کیوبا سرمایہ داری کی مکمل بحالی کی طرف گامزن

گزشتہ چند برسوں میں ابھرنے والے نجی کاروباری عناصر اور ان کے درمیان اپنے خیالات کو منظم اور مربوط کرنے والے نیٹ ورکس، کیوبا میں ایک نئی سیاسی قوت بن چکے ہیں۔ریاستی بیوروکریسی اور ٹیکنوکریسی کے ساتھ انضمام کے ذریعے انہوں نے بحرانوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مفادات کے حق میں تبدیلیاں نافذ کروانے کی بڑھتی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں!

ریاستی کونسل کی جانب سے حال ہی میں ”سماجی تبدیلیوں“ کے عنوان سے اعلان کردہ 176 اقدامات کا بنیادی حصہ درحقیقت ان ہی اقدامات پر مشتمل ہے جن کا مطالبہ ایک عرصے سے وہ معاشی اشرافیہ کرتی آرہی ہے جو ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان اقدامات میں دیگر چیزوں کے علاؤہ، نجی بینکاری کو قانونی حیثیت دینا، ایندھن کی نجی فروخت، خسارے میں چلنے والی سرکاری اداروں کا خاتمہ (ان بنیادی ڈھانچے اور کاروباری سرگرمیوں کی نجکاری کے ساتھ) سرکاری اداروں کو مشترکہ ملکیتی کمپینوں میں تبدیل کرنا اور نجی عناصر کی جانب سے ان کا حصول شامل ہیں۔

یہ اقدامات عام حالات میں اس قدر آسانی سے پیش نہیں کیے جاسکتے تھے۔ لیکن کووڈ 19 کی وبا کے بعد سے کیوبا کا معاشرہ جس مسلسل صدمے کی کیفیت سے گزر رہا ہے، اور بالخصوص جنوری میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے، تیل کی مکمل ناکہ بندی اور فوجی مداخلت کی دھمکیوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے ایسی پالیسیوں کے نفاذ کا راستہ کھول دیا ہے جن کا مقصد کیوبا کو سوشلزم سے سرمایہ داری کی طرف لے کر جانا ہے۔

یہ امریکی جارحیت میں اضافہ نہیں ہے جو ان اقدامات کے نفاذ پر مجبور کر رہا ہے (کیونکہ یہ اقدامات کافی عرصے سے زیرِ غور تھے)، بلکہ اس جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صدمے کی کیفیت ہے جو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے رہی ہے۔

گزشتہ 15 برسوں کے دوران، 2011ء میں راؤل کاسترو کی سربراہی میں شروع ہونے والی اصلاحات کا مقصد ایک ایسی مخلوط معیشت قائم کرنا تھا جس میں سوشلسٹ ریاستی معیشت اور سرمایہ دارانہ منڈی کا بیک وقت وجود برقرار رہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے معاشی ناکہ بندی کا شکار کیوبا کی ریاست ان سرمایہ دارانہ قوتوں کو، جنہیں خود ان اصلاحات نے جنم دیا تھا، قابو میں رکھنے میں ناکام رہی اور بالآخر ان کے دباؤ کے سامنے سرنگوں ہو گئی۔

نجی عناصر نے بتدریج ریاستی ڈھانچے اور خود کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی (PCC) میں بھی رسوخ پیدا کر لیا۔ انہوں نے بدعنوانی، خاندانی تعلقات یا حکمرانوں سے ذاتی دوستیوں کے ذریعے ریاستی ڈھانچے میں جگہ بنائی اور نظریاتی شناخت کے زوال، سادہ لوحی اور ناکہ بندی کے سامنے سوشلسٹ تحریک کی بے بسی سے فائدہ اٹھایا۔

اس کاروباری برادری نے نجی ذرائع ابلاغ کا ایک مؤثر ڈھانچہ منظم کر لیا، جو لبرل ماہرینِ معیشت کے ایک گروہ کے ساتھ مربوط ہے۔ ان ماہرین کو ”گروز“ یا ”ہوانا بوائز“ کہا جاتا ہے، جو ”شکاگو بوائز“ کی طرز پر رکھا گیا نام ہے۔برسوں سے یہ لوگ نجکاری، ریاستی ڈھانچے کی تحلیل اور سوشلزم کے خاتمے کی تجاویز پیش کرتے آ رہے ہیں اور انہیں مسائل کے حل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس انقلابی، کمیونسٹ اور فیڈل نواز کارکنان کی اکثریت کے سامنے ہو رہا ہے جو اب بھی سوشلزم کا دفاع کرتی ہے، لیکن تھکی ہوئی، کچلی ہوئی اور بے اختیار ہے، اور سب سے بڑھ کر قیادت سے محروم ہے۔

جمہوریہ کے صدر اور کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکرٹری خود نجی کاروباری شعبے اور اس کے مفادات کے غیر تنقیدی محافظ بن چکے ہیں اور بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نئی پالیسیاں ”سوشلزم کو بچائیں گی“۔ اس کے برعکس نجی پریس اب کھلے عام ”منتقلی“ کی بات کرتا ہے، ایک ایسی اصطلاح جسے وہ پہلے چھپانے کی کوشش کرتا تھا، اور اس بات پر بحث کرتا ہے کہ آبادی کے درمیان ”فاتحین اور شکست خوردگان“ کے عمل کو کس طرح منظم کیا جائے۔

قومی اسمبلی برائے عوامی طاقت نے اس دستاویز کی منظوری کے لیے صرف ایک اجلاس منعقد کیا، جبکہ یہ دستاویز اسے اجلاس سے محض ایک دن پہلے فراہم کی گئی تھی۔ اتنے مختصر وقت میں 176 میں سے کسی ایک اقدام کے خلاف بھی ایک قرارداد پیش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، محض آبادی پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) عائد کرنے کا فیصلہ ہی، ایسے وقت میں جب حکومت نجی کمپنیوں سے مناسب طور پر ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک بہت بڑا مالیاتی خسارہ پیدا ہو چکا ہے، کئی دنوں پر محیط شدید بحث کا متقاضی ہوتا۔

2008ء کی اصلاحات کے ابتدائیے پر بحث سے لے کر 2019ء کے آئین پر ہونے والی بحث تک، قومی اسمبلی میں سرمایہ دارانہ پیش قدمی کے خلاف مزاحمت کا یہ سب سے نمایاں دور تھا۔ لیکن اس کے بعد سے پارلیمانی ایوان پر کاروباری مفادات رکھنے والے اراکین کی بیان بازی حاوی ہو گئی ہے، جنہیں ریاستی بیوروکریسی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کا یہ نام نہاد حب الوطنی پر مبنی بیانیہ ہر اجلاس میں بولنے کے لیے یقینی وقت حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن اور سرکاری پریس بھی اپنی کوریج اور اخبارات کے صفحہ اول پر اسی بیان بازی کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔کچھ عرصے سے منتقلی کے خلاف مزاحمت کے کسی بھی اظہار کو سرکاری ذرائع ابلاغ میں سنسر کیا جا رہا ہے۔

حالیہ اقدامات کے پیکیج کے سامنے آنے کے بعد جن چند افراد نے تنقیدی مضامین لکھنے کی جرأت کی، انہیں بھی یہ مضامین غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شائع کرنا پڑے۔ کیوبا کے دانشوروں کی ایک بڑی تعداد یا تو مکمل خاموش ہے یا پھر منتقلی کے نظریات کی قائل ہو چکی ہے۔ یہ لوگ کیوبا سے باہر سرمایہ داری کے بارے میں بات کرنے کے لیے تو بے حد تیار ہیں، لیکن ملک کے اندر اس کا ذکر کرنے سے گریزاں ہیں۔ بیوروکریسی کی جانب سے انعام اور سزا کے ایک نظام کے ذریعے ان پر بھی گرفت قائم ہے۔

حالیہ برسوں میں، کیوبا کو اندرونی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کی امریکی حکمتِ عملی کے تحت، ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ کیوبا کی حکومت کو ایک غلیظ جنگ میں بھی گھسیٹ لیا گیا ہے۔ امریکہ عالمی سطح پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیوبا میں سیاسی قیدیوں کی تعداد کے اعداد و شمار کو اس طرح استعمال کرتا ہے جیسے وہ شطرنج کی بساط پر رکھے ہوئے مہرے ہوں۔ جامعات کو نرم بغاوتوں کے مترادف کارروائیوں کے ذریعے زہر آلود کر دیا گیا ہے، جہاں سنسرشپ کا شکار فنکاروں اور ’آزاد‘ صحافیوں کی شکایات کی بھرمار ہے، جنہیں امریکی پیسہ اور حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب، وہ مخالفین جنہوں نے بہت شور مچایا لیکن بہت کم حاصل کیا، ان کے خلاف مقدمات قائم کر کے انہیں قید کیا گیا، یا انہیں ہراساں کیا گیا تاکہ انہیں ملک چھوڑنے کی صورت میں نسبتاً کم برائی کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا سکے، اور یوں ’جلاوطنی‘ کے تصور کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ اس کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں ان کی سرگرمیوں اور مالی روابط کو بے نقاب کیا گیا۔

اس کے برعکس، آزاد منڈی کے وہ گرو، یعنی سرمایہ داری کی بحالی اور نجکاری کے نظریہ ساز، جنہیں انہی امریکی مفادات کی جانب سے یونیورسٹیوں کی تقریبات میں دعوتوں اور کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی معاونت حاصل ہے، انہیں قابلِ احترام ماہرینِ معیشت اور دانشوروں یا معصوم کاروباری افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ انہیں اس شکل میں پیش نہیں کیا جاتا جو وہ حقیقت میں ہیں: ”ناکہ بندی کا فکری اور کاروباری بازو۔“

جب توجہ سڑکوں پر ہونے والے احتجاج اور میامی سے ہتھیاروں سے لدی ایک فرسودہ اسپیڈ بوٹ پر مرکوز تھی، اسی دوران کہیں زیادہ طاقتور ردِ انقلاب اپنے اجلاس منعقد کر رہا تھا۔ اس کے نجی کاروباری فورمز میں سینکڑوں افراد شرکت کرتے تھے اور ہوانا کے جدید ترین ہوٹلوں میں تقریبات کے لیے ہال کرائے پر لیے جاتے تھے۔ اس بات کا قوی امکان ہے،اور تاریخ میں یہ بات درج ہو گی؛کہ جو لوگ اس وقت کیوبا کے انقلاب کے خاتمے کے لیے حقیقی کام کر رہے تھے، ان سے ریاستی سلامتی کے اداروں نے کبھی پوچھ گچھ نہیں کی۔

اس سال کیوبا کے سوشلزم کے تاریخی رہنما، فیڈل کاسترو، کی پیدائش کو ایک صدی مکمل ہو رہی ہے۔ ان کے ایک قول کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بظاہر ان کے خیالات ہی ان کی صد سالہ سالگرہ کے سال مرنے والے ہیں۔ درحقیقت، ان کا یہ جملہ کہ ’ہر اس چیز کو تبدیل کرو جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے‘ ان لوگوں نے ہتھیا لیا ہے جو کیوبا کو سرمایہ داری کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔

کیوبا پر منڈلاتا سوال اب معاشی ماڈل کا نہیں بلکہ سیاسی ماڈل کا ہے۔ یک جماعتی نظام، انتخابی نظام، آزادیوں اور حقوق پر متنازع پابندیاں اور سیاسی ماڈل کے بہت سے دیگر پہلو کبھی اس لیے ناگزیر سمجھے جاتے تھے کہ انہیں سوشلزم کے تحفظ کی ضمانت تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن جب ماڈل ہی سوشلسٹ نہ رہے تو کیا ان نظاموں کو برقرار رکھنا ممکن ہے؟ کیوبا جیسے ملک کے لیے، جو چین یا ویتنام کے برعکس، اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، کیا یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ معاشی تبدیلیاں سیاسی تبدیلیوں کا باعث نہیں بنیں گی؟ جب ثقافتی اور معاشی طاقت ہاتھ سے نکل جائے تو کیا سیاسی طاقت برقرار رکھی جا سکتی ہے؟

لیکن طاقت بھی مادے کی طرح فنا نہیں ہوتی؛ وہ اپنی شکل تبدیل کر لیتی ہے۔ روایتی بیوروکریسی کا نئی معاشی قوتوں کے ساتھ انضمام، معاشرے پر اپنے پرانے مگر مؤثر کنٹرول کو استعمال کرتے ہوئے، سامراج دشمن سوشلزم کی جگہ قوم پرست سرمایہ داری لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ لیکن امریکہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہوگا۔اس مساوات میں ایک اور عنصر بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: عوام۔

ملک کے اندر صورتحال مسلسل غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے اور اس پر پولیس کے ذریعے قابو پانے پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ نہ ہی انقلاب کی حمایت کرنے والے عوامی حلقوں پر پڑنے والے اثرات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، جو خود کو حکومت کی جانب سے پہلے سے کہیں کم نمائندگی یافتہ محسوس کر رہے ہیں۔کیوبا میں بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ جو لوگ اب بھی سیاسی طاقت رکھتے ہیں، ان کے ہاتھ میں اب معاشی طاقت نہیں رہی۔ اگر ایک بات یقینی ہے تو وہ یہ کہ مداری اب سرکس کا مالک نہیں رہا۔