|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: ولید خان|

(نوٹ: آج ایک طرف امریکی سامراج نسبتاً زوال کا شکار ہے اور پوری دنیا میں اس کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف چین کی معیشت عالمی معاشی بحران کے دھچکوں سے متاثر تو ضرور ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ کی نسبت قدرے مستحکم ہے اور وہ امریکہ کی جانب سے چھوڑے جانے والے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن اس پورے عمل میں ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یورپ اور تیسری دنیا کے ممالک کے حکمران طبقات کے مفادات امریکی اور چینی سامراج کے حکمران طبقات سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بھی حکمران طبقے کے مفادات امریکی اور چینی سامراج کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان کے محنت کش طبقے کے مسائل اور مفادات کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔ چینی سامراج فنانس کیپیٹل کے ذریعے استحصال کر رہا ہے، لیکن ابھی تک چین اور روس نے امریکہ کی طرح براہِ راست جنگوں میں وہ کردار ادا نہیں کیا جو امریکی سامراج نے کیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چین کا کردار سامراجی نہیں ہے۔ چینی سامراج کا جنگوں کی صورت میں کردار ابھی پوری طرح ہمارے سامنے نہیں آیا، اس لیے صرف اس بنیاد پر یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ مستقبل میں بھی وہ جنگوں کی صورت میں سامنے نہیں آئے گا۔ محنت کش طبقے کو کسی بھی سامراجی طاقت کو محض اس لیے ترقی پسند یا نجات دہندہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ امریکی سامراج کے مقابل کھڑی ہے۔
یہ مضمون 2024ء میں ہماری انٹرنیشنل ویب سائٹ marxist.com پر شائع کیا گیا تھا۔ آج دنیا میں چین کے کردار کو سمجھنے کے لیے ہم اس مضمون کو دوبارہ شائع کر رہے ہیں۔)
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
آج چین کا کیا کردار ہے؟ کچھ ’لیفٹ ونگ‘ حضرات چینی عزائم کو امریکہ کے خلاف ایک توازن بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ جارج مارٹن اس مضمون میں تفصیلی بیان کرتے ہیں کہ چین میں عرصہ دراز پہلے سرمایہ داری بحال ہو گئی تھی اور آج اس میں ایک ابھرتی سامراجی قوت کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ ’کثیر قطبی‘ دنیا کے محنت کشوں کو کوئی ایک فائدہ نہیں پہنچائے گی جنہیں عالمی سطح پر سامراج اور سرمایہ داری کی زنجیریں توڑنے کے لیے اپنی قوتوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔
درج ذیل مضمون درحقیقت تین سال پہلے منعقد ہونے والے ریوولوشنری فیسٹیول، جو عالمی مارکسی رجحان کے تحت برطانوی سیکشن کی جانب سے منعقد کردہ سالانہ سکول آف کمیونزم تھا، میں جارج مارٹن کی بحث کی نقل تحریر ہے۔
سب سے پہلے ایک بات واضح ہونی چاہیے۔ مغربی میڈیا اور برطانیہ، امریکہ وغیرہ جیسے مغربی سامراجی ممالک کے اہم سیاست دانوں نے مسلسل ایک چین مخالف مہم چلا رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’چین برا ہے‘، ’چین یہ سب برائیاں کر رہا ہے‘ (اگرچہ وہ خود بھی ان جرائم کے مرتکب ہیں لیکن ہم تفصیل میں نہیں جاتے!)، ’چین بہت برا ہے‘، ’چین سازشیں اور چالبازیاں کر رہا ہے‘، مبینہ طور پر وہ ویسٹ منسٹر (برطانوی پارلیمنٹ) میں کچھ افراد کو پیسے دے رہا ہے تاکہ سیاست دانوں پر اثر و رسوخ بڑھایا جائے، جیسے ایسا کام پہلے کبھی اس ملک کی تاریخ میں نہیں ہوا، وغیرہ وغیرہ۔
یہ کوئی چین مخالف گفتگو نہیں ہے۔ لیکن یہ جاننے کی ایک کمیونسٹ کوشش ہے کہ چین کیا ہے اور چین کا عالمی تعلقات میں کیا کردار ہے۔
ہم عالمگیریت پر یقین رکھتے ہیں اور ہم اپنے حکمران طبقات کی حمایت نہیں کرتے۔ ہم اپنے سامراجی حکمران طبقات کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتے۔ ہم محنت کش طبقے، چینی محنت کش طبقے اور عالمی محنت کش طبقے کے مفادات کے نکتہ نظر سے صورتحال کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں۔ کمیونسٹوں کے لیے عالمی تعلقات کو سمجھنا لازم ہے کہ یہ کیا ہیں اور ان کی بنیاد کیا ہے۔
ہمارا نکتہ آغاز یہ ہے کہ چین ایک سرمایہ دار ملک ہے اور یہ کافی عرصے سے ایک سرمایہ دار ملک ہے۔
میری کوشش ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ چینی سرکاری اعداد و شمار پیش کروں۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ آپ ان کو شک کی نگاہ سے دیکھیں، لیکن بہرحال ان کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ایک نجی کمپنی یا مخلوط کمپنی یا ریاستی کمپنی کی تشریح کو سمجھنا کچھ مشکل ہو جاتا ہے اور ضروری نہیں کہ اس کے وہی معنی ہوں جو عمومی طور پر ہم سمجھتے ہیں۔ لیکن چینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نجی سیکٹر، جس کی سخت گیر تشریح وہ کمپنیاں ہیں جن میں 2023ء کے وسط تک 10 فیصد سے کم ریاستی مداخلت تھی، GDP (کل مجموعی پیداوار) کا 40 فیصد ہیں۔ آپ اس کی تصدیق بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ 2019ء سے اب تک سب سے کم تر سطح پر ہے۔
وباء کے دوران نجی سیکٹر کا حجم تھوڑا سکڑ گیا اور اسی حساب سے ریاستی سیکٹر کا حجم بڑھ گیا۔ نجی سیکٹر 2021ء میں GDP کے 55 فیصد تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ لیکن میرے خیال میں ہمیں صرف نجی سیکٹر کے وزن کوہی نہیں دیکھنا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس کی سمت کیا ہے۔ اس عمل کی راہ کیا ہے؟ 2010ء میں نجی سیکٹر GDP کا 8 فیصد تھا جو اب بڑھ کر 50 فیصد ہو چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صنعتی محنت کشوں کا 80 فیصد، یعنی وہ محنت کش جو صرف صنعتوں میں کام کرتے ہیں، نجی سیکٹر سے منسلک ہے۔ نجی سیکٹر برآمدات کا 50 فیصد بناتا ہے۔ یقیناً برآمدات چینی معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں اور کئی سرمایہ دار ممالک کے برعکس چین کے لیے ان کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔
2011ء میں یہ عمل اپنے ابتدائی مراحل میں تھا یا پھر تقریباً دس سال پہلے یہ عمل شروع ہو چکا تھا۔ اس وقت چینی وزارت برائے تجارت کے ایک ترجمان شین دانیانگ نے کہا تھا کہ ”تیس سال کی اصلاحات اور معیشت کو کھولنے کے بعد، چین کا ایک منصوبہ بند معیشت سے ایک منڈی کی معیشت کی جانب تبدیلی کا عمل پورا کر چکا ہے“۔ 2010ء میں یہ چینی ریاست کی سرکاری پوزیشن تھی۔ آپ کو احتیاط سے اس اعلان کو دیکھنا ہے کیونکہ اس وقت وہ WTO (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن۔۔ پوری دنیا میں اقوام کے درمیان تجارت کی آزادانہ گردش، اشیاء پر محصولات اور ممکنہ تجارتی جھگڑوں کے حل کے لیے عالمی ادارہ جس کے 166 ممبران ہیں۔ مترجم) سے ممبرشپ کے لیے مذاکرات کر رہے تھے اور ایک تنازعہ میں پھنسے ہوئے تھے کہ چینی معیشت منصوبہ بند ہے یا نہیں۔ لیکن اس سے آپ کو کم از کم یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ صورتحال کیا ہے۔

میرے خیال میں کچھ سالوں سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ چینی ریاست سرمایہ دارانہ ملکیتی رشتوں کا دفاع کرتے ہوئے ان کی ترویج کرتی ہے۔ ہاں، چین ایک سرمایہ دار ملک ہے جس کی معیشت میں ریاست کا ایک دیو ہیکل کردار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک منصوبہ بند معیشت سے ایک سرمایہ دار معیشت کی جانب تبدیلی میں اس کی تاریخ اور کئی دیگر عناصر کا ایک کلیدی کردار ہے۔ بہرحال، ریاستی سیکٹر کو سرمایہ دارانہ ملکیتی رشتوں کے دفاع، ان کی ترویج اور تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
چین میں منصوبہ بند معیشت کے برعکس نجی ملکیت قوت محرکہ ہے۔ تیس سال پہلے جس عمل کا آغاز ہوا تھا آج اس کا منطقی انجام وہ مخصوص سرمایہ دار معیشت ہے جو اس وقت چین میں رائج ہے۔
ایک اور دلچسپ پہلو بیرون ملک چینی سرمایہ ہے یعنی دیگر ممالک میں موجود چینی سرمایہ داروں نے چین میں سرمایہ داری کی بحالی اور تعمیر و ترقی میں ایک دیوہیکل کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ نجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی، چین میں صنعتیں لائے وغیرہ۔ لیکن ظاہر ہے کہ عالمی سرمائے کا بھی ایک بہت بڑا کردار ہے۔ یہ سارا عمل اس عمومی عمل کا حصہ تھا جسے 1990ء کی دہائی میں عالمگیریت کا مظہر قرار دیا جا رہا تھا جس میں چین کی سرمایہ دار منڈی میں شمولیت اور ادغام شامل تھا۔
مغربی ممالک نے چین میں دیوہیکل سرمایہ کاری کی کیونکہ ابتداء میں اسے سستی قوت محنت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آغاز میں یہی چاہیے تھا۔ انہیں سستی قوت محنت چاہیے تھی تاکہ سستی اشیاء بنائی جا سکیں۔ اس طرح ایک پورا عرصہ ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک میں افراط زر کو کامیابی سے قابو میں رکھا گیا تھا۔ 1990ء اور اس کے بعد کی دہائی میں موجود سیاسی اور معاشی صورتحال میں یہ ایک اہم پہلو تھا۔
ایک معقول سوال بنتا ہے کہ 1949ء میں رونما ہونے والے چینی انقلاب سے پہلے چین جیسا سامراجی قوتوں کے زیر تسلط پسماندہ ملک کیسے عالمی معیشت کا ایک طاقتور حصہ اور ایک طاقتور جدید سرمایہ دار معیشت بن گیا؟
اگر آپ ٹراٹسکی کی انقلاب مسلسل تھیوری کا مطالعہ کریں تو اس کے مطابق سامراج کے عہد میں زیر تسلط اور پسماندہ ممالک کی قومی بورژوازی ایک ترقی پسند کردار ادا نہیں کر سکتی اور بورژوا انقلاب، ایک قومی جمہوری انقلاب کے تاریخی تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔
لیکن چین اس لیے مختلف ہے کہ چین میں سرمایہ دار طبقے، چینی بورژوازی نے ان تاریخی فرائض کو مکمل نہیں کیا تھا۔ یہ چینی انقلاب تھا جس نے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا اور چین میں قومی جمہوری فرائض کو مکمل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جس میں مرکزی حیثیت زرعی اصلاحات کو حاصل ہے جن کے تحت جاگیرداری کا خاتمہ کرتے ہوئے قومی اتحاد اور قومی خودمختاری کے مسئلے کو حل کیا گیا۔
1990ء یا 2000ء کی دہائی میں چین اب سامراج کے زیر تسلط ایک پسماندہ ملک نہیں تھا بلکہ ایک خودمختار ملک تھا جس میں دہائیوں پہلے قومی جمہوری انقلاب کے کئی تقاضے پورے ہو چکے تھے۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر چین میں سرمایہ دارانہ تعمیر و ترقی استورا ہونا شروع ہوئی۔ اس کے ساتھ اور کئی عناصر موجود تھے؛ ایک طاقتور ریاست، آفاقی تعلیم کی موجودگی، ایک بلند تر تعلیمی اور تہذیبی معیار جنہوں نے چین کو کئی جدید ترین ٹیکنالوجیوں میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا وغیرہ۔
چین صرف ایک سرمایہ دار ملک نہیں ہے بلکہ ایک ایسا سرمایہ دار ملک ہے جس نے عالمی قوت محنت کی تقسیم میں اپنا کردار تبدیل کر لیا ہے۔ جیسا میں بتا چکا ہوں، اس ابتداء میں یہ ملک سستی محنت کا ذریعہ اور سستی اشیاء درآمد کرنے والا ملک تھا، کھلونے، ٹیکسٹائل، سستی الیکٹرانک اشیاء وغیرہ۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے یا پھر آج سے بیس سال پہلے چینی سرمایہ دار معیشت میں جو خد و خال حاوی تھے وہ اب اس طرح سے موجود نہیں ہیں۔
میرا استدلال ہے کہ آج چین ایک جدید ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور زیادہ اجرتی معیشت بن چکا ہے۔ CEIC (چینی اکنامک انفارمیشن سینٹر) کے مطابق اس وقت چینی شہری علاقوں میں عمومی ماہانہ اجرت 1 ہزار 300 ڈالر ہے۔ اگرچہ اس میں علاقوں کے درمیان اور معیشت کے مختلف سیکٹروں کے درمیان بہت زیادہ عدم مساوات چھپی ہوئی ہے، پھر بھی اس کے مطابق چینی محنت کشوں کی تنخواہیں البانیا، رومانیا، میکسیکو اور دیگر کئی ممالک سے زیادہ ہیں جہاں سرمایہ دار سستی محنت کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔
اس کے کئی نتائج ہیں۔ اب کچھ ایسی کمپنیاں موجود ہیں (کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک اجرتیں ہیں) جو چین سے باہر یا پھر زیادہ ترقی یافتہ ساحلی علاقوں سے اندرون ملک سستی محنت کے علاقوں، ایشیاء کی دیگر سستی محنت کی معیشتوں، سرمایہ دارانہ منڈیوں کے نزدیک سستی محنت کی معیشتوں میں منتقل ہو رہی ہیں جہاں یہ کمپنیاں اپنی اشیاء بیچنا چاہتی ہیں (جیسے میکسیکو)۔ اس عمل کو ”قریبی سرمایہ کاری“ یا ”دوست سرمایہ کاری“ بھی کہا جا رہا ہے۔
چینی معیشت نے بہت جدید ٹیکنالوجیاں اپنا لی ہیں۔ کچھ سیکٹروں میں چینی ٹیکنالوجی دیگر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک سے کوسوں آگے ہے۔ ایک مثال الیکٹرک گاڑیوں کی ہے جو سرمایہ دارانہ معیشت میں ایک تیزی سے ترقی کرتا سیکٹر ہے۔ میں کسی طرح سے بھی ایک انجینئر نہیں ہوں لیکن مجھے سمجھ یہ آئی ہے کہ الیکٹرک گاڑی میں انجن نہیں ایک بیٹری لگی ہوتی ہے، اس بیٹری کی کتنی طاقت ہوتی ہے وغیرہ۔
ایک چینی کمپنی ہے جس کا نام CATL ہے۔ یہ دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور عالمی سطح پر گاڑی کی بیٹریوں کی 34 فیصد منڈی کنٹرول کرتی ہے۔ یہ پوری دنیا میں تمام بڑی کمپنیوں سے کوسوں آگے ہے اور تمام بڑی کار ساز کمپنیوں کو بیٹریاں سپلائی کرتی ہے جیسے ٹیسلا، فورڈ، ولوو (یہ اب ایک سویڈش کمپنی نہیں رہی ہے بلکہ یہ چینی سرمائے کی ملکیت بن چکی ہے)۔
چین نے یہ سب کیسے حاصل کیا ہے؟ ایک روایتی سرمایہ دار ملک کی طرز پر ٹیکنالوجی چوری کر کے؛ برطانیہ، امریکہ وغیرہ کی چوٹی کی یونیورسٹیوں میں ہزاروں طلبہ بھیج کر؛ تحقیق اور تعمیر میں بے تحاشہ سرمایہ کاری کر کے اور بنیادی طور پر ان سیکٹروں میں سرمایہ کاری کر کے جن کے متعلق انہیں یقین ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ معیشت کا مستقبل ہیں اور اس طرح چین کو دیگر ممالک پر سبقت حاصل ہو چکی ہے۔
یہ مشترکہ اور ناہموار ترقی کا بھی حصہ ہے۔ ایک سابق پسماندہ معیشت کچھ مخصوص سیکٹروں میں ایک بھرپور جست لگا سکتی ہے۔ مثلاً چین کو سبقت حاصل ہے کہ اس کے پاس کبھی روایتی کمبشن انجن کی ایک دیوہیکل کار ساز صنعت نہیں رہی جیسے مغرب میں ہے اور اس لیے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب تبدیلی قدرے تیز اور آسان رہی ہے۔ معیشت کے کئی سیکٹروں میں یہی کامیابی دیکھی جا سکتی ہے۔

عالمی سطح پر چین کا کردار بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ میرا استدلال ہے کہ چین عالمی معیشت اور تعلقات میں ایک سامراجی کردار ادا کر رہا ہے۔
سامراجیت کا کیا مطلب ہے؟ جب ہم ایک کمیونسٹ نکتہ نظر سے سامراجیت کی بات کرتے ہیں تو ہمارا مطلب سامراجیت کی ایک عمومی عام فہم تشریح نہیں ہوتی جس کے تحت اسے ایک جارحانہ خارجہ پالیسی، عسکری جارحیت وغیرہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ سامراج کا ایک حصہ ہے۔
لیکن اگر آپ لینن کی سامراجیت کی تشریح کا مطالعہ کریں جسے اس نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”سامراجیت: سرمایہ داری کی حتمی منزل“ میں بیان کیا ہے تو اس کے مطابق:
”1) پیداوار اور سرمائے کا ارتکاز اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ اجارہ داریاں جنم لے لیتی ہیں جو معاشی زندگی میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں، 2) بینکاری سرمایہ اور صنعتی سرمایہ آپس میں مدغم ہو جاتے ہیں اور اس ’مالیاتی سرمایہ‘ (finance capital) کی تخلیق ایک مالیاتی اشرافیہ (finance oligarchy) کو جنم دیتی ہے، 3) سرمائے کی برآمد اشیاء کی برآمد سے علیحدہ اور غیر معمولی اہمیت حاصل کر لیتی ہے، 4) عالمی اجارہ دار سرمایہ دارانہ ایسوسی ایشنز جنم لیتی ہیں جو پوری دنیا کو آپس میں تقسیم لیتی ہیں۔ 5) پوری دنیا کے طاقتور ترین سرمایہ دار ممالک کے درمیان اثر و رسوخ کی تقسیم مکمل ہو جاتی ہے“۔ (لینن، سامراجیت)
لینن کی تشریخ سرمایہ داری کی سامراجی منزل کی تشریح ہے۔ وہ ایک عالمی نظام کی بات کر رہا ہے، کسی ایسے ملک کی نہیں جس میں یہ پانچ لوازمات پورے ہو رہے ہیں۔ اس کی مراد ایک عالمی نظام ہے جس میں طاقتور ترین عالمی سرمایہ دارانہ ممالک نے دنیا کو تقسیم کر لیا ہے۔ میرا استدلال ہے کہ چین ان تمام لوازمات کو کسی نہ کسی حوالے سے پورا کرتا ہے اور اب وہ عالمی سامراجی نظام کا حصہ ہے۔
لینن نے سامراجیت میں سامراجی قوتوں کے ناگزیر ابھار اور انہدام کی بات بھی کی ہے:
”اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کے تحت اثر و رسوخ، مفادات، نو آبادیات وغیرہ کی تقسیم کی قابل تصور بنیاد؛ شرکاء (ممالک) کی قوت، ان کی عمومی معاشی، فنانشل، عسکری قوت وغیرہ کا تخمینہ ہے۔ تقسیم میں ان شرکاء کی قوت متوازی طور پر تبدیل نہیں ہوتی کیونکہ سرمایہ داری میں مختلف اہداف، ٹرسٹوں، صنعتی شعبوں یا ممالک میں یکساں تعمیر و ترقی ناممکن ہے۔ اگر نصف صدی قبل جرمنی کا انگلستان سے موازنہ کیا جائے تو یہ ایک بدحال، معمولی ملک تھا؛ یہی حالت روس کے مقابلے میں جاپان کی تھی۔ کیا یہ ’ممکن‘ ہے کہ دس یا بیس سال بعد سامراجی قوتوں کی عمومی طاقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؟ یہ ناممکن ہے۔“
میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ چین پر بڑی اجارہ داریاں قابض ہیں۔ چینی کمپنیاں دیوہیکل ہیں اور یہ دیوہیکل کمپنیاں کُل چینی معیشت کے ایک بہت بڑے حصے پر قابض ہیں اور ان اجارہ داریوں کی عالمی معیشت میں ایک قابل ذکر مداخلت موجود ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 2023ء میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کی فوربس (Forbes) 500 فہرست میں کل 135 چینی کمپنیاں شامل ہیں اور یہ مستقل پانچواں سال ہے کہ اس فہرست میں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ چینی کمپنیاں موجود ہیں۔ اس فہرست میں 136 امریکی اور 41 جاپانی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس طرح اس فہرست میں امریکہ اور چین تقریباً متوازی ہیں۔
فنانس چینی معیشت میں بھی حاوی ہے اور مالیاتی سرمایہ اور صنعتی سرمایہ مدغم ہیں۔ یہ پہلو چین میں بہت نمایاں ہے۔ اگرچہ اس کا حجم ناپنے کے کئی طریقے ہیں؛ ذخیرہ کردہ پیسہ، کل سرمایہ کی قدر، محنت کشوں کی تعداد وغیرہ۔ لیکن ایک پیمانہ کم از کم چین میں بہت اہم ہے کہ دنیا کے چار سب سے بڑے بینک یہاں موجود ہیں؛ انڈسٹریل کمرشل بینک آف چائنہ، چینی کنسٹرکشن بینک، بینک آف چائنہ اور زرعی بینک آف چائنہ۔ یہ دنیا کے چار سب سے بڑے بینک ہیں اور ان کا چینی معیشت میں دیوہیکل کردار ہے۔ ان کا عالمی معیشت میں بھی ایک نمایاں کردار ہے۔
اگرچہ یہ درست ہے کہ یہ تمام بینک ریاستی ملکیت میں ہیں کیونکہ سرمایہ داری کا چین میں ایک مخصوص ارتقاء ہوا ہے۔ ملک میں ایک بہت بڑا ’شیڈو بینکاری‘ سیکٹر بھی موجود ہے جس کا حجم 2019ء کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 12 ٹریلین ڈالر ہے۔
چین کچھ عرصہ سے سرمایہ بھی برآمد کر رہا ہے۔ اگر آپ سرمائے کی برآمدگی کا گراف دیکھیں تو 2005ء اور خاص طور پر 2010ء کے بعد سے اس میں مسلسل اور تیز تر اضافہ ہوا ہے اور اب یہ بلند تر سطح پر موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ پچھلے چند سالوں میں بہت کچھ ہو چکا ہے۔ کورونا وباء، لاک ڈاون، عالمی سپلائی چینز میں ٹوٹ پھوٹ وغیرہ۔ ان کا اثر تو پڑا ہے۔ لیکن اس وقت تک گراف مسلسل بڑھوتری کی جانب گامزن تھا۔ ایک اشاریہ ہے کہ 2000ء کے بعد چین کی بیرون ملک سرمایہ کاری میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ چین کی سالانہ بیرون ملک سرمایہ کاری 2002ء میں 2.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2016ء میں 200 ارب ڈالر ہو گئی۔ یہ پندرہ سالوں میں 100 فیصد اضافہ ہے۔

میں آپ کے سامنے 2015ء کے کچھ اعداد و شمار رکھتا ہوں کہ چوٹی کے دس ممالک اور خطوں سے کتنی بیرون ملک سرمایہ کاری، اسٹاک اور سالانہ مالیاتی گردش ہوئی۔ ان کا ماخذ چینی وزارت برائے تجارت ہے۔
اسٹاک کی اگر بات کی جائے یعنی مجتمع شدہ بیرون ملک براہ راست سرمایہ کاری تو امریکہ عالمی سطح پر 23 فیصد کے ساتھ صف اول ہے۔ چین آٹھویں نمبر پر 4.4 فیصد کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن ہانگ کانگ کو علیحدہ تصور کیا گیا ہے اور وہ 5.9 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ لیکن اگر گردش کی بات کی جائے یعنی کتنا پیسہ بطور بیرونی براہ راست سرمایہ کاری سالانہ استعمال ہو رہا ہے تو 2015ء میں امریکہ پوری دنیا میں 20 فیصد کے ساتھ صف اول تھا اور چین 10 فیصد، یعنی امریکہ سے نصف پر دوسرے نمبر پر تھا۔ ہانگ کانگ 3.7 فیصد کے ساتھ نویں نمبر پر ہے۔ اگر آپ ہانگ کانگ اور چین کو اکٹھا کر دیں تو یہ ہندسہ 13.6 فیصد ہے جو امریکی بیرون ملک براہ راست سرمایہ کاری سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں ہے۔ کئی چینی نجی کمپنیاں سنگاپور میں بھی رجسٹرڈ ہیں جہاں سے ان کی بیرون ملک سرمایہ کاری جاری رہتی ہے اور اس لیے سنگاپور کی کچھ سرمایہ کاری کو دراصل چینی سمجھنا چاہیے۔

ظاہر ہے کہ بیرون ملک سرمایہ کاری کی کیٹگری بہت گمراہ کن ہے۔ اس میں سے کچھ پیسہ تو بیرون ملک ٹیکس چھوٹ علاقوں جیسے کیمن جزایر، سیشلز وغیرہ پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اس میں ایک بڑا حصہ بیرون ملک براہ راست سرمایہ کاری اور نئی کمپنیوں میں انضمام اور ان کے حصول میں لگ جاتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ چین بہت شدت سے چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے کہ وہ دیگر ممالک میں کمپنیوں اور دیگر وسائل خریدیں اور سرمایہ کاری کریں۔ اس کی تفصیل میں آگے چل کر بتاتا ہوں۔
چین کا بیرونی امدادی خرچہ (یہ سامراجیت کی ایک اور شکل ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امداد درحقیقت امداد نہیں ہوتیں، ان کا مقصد سیاسی اثر و رسوخ اور ممالک کو اپنی بیرونی امداد پر منحصر کرنا ہوتا ہے وغیرہ) ایک بہت چھوٹی رقم تھی جس کا حجم اب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 2003ء میں چینی بیرونی امداد کا خرچہ 60 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2016ء میں 2.3 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ ’بیرونی امداد‘ کی مد میں یہ خرچہ آج چین کو درمیانے درجے کے سرمایہ دار ممالک جیسے بیلجئم یا آسٹریلیا کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔

اب سوال مرکزی سامراجی قوتوں کے درمیان دنیا کی تقسیم کا ہے اور اس پر بھی چین کا معاملہ واضح ہے۔ آپ نے شاید BRI (Road and Belt Initiative) کا نام سنا ہو گا جسے نئی شاہراہ ریشم بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ چین بے تحاشہ پیسہ خرچ کر رہا ہے تاکہ اپنے بحری اور تجارتی راستے بنا کر برآمدات، تجارتی راستوں وغیرہ کو محفوظ بنایا جائے اور اپنی بھوکی صنعتی تعمیر و ترقی کے لیے توانائی وسائل اور خام مال کے ذرائع کو محفوظ کیا جائے۔ مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری بھی ہو رہی ہے اور ممالک کی ایک طویل فہرست ہے جنہیں ایک لڑی میں پرو کر اپنے حلقہ اثر و رسوخ میں لایا جا رہا ہے جس کا ذریعہ سرمایہ کاری اور دیگر ہتھکنڈے ہیں۔
اس ساری صورتحال میں چین اور امریکہ کے درمیان تصادم واضح ہو چکا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان ایک تجارتی جنگ کے کئی پہلو یا عناصر ہیں جس کا آغاز تو ٹرمپ کی پہلی صدارت (ریپبلیکن) میں ہوا تھا لیکن اسے بائیڈن صدارت (ڈیموکریٹ) نے بھی جاری رکھا ہے۔ یہ یکطرفہ پالیسی کے برعکس امریکی حکمران طبقے کی ایک سرمایہ دارانہ پالیسی ہے۔ آپ اس کے کئی پہلو دیکھ چکے ہیں۔ مثلاً امریکہ نے برطانیہ پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ ہواوے (چینی کمپنی) کو 5G انفرسٹرکچر بنانے کی اجازت نہ دے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہواوے، جسے آپ سستے موبائل بنانے والی کوئی کمپنی سمجھتے ہوں گے، پوری دنیا میں 5G انفراسٹرکچر بنانے کے حوالے سے ایک دیوہیکل کمپنی ہے۔
ٹیکنالوجی میں یہ تیز و تند ترقی ہے۔ چین اس ٹیکنالوجی کی چوٹی پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔ امریکہ برازیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ہواوے کو اندر نہیں گھسانا۔ کینیڈا نے کچھ ہواوے افسران کو بھی گرفتار کیا تھا۔ اس کا صنعتی جاسوسی یا برطانوی پارلیمنٹ کے موبائل فون کی چینی جاسوسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شاید اس میں کچھ سچائی بھی ہو لیکن اس سارے معاملے کی بنیاد مختلف سرمایہ دار کمپنیوں کی آپسی مسابقت ہے۔
یہاں ایک اور نکتہ بھی اہم ہے۔ بیس سال پہلے کچھ لوگ بحث کر رہے تھے کہ اب سامراجیت ختم ہو چکی ہے اور اس وقت ایک ”سلطنت“ موجود ہے، عالمی اجارہ داریوں کے زیر تسلط ایک دنیا جس کا قومی ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے (مثلاً ہاردت اور نیگری، سلطنت، ہاورڈ یونیورسٹی پریس 2000ء)۔ یہ غلط ہے! سامراجیت موجود ہے اور یہ مختلف مسابقتی لڑاکا سامراجی قوتوں میں تقسیم ہے۔ عالمی منڈی میں چین ہواوے کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، امریکہ بوئنگ کے مفادات کا اور یورپی یونین ایئربس کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے چاہے اس کے لیے کوئی بھی حربہ استعمال کرنا پڑے۔
پہلے بات ہو چکی ہے کہ اس صورتحال میں چین اور امریکہ کا تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے اور کئی صنعتوں میں اس کا اظہار جاری ہے۔ اس وقت چین اپنے سامراجی مفادات کے لیے عسکری طاقت استعمال نہیں کر رہا۔ اور اس وجہ سے کچھ لوگ خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ”دیکھیں! افریقہ میں چینی سرمایہ کاری دوستانہ سرمایہ کاری ہے۔ وہ سامراجیوں کی طرح نہیں ہیں کہ عسکری بغاوت منظم کریں اور بندوق بردار بحری جہاز بھیجیں وغیرہ“۔ ہاں یہ درست ہے کہ ابھی تک یہ طریقہ کار استعمال نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چینی سرمایہ کاری کا دیگر ممالک کی سامراجی سرمایہ کاری سے کوئی مختلف کردار ہے۔
چین اس وقت دنیا میں اپنے سامراجی مفادات کے تحفظ میں اس لیے اپنی عسکری قوت نہیں استعمال کر رہا ہے کیونکہ فی الحال وہ اس قابل نہیں ہے۔ چین ابھی بھی عسکری بنیادوں پر امریکہ سے بہت کمزور ہے اگرچہ وہ کئی شعبوں میں تیزی سے مسابقت حاصل کر رہا ہے۔ امریکہ نے ایک طویل عرصہ میں پوری دنیا میں اپنی عسکری قوت پروان چڑھائی ہے۔ اس لیے چین فی الحال فنانس، سفارت کاری اور دیگر طریقہ کار پر انحصار کر رہا ہے۔
لیکن یہ قابل ذکر ہے کہ چین جبوتی (Djibouti) میں اپنا ایک عسکری اڈہ بنا چکا ہے۔ یقیناً عالمی تجارت کے حوالے سے بحیرہ احمر کے دہانے پر جبوتی ایک بہت اہم تنگ گزرگاہ ہے۔ پھر روڈ اور بیلٹ اینیشی ایٹیو کے تحت کئی بندرگاہیں بنائی گئی ہیں یا بنائی جا رہی ہیں اور ان میں عسکری اور سویلین دونوں استعمال کی صلاحیت موجود ہے۔
اس میں سے کچھ تو امریکی پروپیگنڈہ ہے لیکن کچھ واقعی حقیقت ہے اور مختلف ممالک میں چینی براہ راست سرمایہ کاری کا ایک مخصوص طریقہ کار ہے یعنی ایک چینی ریاستی بینک کسی ملک کو قرضہ فراہم کرتا ہے؛ یہ ملک اس قرضہ سے کوئی بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ جیسے ڈیم، ہائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشن، ریلوے، کسی بندرگاہ کی صلاحیت میں بہتری تاکہ بڑے بحری جہاز لنگر انداز ہو سکیں، وغیرہ کے لیے استعمال کرتا ہے؛ عام طور پر یہ پراجیکٹ چینی انفراسٹرکچر، سول تعمیراتی، ریلوے وغیرہ کمپنیاں تعمیر کرتی ہیں؛ چینی کمپنیاں اس پراجیکٹ کو چلاتی ہیں جیسے ایک چینی ریلوے کمپنی ریلوے چلائے گی، ایک بڑی چینی ہارڈویئر کمپنی انتظام اپنے ہاتھوں میں لے گی وغیرہ؛ پھر اس سرمایہ کاری کے بدلے میں جو درحقیقت ایک قرضہ ہوتا ہے، یہ ملک چین کا مقروض بن جاتا ہے؛ اس کے بدلے میں چین معدنی یا دیگر قدرتی وسائل کی لوٹ مار کا حق حاصل کر لیتا ہے، سویا بین یا گوشت کی تجارت یا پھر کوئی اور ایسی مراعت حاصل کرتا ہے؛ پھر دلچسپ طور پر اس ملک میں یہ انفراسٹرکچر پراجیکٹ خام مال کے وسائل کو انہی بندرگاہوں سے منسلک کر دیتے ہیں جو چین نے بنائے ہوتے ہیں تاکہ مال چین بھیجا جا سکے۔
ان پراجیکٹس کو اس قرضہ کے لیے ہی گروی رکھ دیا جاتا ہے؛ اور پھر اکثر اوقات جب ملک ان قرضوں پر دیوالیہ ہو جاتا ہے تو چین انہی اپنے بنائے ہوئے انفراسٹرکچر پر مکمل قبضہ حاصل کر لیتا ہے اور اس سارے گھن چکر میں قرضوں اور سیاسی دباؤ کا ایک ایسا جال تیار ہو جاتا ہے جس کی اور کوئی تشریح نہیں کہ ایک سامراجی ملک ایک زیر تسلط ملک پر مکمل طور پر حاوی ہو چکا ہے۔
یہ کام ہر جگہ ہو رہا ہے۔ افریقہ، لاطینی امریکہ، کئی ایشیائی ممالک۔ اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
مثلاً چین نے پوری دنیا کی مختلف بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جنہیں وہ بحری سامان برداری اور دیگر استعمال کے لیے کلیدی سمجھتا ہے۔ اگر آپ نقشے پر ایک نظر ڈالیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ میں تو بہت حیران ہوا تھا! (چین نے تزویراتی طور پر انتہائی اہم بندرگاہوں کا ایک عالمی نیٹ ورک حاصل کر لیا ہے، واشنگٹن پوسٹ، 6 نومبر 2023ء)۔
چین اس وقت پوری دنیا میں تمام اہم بحری راستوں میں سرمایہ کاری کر چکا ہے یا انہیں براہ راست کنٹرول کر رہا ہے (کچھ اثناء میں چھوٹی سرمایہ کاری جیسے 10 فیصد یا 30 فیصد اور دیگر اثناء میں ایک کنٹرولنگ پوزیشن): آبنائے ملاکا، ملیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا اور ظاہر ہے کہ سری لنکا میں ایک بہت بڑی بندرگاہ ہے۔ پھر پاکستان میں گوادر بندرگاہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اب مرکزی ایشیا تک رسائی کے لیے ایک زمینی راستہ بھی موجود ہے۔ پھر یہ سارا کام انڈیا کو بائی پاس کر کے ہو رہا ہے جو عالمی سطح پر چین کا روایتی حریف ہے۔ گوادر سے آپ جبوتی پہنچیں تو ایک چینی کمپنی نے ہی بندرگاہ بنائی ہے۔ پھر بحیرہ احمر کے دہانے کی دوسری طرف، عدن کی بندرگاہ ہے جس میں چینی سرمایہ کاری موجود ہے۔
بحیرہ روم کا ذکر ہو تو مصر میں سویز کنال (Suez Canal) کے دہانے پر بندرگاہیں ہیں، اسرائیل میں حیفا (Haifa) کی بندرگاہ ہے۔ پھر یونان میں پیرائس (Piraeus) کی بندرگاہ ہے جس کی کی مالک ایک چینی کمپنی کاسکو (Cosco) ہے۔ یہاں سے آپ اطالوی شمال میں جائیں تو کچھ بندرگاہیں ہیں، اسپین میں ویلنسیا (Valencia) کی بندرگاہ ہے، الجیریا میں ایک اور مراکش میں کئی بندرگاہیں ہیں۔
یہاں سے آگے آئیں تو بلباؤ (Bilbao) کی بندرگاہ ہے، فرانس میں کچھ بندرگاہیں ہیں، بلجیئم میں ایک بندرگاہ ہے، روٹرڈیم (Rotterdam) کی بندرگاہ دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔ اب فیصلہ ہو چکا ہے کہ ہمبرگ (Hamburg) بندرگاہ اور دیگر تجارتی راستوں میں بھی چینی سرمایہ کاری ہو گی۔
یوکرین جنگ سے پہلے چین نے اوڈیسہ (Odessa) اور مائکولائیو (Mykolaiv) بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی جو ظاہر ہے فی الحال کارآمد نہیں ہیں۔ لیکن ان میں اسی طرح کی سرمایہ کاری موجود ہے۔
بحرالکاہل میں چین نے لاس اینجلس (Los Angeles) بندرگاہ اور سیاٹل (Seattle) بندرگاہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو اس بحر کی سب سے بڑی بندرگاہیں ہیں۔ اب چین پیرو (Peru) میں چانکے (Chancay) کے مقام پر ایک نئی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے جو چین اور لاطینی امریکہ کے درمیان تجارتی وقت کو پانچ سے دس دن تک کم کر دے گی۔
اب آپ کے سامنے ایک خاکہ واضح ہو گیا ہے کہ چین کیا کرنے کی کوشش کرر ہا ہے۔ چین بحری اور تجارتی راستے محفوظ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ’بدی، سازش اور مکاری‘ نہیں ہے۔ یہ محض ایک سامراجی ملک کا کردار ہے جو عالمی سطح پر اپنے مفادات کے تحفظ کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔
میں آپ کو اس کی صرف ایک مثال دیتا ہوں۔ زامبیا جنوبی افریقہ میں ایک خشکی میں گھرا ملک ہے جس کے پاس بے تحاشہ تانبا موجود ہے۔ چین نے تانبا حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی۔ اب زامبیا پر بے تحاشہ چینی قرضہ چڑھ گیا ہے۔ چینیوں نے ایک ریلوے لائن از سر نو تعمیر کی ہے جو زامبیا کی کانوں کو تنزانیہ (Tanzania) کی بندرگاہ دار السلام (Dar es Salaam) سے منسلک کرتی ہے تاکہ تانبا منتقل کیا جا سکے۔
اس وقت عالمی معیشت میں ایک کلیدی خطہ وسطی افریقہ ہے جس میں کانگو (Congo) سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہاں سے بہت زیادہ کوبالٹ (cobalt) اور کئی معدنیات نکالی جاتی ہیں جو جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اب اندازہ لگائیں کہ چینی ریلوے لائنیں بچھا رہے ہیں جو بحر ہند کے ساحل کو کانگو کے ساتھ منسلک کر دیں گی؛ ایک روانڈا، ملاوی، برونڈی کو یوگنڈا کے ساتھ منسلک کرے گی؛ ایک اور کینیا کو جبوتی سے جوڑ دے گی وغیرہ۔ منصوبہ یہ ہے کہ ایک مربوط تیز تر طریقہ کار کے ذریعے دنیا کے ان اہم علاقوں سے خام مال کو نکالا جائے۔ نیروبی سے ممباسا، ادیس ابابا سے جبوتی اور اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
ایکواڈور پر دیوہیکل چینی قرضہ چڑھا ہوا ہے اور یہی حالت سری لنکا، نتزانیہ وغیرہ کی بھی ہے۔
یہی سارا کام جنوبی امریکہ میں ہو رہا ہے۔ دو سال پہلے چین پورے لاطینی امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا تھا۔ امریکی سامراج کے نکتہ نظر سے یہ بہت تباہ کن ہے۔ اس سال (2024ء) دو سو سال پہلے مونرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine) کا اجرا ہوا تھا۔ اس کے مطابق ”امریکہ، امریکیوں کے لیے ہے“، جس کا مطلب ہے کہ لاطینی امریکہ، امریکی سامراج کی ملکیت ہے اور اس پورے براعظم پر کسی اور سامراجی قوت کو کچھ کہنے یا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اب چین پورے جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے جس میں چلی، ارجنٹینا، ایکواڈور، پیرو، برازیل اور بولیویا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ان تمام ممالک کے ساتھ اس تجارت کا کردار کیا ہے؟ چین خام مال، تانبا، بڑا گوشت، سور کا گوشت، تیل، گیس، لیتھیم، سویا بین (اس وجہ سے پورے جنوبی امریکہ میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں) وغیرہ خریدتا ہے اور پیداکردہ اشیاء، مشینری، ٹرانسپورٹ سامان، کیمیا جات وغیرہ بیچتا ہے جو بنیادی چینی برآمدات ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ چین لاطینی امریکہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔ چین نے برازیل کی کئی ریاستوں میں بجلی کا انفراسٹرکچر خرید رکھا ہے اور چینی نجی الیکٹرک کار ساز جیسے BYD اور گریٹ وال موٹرز نے برازیل میں دو بڑے کار ساز پلانٹ خرید لیے ہیں۔ ان میں سے ایک فورڈ کی ملکیت تھا اور دوسرے کا مالک مرسڈیز تھا۔ دو مغربی سامراجی کمپنیاں برازیل سے رخصت ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ دو چینی کمپنیوں نے لے لی ہے جو الیکٹرک گاڑیاں بنائیں گی۔
یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک کار ساز کمپنی BYD ہے اگرچہ اعداد و شمار کچھ مشکوک ہیں کیونکہ BYD الیکٹرک اور ہائبرڈ، دونوں گاڑیاں بناتی ہے جبکہ مرکزی مسابقتی کمپنی ٹیسلا، صرف الیکٹرک گاڑیاں بناتی ہے۔ اگرچہ دونوں کا کام ایک جیسا نہیں ہے لیکن بہرحال یہ وضاحت ضروری ہے۔ (اس گفتگو کے بعد حالیہ اعداد و شمار کے مطابق BYD خالصتاً الیکٹرک کار سازی میں ٹیسلا سے آگے نکل چکی ہے)۔
میرا استدلال ہے کہ یہ تمام اعداد اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ چین ایک سامراجی ملک ہے اور اس نتیجے سے مخصوص نتائج اور پیچیدگیاں برآمد ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چین کا عالمی معیشت میں کردار مثبت ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک کثیر قطبی دنیا کی امید کر سکتے ہیں، ایک ایسی دنیا جس پر امریکی تسلط نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پوری دنیا کی اقوام کے لیے ایک مثبت تبدیلی ہے، خاص طور پر زیر تسلط ممالک میں جن کے بارے میں اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں تعمیر و ترقی کے لیے موافق ماحول فراہم ہو گا۔
لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ محنت کش طبقے کے لیے کوئی بہتری نہیں ہو گی چاہے اس کا تعلق ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک یا زیر تسلط سرمایہ دار ممالک سے ہے۔ جب دنیا ایک ملک کے مکمل یا جزوی تسلط کی بجائے کثیر سامراجی قوتوں میں تقسیم ہو جائے گی تو یہ قوتیں مختلف ممالک پر تسلط کے لیے لڑائیاں کریں گی۔ ان حالات میں محنت کش عوام، غریب کسان اور غربا کی زندگی کسی ایک زیر تسلط ملک میں بہتر نہیں ہو گی۔ اس کا نتیجہ مزید لڑائیاں اور انتشار ہے۔ دونوں کے درمیان اور زیادہ علاقائی جنگیں ہوں گی۔
پوری دنیا کے محنت کشوں کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ تمام سامراجی قوتوں کے خلاف جدوجہد کریں۔ ان کی جدوجہد کا مقصد مختلف سامراجی ممالک کے درمیان توازن نہیں ہونا چاہیے۔ بہرحال یہ درست ہے کہ چین کا عالمی معیشت میں بڑھا ہوا کردار کچھ ممالک کو یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ سامراجی قوتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی وفاداریوں کو کچھ تبدیل کرتے ہوئے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
مثلاً ہم نے دیکھا ہے کہ ماضی میں کئی ممالک امریکہ کے قریبی حلیف تھے، یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ اس کی کٹھ پتلیاں تھے، جیسے ترکی، سعودی عرب یا برازیل لیکن اب یہی ممالک عالمی سیاست میں ایک زیادہ آزادانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ سے قطع تعلقی کر لی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اپنے لیے مراعات لینے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس سے سعودی عرب کے محنت کش کو رتی برابر فائدہ نہیں ہو رہا ہے جو ایک نیم جاگیردارانہ رجعتی بادشاہت کی غلامی میں پھنسا ہوا ہے۔ ان میں سے کئی تارکین وطن محنت کش ہیں جو ایسے حالات میں کام کر رہے ہیں کہ ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں، اجرتیں انتہائی کم ہیں اور ان کا خوفناک استحصال ہو رہا ہے۔ لیکن یوکرین جنگ میں یہ واضح ہے کہ سعودی عرب روس کی مدد کے لیے زیادہ رضامند ہے، تیل کی قیمتوں کو بلند سطح پر مستحکم رکھ رہا ہے اور روس کے ساتھ تجارت بھی کر رہا ہے۔
امریکی سعودی تعلقات کے دیگر پہلو بھی ہیں۔ تیل کے حوالے سے امریکہ تقریباً خود کفیل ہو چکا ہے۔ ماضی میں ایسا نہیں تھا۔ لیکن اگر آپ اس سال عالمی صورتحال پر نظر رکھتے رہے ہیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک امن معاہدہ کروایا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ اب مشرق وسطیٰ میں ماضی کی طرح غالب کردار ادا نہیں کر رہا۔ شام کی خانہ جنگی میں بھی یہی معاملہ تھا۔
یہاں یہ نشاندہی ضروری ہے کہ اس عمل کی مخصوص حدود ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ چین کا دنیا میں اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، اس کی سامراجی قوت بڑھ رہی ہے اور کسی مخصوص وقت پر وہ امریکہ پر سبقت لے کر دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت بن جائے گا۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔ اس لیے کہ اس عمل کی کچھ مخصوص حدود ہیں اور میرا خیال ہے کہ چینی معیشت کم و بیش اس حد کو پہنچ چکی ہے۔
چینی معیشت کئی سالوں سے مجموعی سرمایہ تخلیق کر رہی تھی یعنی مشینری، فیکٹریوں، صنعتوں وغیرہ کی تعمیر اور اب اسے کلاسیکی سرمایہ دارانہ زائد پیداوار بحران کا سامنا ہے۔ وہ بہت زیادہ اسٹیل، گاڑیاں اور سب کچھ بنا رہا ہے جس کی اب عالمی منڈی میں مزید کھپت ممکن نہیں ہے۔ یہ سرمایہ داری کا کلاسیکی بحران ہے۔
پھر یہ شرح منافع کی گراوٹ کا رجحان بھی ہے۔ ماضی میں مشینری اور ٹیکنالوجی میں جتنی سرمایہ کاری GDP کی شرح نمو میں متوازی اضافہ کرتی تھی وہ اب ممکن نہیں ہے۔ چین ابھی بھی ترقی کر رہا ہے لیکن اب شرح نمو ماضی جیسی نہیں ہے۔

پھر دیگر عوامل بھی کار فرما ہیں۔ چینی اور امریکی معیشتیں حیران کن حد تک مدغم ہیں۔ اس لیے امریکی کمپنیوں کا مفاد تجارتی جنگ سے بچاؤ ہے۔ مثلاً فاکس کان کمپنی نے چین میں ایک دیوہیکل صنعتی کاروبار اور انفراسٹرکچر تعمیر کیا ہے جو مغرب میں استعمال ہونے والے زیادہ تر ایپل فون بناتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کو کسی تجارتی جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور کئی مغربی کمپنیوں نے چین میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
وقتاً فوقتاً آپ کو مغربی سرمایہ دار قائدین چین میں کسی تجارتی کانفرنس میں جاتے نظر آتے ہیں تاکہ روایتی سفارتی تعلقات بحال ہو سکیں۔
سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ امریکہ بطور ایک عالمی سامراج انحطاط پذیر ہے لیکن یہ انحطاط نسبتی ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ”دیکھو! چین ابھی سے امریکہ سے بڑی معیشت بن چکا ہے یا بن جائے گا“ لیکن چین کی عوام امریکہ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ میں عمومی پیداواریت چین سے کہیں زیادہ ہے اور چین ایک بہت زیادہ ناہموار اور عدم مساوات ملک ہے۔ اس کے ساحلی علاقے بے تحاشہ ترقی یافتہ ہیں جہاں سرمایہ دارانہ تعمیر و ترقی زیادہ تر مرتکز ہے جبکہ اندرون ملک علاقے ابھی بھی بہت پیچھے ہیں۔
عسکری قوت کے حوالے سے امریکہ ابھی بھی بہت آگے ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ چین کے پاس ابھی تک دو (تیسرے کی سمندری مشقیں جاری ہیں) ایئرکرافٹ کیریئر ہیں جبکہ امریکہ کے پاس گیارہ یعنی پانچ گنا زیادہ ہیں۔ دیگر کئی شعبوں میں یہی صورتحال ہے۔
اس لیے میرا خیال ہے کہ اگرچہ صورتحال زیادہ تناؤ کی جانب بڑھ رہی ہے جس میں علاقائی اور مقامی جنگوں کے امکانات زیادہ ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چین مستقبل قریب میں امریکہ پر بازی لے جائے گا۔ چین کو اپنی محدودیت کا سامنا ہے۔
میری بحث کا آخری نکتہ ہے کہ اس ساری صورتحال سے متعلق کمیونسٹوں کی کیا پوزیشن ہے؟ کمیونسٹوں کی پوزیشن ہے کہ محنت کش طبقے کا حقیقی دشمن گھر پر ہے۔ برطانیہ یا امریکہ میں ہمارا حقیقی دشمن چین نہیں ہے۔ ہمارا اصل دشمن اس ملک کا حکمران طبقہ ہے اور ہمارے حقیقی اتحادی پوری دنیا کے محنت کش ہیں جن میں چین کے محنت کش بھی شامل ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ نکتہ ہے کہ چین میں سرمایہ داری اور معیشت کے ارتقاء نے ایک طاقتور محنت کش طبقے کو جنم دیا ہے، ایک ایسا طبقہ جس کی جدوجہد کی کوئی روایات موجود نہیں ہیں۔ ہاں، کئی ہڑتالیں، بغاوتیں اور بکھری جدوجہدیں ہوئی ہیں لیکن چینی محنت کش طبقے کی کوئی ماضی سے چلی آ رہی اصلاح پسند پارٹیاں یا ٹریڈ یونینز نہیں ہیں۔ یہ ایک تازہ دم طبقہ ہے۔ ان میں سے کئی نے پہلی مرتبہ دیہات سے شہروں میں ہجرت کی ہے۔ ان کے کام کے حالات شدید استحصال کا استعارہ ہیں۔
میں آپ کو یہ باتیں بیان کر رہا ہوں اور آپ کے ذہن میں خیال ہو گا کہ ایسی ہی صورتحال 1917ء کے روس میں تھی۔ 1970ء میں اسپین بھی ایسا تھا۔ یا پھر 1980ء میں برازیل میں بھی یہی حالات تھے۔ محنت کش طبقے کی پہلی نسل آمرانہ حالات میں، جہاں قانونی ٹریڈ یونینز موجود نہیں یا سیاسی ارتقاء کا کوئی راستہ نہیں، شدید استحصال جاری ہے اور لمحہ بھر میں صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ ایک انقلابی دھماکہ!
چین میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ہمارا کام چینی محنت کش طبقے کے ساتھ تعلقات کو استوار کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر پوری دنیا سے سرمایہ داری اور سامراجیت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ ہم بغلیں بجائیں کہ سامراجی ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے یا دنیا زیادہ کثیر قطبی ہو رہی ہے بلکہ ہمارا فرض سرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف جدوجہد کی تیاری کرنا ہے۔ یہی جنگوں اور استحصال کی بنیادی وجوہات ہیں، ایک ایسا نظام جو اب تاریخی طور پر متروک ہو چکا ہے۔