فلم ریویو: ستلج؛ ”میں اندھیرے کو چیلنج کرتا ہوں!“

مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہمارے سکول کے ایک کونے میں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس پہ لکھا تھا: ”ڈوبتے ہوئے سورج نے پوچھا ’ہے کوئی جو میری جگہ لے؟‘۔ ایک ٹمٹماتے ہوئے چراغ نے جواب دیا ’میں کوشش کروں گا‘۔“ اس طرح کی باتیں کرنے میں آسان ہوتی ہیں اور سننے میں مزہ بھی آتا ہے۔ مگر جب حقیقت میں کچھ ایسا کرنے کا وقت آتا ہے تو عملیت پسندی پر مبنی اس معاشرے کی ہر ایک اکائی آپ کو رکنے کی تاکید کرتی ہے۔ کوئی پیار اور منطق سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی ڈرا دھمکا کر پسپائی پر مجبور کرتا ہے۔ جب چاروں طرف اندھیری رات ہو تو اپنے وجود کے شعلوں سے، چاہے تھوڑی ہی سہی، روشنی پھیلانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔

حال ہی میں انڈیا میں ریلیز ہونے والی فلم ’ستلج‘، جس کے اوپر کچھ ہی دن بعد پابندی لگائی گئی، ایک ایسے ہی چراغ کی زندگی پر بنائی گئی ہے جس نے اندھیرے کو چیلنج کیا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے بیباکی سے جدوجہد کرنے والے جسونت سنگھ کھالرا پر بننے والی یہ فلم شعور کو جھنجھوڑ دینے کی طاقت رکھتی ہے اور ان بھیانک حقائق اور جبر سے پردہ اٹھاتی ہے جو مشرقی پنجاب میں علیحدگی پسند بغاوت کچلنے اور دہشتگردی ختم کرنے کے نام پر کیا جاتا رہا۔

فلم میں دکھائے جانے والے واقعات کا مختصر پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ جون 1984ء میں، جب اندرا گاندھی ملک کی وزیراعظم تھی، گولڈن ٹیمپل میں موجود خالصتانی علیحدگی پسند رہنماؤں کے خلاف آپریشن بلیو سٹار سر انجام دیا گیا جس میں 500 سے زائد افراد مارے گئے۔ گولڈن ٹیمپل کو بھی شدید نقصان پہنچا جو سکھ مذہب میں مقدس ترین جگہ ہے۔ اس فوجی آپریشن کے انتقام کے طور پر اندرا گاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہی ہوا جو مذہبی اور قوم پرست لیڈر کرتے ہیں۔ مذہبی منافرت کو ہوا دے کر سکھوں کے خلاف دنگے فساد کیے گئے۔ ان کو سماج سے مزید بیگانہ کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ پنجاب کے اندر ریاست سے نفرت کی بنیادیں پہلے ہی موجود تھیں۔ ان واقعات سے عسکریت پسند گروہوں کو مزید تقویت ملی۔ اپنے ہی ہاتھوں سے تشکیل دیے گئے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ریاست نے پنجاب پولیس کو مکمل چھوٹ دے دی۔ یہاں تک کے واقعات سے اکثریت واقف ہے۔ اس کے بعد پولیس کو ملی اس کھلی چھوٹ کی آڑ میں جو کچھ کیا جاتا رہا، فلم میں وہ دکھایا گیا ہے۔

جسونت سنگھ نہ تو کوئی وکیل تھا کہ اپنی شہرت اور دولت کے لیے انصاف فراہم کرنے کا ڈرامہ کر رہا ہو، اور نہ ہی کوئی قوم پرست لیڈر جسے محض اقتدار حاصل کرکے اپنے حصے کی لوٹ مار کرنے کی ہوس تھی۔ وہ امرتسر کے ایک بینک میں بطورِ ڈائریکٹر کام کر رہا تھا جب حالات نے اسے آواز اٹھا کر سرگرم ہونے پر مجبور کیا۔ ایک رات اس کے گھر کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ وہ اپنے دوست کی ماں کو کھڑا پاتا ہے جو رو رو کر ہلکان ہو رہی ہوتی ہے۔ وہ اسے کہتی ہے جاؤ میرا بیٹا بیچ گلی میں لیٹا ہوا ہے، میرے کہنے پر گھر نہیں آ رہا مگر تمہارا تو دوست ہے سو تم جا کر سمجھاؤ اسے کہ اٹھ کر گھر آ جائے۔ وہ بھاگ کر باہر جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی لاش خون میں لت پت پڑی ہے اور کچھ لوگ اسے حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کا دوست کوئی مجرم نہیں تھا۔ نہ ہی کسی کے ساتھ دشمنی تھی۔ اور نہ کسی عسکری گروہ کا حصہ تھا۔ اس کی ماں اس کے غم میں تقریباً پاگل ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی موت کو قبول نہیں کر پاتی اور کبھی پولیس اسٹیشن تو کبھی گلی محلوں اسے ڈھونڈتی رہتی ہے۔ پھر ایک دن اس کی ماں بھی گمشدہ ہوتی ہے اور کسی کو اس کی کوئی خبر نہیں ملتی۔

جسونت سنگھ کبھی ہسپتالوں کے چکر کاٹتا ہے تو کبھی تھانوں کے۔ ہر جگہ سے مایوس ہو کر وہ شمشان میں اسے ڈھونڈنے لگتا ہے۔ ایک شمشان کے رجسٹر میں اس کا نام درج ہوا ملتا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ اس کی لاش لاوارث قرار دے کر جلا دی گئی۔ مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ لاوارث نہیں تھی۔ اپنے طور پر تحقیقات کرنے کے بعد جسونت کو پتہ چلتا ہے کہ یہ غلطی سے ہونے والا محض کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ پورا ایک پیٹرن ہے۔ صرف تین شمشانوں میں سے دو ہزار سے زائد ایسے نام ملتے ہیں۔ جسونت سنگھ والے واقعے کے ساتھ ساتھ فلم میں دکھایا جاتا ہے کہ پولیس فورس میں اپنا کیرئیر بنانے اور پروموشن حاصل کرنے کی خاطر معصوم لوگوں کو دہشتگردی کے نام پر قتل کرنا ایک معمول بن چکا تھا اور یہ نہ جانے کتنے سالوں سے ہوتا آ رہا تھا۔

اس منظم قتلِ عام میں پولیس کے بڑے افسران اور وزراء تک ملوث تھے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی جبری طور پر ملوث کیا جاتا، جن سے پولیس اپنی مرضی کی پوسٹ مارٹم رپورٹیں تیار کرواتی۔ یہاں تک کہ پولیس میں سے جو اس کے خلاف قدم اٹھانے کا سوچتا، اسے بھی راستے سے ہٹا دیا جاتا۔ کچھ لاشوں کو اسی طرح لاوارث قرار دے کر شمشان میں جلا دیا جاتا اور کچھ کو دریاؤں،خاص کر دریائے ستلج میں پھینک دیا جاتا۔ اس سب کی روک تھام اور تحقیقات کے لیے جسونت سنگھ جبری طور پر گمشدہ کیے گئے لوگوں کے ورثاء کو ساتھ ملا کر ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہد کا آغاز کرتا ہے۔ باقی ماندہ ساری زندگی وہ آخری سانس تک لڑتا ہے اور ریاستی دھمکیوں اور ہراسانی کے باوجود پیچھے نہیں ہٹتا۔

فلم میں مرکزی کردار دلجیت دوسانجھ نے احسن طریقے سے نبھایا ہے اور ایک اچھا فنکار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ باقی اداکاروں نے بھی اپنے کردار بخوبی اور حقیقت پسندانہ انداز میں نبھائے ہیں۔ مختصراً یہ کہ ریاستی وحشت کو اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسی کہ وہ ہے۔ یہ فلم دراصل 2023ء میں ریلیز ہونے والی تھی مگر سنسر بورڈ کے اعتراضات کے باعث تاخیر کا شکار رہی۔ پھر جب بالآخر تین سال بعد OTT پر ریلیز ہوئی تو کچھ ہی دن بعد اسے ہٹا دیا گیا۔ یعنی دلجیت کے الفاظ میں جسونت سنگھ کی ”آواز 1995ء میں بھی دبائی گئی اور آج بھی دبائی جا رہی ہے۔“

سرمایہ دارانہ ریاست اپنی سرشت میں خون کی پیاسی ہوتی ہے، چاہے وہ نام نہاد امن کا عہد ہو یا پھر بد امنی اور تصادم کا۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ مخصوص حالات میں ریاست کا چہرا کھل کر عیاں ہو جاتا ہے۔ انڈیا میں حالیہ عرصے میں پیپر لیک کے خلاف طلباء کی ایک تحریک چلی جس میں کئی نوجوان پہلی دفعہ کسی احتجاج میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے ریاست کے حقیقی چہرے کا سامنا کیا۔ انہوں نے ریاست کے جھنڈے اٹھائے تھے اور اس بات پر وہ حیران تھے کہ ہم نہ تو مجرم ہیں اور نہ ہی مسلح دہشتگرد، پھر ہماری بات سننے کی بجائے ہمارے اوپر تشدد کیوں کیا جا رہا ہے؟

جسونت سنگھ کی بہادری اور اخلاص پر کوئی شک نہیں، مگر اس کو بھی شاید یہ امید غلط طور پر تھی کہ ایک خونخوار مشینری کا خاتمہ کیے بغیر خونریزی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں ہیں بلکہ فلم دیکھتے ہوئے یہ لگتا ہے کہ یہ معمولی رد و بدل کے ساتھ آج کے پاکستان پر بنائی گئی ہے۔ پہلے زور زبردستی سے حق چھین لیا جاتا ہے۔ پھر حق کے لیے کوئی آواز اٹھاتا ہے تو یا اسے گمشدہ کر دیا جاتا ہے یا اس کی مسخ شدہ لاش پڑی ملتی ہے۔ کچہری میں پیش کیا جانا اور جیل میں قید کیا جانا ایک غنیمت سمجھا جانے لگا ہے۔

اس تاریک رات، جس میں دور دور تک مایوسی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے، کے خلاف ایک اکیلا چراغ لڑنے کا عزم تو کر سکتا ہے مگر اس کو گل کر دینا متوقع اور نہایت آسان ہوتا ہے۔ مگر اگر ایک منظم جدوجہد کے ذریعے چراغ سے چراغ روشن ہوتا جائے تو ایک نیا سورج تخلیق کرنا نا ممکن نہیں رہتا۔