1947ء خونی بٹوارے کے رِستے زخم۔۔حل کیا ہے؟

برطانوی راج کو برصغیر سے رخصت ہوئے 79 سال گزر چکے ہیں، لیکن آج بھی پاکستان اور بھارت میں آزادی کا جشن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب دونوں ممالک میں محنت کش عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر جدوجہد کر رہے ہیں اور ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت نام نہاد آزاد کشمیر میں ایک عظیم الشان عوامی تحریک جاری ہے، جسے کچلنے کے لیے پاکستانی ریاست کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ اسی مہینے بلوچستان کے شہر سوراب میں فوجی طیاروں کی بمباری سے عام شہریوں کو قتل کیا گیا، جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے، جبکہ اسلام آباد کے قریب بری امام کے علاقے میں ہزاروں محنت کش عوام کے گھروں کو مسمار کر کے انہیں بے دخل کر دیا گیا۔

بھارت میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں۔ حالیہ دنوں میں دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج سے لے کر مشرقی پنجاب میں کسانوں کے زرعی مسائل کے خلاف احتجاج، جھاڑکھنڈ میں طلبہ کی جدوجہد، گریٹر نوائیڈا میں صنعتی ورکرز کے اجرتوں میں اضافے کے لئے ہونے والے احتجاج، کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے خلاف ہزاروں لوگوں کے احتجاج اور منی پور کی احتجاجی تحریکوں تک، مختلف طبقات کے محنت کش عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں کو اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیے جانے کا خطرہ درپیش ہے۔ یوں پچھلے چند ماہ کے دوران بھارت کی کم از کم 10 مختلف ریاستوں میں محنت کش عوام، کسان اور طلبہ سڑکوں پر نکلے ہیں، جنہیں ریاستی مشینری کی جانب سے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پیلٹ گنز سمیت مختلف طریقوں سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایسے ماحول میں دونوں ممالک کے ٹی وی چینلز پر آزادی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں، سرکاری عمارات کو سجایا جا رہا ہے اور قومی جشن کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ لیکن جس آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے، اس کے پس منظر میں برصغیر کی تقسیم کے دوران 20 لاکھ انسانوں کا قتلِ عام ہوا تھا۔ جب 1947ء کے اس خونی قتلِ عام کو محض جشن کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ جشن منانے والے کون ہیں؟ دراصل یہ دونوں ممالک کے حکمران طبقات اور سرمایہ دار ہیں، جنہوں نے برطانوی سامراج کے ساتھ مل کر برصغیر میں استحصال، جبر اور قتلِ عام کی تاریخ رقم کی، اور گزشتہ 79 سال سے اسی آزادی کو اپنے اقتدار اور مفادات کے جشن کے طور پر پیش کرتے آ رہے ہیں۔

اس آزادی کا سب سے بڑا فائدہ بھارت میں امبانی اور اڈانی جیسے سرمایہ داروں کو پہنچا، جبکہ پاکستان میں بھی مقامی سرمایہ داروں،بڑے زمینداروں اور سول و فوجی ریاستی اشرافیہ نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ حبیب گروپ سے لے کر میاں منشا اور ملک ریاض جیسے سرمایہ دار، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور سول و عسکری قیادتیں، سب اسی معاشی اور سیاسی نظام سے مستفید ہوئی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل لاہور ہائیکورٹ کے سامنے نیسلے کے ایک مزدور کا خود کو آگ لگا لینا بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ محنت کش عوام کی محنت کی لوٹ سے منافع کمانے والی کمپنیوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ مزدوروں کا استحصال کریں، جبکہ محنت کش پہلے ہی مہنگائی کے مقابلے میں اپنی اجرتوں کو مسلسل گرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں ہمیشہ یہ سبق دیا جاتا رہا ہے کہ برصغیر نے برطانوی سامراج سے آزادی مقامی حکمران طبقات، کانگریس، مسلم لیگ اور ان کی قیادت کی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کی۔ پاکستان کے قیام کو بالخصوص ہندو مسلم مذہبی تفریق کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے، گویا برصغیر کی تقسیم اور آزادی محض دو مذہبی گروہوں کے درمیان ایک”ناگزیر“ تنازع کا نتیجہ تھی۔ لیکن اگر ہم 1947ء سے پہلے کی دہائیوں کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ مقامی حکمران طبقات کا ایک بڑا حصہ برطانوی سامراج کے ساتھ سمجھوتے اور تعاون کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا رہا، جبکہ دوسری جانب محنت کشوں، کسانوں اور طلبہ کی ابھرتی ہوئی جدوجہد کو دبانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتا رہا۔

20ویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں طبقاتی جدوجہد اپنی عروج پر تھی۔ تحریکوں میں اس قدر شدت پیدا ہونے لگی کہ مقامی رہنماؤں کا ان پر قابو ختم ہونے لگا اور واضح نظر آنے لگا کہ اگر یہ جدوجہد اپنی منطقی انتہا تک پہنچتی ہے تو یہ صرف برطانوی سامراج کو ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں موجود مقامی سرمایہ دار طبقے اور اشرافیہ کو بھی چیلنج کرے گی۔ 1917ء کا روسی انقلاب اور پہلی جنگِ عظیم میں شریک ہندوستانی فوجیوں کے واپس لائے ہوئے تجربات اس سلسلے میں ایک گہرا اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئے۔ ہندوستانی فوجیوں نے یورپ کے محاذوں پر بالشویک انقلاب کے قصے سنے اور برطانوی فوج کے ان گورے سپاہیوں کے ساتھ میل جول رکھا جو دراصل انہی کی طرح محنت کش تھے اور فوجی وردی پہنے ہوئے تھے۔ ان تجربات کے نتیجے میں جہاں ایک طرف ہندوستانی عوام انگریز سامراج کی جانب سے مسلط کردہ احساس کمتری سے باہر آنے لگے وہیں انقلاب روس کے اثرات کے تحت پورے ہندوستان میں سوشلسٹ نظریات اور انقلابی امنگ زور پکڑنے لگی۔

اس خطرے سے بچنے کے لیے مقامی سرمایہ دار طبقہ اور برطانوی سامراجی حکمران مل کر ان تحریکوں کو زائل کرنے کی کوشش کرتے رہے جہاں سے ان کے مفادات کو خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ راج کے دور سے ابھرنے والا ہندوستانی سیاسی نظام برطانوی پارلیمانی نظام کی طرز پر قائم کیا گیا تھا اگرچہ یورپ کے برعکس یہاں اس کی بنیاد کسی بورژوا جمہوری انقلاب کی بجائے برطانوی نوآبادیاتی قبضے پر قائم تھی۔ ہندوستانی سیاست دانوں کی نئی نسل میں سابق حکمران خاندانوں کے افراد کے ساتھ ساتھ متوسط اور انگریز راج کے زیر سایہ ابھرنے والے نئے حکمران طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔ یہ لوگ برطانوی جامعات، بالخصوص آکسفورڈ اور کیمبرج، میں تعلیم یافتہ تھے اور انہیں برطانوی رسوم و رواج اور ثقافت کی تعلیم دی گئی تھی۔

انڈین نیشنل کانگریس ہندوستانی اشرافیہ پر برطانوی ذہنی تربیت اور اثراندازی کی سب سے مکمل پیداوار تھی۔ مؤرخین کولنز اور لاپیئر اسے یوں بیان کرتے ہیں:”ایک باوقار انگریز سول سرونٹ نے 1885ء میں کانگریس کی بنیاد رکھی۔ وائسرائے کی حمایت اور منظوری کے ساتھ، آکٹوین ہیوم نے ایسی تنظیم قائم کرنے کی کوشش کی جو ہندوستان کے بتدریج بڑھتے ہوئے تعلیم یافتہ طبقات کے احتجاج کو ایک ایسے معتدل اور ذمہ دار ادارے میں منتقل کر دے، جو ہندوستان کے انگریز حکمرانوں کے ساتھ شائستہ اور مہذب انداز میں بات چیت کے لیے تیار ہو۔“

1920ء میں کانگریس ٹیکسٹائل مزدوروں کی ایک ہڑتال کے خلاف سامنے آ گئی، کیونکہ متعلقہ کارخانوں کے مالکان پارٹی کو بھاری مالی عطیات دیتے تھے۔ خود گاندھی کے ہڑتالوں کو ”بالشویک طرز کی لاقانونیت“ قرار دینے کے حوالے موجود ہیں۔ اس کے برعکس عوامی تحریکیں بارہا یہ ثابت کر رہی تھیں کہ ہندوستانی محنت کش محض محدود سیاسی اصلاحات نہیں بلکہ حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ ہندوستانی بورژوازی نے عوام کی جدوجہد کو ہمیشہ برطانوی حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات اور سودے بازی کے لئے استعمال کیا اور ابتدا ہی سے اس جدوجہد کو انقلابی طبقاتی سمت دینے سے گریز کیا۔

محمد علی جناح، جنہیں پاکستان کے قیام کا بانی قرار دیا جاتا ہے، کانگریس کے عام رہنماؤں سے بنیادی طور پر مختلف نہیں تھے؛ فرق یہ تھا کہ جناح مسلمان سرمایہ دار اور نوزائیدہ تنخواہ دار متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے تھے۔ کانگریس کی طرح جناح نے بھی برطانیہ سے مکمل علیحدگی کا حقیقی طور پر کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ اپریل 1947ء میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوران جناح نے کہا تھا:”مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ آپ مجھے کتنا کم دیتے ہیں، بس یہ مکمل طور پر دیں۔ میں آپ کے سامنے کوئی نامناسب تجویز پیش نہیں کرنا چاہتا، لیکن آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نیا پاکستان تقریباً یقینی طور پر برطانوی سلطنت کے اندر ڈومینین اسٹیٹس (Dominion Status) کا مطالبہ کرے گا۔“

حقیقت میں 1940ء تک جناح اور یہاں تک کہ مسلم لیگ کے سخت گیر رہنما بھی پاکستان کے قیام کے خیال کو مسترد کرتے رہے تھے۔ ایک پارلیمانی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں جناح سمیت مسلم رہنماؤں نے ایک علیحدہ مسلم ریاست کے تصور کو ”صرف ایک طالب علم کا منصوبہ، خیالی اور ناقابلِ عمل“ قرار دیا تھا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے جناح کا بنیادی مؤقف اچانک تبدیل نہیں ہوا تھا، بلکہ پاکستان کے قیام کا موقع ہندوستان کی آزادی کے قریب آنے تک حقیقتاً پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ ابتدا میں یہ موقع نہرو،پٹیل اور دیگر کانگریس قیادت کی 1946 ء میں کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے دکھائی جانے والی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں سامنے آیا، لیکن بعد میں برطانوی حکومت اور مقامی حکمران اشرافیہ کی باہمی رضامندی اور کوششوں سے اسے حتمی شکل دی گئی۔ برطانیہ کے بنیادی مقاصد اپنے مفادات کا تحفظ کرنا تھے: سب سے پہلے بالشویزم کے خطرے کا مقابلہ کرنا اور اس کے بعد آزادی کے بعد بھی اپنی سامراجی لوٹ مار کے مفادات کو یقینی بنانا۔

گاندھی سامراج کے مصالحت کار تھے اور وائسرائے حضرات کے ساتھ ان کے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے تھے۔ ایک طویل عرصے تک ان کا مؤقف تھا کہ سامراجی قبضے کو ختم کرنے کے بجائے اس میں ”اصلاحات“ لانے کے لیے جدوجہد کی جائے۔ گاندھی کی سیاست کا ایک سنگین پہلو گڑھوال رائفلز کے واقعے میں سامنے آیا۔ 1922ء میں ہندو سپاہیوں نے مسلمانوں کے ایک سامراج مخالف مظاہرے پر فائر کھولنے سے انکار کر دیا۔ لیکن عدم تشدد کے نام نہاد پرچارک گاندھی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا:”جب کوئی سپاہی فائر کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اپنے حلف سے غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ میں کبھی سپاہیوں کو افسروں کے احکامات سے سرتابی کا مشورہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اگر کل میں حکومت بناتا ہوں تو مجھے انہی سپاہیوں اور افسروں کو استعمال کرنا ہوگا۔ اگر آج میں انہیں کسی حکم کی نافرمانی کا مشورہ دوں گا تو کل وہ بھی میرے احکامات ماننے سے انکار کر سکتے ہیں۔“

برطانوی راج کے دوران بربریت کے بہت سے واقعات پیش آئے، جن میں سب سے بدنام امرتسر کے جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام تھا۔ اس حملے میں 1516 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ جنرل ڈائر نے متاثرین کو طبی امداد فراہم کرنے سے بھی انکار کیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی چیز اس کی نام نہاد ”فوجی فتح“ کو کم تر ثابت کرے۔اس وقت گاندھی نے متاثرین کے بارے میں کہا تھا:”وہ نہ شہید تھے اور نہ ہی ہیرو۔“

جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام برطانیہ اور ہندوستان کے تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس کے بعد ہندوستان میں سامراج مخالف جذبات مزید شدت اختیار کرتے گئے اور تحریکیں اس حد تک پھیلنے لگیں کہ برطانوی سامراج اور ہندوستانی بورژوا قیادت دونوں کے لیے خطرے کی صورت اختیار کرنے لگیں۔ گاندھی کی قیادت میں چلنے والی تحریکیں عوامی دباؤ کے نتیجے میں وسیع ہوئیں، لیکن جب یہ تحریکیں کانگریسی قیادت کے قابو سے باہر ہونے لگیں تو انہیں روکنے اور واپس لینے کی پالیسی اختیار کی گئی۔ وائسرائے لارڈ ولنگڈن نے بھی گاندھی سے متعلق لکھا:”آج میری گاندھی کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی اور ہم نے کئی برس پرانی اپنی شناسائی کو دوبارہ تازہ کیا۔ وہ اپنے عروج پر تھے، انتہائی دوستانہ رویہ رکھتے تھے اور میرے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بے حد پُرجوش تھے۔ درحقیقت کسی شخص کے لیے اس سے زیادہ مددگار بننے کی خواہش رکھنا ممکن نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسی شخص نے سول نافرمانی کی یہ تحریک کھڑی کی ہے اور اب مجھے شدید خدشہ ہے کہ وہ خود بھی اس پر قابو نہیں رکھ سکتے۔“

انقلاب روس کے قائد لیون ٹراٹسکی نے 1930ء کی دہائی میں گاندھی پر اپنا مؤقف اس طرح بیان کیا:”ہندوستان میں کروڑوں لوگوں کے اندر بے چینی اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنے طریقوں سے اپنی طاقت کا ایسا مظاہرہ کیا ہے کہ قومی سرمایہ دار طبقہ خاموش ہو گیا ہے۔ یہ سرمایہ دار طبقہ بڑی بے دلی کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہوا ہے، اور اس کا بنیادی مقصد انقلابی تحریک کی ابھرتی ہوئی لہر کو کند کرنا ہے۔ گاندھی کی کمزور، جامد اور سست رفتار مزاحمتی تحریک ایسی زنجیر ثابت ہوئی جس نے چالاک لبرل سرمایہ دار طبقے کے فریب اور غداری کے ذریعے معصوم اور منتشر چھوٹے بورژوا طبقے کو قابو میں کر لیا۔ جتنا زیادہ گاندھی اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہوں گے، اتنا ہی زیادہ وہ باغی عوام کو قابو میں رکھیں گے اور اتنا ہی زیادہ اپنے آقاؤں کے مفادات کے آلہئ کار بن جائیں گے۔“

بعد میں ٹراٹسکی لکھتے ہیں:”ہمیں نوآبادیاتی عوام کے سامنے گاندھی ازم کی غداری اور فریب کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ گاندھی ازم کا بنیادی مقصد عوام کے اندر بھڑکتی ہوئی انقلابی آگ کو ٹھنڈا کرنا اور قومی سرمایہ دار طبقے کے محدود مفادات کی خاطر ان کے استحصال کو جاری رکھنا ہے۔“

اس کے برعکس اس پوری جدوجہد میں بھگت سنگھ کا نام ایسا ہے جو آج بھی درخشاں ستارے کی مانند زندہ ہے اور جس کے نظریات انقلابیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہزاروں لوگوں نے آزادی کی جدوجہد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، لیکن بھگت سنگھ اس لیے منفرد ہے کہ اس نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو محض قومی آزادی کی حدود تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک واضح طبقاتی اور سوشلسٹ پروگرام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔

بھگت سنگھ کی انقلابی فکر کو سمجھنے کے لیے 1917ء کے روسی انقلاب کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں بالشویک انقلاب نے پہلی مرتبہ محنت کش طبقے کو اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے اور ایک مزدور ریاست قائم کرنے کا تجربہ دیا۔ اس کے اثرات پوری دنیا کی نوآبادیاتی اور محکوم اقوام کی تحریکوں پر پڑے اور ہندوستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ہندوستان کی نوجوان نسل میں مارکسزم، سوشلزم اور بالشویک انقلاب کے نظریات تیزی سے مقبول ہونے لگے۔ بھگت سنگھ اسی عالمی انقلابی لہر سے متاثر ہونے والی نسل کا اہم نمائندہ تھا۔

بھگت سنگھ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں مارکس، لینن اور سوشلسٹ نظریات کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس کے نظریاتی ارتقا کا اظہار اس کی ڈائری، مختلف تحریروں اور جیل سے لکھے گئے خطوط میں واضح طور پر ملتا ہے۔ اس کا انقلابی سفر اس مقام تک پہنچا جہاں قومی آزادی کا سوال سماجی اور طبقاتی انقلاب کے سوال سے جڑ گیا۔ اسی نظریاتی تبدیلی کا اظہار ”ہندوستان ریپبلکن ایسوسی ایشن“کے نام کو”ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن“میں تبدیل کرنے سے بھی ہوتا ہے۔ یہ محض نام کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس بات کا اظہار تھا کہ انقلابی جدوجہد کا مقصد صرف برطانوی سامراج کو ہندوستان سے نکالنا نہیں بلکہ ایک سوشلسٹ سماج کا قیام بھی تھا، جہاں گورے حکمرانوں کے ساتھ مقامی بھورے حکمرانوں کو بھی رد کیا جائے گا۔

2 فروری 1931ء کو جیل سے نوجوان سیاسی کارکنوں کے نام لکھے گئے اپنے مشہور پیغام میں بھگت سنگھ نہ صرف موجودہ تحریک اور اس کی قیادت پر تنقید کرتا ہے بلکہ مستقبل کی انقلابی جدوجہد کے لیے ایک واضح تنظیمی اور سیاسی لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔ وہ انقلابیوں کو لینن کے پورے سیاسی کام کا مطالعہ کرنے اور سمجھوتوں و انقلابی حکمتِ عملی کے سوال پر لینن کی تحریروں سے رہنمائی حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

بھگت سنگھ کے لیے انقلاب محض حکومت کی تبدیلی یا انگریز حکمرانوں کی جگہ ہندوستانی حکمرانوں کے آنے کا نام نہیں تھا۔ وہ انقلاب کو موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور ایک سوشلسٹ نظام کے قیام سے جوڑتا تھا۔ اسی لیے وہ واضح طور پر کہتا ہے کہ حقیقی انقلابی قوتیں دیہاتوں اور فیکٹریوں میں موجود ہیں، یعنی کسان اور مزدور۔ اس کے نزدیک ہندوستانی بورژوا قیادت ان قوتوں کو مکمل طور پر متحرک کرنے سے اس لیے گریز کرتی ہے کہ محنت کش عوام کی حقیقی طبقاتی بیداری صرف برطانوی سامراج کے ہی نہیں بلکہ مقامی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے بھگت سنگھ ایک منظم انقلابی پارٹی کو ناگزیر سمجھتا تھا؛ ایسی پارٹی جو واضح نظریات، سیاسی تربیت اور سخت نظم و ضبط رکھنے والے کارکنوں پر مشتمل ہو۔ وہ لینن کے تصورِ ”پروفیشنل انقلابیوں“ کا حوالہ دیتے ہوئے ایسے کارکنوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے جو اپنی پوری زندگی انقلابی جدوجہد کے لیے وقف کر دیں۔ محض جوش، جذبات یا قربانی کافی نہیں، انقلاب کے لیے نظریاتی طور پر مسلح، منظم اور مستقل مزاج انقلابی کارکنوں کی ضرورت ہے۔ 1914-15ء کی غدر پارٹی کی ناکامی سے بھی وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ محض انقلابی جذبہ کافی نہیں، عوام کے درمیان منظم سیاسی کام، شعور اور حمایت پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے۔

برطانوی راج کے خلاف ہندوستان میں محنت کش عوام کی جدوجہد کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی سے لے کر جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام اور اس کے بعد اٹھنے والی تحریکوں تک، برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے۔ اس جدوجہد کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ ہندو، مسلمان اور سکھ ایک ہی مقصد کے لیے شانہ بشانہ لڑتے نظر آتے ہیں اور برطانوی سامراج کی ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کو بارہا چیلنج کیا گیا۔

اس کی ایک شاندار مثال 1946ء کی بحری بغاوت تھی، جب رائل ہندوستانی بحریہ کے جہازیوں نے برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔ اس بغاوت کا آغاز HMS Talwar نامی جہاز پر عملے کی ایک پُرامن بھوک ہڑتال سے ہوا، لیکن صرف 48 گھنٹوں کے اندر یہ بغاوت 78 بحری جہازوں اور خشکی پر موجود 20 فوجی اڈوں تک پھیل گئی، جہاں تقریباً 20,000 جہازی اس میں شامل ہو گئے۔ یہ محض بحریہ تک محدود بغاوت نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک بھر میں مزدوروں کی ہڑتالیں بھی شروع ہو گئیں۔

بغاوت کے دوسرے ہی روز جہازیوں نے ایک ہڑتال کمیٹی قائم کی۔ ایک مسلمان سگنل مین، ایم۔ ایس۔ خان، اور ایک سکھ پیٹی آفیسر، مدن سنگھ، کو متفقہ طور پر بالترتیب صدر اور نائب صدر منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب اس عہد کی طبقاتی وحدت اور مذہبی تقسیم کے خلاف ایک واضح سیاسی پیغام تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب برطانوی سامراج اور ہندوستان کی حکمران سیاسی قیادت مذہبی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرنے کی سیاست کو آگے بڑھا رہی تھی، مسلمان،ہندو اور سکھ جہازیوں کا ایک ہی ہڑتال کمیٹی کے تحت متحد ہونا اس تقسیم کے خلاف عملی جواب تھا۔

ہڑتال کمیٹی کی جانب سے جاری آخری پیغام اس بغاوت کے عزم اور تاریخی اہمیت کو واضح کرتا ہے،”ہماری بغاوت ہماری عوام کی زندگی میں ایک اہم تاریخی واقعہ تھی۔ پہلی مرتبہ وردی پوش اور غیر وردی پوش مزدوروں کا خون ایک ہی مشترکہ مقصد کے لیے ایک ہی دھارے میں بہا۔ ہم، وردی پوش مزدور، اسے کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ آنے والی نسلیں، اس کے اسباق سے سیکھتے ہوئے، وہ کامیابی حاصل کریں گی جسے ہم حاصل نہیں کر سکے۔ محنت کش عوام زندہ باد۔ انقلاب زندہ باد۔ انقلاب زندہ باد۔“

یہ بغاوت صرف برطانوی سامراج کے لیے ایک بڑا دھچکا نہیں تھی بلکہ ہندوستان کے مقامی سرمایہ داروں اور حکمران طبقات کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی تھی۔ پہلی مرتبہ یہ خطرہ واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ برطانوی راج کے ساتھ ساتھ وہ پورا طبقاتی نظام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے جس کے ذریعے ہندوستان کے محنت کش عوام کا استحصال جاری تھا۔ لیکن ایک باشعور انقلابی قیادت کی عدم موجودگی میں یہ جدوجہد بالآخر شکست سے دوچار ہوئی۔ برطانوی سامراج نے جہازیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے اپنی اسپیشل فورسز اور فضائیہ کو استعمال کیا، جبکہ کانگریس اور مسلم لیگ نے بھی سیاسی طور پر ان کے خلاف محاذ کھولا اور بغاوت کی مذمت کی۔نہرو نے کہا: ”جو کچھ ہوا ہے، اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ بمبئی جیسے ایک بڑے شہر میں سماج دشمن عناصر نے ایک صورتِ حال کا فائدہ اٹھایا۔ آج ہماری آزادی ہمارے بالکل قریب ہے۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے ہمارے اندر تمام خوبیاں موجود ہیں، لیکن میں اعتراف کرتا ہوں کہ ہمارے اندر وہ نظم و ضبط نہیں ہے جو ایک آزاد ملک کے لیے ضروری ہے۔“ سردار پٹیل نے بحریہ کی بغاوت کے بارے میں اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ استعمال کیے: ”صرف مٹھی بھر گستاخ، جذباتی اور پاگل نوجوان ان کارروائیوں کے ذریعے سیاست میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔“

یہ بیانات اس تضاد کو نمایاں کرتے ہیں جو برطانوی سامراج کے خلاف عوامی جدوجہد اور ہندوستانی بورژوا قیادت کے مفادات کے درمیان موجود تھا۔ ایک طرف محنت کش، کسان، طلبہ اور وردی پوش مزدور سامراجی اقتدار کے خلاف جدوجہد کو آگے بڑھا رہے تھے، جبکہ دوسری طرف کانگریس اور مسلم لیگ کی قیادت اس عوامی تحریک کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ یہ محض اقتدار کی منتقلی کے بجائے پورے طبقاتی نظام کے خلاف بغاوت کی شکل اختیار نہ کر لے۔ یہی طبقاتی کشمکش مزدور تحریک میں بھی مسلسل ابھر رہی تھی۔ 1919ء سے 1922ء کے دوران مزدوروں کی بغاوتی جدوجہد نے زور پکڑا، جبکہ 1926ء سے ایک دوسری اور زیادہ جنگجو بغاوت کا آغاز ہوا۔ 1927ء تک پورے ہندوستان میں 129 ہڑتالیں ہو چکی تھیں۔ صرف 1928ء سے 1929ء کے دوران 209 ہڑتالیں ہوئیں، جن میں ایک وسیع پیمانے کی عام ہڑتال بھی شامل تھی جو 26 اپریل سے 6 اکتوبر 1928ء تک جاری رہی، اس کے علاوہ 1930 میں ریلوے کی ہڑتالیں۔ ان جدوجہدوں میں ہندوستان کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مزدور، کسان اور طلبہ شریک تھے اور سب ایک ہی دشمن، یعنی برطانوی سامراج اور اس سے وابستہ مقامی سرمایہ دار طبقے، کے خلاف لڑ رہے تھے۔

برطانوی سامراج کے لیے ہندوستان پر مستقل قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم نے برطانیہ کو شدید کمزور کر دیا تھا اور ہندوستان میں عوامی مزاحمت مسلسل بڑھ رہی تھی۔ لیکن سامراج کی ترجیح صرف اقتدار چھوڑنا نہیں بلکہ ایسی منتقلی تھی جس میں برطانوی سرمایہ داری کے معاشی، سیاسی اور فوجی مفادات محفوظ رہیں۔ سب سے بڑا خطرہ ایک متحدہ محنت کش تحریک تھی، جس کا اظہار 1946ء کی بحری بغاوت میں ہوا، جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے سپاہی اور ساحلی صنعتی شہروں کے مزدور ایک مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہوئے۔

1946ء کے اواخر تک برطانوی حکمرانوں کے درمیان تقسیم کو اقتدار سے نکلنے کے ممکنہ منصوبے کے طور پر قبول کیا جا چکا تھا، لیکن اسے عملی طور پر نافذ کرنے کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں تھا۔ اس سے قبل تقسیم کے بغیر اقتدار کی مقامی سرمایہ دار طبقے اور اشرافیہ کو ”محفوظ“ منتقلی کے حوالے سے ہندوستان میں مختلف سفارتی مشنز بھیجے گئے لیکن یہ سب ناکام رہے تھے۔ 1946ء میں کابینہ مشن پلان سامنے آیا تھا، جو ہندوستان کو تین ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق میں رکھنے کی تجویز تھی، نہ کہ تین الگ ممالک بنانے کی۔ یہ منصوبہ کانگریس کے روایتی مؤقف کے قریب تھا، جو ہندوستان کے اتحاد کی حامی رہی تھی، اور مولانا آزاد کی قیادت میں کانگریس نے اسے قبول کر لیا۔ مسلم لیگ نے بھی کچھ تاخیر اور قانونی گارنٹیوں کے بعد اسے قبول کر لیا اور جناح نے اسے دستیاب بہترین سمجھوتہ قرار دیا۔

لیکن نہرو کا کانگریس کی قیادت میں آنا اس سمجھوتے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ مولانا آزاد، جو ہمیشہ تقسیم کے مخالف رہے تھے، نے خود نہرو کو کانگریس کا صدر بنانے کی حمایت کی تھی۔ بعد میں انہوں نے اپنی یادداشتوں میں اسے اپنی سیاسی زندگی کی”شاید سب سے بڑی غلطی“قرار دیا۔ آزاد کے مطابق نہرو ابتدا میں تقسیم کے سخت مخالف تھے، لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ اس مخالفت سے پیچھے ہٹ گئے۔ جولائی 1946ء میں نہرو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ کابینہ مشن پلان میں موجود مخصوص شقوں کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔نہرو کے بیان کے بعد جناح نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ہندوستان پر ہندو اکثریت کا اقتدار قائم ہوا تو کابینہ مشن پلان کے تحت ملنے والی خودمختاری کا احترام نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مسلمانوں کے لیے مکمل خودمختاری ضروری تھی تاکہ وہ ہندوؤں کے زیرِ تسلط نہ رہیں۔ یہی مؤقف مسلم لیگ کی جانب سے کابینہ مشن پلان کو مسترد کرنے کا جواز بنا۔

تاہم تقسیم پر رضامندی کی وجہ صرف نہرو کا بیان نہیں تھا۔ اس کے پیچھے مختلف طبقاتی مفادات کا بنیادی تصادم موجود تھا۔ بعد از عالمی جنگ برطانوی سامراج کی کمزوری کو بھانپ کر ہندوستانی سرمایہ دار طبقہ برطانوی اقتدار سے آزادی چاہتا تھا، لیکن مزدوروں اور کسانوں کی انقلابی تحریک کو سیاسی و معاشی اقتدار میں آتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ کانگریس کی قیادت پورے ہندوستان میں مرکزی اقتدار چاہتی تھی، جبکہ مسلم لیگ، مسلم سرمایہ داروں اور سیاسی اشرافیہ کے لیے ایک الگ ریاست میں اقتدار کی بنیاد حاصل کرنا چاہتی تھی۔

کانگریس کے اندر بھی تقسیم کے حامی مضبوط ہو گئے تھے۔ سردار پٹیل تقسیم کے سب سے سرگرم حامیوں میں شامل تھے اور نہرو ا سے پہلے ہی قبول کر چکے تھے۔ گاندھی بھی ابتدا میں ہندوستان کے اتحاد کے حامی تھے، لیکن ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ رابطوں کے بعد ان کا مؤقف بدلنے لگا۔ مولانا آزاد نے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ گاندھی اب بھی کھل کر تقسیم کے حامی نہیں تھے، لیکن وہ پہلے کی طرح اس کی سخت مخالفت بھی نہیں کرتے تھے اور پٹیل جیسے دلائل دہرانے لگے تھے۔ آخرکار کانگریس تقسیم قبول کرنے کی طرف چلی گئی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی میں قرارداد کے حق میں 29 اور مخالفت میں 15 ووٹ پڑے۔

تقسیم کا سب سے تباہ کن پہلو اس کے نفاذ کی عجلت تھی۔ برطانوی وزیرِاعظم ایٹلی نے اقتدار کی منتقلی کے لیے 15 ماہ مقرر کیے تھے، لیکن ماؤنٹ بیٹن نے اس مدت کو کم کر کے صرف 3 ماہ کر دیا۔ پاکستان کے قیام کے لیے 14 اگست 1947ء اور ہندوستان کی آزادی کے لیے 15 اگست مقرر کیا گیا۔ریڈکلف کو پنجاب اور بنگال کی سرحد کھینچنے کی ذمہ داری دی گئی، لیکن یہ سرحد”آزادی“ کے بعد ظاہر کی گئی۔حتمی سرحد کو خفیہ رکھنے سے صورتحال مزید خوفناک ہو گئی۔ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ ہندوستان میں رہ رہے ہیں یا پاکستان میں۔

لیکن اس پورے سانحے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ محنت کش طبقے کے پاس ایسی حقیقی انقلابی کمیونسٹ قیادت موجود نہیں تھی جو مذہبی اور قومی بنیادوں پر ہونے والی تقسیم کا مقابلہ طبقاتی اتحاد اور سوشلسٹ انقلاب کے پروگرام سے کر سکتی۔ ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا موجود ضرور تھی، لیکن اسٹالن ازم کی افسر شاہانہ نظریاتی زوال پذیری نے اسے ایک آزاد انقلابی راستہ اختیار کرنے کے بجائے مختلف اوقات میں کانگریس اور سامراج مخالف قومی تحریک کی بورژوا قیادتوں کے ساتھ سمجھوتوں،حتی کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران ”فاشزم کیخلاف جنگ“ کے نام پر برطانوی سامراج کی حمایت پر مبنی پالیسی کی طرف دھکیل دیا۔ آج کم لوگ ہی یہ جانتے ہیں کہ تقسیم سے کئی سال قبل 1942ء میں یہ سی پی آئی ہی تھی جس نے نام نہاد’ادھیکاری تھیسس‘کی صورت میں قومیت کی تشکیل میں مذہب کو شامل کرتے ہوئے مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہند کو نظریاتی جواز فراہم کیا تھا۔یہ ہندوستان میں اسٹالنزم کے وہ بدترین تاریخی جرائم ہیں جنہیں نہ تو کبھی فراموش کیا جا سکتا ہے اور نا ہی معاف۔ ہندوستانی محنت کش اور عوام بلاشبہ انقلاب کی جانب بڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے، لیکن مارکس ازم، لینن ازم اور ٹراٹسکی کے نظریات پر مبنی ایک حقیقی انقلابی پارٹی کی عدم موجودگی کے باعث محنت کش طبقہ ایسا نہ کر سکا اور انگریز سامراج اور مقامی سرمایہ دارانہ قیادتیں، جو عوام کے طبقاتی اتحاد سے خوفزدہ تھیں، مذہبی تقسیم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

برصغیر تقسیم ہو گیا، اس تقسیم نے ایک ایسے انسانی المیے کو جنم دیا جو آج تک اس خطے کے سینے پر ایک رستے ہوئے زخم کی طرح موجود ہے۔ ہزاروں سال کی مشترکہ تاریخ رکھنے والے انسانوں کے درمیان ایک نئی لکیر کھینچی گئی اور پنجاب و بنگال اس خونریز تقسیم سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ لاکھوں انسان قتل ہوئے، کروڑوں بے گھر ہوئے اور وہ غریب کسان جو کل تک ایک ساتھ زندگی گزارتے تھے، مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جدا کر دیے گئے۔ اپنے گھر، زمینیں اور مال مویشی چھوڑ کر لاکھوں خاندان زندگی بچانے کے لیے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی کشمیر کا سوال پیدا ہوا، جو آج تک پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مستقل تنازع اور پورے خطے کے حکمران طبقات کے لیے قوم پرستانہ سیاست کا اہم ذریعہ بنا ہوا ہے۔

آج کشمیر کی صورتحال اس المیے کی مسلسل کڑی ہے۔ بھارت میں 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے براہِ راست مرکزی انتظام کے تحت کر دیا گیا، جبکہ کشمیر میں سیاسی آزادیوں اور عوامی حقوق پر پابندیاں برقرار ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں بھی محنت کش عوام جب اپنے بنیادی معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ریاستی جبر کا سامنا کرتے ہیں۔ آج وہاں نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں۔ یوں دونوں جانب حکمران طبقات کشمیر کے عوام کی آزادی کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن خود کشمیری عوام کو اپنے سیاسی اور معاشی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔

یہ تضاد صرف کشمیر تک محدود نہیں۔ ہندوستان میں ناگا لینڈ سمیت مختلف خطوں میں قومی سوال آج بھی حل طلب ہے، جبکہ آسام، منی پور، جھاڑکھنڈ، چھتیس گڑھ اور دیگر علاقوں میں ریاستی جبر، فوجی کارروائیوں اور قومی و علاقائی محرومیوں کے سوالات موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی پشتونوں، بلوچوں اور دیگر قومیتوں کے ساتھ ریاستی جبر اور قومی نجات کا سوال پوری شدت کیساتھ موجود ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ 1947ء میں دو ریاستوں کے قیام نے برصغیر کے کسی مسئلے کو حل نہیں کیا بلکہ تمام مسائل کو بس نئی ریاستی سرحدوں کے اندر منتقل کر دیا۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ”آزادی“ کے سرکاری تصور پر سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہر سال ٹیلی وژن چینلز پر جشن آزادی کے ترانے بجتے ہیں، عمارتیں سجائی جاتی ہیں اور قوم پرستی کے جذبات ابھارے جاتے ہیں۔ لیکن ایک محنت کش جس کے پاس مناسب روزگار نہیں، ایک کسان جو قرض اور منڈی کے بحران میں پھنسا ہوا ہے، ایک طالب علم جو تعلیم مکمل کرنے کے باوجود بے روزگار ہے، یا ایک غریب خاندان جو علاج اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے، اس لیے یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ: جب تک جنتا بھوکی ہے۔۔۔یہ آزادی جھوٹی ہے۔

1947ء سے پہلے یہاں انگریز حکمران تھے اور اکثریتی غریب آبادی غربت، بیماری اور استحصال کا شکار تھی۔ آج حکمران دیسی ہیں، لیکن کیا محنت کش عوام کی زندگی میں کوئی بدلاؤ آیا ہے؟ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، لاعلاجی، بھوک اور غیر انسانی حالات میں کام کرنے کی مجبوری آج بھی کروڑوں انسانوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے روزگار کی تلاش میں دھکے کھا رہے ہیں، کسان قرض اور حکومتی پالیسیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور محنت کش اپنی محنت سے پیدا ہونے والی دولت کا معمولی سا حصہ بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر واقعی کوئی بڑی تبدیلی آئی ہے تو وہ حکمران طبقات اور سرمایہ داروں کی زندگیوں میں آئی ہے۔ غریب عوام سے زبردستی منوایا جانے والا یہ جشن دراصل اسی طبقے کی خوشحالی اور اقتدار کا جشن ہے۔

لیکن تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں آج بھی 1947ء کی ایک ایسی تصویر پڑھائی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ برصغیر پرامن طریقے سے دو قوموں میں تقسیم ہوا، حالانکہ اس تقسیم نے لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ دو قومیں اپنی اپنی ریاستوں میں چلی گئیں، لیکن چند ہفتوں اور مہینوں میں صدیوں سے ساتھ رہنے والے انسانوں کو مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جدا کر دینا کسی مصنوعی لکیر سے زیادہ کچھ ثابت نہیں کرتا۔

لہٰذا برصغیر کے محنت کش عوام کے لیے حقیقی آزادی کا سوال آج بھی زندہ ہے۔ ایسی آزادی نہیں جو صرف پرچم، سرحد اور حکمران بدل دے، بلکہ ایسی آزادی جو غربت، استحصال، قومی جبر اور سرمایہ دارانہ نظام سے نجات دے۔ برصغیر کے محنت کشوں کے سامنے آج بھی وہی بنیادی سوال موجود ہے: سوشلزم یا بربریت؟ ایک ملک میں محنت کش طبقے کی انقلابی فتح پورے برصغیر میں سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کو بھڑکا سکتی ہے اور ایک رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے ذریعے تقسیم کے چھوڑے ہوئے زخموں کو مندمل کرنے کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ ایک سوشلسٹ سماج اور برصغیر جنوبی ایشیا کی ایک سوشلسٹ فیڈریشن ہی اس خطے کے پونے دو ارب انسانوں کے لیے ایک حقیقی انسانی زندگی کی بنیاد رکھ سکتی ہے اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

عالمی سامراج، یہاں کے سرمایہ دار حکمرانوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف انقلاب ہی ہم برصغیر کے محنت کشوں کا حقیقی جشن ہو گا۔
سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!