لیون ٹراٹسکی کی شہرۂ آفاق کتاب ”انقلابِ روس کی تاریخ“ پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی۔ اس کے سینے میں ہمیشہ ایک بے چینی، ایک اضطراب، ایک حرکت پلتی رہتی ہے۔ کبھی یہ حرکت مدھم لہروں کی صورت بہتی ہے اور کبھی ایک طوفان بن کر صدیوں پر محیط نظاموں کو بہا لے جاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف سیاسی تبدیلی نہیں لاتے بلکہ پورے سماج، معیشت، ریاست اور انسانی شعور کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ 1917ء کا روسی انقلاب ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کارل مارکس نے کہا تھا کہ”انقلابات تاریخ کا انجن ہوتے ہیں۔“یقینایہ جملہ انسانی سماج کی حرکت کے بارے میں ایک سائنسی حقیقت ہے۔ جب پرانا نظام اپنے تضادات کے بوجھ تلے سڑنے لگتا ہے، جب حکمران طبقات سماج کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، اور جب محکوم طبقات پرانی حالت میں جینا قبول نہیں کرتے، تب انقلاب جنم لیتا ہے۔ لیون ٹراٹسکی کی شہرۂ آفاق کتاب ”انقلابِ روس کی تاریخ“ اسی عظیم تاریخی عمل کی نہایت گہری، سائنسی، تفصیلی اور انقلابی تشریح ہے۔

یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے اور روسی انقلاب کے مختلف مراحل کو نہ صرف تاریخی واقعات کے طور پر بیان کرتی ہے بلکہ ان کے پسِ پردہ طبقاتی قوتوں، سیاسی رجحانات، قیادت کے کردار اور عوامی شعور کی حرکت کو بھی واضح کرتی ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ ٹراٹسکی صرف ایک مؤرخ نہیں بلکہ خود اس انقلاب کے قائدین میں شامل تھا، تاریخ میں ایسے شاید ہی ہوا ہو کہ انقلاب کی قیادت کرنے والوں نے خود انقلاب کی وضاحت کی ہو۔ ٹراٹسکی کی ”انقلابِ روس کی تاریخ“کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ محض یادداشتوں یا جذباتی بیانیے پر مبنی کتاب نہیں بلکہ ایک نہایت سنجیدہ تاریخی اور سائنسی تحقیق ہے۔

ٹراٹسکی نے اس میں زار شاہی حکومت کے سرکاری ریکارڈز، عبوری حکومت کی دستاویزات، سوویتوں کی قراردادوں، بالشویک، منشویک اور سوشلسٹ انقلابی پارٹیوں کے اخبارات، ڈوما کی بحثوں، فوجی رپورٹس، عوامی اجتماعات، سیاسی قائدین کی تقاریر، خطوط، یادداشتوں اور عینی شاہدین کے بیانات تک سے حوالہ جات دیے ہیں۔ لینن کے علاوہ کیرنسکی، کورنیلوف، میلیوکوف اور مارٹوف جیسے کرداروں کے سیاسی مؤقف اور تقاریر بھی کتاب میں جگہ جگہ موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹراٹسکی خود کتاب کے آغاز میں لکھتا ہے کہ ”آپ ایک کیمرے کی تصویر تو ایک صفحے پر پیش کر سکتے ہیں، مگر اس کے بافتوں (tissues) کا خوردبینی سے مطالعہ بیان کرنے کے لیے ایک پوری جلد درکار ہوتی ہے۔ مصنف کو اس بات کا کوئی وہم نہیں کہ اس کی یہ تحقیق مکمل یا حرفِ آخر ہے۔ لیکن اس کے باوجود، بہت سے مواقع پر اسے ایسے طریقے اختیار کرنا پڑے جو کیمرے کے بجائے خوردبین سے زیادہ مشابہ تھے۔“ یعنی معروضی اور مادی نقطہ نظر سے انقلاب کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔

صرف سیاسی اور تاریخی حوالہ جات ہی استعمال نہیں کیے بلکہ جگہ جگہ ادبی، فلسفیانہ اور ثقافتی اشارے بھی دیے ہیں، جو اس کتاب کو خشک تاریخ کے بجائے ایک زندہ ادبی متن بنا دیتے ہیں۔ ٹراٹسکی نے روسی ادیبوں اور مفکرین، خصوصاً ٹالسٹائی، دستوفیسکی اور پشکن کے عہد اور روسی سماج کی نفسیات کی جھلکیاں مختلف مقامات پر محسوس کروائی ہیں۔ اس کے علاوہ فرانسیسی انقلاب کے حوالے سے دانتن اور رابسپئیرجیسے کرداروں کے تاریخی عکس بھی کتاب میں نظر آتے ہیں۔ ٹراٹسکی کی اپنی نثر بھی گہری ادبی اور استعاراتی کیفیت رکھتی ہے؛ وہ انقلاب کو کبھی طوفان، کبھی لاوے، کبھی سمندر اور کبھی تاریخ کے دھڑکتے ہوئے انجن سے تشبیہ دیتا ہے۔”کیمرے“اور”خوردبین“کی مثال،”بھاپ“اور”پسٹن“کی تمثیل، اور عوام کے سیاسی میدان میں ”زبردست داخلے“، ”سرکشی کا فن“جیسے جملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کتاب صرف تاریخ نہیں بلکہ انقلابی ادب کا بھی ایک شاہکار ہے۔

کتاب کی پہلی جلد بنیادی طور پر فروری 1917ء کے انقلاب اور اس کے تاریخی اسباب کا احاطہ کرتی ہے۔ ٹراٹسکی واضح کرتا ہے کہ روسی انقلاب کسی حادثے یا سازش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ دہائیوں کے طبقاتی تضادات، صنعتی ترقی، کسانوں کی بدحالی، جنگی تباہی اور زار شاہی کے جبر کا منطقی انجام تھا۔ روس بظاہر ایک وسیع سلطنت تھا لیکن اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔ پہلی عالمی جنگ نے اس بحران کو مزید شدید کر دیا۔ لاکھوں سپاہی جنگ میں مارے گئے، معیشت تباہ ہوئی، خوراک کی قلت پیدا ہوئی اور عوام بھوک، غربت اور ذلت کا شکار ہو گئے۔ اس میں روسی سماج کے اس کرب کو آشکارکیا ہے جو صدیوں سے زار شاہی کے جبر کے نیچے دفن تھا۔

ٹراٹسکی فروری انقلاب کو محض”روٹی کے احتجاج“کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ وہ دکھاتا ہے کہ کس طرح مزدور خواتین کے عالمی یومِ خواتین پر ہونے والے مظاہرے ایک عام ہڑتال میں بدلے اور پھر یہی تحریک فوجی بغاوت اور زار شاہی کے خاتمے تک جا پہنچی۔ اس جلد کی خاص بات یہ ہے کہ ٹراٹسکی عوامی تحریک کے خود رو کردار اور اس میں انقلابی پارٹی کے تعلق کو نہایت باریکی سے بیان کرتا ہے۔ وہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ انقلاب کے ابتدائی مرحلے میں اقتدار دو حصوں میں تقسیم ہو گیا: ایک طرف عبوری حکومت تھی جو سرمایہ دار طبقے کی نمائندہ تھی، اور دوسری طرف مزدوروں اور سپاہیوں کی سوویتیں تھیں جو عوامی طاقت کا اظہار تھیں۔ یہ جلد اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ کسی بھی انقلاب میں عوام اچانک تاریخ کے اسٹیج پر داخل ہوتے ہیں اور وہ کام کر گزرتے ہیں جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب”تاریخ کا انجن“پوری شدت سے حرکت میں آتا ہے۔

دوسری جلد روسی انقلاب کے سب سے پیچیدہ اور فیصلہ کن مرحلے کا احاطہ کرتی ہے، یعنی فروری سے اکتوبر 1917ء تک کا سفر۔زار تو گر چکا تھا، مگر سوال باقی تھا: اقتدار کس کے ہاتھ میں جائے گا؟ سرمایہ دار طبقہ عبوری حکومت کے ذریعے پرانے نظام کو نئی شکل میں بچانا چاہتا تھا، جبکہ مزدور اور سپاہی امن، روٹی اور آزادی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ یہی وہ عرصہ تھا جب یہ طے ہونا تھا کہ روس میں اقتدار سرمایہ دار طبقے کے ہاتھ میں رہے گا یا مزدور طبقہ اقتدار پر قبضہ کرے گا۔ ٹراٹسکی اس پورے مرحلے کو ایک زندہ سیاسی جدوجہد کے طور پر پیش کرتا ہے جہاں مختلف پارٹیاں، نظریات اور طبقاتی قوتیں مسلسل ٹکرا رہی تھیں۔ عبوری حکومت جنگ جاری رکھنا چاہتی تھی، جبکہ عوام امن، روٹی اور زمین کا مطالبہ کر رہے تھے۔ منشویک اور سوشلسٹ انقلابی پارٹیاں سرمایہ دار طبقے کے ساتھ سمجھوتے کر رہی تھیں۔

یہ ایک عجیب عہد تھا۔ ہر دن ایک نئی کروٹ لیتا تھا۔ گلیاں نعروں سے بھری تھیں، کارخانے مباحثوں سے، اور بیرکیں بے چینی سے۔ عوام سیکھ رہے تھے، بدل رہے تھے، آگے بڑھ رہے تھے۔ لینن جلاوطنی سے واپس آیا اور اس نے اپریل تھیسس میں وہ تاریخی الفاظ ادا کیے:”تمام اقتدار سوویتوں کو!“یہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ تاریخ کے دھندلکوں میں جلتا ہوا چراغ تھا۔ ٹراٹسکی اس جلد میں خاص طور پر لینن کے اپریل تھیسس کی اہمیت بیان کرتا ہے، جس نے بالشویک پارٹی کو واضح انقلابی سمت دی۔

ٹراٹسکی اس پورے عرصے کو ایک دریا کی طرح پیش کرتا ہے؛کبھی پُرسکون، کبھی طغیانی سے لبریز۔ جولائی کے دنوں کی پسپائی، کورنیلوف کی بغاوت، بالشویکوں پر جبرا ور پھر انہی بالشویکوں کا عوام کے دلوں میں جگہ بنانا۔یہ سب دکھاتا ہے کہ انقلاب سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتا۔ شعور جدوجہد کی بھٹی میں پکتا ہے۔پرانے خیالات اور نظریات پگھل جاتے ہیں لیکن یہی پیچیدہ عمل عوامی شعور کو نئے حالات کے لیے پختہ بھی کرتا ہے۔ مزدور، سپاہی اور کسان اپنے تجربات سے سیکھتے ہیں کہ سرمایہ دار طبقہ ان کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ انقلابی قیادت کے کردار کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ ٹراٹسکی کے مطابق اگر بالشویک پارٹی موجود نہ ہوتی تو فروری انقلاب یا تو ناکام ہو جاتا یا پھر کسی فوجی آمریت میں بدل جاتا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ محض عوامی غصہ کافی نہیں؛ ایک منظم، نظریاتی طور پر واضح اور انقلابی قیادت بھی ضروری ہوتی ہے۔

تیسری جلد روسی انقلاب کے عروج یعنی اکتوبر انقلاب پر مرکوز ہے۔ ایک ایسے لمحے کی داستان ہے جب تاریخ نے اپنی سانس روک لی تھی؛ جب مزدوروں، سپاہیوں اور انقلابیوں نے پرانی دنیا کے دروازے توڑ دیے۔ بالشویک پارٹی کی قیادت میں سرخ گارڈز نے اقتدار پر قبضہ کیا اور پہلی بار مزدور طبقہ حکمران بنا۔ ٹراٹسکی بہت باریکی سے بیان کرتا ہے کہ یہ کوئی خفیہ سازش نہیں تھی بلکہ عوامی اکثریت کی منظم انقلابی کارروائی تھی۔انقلاب کوئی محلاتی سازش، شاطرانہ عیاری، دھوکے بازی، یا رجیم چینج نہیں ہوتا بلکہ سماج کی اکثریت کا ایک جمہوری فیصلہ ہوتا ہے،یہ تاریخ کا نہایت ہی خوبصورت لمحہ ہوتا ہے جب لاکھوں، کروڑوں لوگ ایک مقصد کے لیے اکٹھے ہوکر میدان عمل میں اترتے ہیں۔

فوجی انقلابی کمیٹی، پیٹروگراڈ سوویت اور بالشویک قیادت کی حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے۔ وہ واضح کرتا ہے کہ انقلاب صرف جذبات یا نعروں سے کامیاب نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے تنظیم، منصوبہ بندی، درست وقت کا تعین اور عوامی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ پارٹی کی اہمیت پر لکھتے ہیں کہ ”اگر ایک رہنمائی کرنے والی تنظیم موجود نہ ہو تو عوام کی تمام تر توانائی ایسے ضائع ہو جائے گی جیسے (انجن کے) پسٹن بکس کے بغیر بھاپ ہوا میں تحلیل ہو کر منتشر ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، حرکت پیدا کرنے والی اصل قوت نہ پسٹن ہوتا ہے نہ بکس بلکہ بھاپ ہوتی ہے“۔ اکتوبر انقلاب نے دنیا بھر کے محکوم طبقات کو یہ امید دی کہ سرمایہ دارانہ نظام ناقابلِ شکست نہیں۔

ویسے میڈیا، نام نہاد دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی طرف سے آج کل انقلاب یا سرکشی کو ایک مذاق، بے وقوفی بنا کر یا پھر سازشی تھیوریوں سے سمجھنے کی کو شش کی جاتی ہے۔ لیکن ا نقلابی عمل کی وضاحت کرتے ہوئے ٹراٹسکی لکھتا ہے کہ ”انقلاب کی سب سے ناقابلِ تردید خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ عوام براہِ راست تاریخی واقعات میں مداخلت کرتے ہیں۔ عام حالات میں ریاست، خواہ وہ بادشاہت ہو یا جمہوریت، خود کو قوم کے اوپر بلند کر لیتی ہے، اور تاریخ اُن ماہرین کے ہاتھوں بنائی جاتی ہے جن کا یہی پیشہ ہوتا ہے؛ بادشاہ، وزراء، بیوروکریٹس، پارلیمنٹیرین اور صحافی۔ لیکن اُن فیصلہ کن لمحوں میں، جب پرانا نظام عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے، تووہ اُن رکاوٹوں کو توڑ دیتے ہیں جو انہیں سیاسی میدان سے باہر رکھتی ہیں، اپنے روایتی نمائندوں کو ایک طرف ہٹا دیتے ہیں، اور اپنی براہِ راست مداخلت کے ذریعے ایک نئے نظام کی ابتدائی بنیادیں استوار کرتے ہیں۔“ کیا ہی کمال تشریح ہے انقلاب کی!!!

اسی انقلاب کو امریکی صحافی جان ریڈ نے اپنی شاندار کتاب”دنیا کو جھنجوڑ دینے والے دس دن“ میں امر کر دیا۔ جان ریڈ نے انقلاب کو صرف دیکھا نہیں، اسے جیا تھا۔ پھر سرجی آئیزنسٹائن کی فلم ’اکتوبر‘ نے بھی انقلاب کی خوبصورت عکس بندی کی ہے۔ اس فلم کے مناظر میں عوام سمندر کی لہروں کی طرح اٹھتے ہیں، مجسمے گرتے ہیں، محل لرزتے ہیں، اور تاریخ نئی کروٹ لیتی ہے۔ آئیزنسٹائن نے ثابت کیا کہ فن بھی انقلاب کی زبان بن سکتا ہے۔

دنیا ایک بار پھر شدید بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر عدم استحکام، جنگوں، مہنگائی، بیروزگاری، ماحولیاتی تباہی اور سیاسی انتشار کو جنم دے رہا ہے۔ امریکی سامراج کی بالادستی کمزور ہو رہی ہے، دنیا ایک نئے”ٹوٹتے ورلڈ آرڈر“کی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر یورپ تک جنگیں، افریقہ میں بھوک، ایشیا میں معاشی بحران اور مغربی ممالک میں سیاسی پولرائزیشن اس نظام کے دیوالیہ پن کا اظہار ہیں۔ایسے عہد میں روسی انقلاب کا مطالعہ صرف ماضی کی تاریخ پڑھنا نہیں بلکہ حال اور مستقبل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ٹراٹسکی کی کتاب ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سماجی بحران محض تباہی نہیں لاتے بلکہ ان میں تبدیلی کے امکانات بھی جنم لیتے ہیں۔ جب پرانا نظام ناکام ہو جائے تو عوام متبادل تلاش کرتے ہیں۔ لیکن اگر انقلابی قیادت موجود نہ ہو تو یہی بحران انتشار میں بدل سکتے ہیں۔

آج کی نوجوان نسل، مزدور طبقے، طلبہ، کسان اور محکوم قومیتوں کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ تاریخ خود بخود بہتر سمت میں نہیں بڑھتی۔ تبدیلی کے لیے منظم جدوجہد، نظریاتی وضاحت اور اجتماعی سیاست ضروری ہے۔ روسی انقلاب یہ ثابت کرتا ہے کہ عام انسان درست اور سائنسی نظریات کے تحت جب منظم ہوں، تو دنیا بدل سکتے ہیں۔ہماری ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ ہم انقلابات کی تاریخ پڑھیں بلکہ ان کے اسباق کو اپنے عہد پر منطبق کریں۔ ہمیں سرمایہ دارانہ استحصال، سامراجی جنگوں کے خلاف ایک سوشلسٹ متبادل تعمیر کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکتا ہے۔لیون ٹراٹسکی کی”انقلابِ روس کی تاریخ“انقلابی سیاست کا ایک زندہ مکتب ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ تاریخ جامد نہیں، انسان اسے بدل سکتا ہے۔ اور جب محکوم عوام اٹھ کھڑے ہوں تو واقعی”انقلابات تاریخ کا انجن“بن جاتے ہیں۔