سامراج کیا ہے؟ لینن بمقابلہ بائیں بازو کے فیشن ایبل دانشور

|تحریر: آفتاب اشرف| پچھلے چند سالوں میں دنیا بھر میں پھیلتی سامراجی قتل و غارت گری خاص کر روس یوکرائن جنگ، غزہ اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت، گرین لینڈ پر تسلط قائم کرنے کے امریکی عزائم، وینزویلا پر مارا جانے والا امریکی شب خون، یورپ سے لے کر مشرق بعید تک اسلحے کی ایک نئی […]

بالشویک اقتدار میں

ملک کی زندگی میں اور فرد کی زندگی میں وہ غیر معمولی دن تھے۔ سماجی اور ذاتی جذبات میں تناؤ عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ عوام ایک داستان رقم کر رہے تھے۔ رہنما تاریخ کے قدموں پر قدم رکھ کر چل رہے تھے۔ مارکسزم کا خیال ہے کہ وہ تاریخ کے لاشعوری عمل کا شعوری […]

نومبر 1917ء: انقلاب کی فیصلہ کن رات

انقلاب کا قطعی وقت آ پہنچا تھا۔ سمولنی (مجلس عاملہ کا دفتر) کو ایک قلعے میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ اس کی چھتوں پر دو درجن مشین گن نصب کر دی گئی تھیں۔ یہ پرانی مجلس عاملہ کی روایت تھی۔ سمولنی کا کمانڈ نیٹ کیپٹن گریکوف ایک بہادر سپاہی تھا۔ 24اکتوبر (رائج کیلنڈر کے […]

لینن نے ہیگل کا مطالعہ کیسے کیا؟

1914ء کے موسم گرما میں یورپ میں جنگ چھڑ گئی اور دنیا کی تاریخ کا دھارا راتوں رات تبدیل ہو گیا۔ غدار سوشل ڈیموکریٹک لیڈروں کی آشیرباد سے یورپی بورژوازی انسانیت کو ایسے وحشیانہ قتل عام کی جانب گھسیٹ لے گئی، جس میں کروڑوں محنت کشوں اور کسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ […]

روزا لکسمبرگ اور کارل لیبنیخت: دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم!

|تحریر: میری فریڈرکسن، ترجمہ: اختر منیر| نومبر 1918ء کے جرمن انقلاب نے کروڑوں لوگوں کو اپنے حصار میں لیاجن کی اکثریت کا پہلے کبھی کوئی سیاسی ماضی نہیں رہا تھا۔ بالکل روس کی طرح وہ لوگ جو نئے نئے سیاسی میدان میں داخل ہوئے انہوں نے انہی پارٹیوں کا رخ کیا جنہیں وہ پہلے سے […]

اداریہ ورکرنامہ: انقلاب روس کے سو سال؛ مزدوروں کی حکومت اور دشمنوں کے حملے

انقلاب روس کے سو سال پر پوری دنیا میں اس عظیم انقلاب کی یاد میں تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب محنت کش طبقے کی اس میراث پر سرمایہ داروں اور ان کے گماشتوں کی جانب سے حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ بہت سی […]