بلکہ سیاسی سمت متعین کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
ریاستی مشینری کی پالیسی اور اس کی داخلی کمزوریاں بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھی جانی چاہئیں۔ فوجی کاروائیوں، سیکیورٹی آپریشنز، نیم فوجی اداروں اور مقامی سطح پر سیکیورٹی کے پھیلتے ہوئے ڈھانچے کے باوجود اگر قومی اور سماجی بحران برقرار رہتا ہے تو طاقت کے ذریعے مسئلے کا حل ممکن نہیں ہوتا۔ یہاں بھی نظریاتی سیاست کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اگر ایک واضح انقلابی اور سوشلسٹ متبادل موجود ہو تو ریاستی اداروں کے نچلے درجے کے اہلکاروں، خصوصاً محنت کش پس منظر رکھنے والے اہلکاروں، کو ان کے طبقاتی مفادات اور نظریاتی بنیاد پر موجودہ ریاستی مشینری سے مختلف سیاسی سمت کی طرف متوجہ کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ بیرونی عوامل ایک الگ چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، بحیرۂ عرب تک رسائی، معدنی وسائل اور خطے کے تجارتی و اسٹریٹجک راستے اسے علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات سے جوڑتے ہیں۔ کسی مسلح تحریک کو بیرونی سیاسی، مالی یا عسکری حمایت حاصل ہو تو اس سے وسائل اور امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ سیاسی انحصار اور بیرونی مفادات کے تابع ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے بیرونی حمایت کو کسی مستقل سیاسی ضمانت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
چنانچہ بلوچ عسکریت پسندی کے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا بنیادی نکتہ عسکری قوت نہیں بلکہ نظریاتی سمت، سیاسی پروگرام اور سماجی بنیاد ہے۔ داخلی سطح پر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آزادی کے مجرد نعرے سے آگے بڑھ کر کون سا سیاسی و معاشی متبادل پیش کیا جاتا ہے، محنت کش طبقے کو کس نظریاتی بنیاد پر منظم کیا جاتا ہے اور مختلف مظلوم اقوام کے مشترکہ مفادات کو کس طرح جوڑا جاتا ہے۔ بیرونی سطح پر سامراجی مفادات، علاقائی مداخلت اور ممکنہ سیاسی انحصار اہم سوالات ہیں۔ بالآخر کسی قومی جدوجہد کی سمت کا تعین محض بندوق اور عسکری کاروائی سے نہیں بلکہ اس نظریے سے ہوتا ہے جو اسے سیاسی پروگرام اور وسیع تر سماجی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
قوم پرستی کے نظریات کا بحران
قوم پرستی کے نظریات درحقیقت اسی سرمایہ دارانہ نظام کے حکمران طبقے کے نظریات کا ایک اظہار ہیں۔ لہٰذا جب خود سرمایہ دارانہ نظام ایک گہرے اور ہمہ گیر بحران کا شکار ہو، تو اس نظام کے اندر پروان چڑھنے والے نظریات اس بحران سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ سرمایہ داری کے موجودہ عہد میں ہمیں قوم پرستی کے نظریات کے گہرے بحران، نظریاتی زوال اور سیاسی دیوالیہ پن کے مظاہر ہر سطح پر نظر آتے ہیں۔
لیکن جب ہم قوم پرستی کے نظریات کے بحران اور زوال پر تنقید کرتے ہیں تو اسے اکثر قومی سوال کے انکار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک بنیادی نظریاتی مغالطہ اور حقیقت سے فرار ہے، کیونکہ قوم پرستی اور قومی سوال دو الگ مظاہر ہیں۔ قومی سوال سے مراد محکوم اور مظلوم قوموں کے جمہوری حقوق، قومی جبر کے خاتمے، حقِ خود ارادیت اور قومی مساوات کا سوال ہے، جبکہ قوم پرستی ایک مخصوص طبقاتی نظریہ ہے جو قومی سوال کو طبقاتی تضادات سے کاٹ کر پیش کرتا ہے۔ مارکسی نظریے نے قومی سوال اور قوم پرستی کے اس فرق کو واضح کرتے ہوئے یہ دکھایا ہے کہ قومی جبر کے خلاف جدوجہد کی حمایت اور قوم پرستانہ نظریے کی تنقید ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ مارکسی سیاست کے باہم مربوط پہلو ہیں۔
یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ قوم پرستی کے نظریات بالآخر اسی سرمایہ دارانہ سماجی نظام کے تحفظ کی حدود میں رہتے ہیں جس نے قومی جبر سمیت بے شمار سماجی تضادات کو جنم دیا ہے۔ سرمایہ داری کے دائرہ کار میں بلوچ قومی سوال ہو یا دنیا بھر کی مظلوم اقوام کے قومی اور جمہوری سوالات، ان کا مستقل اور مکمل حل ممکن نہیں۔ قومی جبر محض کسی ایک ریاست کی پالیسی یا کسی مخصوص حکمران کی بد نیتی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس پورے سماجی و معاشی نظام کے تضادات سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے قومی آزادی کو سماجی و معاشی آزادی سے الگ کر کے دیکھنا ایک نامکمل اور محدود نقطہ نظر ہے۔
عصرِ حاضر میں قوم پرستی کے نظریات کے سامنے بنیادی طور پر دو راستے باقی رہ گئے ہیں؛ موقع پرستی اور مہم جوئی۔ ایک طرف قوم پرست قیادتیں اپنے اصولوں اور نعروں سے انحراف کرتے ہوئے مختلف حکمران طبقات، ریاستی اداروں یا سامراجی قوتوں کے ساتھ سمجھوتوں کی طرف جاتی ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ مایوسی اور بے بسی کے نتیجے میں مہم جویانہ راستوں کا انتخاب کرتی ہیں۔ لیکن ان دونوں صورتوں میں بنیادی مسئلہ برقرار رہتا ہے۔ قوم پرستی کے نظریات میں وہ طبقاتی قوت اور انقلابی پروگرام موجود نہیں جو کسی بھی مظلوم قوم کو سرمایہ داری، قومی جبر اور سماجی بربریت کی جڑوں سے نجات دلا سکے۔
یہی وجہ ہے کہ قومی آزادی کی جدوجہد کو محض قومی بنیادوں پر محدود کرنا بالآخر اسے ایک بند گلی میں لے جاتا ہے۔ کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ ایک مظلوم قوم پر کون حکمرانی کرے گا، بلکہ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ معاشرے کی دولت، ذرائع پیداوار اور سیاسی اقتدار کس طبقے کے ہاتھ میں ہوں گے۔ اگر ریاستی اقتدار ایک قومی اشرافیہ، مقامی سرمایہ دار طبقے یا قبائلی حکمران طبقے کے ہاتھ منتقل ہو جائے، جبکہ محنت کش عوام کی معاشی اور سماجی حالت جوں کی توں رہے، تو اسے حقیقی آزادی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سرمایہ دارانہ نظام کے موجودہ بحران کے ساتھ قوم پرستی کے نظریات کا ایک اور تضاد بھی زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ عالمی سطح پر سرمایہ داری کے بحران کی شدت کو کم کرنے کے لیے حکمران طبقات خود قوم پرستانہ نعروں، تحفظاتی پالیسیوں اور معاشی قوم پرستی کو بطور ایک اوزار استعمال کرتے ہیں۔ تجارتی رکاوٹیں، محصولات، مقامی صنعت کے تحفظ کے نعرے اور ”قومی مفاد“ کی سیاست اسی رجحان کے مختلف مظاہر ہیں۔ لیکن سرمایہ دار طبقہ یہ حقیقت تبدیل نہیں کر سکتا کہ سرمایہ داری ایک عالمگیر نظام بن چکی ہے۔ آج کوئی بھی قومی سرمایہ دار طبقہ عالمی منڈی، بین الاقوامی سرمایہ، خام مال، ٹیکنالوجی، مالیاتی نظام اور عالمی سپلائی چینز سے مکمل طور پر الگ ہو کر منافع بخش انداز میں اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتا۔
یہ سرمایہ داری کا بنیادی تضاد ہے۔ پیداوار عالمی سطح پر سماجی اور باہم مربوط ہو چکی ہے، لیکن ذرائع پیداوار کی ملکیت اور دولت کی تقسیم اب بھی قومی ریاستوں اور نجی سرمایہ کے مفادات کے تابع ہے۔ اسی تضاد کے نتیجے میں ایک طرف عالمگیریت اور عالمی سطح پر محنت کش طبقے کا باہمی انحصار بڑھتا ہے، جبکہ دوسری طرف حکمران طبقہ بحران کے وقت قوم، سرحد اور ”قومی مفاد“ کے نعروں کے ذریعے محنت کشوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
بلوچ سماج بھی اس عالمی عمل سے باہر نہیں۔ سرمایہ داری نے بلوچ محنت کش طبقے کو عالمی معیشت کے ساتھ گہرائی سے جوڑ دیا ہے۔ بلوچستان کے محنت کش، کان کن، ماہی گیر، مزدور، سرکاری و نجی شعبے کے کارکن اور نوجوان اپنی معاشی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں قومی اور عالمی سرمایہ داری کے رشتوں سے منسلک ہیں۔ اس حقیقت کو محض ”بلوچ قوم“ کی ایک یکساں اور غیر طبقاتی اکائی کے تصور کے ذریعے سمجھا نہیں جا سکتا۔
یہیں آ کر قوم پرستی کے نظریات کی بنیادی نظریاتی محدودیت سامنے آتی ہے۔ قوم پرستی مظلوم قوم کے اندر موجود طبقاتی تضادات کو پسِ پشت ڈال کر پوری قوم کو ایک یکساں مفاد رکھنے والی اکائی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک ہی قوم کے اندر مقامی سرمایہ دار، قبائلی اشرافیہ، جاگیردار، متوسط طبقہ اور محنت کش طبقہ ایک جیسے مفادات نہیں رکھتے۔ ان کے درمیان دولت، ملکیت، اقتدار اور ذرائع پیداوار پر قبضے کے سوالات پر بنیادی تضادات موجود ہوتے ہیں۔
اسی لیے جب قوم پرست قیادت ”قومی اتحاد“ کے نام پر تمام طبقاتی تضادات کو دبانے کی کوشش کرتی ہے تو درحقیقت وہ مظلوم قوم کے اندر موجود حکمران اور محنت کش طبقات کے درمیان بنیادی فرق کو چھپا رہی ہوتی ہے۔ قومی جبر کے خلاف جدوجہد میں محنت کش طبقے کو ضرور شامل کیا جاتا ہے، لیکن اکثر اسی وقت جب وہ قومی تحریک کے تابع رہے، جیسے ہی محنت کش طبقہ اپنے طبقاتی مفادات، مزدور حقوق، اجرت، روزگار، ملکیت اور سیاسی اقتدار کے سوالات کو اٹھاتا ہے، قوم پرستی کی حدود نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
اسی لیے بلوچ محنت کش طبقہ ہو یا دنیا کی کسی بھی مظلوم قوم کا محنت کش طبقہ، اس کی نجات محض قومی شناخت کے سوال تک محدود نہیں ہو سکتی۔ محنت کش طبقے کی حقیقی آزادی قومی جبر کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ استحصال کے خاتمے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکسزم قومی سوال کو طبقاتی سوال سے الگ نہیں کرتا بلکہ اسے وسیع تر طبقاتی جدوجہد اور عالمی انقلاب کے تناظر میں سمجھتا ہے۔
انقلابی کمیونسٹوں کا مؤقف نہ تو قومی سوال سے فرار ہے اور نہ ہی مظلوم اقوام کے حقِ خود ارادیت سے انکار۔ اس کے برعکس، ہم قومی جبر کے خلاف غیر متزلزل جدوجہد کے ساتھ ساتھ یہ واضح کرتے ہیں کہ قومی آزادی کو محنت کش طبقے کی آزادی سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا مقصد محض ایک پرچم کو دوسرے پرچم سے بدلنا نہیں بلکہ اس سماجی نظام کو تبدیل کرنا ہے جو قومی جبر، طبقاتی استحصال، غربت اور بربریت کو مسلسل جنم دیتا ہے۔
اس لیے بلوچ قومی سوال کا انقلابی حل بھی بلوچ محنت کش طبقے کو کسی مقامی سرمایہ دار، قوم پرست اشرافیہ یا پیٹی بورژوا قوم پرست کے تابع کرنے میں نہیں بلکہ اسے اپنی آزاد طبقاتی قوت کے طور پر منظم کرنے میں مضمر ہے۔ بلوچ محنت کشوں کی جدوجہد کو پاکستان کے دیگر محنت کشوں اور دنیا بھر کے محنت کش طبقے کی جدوجہد سے جوڑنا ہی وہ راستہ ہے جو قومی جبر کے خلاف جدوجہد کو ایک حقیقی انقلابی سمت فراہم کر سکتا ہے۔
بالآخر مسئلہ یہ نہیں کہ ”قوم“ یا ”طبقہ“ میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ قومی سوال کو کس طبقاتی نقطہ نظر سے حل کیا جائے۔ قوم پرست نظریات سرمایہ داری کو اس کی بنیادوں سے چیلنج کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، قوم پرستی بنیادی طور پر اسی سرمایہ دارانہ نظام کے اندر پروان چڑھنے والے نظریات ہیں اور اسی نظام کی طبقاتی حدود سے باہر نہیں نکل سکتی۔ چنانچہ قوم پرستی قومی سوال کو سرمایہ داری کی حدود میں رکھتے ہوئے اس کا حل تلاش کرتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قومی جبر، معاشی استحصال اور سماجی نابرابری کی مادی بنیادیں خود سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے قومی سوال کا مستقل اور حقیقی حل سرمایہ داری کے خاتمے اور اس نظام کی مادی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکے بغیر ممکن نہیں۔
اسی لیے انقلابی کمیونزم قومی جبر کے خاتمے کو محنت کش طبقے کی طبقاتی آزادی اور سوشلسٹ انقلاب سے جوڑتا ہے۔ ہمارا مقصد قومی آزادی کے سوال کو سرمایہ دارانہ ریاستوں، مقامی اشرافیہ یا کسی ایک استحصالی طبقے کے ہاتھوں منتقل کرنا نہیں بلکہ اسے محنت کش طبقے کی آزاد طبقاتی جدوجہد کا حصہ بنانا ہے۔ اسی بنیاد پر ہم قومی آزادی کے سوال کو سرمایہ دارانہ ریاستوں اور اشرافیہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتے بلکہ اسے عالمی محنت کش طبقے کے انقلابی اتحاد اور سوشلسٹ انقلاب کے پروگرام سے جوڑتے ہیں۔ کیونکہ حقیقی قومی آزادی، سیاسی آزادی اور سماجی نجات اسی وقت ممکن ہے جب وہ سرمایہ داری کے خاتمے اور ذرائع پیداوار کو محنت کش عوام کے اجتماعی کنٹرول میں لینے کی جدوجہد کے ساتھ جڑ جائے۔
بلوچ قومی سوال، پاکستان کا مجموعی بحران اور انقلابی کمیونسٹ متبادل
جب ہم بلوچستان کے قومی سوال پر بحث کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں قومی سوال کو سرمایہ دارانہ نظام کی عالمگیریت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طبقاتی حقیقت کے ساتھ جوڑنا ہو گا۔ آج سرمایہ داری ایک عالمگیر نظام بن چکی ہے اور اس عالمگیر نظام کے اندر محنت کش طبقہ بھی ایک عالمی تاریخی قوت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ پاکستان کا محنت کش طبقہ بھی اسی عالمی محنت کش طبقے کا حصہ ہے، جس میں بلوچ محنت کش طبقہ بھی ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، قوم پرستی کے نظریات بنیادی طور پر قوم کے اندر موجود طبقاتی تضادات اور بالخصوص محنت کش طبقے کے آزاد وجود کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اسی لیے قوم پرستی سماج کے مادی ارتقاء اور اس کے اندر پیدا ہونے والے طبقاتی تضادات کو بھی صحیح طور پر سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔
بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، معاشی محرومی، معاشی قتلِ عام اور سرمایہ دارانہ و سامراجی استحصال نے بلوچ سماج کو مسلسل ایک ارتقائی عمل میں دھکیل دیا ہے۔ روٹی، روزگار اور بہتر زندگی کا سوال اس قدر ناگزیر ہو چکا ہے کہ بلوچ محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد روزگار اور معاش کے لیے پاکستان کے دوسرے حصوں، بالخصوص کراچی کا رخ کرتی ہے۔ یہ نقل مکانی محض روزگار کی تلاش کا ایک معاشی عمل نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں بلوچ محنت کشوں کے سامنے سماج کی ایک نئی شکل بھی نمودار ہوتی ہے۔ کراچی میں بلوچ محنت کشوں کا واسطہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں سے پڑتا ہے اور مشترکہ معاشی حالات، استحصال اور محنت کی بنیاد پر ان کے درمیان ایک نئی جڑت اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
یہ عمل مستقبل میں مزید شدت اختیار کرے گا، کیونکہ سرمایہ داری خود محنت کش طبقے کو قومی اور جغرافیائی حدود سے ماورا ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہے۔ بلوچستان میں بھی محنت کش طبقے کی تعداد اور سماجی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی لیے ہم یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں بلوچ محنت کش طبقہ ہی بلوچ قوم کو ریاستی جبر، معاشی استحصال اور قومی محرومی سے نجات دلانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اس کردار کی حقیقی قوت اسی وقت ابھر سکتی ہے جب بلوچ محنت کش طبقہ پاکستان کے دوسرے صوبوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کے ساتھ اپنی طبقاتی جڑت کو مضبوط کرے۔ یہی جڑت بلوچ قومی سوال کے مستقل اور مکمل حل کی سب سے پائیدار ضمانت بن سکتی ہے، کیونکہ قومی آزادی کا سوال محنت کش طبقے کی طبقاتی آزادی اور سرمایہ داری کے خاتمے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کا مجموعی بحران
بلوچ قومی سوال کو پاکستان کے مجموعی بحران سے الگ تھلگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ پاکستان اس وقت بیک وقت گہرے سیاسی، معاشی، سماجی، آئینی اور ریاستی بحرانوں سے دو چار ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، غربت، قرضوں کا بوجھ، کمزور پیداواری معیشت اور عام آبادی کے معیارِ زندگی میں مسلسل گراوٹ نے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ سیاسی عدم استحکام، اداروں کے باہمی تصادم، جمہوری و آئینی اداروں کی کمزوری اور ریاستی جبر نے سیاسی بحران کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دہشت گردی، بدامنی اور حالیہ جنگوں کے معاشی و انسانی اثرات نے ان مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے، جبکہ افغانستان اور بھارت سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور علاقائی تنازعات بھی ریاست کے لیے نئے سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
ان تمام بحرانوں کے مرکز میں ریاست کا گہرا ہوتا ہوا بحران موجود ہے۔ ریاست ان مسائل کو بنیادی طور پر حل کرنے کی بجائے اپنے اقتدار اور موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل جبر، مرکزیت اور انتظامی و آئینی اقدامات کا سہارا لے رہی ہے۔ یہ جابرانہ پالیسی ریاست کی محض طاقت نہیں بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے بحران اور کمزور ہوتی ہوئی سماجی و سیاسی بنیادوں کی بھی علامت ہے۔ انگریز سامراج سے ورثے میں ملنے والے ریاستی ڈھانچے کے ذریعے اقتدار برقرار رکھنے کا پرانا طریق کار اب پہلے کی طرح مؤثر نہیں رہا، چنانچہ مقتدرہ ادارہ جاتی تبدیلیوں، آئینی ترامیم اور اقتدار کی مزید مرکزیت کے ذریعے اپنے کنٹرول کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پہلے سے موجود خودمختار یا نیم خودمختار ادارے بھی مسلسل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
حالیہ علاقائی تنازعات میں ثالثی کے کردار اور سعودی عرب و ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون جیسے اقدامات کے ذریعے ریاست اپنی علاقائی و عالمی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش ضرور کر رہی ہے، لیکن خارجہ سطح پر حاصل ہونے والی یہ سفارتی کامیابیاں ریاست کے اندرونی معاشی، سیاسی اور ادارہ جاتی بحران کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرتیں۔ اس کے باوجود ریاست کی داخلی کمزوری کو اس کی بے بسی سمجھنا بھی درست نہیں، ایک بحران زدہ ریاست اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے زیادہ جابرانہ اور خود دارانہ رویہ اختیار کر سکتی ہے۔ اسی لیے انقلابی کمیونسٹ قوتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاست کی تمام تر کمزوریوں، تضادات اور ظاہری طاقت کے مظاہر کو یکجا کر کے ریاست کے سوال پر ایک ٹھوس اور درست طبقاتی و انقلابی نقطہ نظر تشکیل دیں۔
اسی وسیع تر بحران کے تناظر میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث کو بھی محض انتظامی اصلاحات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی مالی خود مختاری کے تناظر میں یہ عمل عالمی مالیاتی اداروں، بالخصوص آئی ایم ایف کے مالیاتی دباؤ، صوبائی وسائل و خودمختاری کو محدود کرنے اور اقتدار کو مزید مرکزیت دینے کی کوششوں سے جڑا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ تاریخی و قومی بنیادوں پر قائم صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر کے قومی سوال کو پیچیدہ کرنے اور مختلف اقوام کی اجتماعی وحدت کے مقابلے میں ایک یکساں پاکستانی قومیت کو اوپر سے مسلط کرنے کا مقصد بھی کار فرما ہو سکتا ہے۔ تاہم انتظامی نقشے کی تبدیلی سے مختلف اقوام کی تاریخ، زبان، ثقافت، قومی شناخت اور حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے؛ لہٰذا قومی سوال کو انتظامی تقسیم کے ذریعے دبانے کی کوئی بھی کوشش اسے حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرے گی۔
ریاست پاکستان کے اپنے اعداد و شمار بھی اس گہرے سماجی و معاشی بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ آبادی کی ایک بہت بڑی اکثریت غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا شکار ہے، جبکہ انتہائی غربت میں زندگی گزارنے والے لوگوں کی تعداد بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔ اس صورتحال نے محنت کش عوام کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ یوں معاشی بحران محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ کروڑوں انسانوں کے وجود کا سوال بن چکا ہے۔
اس معاشی و سماجی بحران کا لازمی نتیجہ عوامی بے چینی اور مزاحمت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً ایسی تحریکیں ابھری ہیں جو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، وسائل، قومی جبر اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کا اظہار کرتی ہیں۔ نام نہاد ”آزاد“ کشمیر میں جاری عوامی انقلابی تحریک اس حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔ یہ تحریک صرف مخصوص معاشی مطالبات کا اظہار نہیں بلکہ موجودہ نظام اور رائج الوقت سیاست سے عوام کی بڑھتی ہوئی بے زاری اور ایک متبادل سیاسی راستے کی تلاش کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تحریک نے قومی جبر، ریاستی تشدد اور دیگر سماجی و معاشی مسائل کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی تحرک پیدا کیا۔ ریاستی جبر کے نتیجے میں اس تحریک کو وقتی پسپائی ضرور اختیار کرنا پڑی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بنیادی مسائل جنہوں نے اس تحریک کو جنم دیا تھا، ختم ہو گئے ہیں۔ جب تک قومی جبر، معاشی محرومی اور ریاستی تشدد کی مادی بنیادیں موجود ہیں، تب تک ان کے خلاف مزاحمت کے امکانات بھی موجود رہیں گے۔
ریاستی جبر اور بحران کا تضاد
یہاں سے ریاست کے موجودہ کردار کو سمجھنا مزید اہم ہو جاتا ہے۔ عوامی تحریکوں کے ابھرنے اور بحران کے گہرے ہونے کے جواب میں ریاست کے پاس بنیادی طور پر جبر کے علاوہ کوئی واضح راستہ موجود نہیں۔ نام نہاد ”ہارڈ اسٹیٹ“ کے ذریعے ریاست یہ سمجھتی ہے کہ سیاسی اور سماجی مسائل کو طاقت کے استعمال سے دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہی پالیسی ایک بنیادی تضاد کو جنم دیتی ہے: ریاست جبر کے ذریعے تحریکوں کو وقتی طور پر ضرور دبا سکتی ہے، لیکن ان تحریکوں کو جنم دینے والے معاشی، سماجی اور قومی مسائل کو ختم نہیں کر سکتی۔ اس کے برعکس، مسلسل جبر ان مسائل کو مزید گہرا کرتا ہے اور ریاست و عوام کے درمیان موجود خلیج کو وسیع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی جبر کے ساتھ ساتھ خود ریاست کے اندر بھی اس پالیسی کے طریق کار اور نتائج کے حوالے سے اختلافات اور تضادات موجود ہیں۔ یہ اختلافات بعض اوقات براہِ راست اور بعض اوقات ڈھکے چھپے انداز میں سامنے آتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت اور مذاکرات کے حوالے سے جاری بیانیہ بھی اسی وسیع تر صورتحال کا حصہ ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا اور ریاستی حامی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی مذاکرات سے انکار کر چکی ہے، جبکہ دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس دعوے کو مسترد کیا۔ اس معاملے کو محض ایک سیاسی بیان بازی کے طور پر دیکھنے کی بجائے اسے ریاست کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ عوامی تحریکوں کو بدنام، تقسیم اور کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
انقلابی کمیونسٹ متبادل
لیکن ان تمام سوالات کو محض ریاستی جبر کے تجزیے تک محدود رکھنا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بحران کا متبادل کیا ہے؟ اگر موجودہ نظام بار بار انہی بحرانوں کو جنم دیتا ہے، اگر قومی جبر ختم ہونے کی بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے، اگر معاشی استحصال اور غربت بڑھ رہی ہے اور اگر ریاست ان مسائل کا جواب صرف جبر کے ذریعے دے رہی ہے، تو پھر ہمیں اس پورے نظام کے بنیادی ڈھانچے اور اس کی مادی بنیادوں کو چیلنج کرنا ہو گا۔
بطور انقلابی کمیونسٹ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے قومی، معاشی، سیاسی اور سماجی سوالات کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر کے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تمام سوالات سرمایہ دارانہ نظام کے باہمی جڑے ہوئے تضادات سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان کے خلاف جدوجہد بھی ایک مشترکہ طبقاتی جدوجہد کی صورت اختیار کیے بغیر اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی۔
یہاں ”علاج“ کا سوال بنیادی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ محض بیماری کی تشخیص کافی نہیں؛ ہمیں یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ اس بیماری کا علاج کیا ہے۔ اگر بیماری سرمایہ دارانہ نظام ہے، جو قومی جبر، طبقاتی استحصال، غربت، بے روزگاری اور سماجی بربریت کو مسلسل پیدا کرتا ہے، تو پھر اس بیماری کا علاج اسی نظام کی اصلاح یا اس کے کسی ایک حصے کو تبدیل کرنا نہیں ہو سکتا۔ سرمایہ داری کو جڑ سے اکھاڑنا اور اس کی جگہ محنت کش طبقے کی قیادت میں ایک سوشلسٹ سماج کی تعمیر ہی وہ راستہ ہے جو ان تمام بحرانوں کے حقیقی حل کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
اسی لیے بلوچستان کے قومی سوال کا کمیونسٹ متبادل بلوچ محنت کش طبقے کو پاکستان کی دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں سے جدا کرنا نہیں بلکہ انہیں ایک مشترکہ انقلابی جدوجہد میں متحد کرنا ہے۔ قومی جبر کے خلاف جدوجہد اور طبقاتی استحصال کے خلاف جدوجہد کو باہم جوڑنا ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے بلوچ محنت کش طبقہ نہ صرف اپنی قومی آزادی کے لیے بلکہ پورے خطے کے محنت کش عوام کی آزادی کے لیے ایک فیصلہ کن تاریخی قوت بن سکتا ہے۔ ہم قومی سوال کو دفن نہیں کرنا چاہتے؛ ہم اس کی انقلابی تکمیل چاہتے ہیں۔ اور یہ تکمیل کسی سرمایہ دارانہ ریاست، مقامی اشرافیہ یا قوم پرست حکمران طبقے کے ذریعے نہیں بلکہ محنت کش طبقے کی آزاد طبقاتی جدوجہد، قومی جبر کے خاتمے اور سرمایہ دارانہ نظام کے اکھاڑ پھینکے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
قومی جبر مردہ باد!
ریاستی دہشتگردی مردہ باد!
مظلوم اقوام کی حق خودارادیت زندہ باد!
سرمایہ داری مردہ باد!
سوشلزم زندہ باد!
دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!