حصہ دوم: چی گویرا کون تھا اور کس مقصد کے لئے لڑا؟
چی گویرا کی 45ویں برسی پر اس عظیم انقلابی کی زندگی، جدوجہد اور نظریات کے بارے میں شائع کئے جارہے ایلن ووڈز کےمضمون کا دوسراحصہ پیش کیا جارہا ہے۔ بقیہ حصوں کے لنک صفحے کے آخر پر ملاحظہ فرمائیں۔
حصہ اول: چے گویراکون تھا اور کس مقصد کے لئے لڑا؟
آج پوری دنیا میں انقلابی نوجوان، حریت پسند اور محنت کش چے گویرا کی 45ویں برسی منا رہے ہیں۔8اکتوبر1967ء کوCIAکی اطلاع پربولیویا کے 1800سے زائد سپاہیوں نے ’یورو روائن‘کے علاقے میں واقع چے گویرا کے گوریلا کیمپ کا محاصرہ کر لیا۔
لیون ٹراٹسکی کی یاد میں

| تحریر: خالد جمالی | لیون ٹراٹسکی کو 75 سال قبل 20 اگست 1940ء کو قتل کر دیا گیا۔ مگر اسے مار کر بھی نہ مارا جاسکا۔ اس نے لکھا تھا ’’ہمیں واقعات میں علت و معلول کی ترتیب سمجھنا اور اس ترتیب میں کہیں اپنی جگہ تلاش کرنی چاہیے۔ یہ ہر انقلابی کا اولین […]
تاریخی مادیّت کیا ہے؟ (پہلا حصہ)
| تحریر: مِک برْوکس، ترجمہ: صبغت اللہ وائیں | مک بروکس کے مضمون ’’تاریخی مادیت کیا ہے؟‘‘ کا پہلا حصہ شائع کیا جا رہا ہے۔ انگریزی میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
لینن
[تحریر: لیون ٹراٹسکی، ترجمہ:حسن جان] سوویت جمہوریہ اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کے بانی اور روح رواں، مارکس کے شاگرد، بالشویک پارٹی کے رہنما اور روس میں اکتوبر انقلاب کے منتظم ولادیمیر لینن، 9 اپریل 1870ء کو سمبرسک کے قصبے (اب الیانوسک) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد الیانکولاوچ ایک سکول ماسٹر تھے۔ اس کی والدہ ماریہ […]
جینی مارکس کا ایک خط
بنام فرینکفرٹ ایم مائن میں مقیم جوزف ویڈمیئر
طبقاتی جدوجہد اور امریکی محنت کش طبقہ
مارکسزم اور امریکہ کے پہلے اردو ایڈیشن کا تعارف
اپریل تھیسس
[تحریر: وِلادیمیر لینن، ترجمہ: صبغت وائیں] اس مضمون میں لینن کے معروف ’’اپریل تھیسِس‘‘ کو پیش کیا گیا ہے جو کہ لینن نے مزدوروں اور سپاہیوں کے نمائندگان کی سوویتوں (پنچائتوں) کی کل روس کانفرنس کی دو میٹنگوں میں 4 اپریل 1917ء کو پڑھے تھے۔
فریڈرک اینگلز کی وفات پرلینن کی تحریر
کیا عقل کا چراغ تھا خاموش ہو گیا۔ ۔ ۔ کیا دل تھا، دھڑکنوں کے تلاطم میں سو گیا
لیون ٹراٹسکی:مر کر بھی زمانے کو جاں دے گیا!
[تحریر: پارس جان] ’’بہت سے قارئین نے ٹراٹسکی کی جوانی کی تصویر کو کئی بار شائع ہوتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ اس وقت بھی اس کی کشادہ پیشانی کے نیچے خیالات اور تصورات کا ایسا طوفانی بہاؤ دکھائی دیتا تھا جو اسے تاریخ کی شاہراہ سے دھکیل کر ذرا پرے لے جاتا تھا۔ یہ بہاؤ […]