سامراج کی جڑ سرمایہ دارانہ نظام ہے، عالمی اور علاقائی سامراجیت کا خاتمہ کرنے کے لیے سرمایہ داری کا خاتمہ کرنا ہو گا!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی سامراج مخالف مہم کا حصہ بنیں۔

آج دنیا بھر میں ہر طرف تباہی و بربادی کا ننگا ناچ جاری ہے۔ جنگیں، خانہ جنگیاں، بھوک، بدحالی اور ماحولیاتی تبدیلی نے پورے سیارے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ یہ سب کوئی حادثات نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کا اظہار ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اس حد تک فرسودہ ہو چکا ہے کہ یہ انسانیت کو سوائے ذلت اور تباہی کے کچھ بھی دینے سے قاصر ہے۔

ریوٹرز اور دی گارڈین کے مطابق اس سال کے آغاز سے اب تک لبنان، غزہ اور ایران میں 10 ہزار سے زائد افراد قتل کیے جا چکے ہیں۔ غزہ میں نام نہاد امن معاہدے کے باوجود 100 سے زائد معصوم بچوں کو ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی تنظیم ویمن یو این کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مہینوں میں 3 سے 14 سال کی عمر کے سینکڑوں بچے قتل کیے گئے ہیں۔ وزارتِ صحتِ لبنان اور یونیسف کے مطابق اس سال کے آغاز سے اب تک 300 سے زائد بچے ہلاک اور 1300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہی صورتحال ایران میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام اس حد تک فرسودہ ہو چکا ہے کہ یہ انسانیت کو سوائے ذلت اور تباہی کے کچھ بھی دینے سے قاصر ہے۔

دنیا بھر میں اسلحے کی دوڑ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت امریکی دفاعی بجٹ 1000 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ جبکہ ٹرمپ کا 2027ء تک 1500 ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ ہے۔ یورپی ممالک بھی پیچھے نہیں، جرمنی نے 2025ء میں دفاعی اخراجات میں 24 فیصد اضافہ کیا، جبکہ سپین نے 50 فیصد اور اٹلی نے 20 فیصد۔ اسی دوران ہتھیار ساز کمپنیوں نے بھی بھرپور منافع کمایا ہے۔ مثال کے طور پر آر ٹی ایکس کارپوریشن کے میزائل ڈیفنس، سینسرز اور ریڈار کی فروخت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح لاک ہیڈ مارٹن کو 190 ارب ڈالر سے زائد کے ایڈوانس آرڈرز مل چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اعداد و شمار مختلف خبری ذرائع اور رپورٹس میں دستیاب ہیں۔

دنیا بھر کے حکمران طبقات نے جنگ کے بہانے محنت کش عوام پر معاشی اور سیاسی حملے مزید تیز کر دیے ہیں جس کا اندازہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، گیس کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں اور تیل کے بحران اور مجموعی معاشی بدحالی سے لگایا جا سکتا ہے۔

مختصراً یہ کہ موجودہ جنگی صورتحال محنت کش طبقے کے لیے عذاب جبکہ سرمایہ دار طبقے اور ان کے دلال حکمرانوں کے لیے منافع کمانے کا ذریعہ ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ چہرہ ہے جسے سامراجیت کہا جاتا ہے یہی اکیسویں صدی کے سرمایہ دارانہ نظام کا بھیانک چہرہ ہے۔

پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کے حکمران طبقات امریکہ، چین اور دیگر سامراجی قوتوں کی گماشتگی میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ان پسماندہ ممالک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے سامراجی ادارے قرضوں کے نام پر لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ امداد کے لیے نہیں، لوٹ مار کے لیے آتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امداد کے نام پر آنے والا ہر ایک ڈالر اپنے ساتھ 14 ڈالر لوٹ کر امیر ممالک لے جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر یہاں کے محنت کشوں کی محنت نچوڑ کر لے جاتے ہیں، ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک سے امیر ترین ممالک کے امیر ترین لوگوں کو منتقل ہونے والی دولت تین کروڑ ڈالر فی سیکنڈ بنتی ہے جس میں چین سے نکلنے والی دولت بھی شامل ہے۔

عالمی و علاقائی سامراجیت کی اس لوٹ مار کے خاتمے کا واحد طریقہ سامراجیت کی بنیاد سرمایہ دارنہ نظام کے خاتمے سے ہی ممکن ہے اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی ایسے ہر ترقی پسند سیاسی کارکن، فنکار، کسان، طالبِ علم، مزدور کو دعوت دیتی ہے کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی سامراج مخالف جدوجہد کا حصہ بنیں۔

ان موضوعات پر ہی مختلف شہروں میں سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جن میں حیدرآباد میں سامراج مخالف کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، اس کے علاؤہ لاہور، فیصل آباد اور کوئٹہ میں بھی مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔

اسی ضمن میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ایک دستاویز بھی شائع کی گئی ہے تاکہ نہ صرف سامراج کے مظہر کا طبقاتی اور سائنسی تجزیہ کیا جائے بلکہ اسی سائنسی طریقہ کار کو بروئے کار لا کر اس نظام کے خاتمے کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔

سامراج مردہ باد!
سرمایہ داری مردہ باد!
کمیونزم زندہ باد!
سامراجی جنگ نہیں، طبقاتی جنگ!