دہشت گردی کا پاگل پن اور سرمایہ داری کی علالت

محنت کش طبقہ ہی وہ واحد قوت ہے جو دہشت گردی کو شکست دے سکتی ہے اور سرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف سنجیدہ جدوجہد کر سکتی ہے۔ حکمران طبقہ اور دہشت گرد، دونوں محنت کش طبقے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں

فرانس: ماکروں کی فتح کا سراب

11جون 2017ء کو ہونے والے فرانسیسی پارلیمانی الیکشن میں ریکارڈ تعداد میں ووٹ نہ ڈالنے کا رجحان نظر آیا۔ اس لئے مارش/ موڈم اتحاد کے نام نہاد ’’ابھار‘‘ کو اسی انداز میں دیکھنا چاہیے جیسا کہ وہ حقیقت میں ہے: ووٹ نہ ڈالنے والوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے جنہوں نے’’صدارتی اکثریت‘‘ کے لئے ووٹ ڈالا

برطانوی انتخابات: کوربن اصل فاتح، حکمران اشرافیہ کو شرمناک شکست

|تحریر: سوشلسٹ اپیل ایڈیٹوریل بورڈ، ترجمہ: ولید خان| 9 جون 2017ء ابھی بریگزٹ کے تہلکہ مچا دینے والے واقعے کو سال بھی نہیں ہوا تھا کہ برطاانیہ میں ایک نیا سیاسی بھونچال آ گیا ہے۔ تھریسا مے کو سیاسی موت کا سامنا ہے۔ قبل از وقت انتخابات ٹوری پارٹی کی بربادی بن چکے ہیں۔ ٹوری پارٹی […]

ٹرمپ، مرکل اورمغربی اتحاد کی موت!

حالیہ جی 7ممالک اور نیٹو کے طوفانی اجلاس عالمی تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ نام نہا د ’’فری ورلڈ‘‘ کے لیڈر ٹرمپ اور یورپی یونین کی لیڈر جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے درمیان تند و تیز اختلافات میں اس کا واضح اظہار ہوتا ہے

برطانیہ: ہواؤں کا رخ کوربن کے حق میں، ٹوری کی شکست ممکن ہے!

|تحریر: ڈینئیل مورلے، انعم خان| 2 جون 2017ء محض چند گھنٹوں کے نوٹس پر ہزاروں لوگ کوربن کے استقبال کے لئے موجود تھے جو کہ بی بی سی 1 کے پروگرام لیڈرز ڈیبیٹ کے لیے کیمبرج پہنچا تھا (وہ بھی وزیراعظم تھیریسا مے کی غیر موجودگی میں)۔ وہ منظر تو کسی راک سٹار کی آمد […]

اداریہ ورکرنامہ: برطانیہ میں عوامی تحریک

جون کے آغاز پر برطانیہ میں ’’مئے کا خاتمہ ‘‘(End of May) کا نعرہ لگ رہا ہے۔ مے اس وقت برطانیہ کی وزیر اعظم ہے اور آٹھ جون کو ہونے والے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کی حریف ہے۔ جب عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا اس وقت تھریسا […]

مانچسٹر کے ساتھ یکجہتی: محنت کشوں کو متحد ہونا پڑے گا!

یہ شر کیسے مٹایا جا سکتا ہے جبکہ ہمارے نام نہاد لیڈر ہنسی خوشی مشرق وسطیٰ اور دنیا میں اس کی ترویج اور بڑھوتری میں پیش پیش ہیں؟ ہم یہی سوال تھریسامے سے کرتے ہیں، جس کی حکومت یمن اور شام کی تباہی میں امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ برابر کی شریک ہے اور حال ہی میں سعودی ریاست کے ساتھ اپنا الگ اربوں ڈالرکی مالیت کے ہتھیاروں کا معاہدہ کر چکی ہے

فرانس: روایتی پارٹی کا انہدام اور میلنشوں کا ابھار

فرانسیسی انتخابات کے پہلے مرحلے کے انعقاد میں ایک مہینے سے کم عرصہ رہ گیا ہے اور تقریباً آدھے فرانسیسی ووٹروں کی عدم شمولیت کے باعث ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس انتخابی مہم کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت روایتی پارٹیوں کا تقریباً مکمل انہدام ہے

بحرانوں کا شکار فرانس

دو سال پہلے جریدے فنانشل ٹائمز نے ایک اداریے میں فرانس کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک نیم انقلابی کیفیت میں ہے۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی ہوسکتی ہے لیکن بہرحال یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ فرانسیسی سماج ایک بند گلی میں کھڑا ہے۔ اب یہ سیاسی بحران کے دھماکے میں تبدیل ہو چکا ہے