حیدرآباد: سامراج مخالف کانفرنس کا انعقاد، سامراجیت کا خاتمہ سوشلسٹ انقلاب سے ہی ممکن ہے!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، حیدرآباد|

یومِ مئی 2026ء کی مناسبت سے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ملک گیر سطح پر اسٹڈی سرکلز، سیمینارز، احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر 3 مئی بروز اتوار، انقلابی کمیونسٹ پارٹی، حیدرآباد کے زیرِ اہتمام حیدرآباد پریس کلب ہال میں ”سامراج مخالف کانفرنس“ منعقد کی گئی، جس میں طلبہ، اساتذہ اور محنت کشوں نے شرکت کی۔

اس پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں سندھ یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی، ریلوے، ایریگیشن سمیت مختلف اداروں میں طلبہ، محنت کشوں اور کسانوں کے درمیان دعوت نامے تقسیم کیے گئے جبکہ مختلف مقامات پر میٹنگز کا بھی انعقاد کیا گیا۔

پروگرام میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض انقلابی کمیونسٹ پارٹی جامشورو کے آرگنائزر کامریڈ غفار نے سر انجام دیے۔ انہوں نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کانفرنس کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھے دانشوروں کی ذہنی عیاشی یا فرسٹریشن نکالنے کے لیے منعقد نہیں کی گئی بلکہ سامراج کے خلاف طبقاتی جنگ کی ایک عملی مشق اور ریہرسل ہے۔ اسی لیے اس پروگرام کو محنت کشوں کے عالمی دن سے منسوب کیا گیا۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی سندھ کے رہنما کامریڈ مجید نے شکاگو کے محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم شہداء کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں پر آج دنیا بھر کے حکمران ڈاکہ زنی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حاصلات کا دفاع اور توسیع صرف انہیں شہداء کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ممکن ہے۔ لہٰذا آج کا دن شکاگو کے شہداء کو محض لفظی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا نہیں بلکہ ان سے تجدیدِ عہد کرتے ہوئے مزدور دشمن نظام کے خاتمے کی جدوجہد کو تیز کرنے کا دن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگوں کی آڑ میں محنت کش طبقے پر مسلسل معاشی حملے کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف سرمایہ دار طبقہ ان جنگوں سے منافع سمیٹ رہا ہے جبکہ دوسری طرف محنت کش عوام کی زندگی تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہی سرمایہ داری کا اصل چہرہ ہے جہاں ایک طرف دولت کے انبار ہیں اور دوسری طرف غربت، بھوک اور محرومی۔ یہی نظام سامراج کہلاتا ہے جہاں دولت اور وسائل پر چند سرمایہ داروں کی اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔

اس کے بعد گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا) اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی چمبڑ کے رہنما کامریڈ کریم کو مدعو کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سامراجی جنگوں کا بوجھ محنت کش عوام پر ڈالا جا رہا ہے اور ان کا مقابلہ بھی محنت کش طبقہ ہی کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے کمیونزم کے انقلابی نظریات سے لیس ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر ناگزیر ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محنت کش طبقے کی قیادت میں انقلابی نظریات سے مسلح ایک مضبوط انقلابی پارٹی کی تعمیر کو تیز کریں۔

بعد ازاں سندھ یونیورسٹی کے استاد رفیق وسان نے مزدور دشمن اور سامراج نواز نصابِ تعلیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جامعات میں محنت کش طبقے کی جدوجہد کا ذکر کرنا تو دور، اس کا نام لینا بھی ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ یہ سامراج نواز حکمرانوں کے خوف کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی اس جدوجہد کو سراہتے ہوئے اپیل کی کہ نوجوانوں کو محنت کش طبقے کی تحریک سے جوڑنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔

اس کے بعد سندھ یونیورسٹی کے استاد پروفیسر ہنس راج اوڈ نے وینزویلا سمیت دیگر ممالک پر امریکی سامراج کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک عالمی غنڈے اور وڈیرے کی طرح دنیا بھر میں جہاں چاہتا ہے قبضہ اور جارحیت کرتا نظر آتا ہے، جو کہ قابلِ مذمت عمل ہے۔

اختتامی خطاب کرتے ہوئے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کامریڈ پارس جان نے سامراج کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جدید سامراج سرمایہ داری کے تحت پیداواری قوتوں کی ترقی کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ سامراج کسی عسکری روایت، قومی نظریے یا محض حکومتی پالیسی کی پیداوار نہیں بلکہ ایک ٹھوس معاشی ضرورت کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ قدیم سلطنتوں کا مقصد صرف علاقوں پر قبضہ اور وسائل کی لوٹ مار تھا، مگر جدید سامراج اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ پیداواری قوتوں کے پھیلاؤ، اجناس کی پیداوار اور سرمائے کے ارتکاز کا نتیجہ ہے، جو اپنی ترقی کے ایک خاص مرحلے پر قومی ریاست اور منڈی کی حدود سے ٹکرا جاتا ہے۔ اس تضاد کے نتیجے میں نئی منڈیوں پر قبضے کی ضرورت جنم لیتی ہے تاکہ سرمایہ دارانہ منافعوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ دارانہ توسیع پسندی کے عمومی حالات میں بڑی طاقتیں سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے عالمی منڈی کی آپسی تقسیم کا بندوبست کرتی ہیں، لیکن جب معاشی بحران کے باعث منڈیاں سکڑتی ہیں تو سفارت کاری ناکام ہو جاتی ہے اور جنگ سیاست کے تسلسل کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سامراج کا خاتمہ سرمایہ داری کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے۔ سرمایہ داری کے خاتمے کے بغیر سامراج اور سامراجی جنگوں سے نجات کا خواب ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔ سرمایہ داری کا خاتمہ صرف محنت کش طبقے کی قیادت میں عالمی سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اسی مقصد کے لیے انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے حاضرین کو دعوت دی کہ وہ اس انقلابی جدوجہد کا حصہ بنیں۔

اختتام پر اکثریتی متفقہ رائے سے قراردادیں منظور کی گئیں جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کامریڈ احسان علی سمیت تمام سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے احتجاج بھی کیا گیا۔منظور کی جانے والی قرار دادیں درج ذیل ہیں۔

1۔ ہم ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی سامراجی جنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ایران کے عوام کو تاریخی سامراج مخالف مزاحمت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ایران، غزہ اور لبنان پر جاری سامراجی جارحیت سمیت دنیا بھر میں سامراجی جنگوں کے خاتمے کے لیے پوری دنیا کے محنت کشوں کو متحد ہوتے ہوئے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا سوشلسٹ انقلابات کے ذریعے خاتمہ کرنا ہو گا اور کرہ ارض کی ایک رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن تخلیق کرنا ہو گی۔

2۔ ہم جنگ کی آڑ میں پیٹرول اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے جیسے عوام دشمن اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نہ صرف مہنگائی کو فوری طور پر واپس لیا جائے بلکہ اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ بھی یقینی بنایا جائے۔

3۔ ہم عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان و انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی راہنما کامریڈ احسان علی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر رہنماؤں، پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

4۔ ہم محنت کشوں کے یونین سازی کے حق سمیت تمام سیاسی و جمہوری حقوق پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان حقوق کی مکمل بحالی اور آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

5۔ ہم بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور پورے خطے میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور مظلوم اقوام پر ہر قسم کے قومی جبر کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ان کے جمہوری حقوق کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

6۔ ہم انڈیا کے محنت کشوں کی جانب سے جنگ کی آڑ میں مودی سرکار کی جانب سے مسلط کردہ مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف شاندار مزاحمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستان بھر کے محنت کشوں کو بھی اپنے انڈین محنت کش بہن بھائیوں کی طرح اپنے حقوق کی خاطر منظم ہو کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔