|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل|

ورلڈ سکول آف کمیونزم 2026ء، انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل (RCI) کی جانب سے اب تک منعقد کیا جانے والا سب سے بڑا ایونٹ ہے، جس میں 500 افراد نے براہِ راست شرکت کی، 7900 افراد نے سکول میں آن لائن شرکت کے لیے رجسٹریشن کروائی، جبکہ دنیا بھر میں ہزاروں افراد نے واچ پارٹیوں کے ذریعے شرکت کی۔ ہمارے اندازے کے مطابق اس سال ورلڈ سکول آف کمیونزم میں کسی نہ کسی صورت شرکت کے لیے دس ہزار سے زائد افراد نے اپنی رجسٹریشن کروائی تھی۔
یہ رپورٹ انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
ورلڈ سکول آف کمیونزم 2026ء کے تمام سیشنز سننے کے لیے یہاں کلک کریں
130 سے زائد ممالک سے شرکاء نے ہمارے سکول میں شامل ہونے کے لیے رابطہ کیا، جن میں سے 4400 افراد نے انقلابی کیمونسٹ انٹرنیشنل میں شمولیت کی خواہش کا اظہارکیا۔
کامریڈز نے ڈلاس (Dallas) سے دہلی تک ورلڈ سکول کے لیے واچ پارٹیاں منعقد کیں، جن میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ ڈنمارک میں کامریڈز نے 250 افراد پر مشتمل ’نورک سکول‘ (Nordic School)کا انعقاد کیا، جو سکول کے سیشنز دیکھنے کے لیے ایک ہفتے پر محیط پروگرام تھا، جس میں کھیلوں، موسیقی اور مختلف سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔
یورپ کے پہاڑی سلسلے الپس (Alps) میں بھی رات گئے تک بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری رہا، جہاں RCI کے سوئس سیکشن نے 130 کمیونسٹوں کے لیے ایک خوبصورت علاقے میں ہفتہ بھر قیام کا انتظام کیا، تاکہ وہ ورلڈ سکول کی لائیو سٹریمز دیکھ سکیں۔
سرمایہ داری کی تاریخ کے سب سے زیادہ بحران زدہ عہد میں باقی ’بایاں بازو‘ مایوسی کے دلدل میں دھنستا جا رہا ہے کیونکہ ان کے پاس نہ کوئی واضح تناظر ہے اور نہ ہی ٹھوس نظریات۔ اس کے برعکس، ورلڈ سکول آف کمیونزم ایک انقلابی امید اور انقلابی عزم کا مرکز ثابت ہوا اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ واضح نظریات پر مشتمل سکول تھا۔
اس ایونٹ کا نعرہ ’نظریات کی طاقت‘ ہی ہمارے مقصد کا خلاصہ پیش کرتا تھا۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی بحث و مباحثے کی اس سرگرمی میں 20 سے زائد سیشنز دنیا بھر کے کمیونسٹوں کے لیے براہِ راست نشر کیے گئے جس کا مقصد نوجوان کمیونسٹوں میں مارکسزم کے وسیع اور طاقتور نظریات کے لیے جوش و جذبہ پیدا کرنا تھا کیونکہ یہی وہ نظریات ہیں جو سرمایہ داری کا تختہ الٹنے کے لیے نوجوان انقلابیوں کا ایک ناگزیر ہتھیار ہیں۔
بلاشبہ، ورلڈ سکول آف کمیونزم انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی مزید بڑھوتری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا، کیونکہ ہم نے عالمی سطح پر دس ہزار منظم انقلابی کمیونسٹوں کی تنظیم کی تعمیر کا فوری ہدف مقرر کیا ہے۔
ہماری انٹرنیشنل کس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اس کی سب سے درست تصویر کسی اور چیز سے نہیں بلکہ سکول کے اختتام پر حیران کن چندہ مہم سے سامنے آتی ہے، جس میں 7 لاکھ یورو سے زائد رقم جمع ہوئی۔
سرمایہ داری کا زوال
سکول کا آغاز انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے رہنما اور نظریہ دان ایلن ووڈز نے کیا، جنہوں نے افتتاحی سیشن میں اس ہنگامہ خیز عالمی صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے موجودہ دور میں درپیش اہم مسائل اور ہنگامی صورتحال کو واضح کیا۔
انہوں نے اپنی بات کا آغاز آج کے عہد، قدیم روم کے آخری ایام اور جاگیردارانہ نظام کے انتشار کے پُرتشدد دور کے درمیان ایک مماثلت قائم کرتے ہوئے کیا، بالکل اسی طرح جیسے اُس وقت کی طرح، آج بھی دنیا جنگوں، قحط اور نسل کشی کے باعث بکھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جبکہ ایک عیاش اور طفیلی اشرافیہ پہلے سے کہیں زیادہ دولت مند ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ لیکن جیسا کہ ایلن نے وضاحت کی: ”یہ دنیا کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ استحصال کے ایک مخصوص نظام کا خاتمہ تھا۔“
زندگی کے گرتے ہوئے معیار، سامراجی جنگ، نسل کشی، ایپسٹین اسکینڈل اور ابتر معاشی حالات، ایلن نے اس تمام انتشار کی تہہ تک پہنچتے ہوئے واضح کیا کہ ان تمام ہولناک مظاہر کے پیچھے بنیادی حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ داری ایک طویل عرصے سے انسانیت کو آگے بڑھانے سے قاصر ہو چکی ہے۔
لیکن اس سنگین صورتِ حال کا دوسرا پہلو دنیا بھر کے محنت کشوں، نوجوانوں اور غریب عوام کے شعور میں موجود ہے۔ جب سکول جاری تھا، اسی دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زندگی اور موت کی ایک انقلابی جدوجہد جاری تھی۔ RCI کے پاکستانی سیکشن کے ایک کمیونسٹ رہنما کامریڈ پارس جان نے عوام کی بہادری کو ان الفاظ میں بیان کیا:
”انہوں نے موت کا خوف کھو دیا ہے۔ مائیں اپنے بیٹوں کی پیشانیوں کو چوم کر انہیں ریاستی جبر کی بربریت کے خلاف لڑنے کے لیے اس جنگ میں بھیج رہی ہیں۔“
ورلڈ سکول آف کمیونزم میں شریک کامریڈز نے کشمیر کے عوام کے کو بین الاقوامی یکجہتی کا پیغام ان الفاظ میں بھیجا کہ ہم اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے عوام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔

پارس نے مزید کہا: ”جب عوام متحرک ہو جاتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔“ لیکن کشمیر میں بھی، جیسا کہ ہر انقلاب میں ہوتا ہے، ”انہیں ایسی قیادت کی بھی ضرورت ہے جو انہیں فتح تک لے جا سکے اور اس وقت کشمیر میں یہی چیز موجود نہیں ہے۔“
ہماری فوری ذمہ داری دنیا کے ہر ملک میں ایسی قیادت کی تعمیر کرنا ہے۔
اس کے لیے مواد کی کوئی کمی نہیں۔ ہر جگہ کمیونسٹ نظریات کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر، ریولوشنری کمیونسٹس آف امریکہ کے انتونیو بالمر نے ایک سروے کا حوالہ دیا، جس کے مطابق 21 فیصد امریکی عوام کمیونزم کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح 38 فیصد ہے۔ اور یہ سب اُس ملک میں ہو رہا ہے جو ’سرخ خوف‘ (Red Scare) کے مرکز، یعنی ’دشمن کے دل‘ میں واقع ہے!
نظریات کی طاقت
جنگ، انقلاب اور ردِ انقلاب کے اس عہد میں، یہ بات شاید حیران کن لگے کہ کمیونسٹ فن، فلسفے اور تاریخ جیسے موضوعات پر سیاسی بحث و مباحثے کے لیے ایک پورا ہفتہ مختص کریں۔
ایلن نے ورلڈ سکول کا موازنہ پہلی عالمی جنگ کے دوران لینن کے ہیگل کے عمیق مطالعے سے کیا۔ انہوں نے کہا:
”لینن کیا کر رہا تھا؟ وہ جدلیات اور مارکسی فلسف کا مطالعہ کر کے اپنے ہتھیاروں کو تیز کر رہا تھا۔ اور آپ کو بھی اس کی مثال کی پیروی کرنی چاہیے۔“
اس پورے ہفتے کے دوران ہونے والے 20 سے زائد سیشنز میں مارکسی نظریے کے تقریباً تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ ’کثیر قطبیت اور مارکسزم: کمیونسٹ سامراجیت کے خلاف کیسے لڑتے ہیں‘ اور ’1929ء اور عظیم کساد بازاری‘ جیسے سیشنز نے کامریڈز کو ان اہم سوالات کے جوابات دینے کے لیے تیار کیا جو آج نوجوان انقلابیوں کے ذہنوں میں جنم لے رہے ہیں۔
لیکن ’مارکسزم اور فن‘ اور ’شوستاکووِچ: روسی انقلاب کی موسیقی کی آواز‘ جیسے دیگر سیشنز کا مقصد نئے اور پرانے کمیونسٹوں کو انسانی ثقافت کے ان خزانوں سے روشناس کرانا تھا جو آج ایک اقلیت تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایلن نے ’مارکسزم اور فن‘ پر اپنی گفتگو کا اختتام ان الفاظ میں کیا:
”ہمیں تنگ نظر نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے پورے دل اور اپنی پوری روح کے ساتھ تمام انسانی ثقافت اور تمام انسانی زندگی کو اپنانا چاہیے۔ ہمیں اپنی نگاہیں اس عظیم مقصد کی جانب بلند کرنی چاہئیں یعنی پرولتاریہ کی حتمی فتح اور ایک ایسی عالمی کمیونسٹ برادری کا قیام، جس میں فن اور ثقافت بالآخر پوری عوام کی ملکیت بن جائیں گے۔“
سکول میں تاریخ کے اہم سوالات پر بھی بحث کی گئی۔ جب ٹرمپ نے موٹر سائیکلوں کے مظاہروں اور ریسلنگ مقابلے کے ذریعے امریکہ کی 250ویں سالگرہ منائی، تو RCA نے اس انقلابی ایونٹ کو دوبارہ اجاگر کرتے ہوئے جشن منایا، جسے امریکی حکمران طبقے نے طویل عرصے سے مسخ کر کے پیش کیا ہے۔ RCA کے رہنما رکن جان پیٹرسن نے اپنی کتاب ’امریکہ میں انقلاب اور ردِ انقلاب: ایک مارکسی تناظر‘ متعارف کروائی۔
اور یہ کوئی حیرانی کی بات بھی نہیں ہے کہ امریکی سیکشن نے پورے ہفتے کے دوران اس کتاب کی 100 سے زائد کاپیاں فروخت کیں۔
اسی طرح، بین گلینسکی نے برطانیہ کی عام ہڑتال پر گفتگو کی، جو آج سے 100 سال قبل برطانیہ کو تقریباً انقلاب کے دہانے تک لے آئی تھی۔ جبکہ برطانوی حکمران طبقے نے محنت کش طبقے کی تاریخ کے اس فیصلہ کن لمحے کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا ہے، ہم کمیونسٹ اس تاریخ کو اپنا حق سمجھتے ہوئے دوبارہ سامنے لا رہے ہیں۔ ان کی کتاب ’برطانیہ کی عام ہڑتال کی ایک کمیونسٹ تاریخ‘ کی تمام کاپیاں فروخت ہو
گئیں!
ہفتے کے اہم ترین سیشنز میں سے ایک ’لینن اور ٹراٹسکی: وہ درحقیقت کس نظریے کے لیے لڑے؟‘ کے موضوع پر تھا، جسے نکلاس البِن سوینسن نے پیش کیا۔ یہ سیشن ایلن ووڈز اور ٹیڈ گرانٹ کی اسی نام کی کتاب کی دوبارہ اشاعت کے موقع پر منعقد کیا گیا، جو انٹرنیشنل بک سٹور ویل رِڈ بکس (Wellred Books) سے خریدی جا سکتی ہے۔
یہ کتاب پہلی بار 1969ء میں ان نوجوان کمیونسٹوں تک رسائی کے لیے شائع کی گئی تھی جو سٹالن ازم سے مایوس ہو چکے تھے۔ کتاب نے لینن اور ٹراٹسکی کے حقیقی نظریات کو نہایت عمدگی سے دوبارہ سامنے رکھا ہے، جنہیں طویل عرصے سے بری طرح مسخ کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی دوبارہ اشاعت اس سے زیادہ مناسب وقت پر نہیں ہو سکتی تھی، کیونکہ یہ ہمارے ماضی کی بہترین روایات کو مستقبل کے عظیم کاموں سے جوڑتی ہے۔ کامریڈز اس کتاب کو حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھے اور یہ پورے ہفتے کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ثابت ہوئی۔
یہ تو صرف ایک جھلک ہے۔ کوئی بھی رپورٹ سکول میں زیر بحث آنے والے نظریات کی مکمل وسعت کا احاطہ نہیں کر سکتی۔
تاہم، سکول میں مارکسی نظریے کے لیے پیدا ہونے والی دلچسپی کا اندازہ لگانے کے لیے صرف ایک مثال کافی ہے کہ RCI کے اشاعتی ادارے Wellred Books نے شرکاء کو 5900 یوروز کی مالیت کا انقلابی لٹریچر فروخت کیا۔ یہ رقم گزشتہ دو برسوں کے دوران Wellred کی مجموعی فروخت سے بھی زیادہ ہے اور گزشتہ سال کی ورلڈ کانگریس میں جمع ہونے والی رقم سے تقریباً 25 فیصد زیادہ ہے۔
تاریخ کے دھارے کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے
آخری روز، RCI کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے بین کری نے ایک پُرجوش رپورٹ پیش کی، جس میں انہوں نے اس سال اب تک انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل (RCI) کی بڑھوتری اور تیز رفتار ترقی کا جائزہ پیش کیا۔
اس سال کا ورلڈ سکول ماضی کے سکولوں سے معیاری طور پر مختلف تھا۔ بین نے وضاحت کی کہ جیسے جیسے عالمی واقعات ناگزیر طور پر انقلاب کی سمت بڑھ رہے ہیں اور یہ تبدیلی ہمارے طبقے کے شعور میں بھی اپنا اظہار کر رہی ہے، ہم بھی تاریخ کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
2023ء میں RCI نے کمیونزم کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان، خصوصاً نوجوانوں میں اس کی درست طور پر شناخت کی۔ اُس وقت، جب ہم نے ’کیا آپ کمیونسٹ ہیں؟‘ مہم کا آغاز کیا اور ببانگ دہل کمیونزم کا پرچم بلند کیا، تو ہمارے ساتھ 4400 کامریڈز تھے۔ آج، RCI کے بین الاقوامی کامریڈز کی تین سالہ مسلسل محنت کے بعد، ہماری تعداد 8700 ہو چکی ہے۔
2024ء میں RCI کے آغاز کے بعد سے ہمارے 15 سیکشنز میں 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، سات سیکشنز میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ تین سیکشنز کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ ان میں سے ایک میکسیکو کا سیکشن اپنی تعداد میں تین گنا اضافہ کر چکا ہے۔ درحقیقت، 2021ء میں 111 کامریڈز سے بڑھ کر آج ہم 630 ہو چکے ہیں۔ جب بین نے میکسیکو میں آج کی رکنیت کی تعداد بتائی تو سامعین میں موجود ایک میکسیکن کامریڈ نے تصحیح کرتے ہوئے تعداد 650 بتائی جو میکسیکن سیکشن کی تیز رفتار ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
اس کا راز کیا ہے؟ جیسا کہ RCI کے آئرش سیکشن سے آندریا نے وضاحت کی، جو گزشتہ تین برسوں میں 11 سے بڑھ کر 82 کامریڈز تک پہنچا ہے، اور جن کے الفاظ پوری انٹرنیشنل پر صادق آتے ہیں:
”اس میں کوئی خاص نسخہ نہیں ہے، یہ معروضی حالات ہیں جو ہزاروں نوجوانوں کو کمیونزم کی سمت دھکیل رہے ہیں۔ اور جب اس کے ساتھ مارکسی نظریے اور تناظر پر توجہ، نوجوانوں کی جانب ایک جرات مندانہ رجحان اور اپنے لیے مقرر کیے گئے تمام اہداف حاصل کرنے کا عزم شامل ہو جاتا ہے، تو یہی وہ چیز ہے جو آئرلینڈ میں آر سی آئی کی تعمیر کر رہی ہے۔“
لیکن ہم صرف ایک بڑی تنظیم تعمیر کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ہمارے اہداف بہت بڑے ہیں۔ جیسا کہ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے حمید علی زادہ نے وضاحت کی: ”ہم عالمی کمیونسٹ تحریک کی قیادت کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں!“

پہلے ہی ہمارے کامریڈز عظیم طبقاتی لڑائیوں میں شامل ہو رہے ہیں جیسے منیاپولس کے کامریڈز، جنہوں نے ICE کے خلاف ہونے والی عام ہڑتال میں مداخلت کی، یا پاکستانی سیکشن، جو حمید کی وضاحت کے مطابق کشمیر میں ”انقلاب اور ردِ انقلاب کے اس طوفان کے دوران اپنی تنظیم تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔“
ہمارا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ نئے اور نوجوان کمیونسٹ تحریک میں شامل ہونے والے سینکڑوں افراد کو بالشویک انقلابیوں کی طرح پیشہ ور، تربیت یافتہ انقلابیوں میں تبدیل کیا جائے۔
ایسا کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے؛ کامریڈز کو مارکسزم کے انقلابی نظریات سے مسلح کیا جائے۔ یہی مجموعی نقطہ نظر سکول میں جوش و جذبے کا باعث بنا۔ اور یہ محض حکمتِ عملی اور حربوں کا محدود سوال نہیں ہے۔ جیسا کہ بین نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر نہایت مؤثر انداز میں وضاحت کی:
”ہم میں سے ہر ایک کو تاریخ سے جوڑنے والا ایک دھارا موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں دوسری ڈوریں بھی ہیں، جو مل کر ایک پورا نقش و نگار بناتی ہیں۔ مارکسزم محض سیاست اور طبقاتی جدوجہد تک محدود نہیں ہے۔ اس میں فن، شاعری اور ادب بھی شامل ہیں۔ سائنس، قدیم تاریخ اور فلسفہ بھی۔ انسانی علم اور تجربے کا ہر شعبہ اس کا حصہ ہے۔ پارٹی میں نئی جان ڈالنے اور حقیقی کیڈرز تیار کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ نظریات کے مباحث کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے۔“
ان نظریات کی بنیاد پر، دنیا بھر میں RCI کے مختلف گروہ اور سیکشنز مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
ذمہ داری پوری کرنے کے لیے ابھرنا
حالات عالمی انقلاب کے لیے تیار ہو رہے ہیں، ہم بھی تیاری کر رہے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ ایک طرف عالمی واقعات کے حوالے سے، کیونکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر جیسی تحریکیں مستقبل میں ہر ملک میں ابھریں گی اور دوسری طرف اس حوالے سے کہ اگر ہمیں وہ کردار ادا کرنا ہے جس کا ہم نے عزم کیا ہے، تو RCI کے طور پر ہمیں ابھی بہت کچھ حاصل کرنا ہو گا۔

اگر اس سال کے ورلڈ سکول سے ایک بات اخذ کی جا سکتی ہے تو وہ یہ ہے: تاریخ ہمیں چیلنج دے رہی ہے۔ وہ انقلابیوں کے سامنے ایک عظیم ذمہ داری رکھ رہی ہے، ایک ایسی قیادت تشکیل دینے کی ذمہ داری جو دنیا کو فتح کرنے، سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرنے اور ایک سوشلسٹ مستقبل کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ RCI اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
حمید نے ہفتے کے اختتام پر بائیں بازو کی اپوزیشن کے ان ٹراٹسکائٹس کی داستان بیان کی جنہوں نے کمیونزم کے مقصد کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ اُس وقت ان کے نظریات کی پیش قدمی کو سٹالن نوازوں نے پُرتشدد طریقے سے روک دیا تھا۔ لیکن آج آپ ایک بار پھر انقلابی کیمونسٹ انٹرنیشنل (RCI) کے ذریعے ان کی پیش قدمی کی آواز سن سکتے ہیں، حمید نے بتایا:
”ہماری پیش قدمی ابھی اتنی طاقتور نہیں ہے کہ سب کچھ اپنے راستے میں بہا لے جائے۔ لیکن ہماری آواز یقیناً پہلے سے زیادہ بلند ہے اور اب ہم دھارے کے خلاف مارچ نہیں کر رہے۔ اس سکول کا کام یہ ہے کہ ہمیں وہ ضروری نظریات اور تحریک فراہم کرے جو ہماری کوششوں کو دوگنا کرنے اور اپنے راستے پر آگے بڑھتے رہنے کے لیے درکار ہیں۔ اس یقین اور پختہ عزم کے ساتھ کہ ہمارے نظریات کا وقت آ چکا ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم بڑھیں گے اور ہماری پیش قدمی اتنی طاقتور ہو جائے گی کہ اسے روکا نہیں جا سکے گا۔ اور ہم تاریخ کا انتقام لیں گے، صرف بالشویکوں اور بائیں بازو کی اپوزیشن کے لیے نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی جنہیں طبقاتی معاشرے کی قربان گاہ پر قربان کر دیا گیا۔
”کامریڈز، ہمارا وقت آ رہا ہے۔ آئیے اپنی پوری قوت کے ساتھ اس کی جانب بڑھیں۔ کیونکہ مستقبل ہمارا ہے۔“