لیون ٹراٹسکی:مر کر بھی زمانے کو جاں دے گیا!

[تحریر: پارس جان] ’’بہت سے قارئین نے ٹراٹسکی کی جوانی کی تصویر کو کئی بار شائع ہوتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ اس وقت بھی اس کی کشادہ پیشانی کے نیچے خیالات اور تصورات کا ایسا طوفانی بہاؤ دکھائی دیتا تھا جو اسے تاریخ کی شاہراہ سے دھکیل کر ذرا پرے لے جاتا تھا۔ یہ بہاؤ […]

سروینٹیز کے شاہکار ناول ڈان کیخوٹے کی 400ویں سالگرہ پر لکھی گئی ایلن ووڈز کی خصوصی تحریر، دوسرا اور آخری حصہ

تحریر : ایلن ووڈز:۔ (ترجمہ : آدم پال) تغیر کا دور ’’مارکس سروینٹیز اور بالزاک کو باقی تمام ناول نگاروں سے زیادہ پسند کرتا تھا۔ ڈان کیخوٹے میں اسے پرانی رسمی شجاعت آخری سانسیں لیتی ہوئی نظر آئی جس کا ابھرتے ہوئے بورژوا سماج میں مذاق اْڑایا جاتا تھا۔‘‘

سروینٹیز کے شاہکار ناول ’’ ڈان کیخوٹے‘‘ کی 400ویں سالگرہ پر ایلن ووڈز کی خصوصی تحریر، پہلا حصہ

تحریر : ایلن ووڈز:- (ترجمہ : آدم پال) اس سال ڈان کیخوٹے،اسپین کے ادب کی عظیم ترین تخلیق، کی پہلی اشاعت کو 400برس ہو گئے ہیں۔محنت کش طبقہ، یعنی وہ طبقہ جو ثقافت کے تحفظ میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہے، اسے اس سالگرہ کوجوش وخروش سے منانا چاہیے۔

سوشلزم کیوں؟

تحریر ۔البرٹ آئن سٹائن:- کیا یہ اس شخص کے لیے سوشلزم کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہارکرنامعقول بات ہے جو معاشی اور سماجی مسائل کاماہر نہیں، ؟ میرے نزدیک اس کی وجوہات یہ ہیں۔

نومبر 1917: انقلاب کی فیصلہ کن رات

تحریر: لیون ٹراٹسکی:- انقلاب کا قطعی وقت آپہنچا تھا۔سمولنی (مجلس عاملہ کا دفتر) کو ایک قلعے میں تبدیل کیا جارہا تھا۔ اس کی چھتوں پر دو درجن مشین گن نصب کر دی گئی تھیں۔