|تحریر: حمیرا حبیب، کراچی|

میرا نام حمیرا ہے اور میں اس وقت ایل ایل بی کے چوتھے سال کی طالبہ ہوں۔ میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں سیاسی سرگرمیوں یا نظریاتی مباحث کی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ ہمارے خاندان میں تعلیمی سلسلہ بھی زیادہ پرانا نہیں، اس کا ہماری نسل سے ہی باقاعدہ آغاز ہوا ہے، اس لیے والدین اور ہمارے درمیان ایک واضح فکری اور علمی خلا ہمیشہ موجود رہا ہے۔ جو چیزیں ہمیں ضروری محسوس ہوتی رہی ہیں انہیں بے معنی اور غیر ضروری محسوس ہوتی ہیں۔ اسی تضاد نے مجھ میں خود کو منوانے، اپنے خیالات اور ضروریات کو تسلیم کروانے کی ایک جدو جہد کو جنم دیا۔
کتابیں پڑھنا ہمیشہ سے میرا شوق رہا ہے، کتابوں سے وابستگی نے نہ صرف مجھے صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھایا بلکہ صحیح کا ساتھ دینے اور غلط کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات بھی دی۔ اسی شعور کے نتیجے میں تبدیلی کا ایک عمل میرے اپنے گھر سے شروع ہوا۔ اس جدو جہد کا باقاعدہ آغاز کلاس ہفتم میں ہوا، اور آج اس سفر کو بارہ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران بہت سی کامیابیاں بھی ملیں اور کچھ سبق بھی حاصل ہوئے۔
وقت کے ساتھ میرے اندر یہ احساس مضبوط ہوتا گیا کہ جس شعور نے میری زندگی کو بدلا ہے، وہ میرے معاشرے کی دوسری خواتین تک بھی پہنچنا ضروری ہے۔ میں چاہتی تھی کہ وہ بھی یہ سمجھ سکیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں، فرائض کیا ہیں، اور استحصال کیا ہوتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اپنے حقوق کی خاطر لڑنے کے لیے سب سے پہلے شعور کا ہونا ضروری ہے، اور اسی شعور کو عام کرنا میں نے اپنی ذمہ داری سمجھا۔
اسی مقصد کے حصول کے لیے مجھے ایک ایسے پلیٹ فارم کی تلاش تھی جہاں سے میں عملی طور پر کام کر سکوں۔ وکالت کے شعبہ کا انتخاب بھی اسی مقصد کی ایک کڑی تھی۔ اس لیے میرا خیال تھا کہ اس کے ذریعے میں نہ صرف گھریلو تشدد جیسے مسائل پر کام کر سکوں گی بلکہ خواتین کی تنظیم سازی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی کردار ادا کر سکوں گی۔
اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی کافی سفر باقی تھا لیکن دوران تلاش مجھے ایک اسٹڈی سرکل میں شرکت کا موقع ملا، جس نے میری فکری زندگی میں ایک نیا موڑ پیدا کیا۔ پہلی مرتبہ مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنی سوچ کو عملی شکل دے سکتی ہوں۔ وہ سرکل خود کو بائیں بازو کا نمائندہ قرار دیتا تھا، لیکن وہاں مجھے بہت سے اعتراضات اور سوالات درپیش تھے جن کے تسلی بخش جواب نہ مل سکے۔میری تلاش جاری رہی اور اس جستجو میں ایک دن فیس بک پر لاہور میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے سرکلز اور دیگر سرگرمیوں کی تصاویر میری نظر سے گزریں۔ میں بائیں بازو کی سیاست کو عملی شکل میں دیکھنا چاہتی تھی، لیکن جو سرگرمی اور سنجیدگی مجھے وہاں نظر آئی، وہ کہیں اور دکھائی نہ دی۔ چنانچہ میں نے پارٹی کی لاہور برانچ سے رابطہ کیا، جنہوں نے میرا رابطہ کراچی کے ساتھیوں سے کروایا۔
میری پہلی ملاقات کامریڈ پارس جان اور کامریڈ جلال جان سے ہوئی۔ ابتدائی دو ماہ میں نے صرف مشاہدہ کیا کہ آیا یہ لوگ واقعی وہی کر رہے ہیں جس کا دعویٰ کرتے ہیں یا نہیں۔ اس دوران ان کی عملی سرگرمیاں میرے سامنے آئیں، نہ صرف مجھے میرے بہت سے سوالوں کے جواب ملے بلکہ ایک نظریاتی اساس بھی ملی۔
آج میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ کمیونزم ہی وہ نظریہ ہے جو پوری انسانیت کی بقا اور آزادی کی بات کرتا ہے۔ یہ ہر قسم کے طبقاتی، مذہبی، نسلی اور صنفی تفریق، جبر اور استحصال کے خاتمے کا نظریہ ہے۔ مجھے پہلے بھی یہ احساس تھا کہ ہر قسم کی تفریق طاقت کے عدم توازن سے جنم لیتی ہے، لیکن یہ عدم توازن کیوں پیدا ہوتا ہے اور اسے برقرار کون رکھتا ہے، اس کی واضح سمجھ مجھے انقلابی کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی کے بعد حاصل ہوئی۔
میں نے یہ سمجھا کہ غربت، طبقاتی تقسیم، فرقہ واریت اور جنسی امتیاز فطری یا قدرتی مظاہر نہیں ہیں بلکہ انسانی سماج کی مخصوص معاشی ساخت کے پیدا کردہ مسائل ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی بقا کے لیے عدم مساوات کو جنم دیتا اور برقرار رکھتا ہے۔ دولت اور وسائل کی غیر مساوی و غیر منصفانہ تقسیم اس نظام کی بنیاد ہے۔ اگر دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو جائے تو سرمایہ دارانہ نظام قائم نہیں رہ سکتا، کیونکہ اس کی اساس ہی طبقاتی تقسیم اور استحصال پر قائم ہے۔ اسی شعور اور سمجھ بوجھ کی بنیاد پر میں نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی جوائن کی۔