عالمی تعلقات اور سیاست میں بھونچال، آگے کیا ہوگا؟ کمیونسٹ تجزیہ

|تحریر: فضیل اصغر| 20جنوری 2025ء سے لے کر 28 فروری تک کے دنوں میں عالمی تعلقات میں بھونچال آ گیا۔ ان مختصر عرصے میں دوسری عالمی جنگ کے بعد 80 سال سے قائم لبرل ورلڈ آرڈر ٹوٹ کر بکھر گیا۔ اس لبرل ورلڈ آرڈر کی قیادت یورپ کے ساتھ مل کر امریکہ کر رہا تھا […]

ٹرمپ کی سیاست کے حقیقی معنی کیا ہیں؟ ایک کمیونسٹ تجزیہ

|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: فضیل اصغر| یورپ پر ایک بھوت منڈلا رہا ہے۔ یہ خوفناک عفریت اچانک ظاہر ہوا ہے، جیسے کسی سیاہ جادو کے ذریعے، کسی شیطانی قوت نے جہنم کی تاریک ترین گہرائیوں سے اسے بلا کر زمین کے نیک لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنے، ان کی نیندیں حرام کرنے اور ان […]

اداریہ سہ ماہی لال سلام: اصلاح پسندی (ریفارم ازم) یا انقلاب!

1968-69ء کے انقلاب کی نصف صدی کے موقع پر پاکستان میں اصلاح پسند ی یا ریفارم ازم کے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔فراڈ انتخابات کے نتیجے میں بر سر اقتدار آنے والا عمران خان ایک دائیں بازو کے ریفارم اسٹ پروگرام کے ذریعے عوام کو سبز باغ دکھانے کی کوشش کر […]

وینزویلا: سامراجی مداخلت کے باوجود صدارتی انتخابات میں مادورو کی جیت۔۔۔ آگے کیا ہو گا؟ 

|تحریر: جارج مارٹن: ترجمہ اختر منیر| 21مئی 2018ء نکولس مادورو ایک مرتبہ پھر اتوار کے روز 20 مئی کو وینزویلا کے صدارتی انتخابات میں اگلی مدت کے لیے صدر منتخب ہو گیا ہے۔ رجعتی اپوزیشن کی اکثریت، جن کو واشنگٹن اور برسلز کی بھرپور حمایت حاصل تھی، نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جس کے وجہ سے […]

مارکسزم اور ریاست (دوسرا اور آخری حصہ)

صلاح پسند لیڈر پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ محنت کشوں کو اس بات پر قائل کر سکیں کہ وہ بہت کمزور ہیں جبکہ بورژوازی اور اس کی ریاست بہت مضبوط۔محنت کشوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے یہ کہنا کہ انقلاب ناگزیر طور پر متشدد ہو گا، خانہ جنگی اور خون ریزی ہو گی، اصلاح پسندوں کا پرانا نسخہ ہے۔

پاکستان: سناٹے کی گونج

نئی نسل ماضی کے مزاروں کوپوجنے کی نہیں مستقبل کو تراشنے اور نکھارنے کی جدوجہد میں سرگرم ہونے کے پہلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے جو سبق حاصل کیا ہے اس کا نچوڑ یہ ہے کہ انہیں خود اپنے دم پر کچھ کرنا ہو گا۔ وہ سماج کی طبقاتی بنتر کو بھی زندگی کے تلخ تجربات سے سمجھ رہے ہیں

خیرات کا زہر اور این جی اوز کی غلاظت

|تحریر: آفتاب اشرف| خیرات محنت کشوں کے طبقاتی شعور اور جدوجہد کی نفسیات کے لئے ایک میٹھے زہر کا درجہ رکھتی ہے۔ خیرات کے نظریے کو بنیاد بناتے ہوئے جہاں ایک طرف ہمیں محنت کش طبقے کی پیدا کردہ قدرزائد کو ہڑپ کر کے امیر ہو جانے والے نام نہاد ’’مخیر حضرات‘‘ اس لوٹی ہوئی […]

مارکسزم اور ریاست (حصہ اول)

ہم سماج کی پرامن تبدیلی کے حامی ہیں اور ایسی تبدیلی کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن ساتھ ہم یہ تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ حکمران طبقہ اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لئے لڑے گا۔ یہی مارکسزم کا روایتی موقف ہے