اناسی برس بعد: برصغیر کے افق پر انقلاب کا سرخ سویرا

|تحریر: ارسلان دانی گوپانگ|

نام نہاد آزادی کے 79 سال بعد آج ایک بار پھر برصغیر میں ”انقلاب زندہ باد“ کے نعرے گونج رہے ہیں۔ ان نعروں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، بالکل اسی طرح جیسے 20ویں صدی میں برطانوی راج اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہونے والی جدوجہد میں سماج کے مختلف مظلوم طبقات اور عمر کے لوگ شریک تھے۔ 1947ء میں ملنے والی ادھوری اور مسخ شدہ آزادی جسے فیض احمد فیض نے ”داغ داغ اجالا“ قرار دیا تھا، کے بعد آج تک جاری رہنے والے جبر اور ہولناکیوں کے خلاف پورا خطہ ایک بار پھر انقلاب کی تڑپ میں یا تو سرگرم عمل ہے یا پھر ایسا کرنے کی تیاری پکڑ رہا ہے۔

آج کے حالات کا جائزہ لینے سے پہلے ایک بات ہمیں ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ صورتِ حال صرف برصغیر تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج سرمایہ دارانہ نظام اپنی تاریخی منطق کھو چکا ہے۔ یہ ایک تعفن زدہ لاش کی مانند پورے کرہئ ارض کو اپنے ساتھ بربریت کی جانب دھکیل رہا ہے، جبکہ دنیا کا ہر سماج اپنے اپنے ملک میں اس لاش کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”انقلاب زندہ باد“ کے نعرے نارتھ پول سے ساؤتھ پول اور مشرق سے مغرب تک گونج رہے ہیں۔

دوسری جانب سرمایہ دار اور ان کے مفادات کی حفاظت کے لیے براجمان سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کے کارندے اس لاش کا بوجھ پوری دنیا کے محنت کش طبقے پر لادنے پر صرف بضد ہی نہیں، بلکہ نسل کشی سے لے کر خود زمین کو تباہ کرنے تک پر تلے ہوئے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح نظام کو چلا کر سرمایہ دار طبقے کی نجی ملکیت اور منافعوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ لینن کے بقول:

”کیا کوئی اتنا سادہ لوح بھی ہو سکتا ہے جو یہ نہ سمجھتا ہو کہ بورژوازی زمین اور سرمائے کی نجی ملکیت کبھی ترک نہیں کرے گی، بلکہ اس کے برعکس مزدوروں کی پیش قدمی کے خلاف اسے برقرار رکھنے کے لیے آخری حد تک لڑے گی۔“
(V. I. Lenin, A New Revolutionary Workers Association, June 17,1905,)

یہ سب کچھ سمجھتے ہوئے ہمیں آج کے سماج کا جائزہ بالکل اسی طرح لینا ہو گا جیسا کہ وہ حقیقت میں ہے اور جو مطالبہ یہ سماج ہمارے سامنے رکھ رہا ہے اسے پورا کرنا ہو گا۔ برصغیر کی سامراجی تقسیم کے بعد یہ پورا خطہ کبھی بھی مکمل طور پر صحت مند نہیں ہو سکا۔ اپنی اپنی طرز پر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے حکمران طبقات اپنے جبر کی داستانیں رقم کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں۔ انگریز راج کے دور میں پورے ہندوستان کے مزدور، کسان اور طلبہ سامراج مخالف لڑائیوں میں ایک ساتھ لڑتے رہے اور 20ویں صدی کی تیسری دہائی تک یہ جدوجہد واضح طور پر قومی نجات کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ طبقاتی نجات کی لڑائی بھی بن چکی تھی۔

برصغیر کی سامراجی تقسیم کے بعد یہ پورا خطہ کبھی بھی مکمل طور پر صحت مند نہیں ہو سکا۔

یہ صورتِ حال صرف برطانوی راج کے لیے ہی خطرے کی گھنٹی نہیں تھی بلکہ کانگریس سے لے کر مسلم لیگ تک کے لیے بھی خطرہ تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ انقلاب خطے میں سرمایہ دارانہ نظام کا ہی خاتمہ کر دے گا۔ اسی خطرے کے خلاف گاندھی اور نہرو، جو ابتدا میں تقسیم کے مخالف تھے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے چند ہی ملاقاتوں کے بعد اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس وقت کی سب سے بڑی بائیں بازو کی قوت یعنی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ایک سٹالنسٹ پارٹی تھی جو سٹالنزم کے ”مرحلہ وار انقلاب“ اور ”ایک ملک میں سوشلزم“ جیسے بیہودہ اور مسخ شدہ نظریات رکھتی تھی اور انہی زوال پذیر نظریات کے تحت انہوں نے مذہبی بنیادوں پر بر صغیر کی رجعتی تقسیم کی حمایت کا ناقابل معافی جرم بھی کیا۔ اس وقت اس انقلاب کو ایک واضح طبقاتی پروگرام سے جوڑنے کے لیے مارکسزم لینن ازم کے حقیقی نظریات اور درست بالشویک روایات سے لیس ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی موجود نہیں تھی جس کے باعث لاکھوں لوگوں کو تقسیم کر کے رجعتی قتلِ عام کی طرف دھکیل دیا گیا اور سرمایہ دارانہ نظام کو بچا لیا گیا۔

لیکن اپنی بنیاد میں ہی یہ ایک غیر سائنسی، غیر منطقی اور غیر انسانی تقسیم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 79 سال بعد آج یہ خطہ ایک بار پھر اسی نہج پر آ پہنچا ہے، جہاں دونوں طرف سے ”انقلاب زندہ باد“ کے نعرے گونج رہے ہیں۔ یہاں تک کہ چھوٹے بچے، جنہیں آج جین الفا کہا جا رہا ہے، وہ بھی انقلاب زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں اور حکمرانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

جلیانوالہ باغ کے واقعے کے بعد جب گاندھی کی جانب سے ”تحریک عدم تعاون“ شروع کی گئی تو بھگت سنگھ نے بھی اس جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اس وقت بھگت سنگھ کی عمر بھی آج کے جین الفا کے برابر تھی۔ گاندھی کی اس تحریک سے غداری کے بعد بھگت سنگھ نے گاندھی کی سیاست سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کشی اختیار کر لی اور برطانوی سامراج سے مکمل آزادی کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ اپنی زندگی کے تجربات اور مطالعے کے باعث اپنے آخری وقت میں بھگت سنگھ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ سوشلسٹ انقلاب ہی حقیقی منزل ہے جس کے ذریعے برطانوی سامراج سے بھی آزادی لی جا سکتی ہے اور طبقات پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

آج بھی ضرورت اسی امر کی ہے کہ انڈیا اور پاکستان میں جاری تحریکوں کا مطالعہ کیا جائے، ان کے کردار اور آج کے فرائض کو سمجھا جائے اور یہ بحث کی جائے کہ ان تحریکوں میں کمیونزم کے نظریات کی ضرورت کیوں ہے۔ اسی بحث کے ذریعے ان تحریکوں میں موجود نظریاتی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

انڈیا میں جاری تحریکیں

یوں تو ہندوستان میں مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ہمیں ملتی ہے، لیکن ہم یہاں اس سال اپریل میں ابھرنے والی حالیہ تحریک پر بات کریں گے، جس میں نیشنل کیپٹل ریجن (NCR) میں لاکھوں مزدوروں کی ایک خود رو تحریک نے جنم لیا۔ یہ مزدور امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی سامراجی جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مہنگائی میں 50 فیصد اضافے اور تنخواہوں میں جمود کے سبب اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھے۔ انہوں نے ماہانہ 20 ہزار روپے اجرت کا مطالبہ کیا، جو مہنگائی کے پیش نظر بھی ایک انتہائی معمولی مطالبہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، انہیں غدار قرار دیا گیا اور ان کا تعلق پاکستان سے جوڑا گیا۔ اس کے بعد نیشنل کیپٹل ریجن کے پانچ مختلف سیکٹرز کے مزدور سڑکوں پر نکل آئے اور یہ احتجاج گریٹر نوئیڈا تک پھیل گیا۔ بالآخر ان مزدوروں نے ان سرمایہ داروں اور حکمران لٹیروں سے اپنا حق چھین کر حاصل کیا اور اجرتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کا مطالبہ منظور کروایا۔

بالآخر ان مزدوروں نے ان سرمایہ داروں اور حکمران لٹیروں سے اپنا حق چھین کر حاصل کیا اور اجرتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کا مطالبہ منظور کروایا۔

دنیا کے ہر ملک کی طرح یہاں بھی سرمایہ داری اس وقت نامیاتی زوال کے عہد سے گزر رہی ہے جہاں آج محنت کش طبقے کو خوراک اور رہائش جیسے بنیادی مطالبات کرنے پر ڈنڈوں، آنسو گیس کی شیلنگ اور غداری کے مقدمات سے نوازا جاتا ہے۔ دوسری جانب ہندوستان میں امبانی اور اڈانی کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ بھارت میں ہر پانچ سال بعد جمہوری عمل سے گزر کر آنے والی ہر حکومت کا یہی رویہ رہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سرمایہ دار کے نمائندے کی حیثیت سے حکمرانی کرتی ہے اور ان کی دولت میں اضافے کی پالیسیوں کو ہی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ بھارتی کامیڈین کنال کامرا کے بقول: ”میرے اور امبانی کے درمیان مودی کیا کر رہا ہے، میں سیدھا امبانی کو ووٹ کیوں نہیں دیتا؟“

اور یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہندوستان کا ہر محنت کش واقف ہے کہ اس کی محنت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دولت پر قبضہ وہاں کے سرمایہ داروں کا ہے۔ لینن کے بقول:

”ہر چند سال بعد یہ فیصلہ کرنا کہ حکمران طبقے کے کون سے افراد پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کو دبائیں اور کچلیں گے، یہی بورژوا پارلیمانیت کی حقیقی روح ہے، اور یہ صرف پارلیمانی آئینی بادشاہتوں ہی میں نہیں بلکہ سب سے زیادہ جمہوری ملکوں میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔“
(V. I. Lenin, The State and Revolution (1917), Chapter III, Section 3:“Abolition of Parliamentaris)

اس کے علاوہ اگر ہم بات کریں تو حال ہی میں دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے UG-NEET 2026 (Undergraduate National Eligibility cum Entrance Test) کے پیپر لیک کے معاملے پر تحریکوں کی ایک لہر چل پڑی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے بی جے پی کی سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ پیپر لیک کا یہ معاملہ کوئی پہلا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ پیپر لیک اسکینڈل کا معاملہ ایک لمبے عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ 2015ء میں آل انڈیا پری میڈیکل ٹیسٹ کا اسکینڈل سامنے آیا، جس میں 6 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے۔ اس کی جگہ NEET کا امتحان رکھا گیا اور آل انڈیا پری میڈیکل ٹیسٹ ختم کر دیا گیا۔ 2016ء میں NEET کے پہلے ہی امتحان میں پیپر لیک ہو گیا اور طلبہ کو دوبارہ سے پیپر دینا پڑا۔ اسی طرح 2021ء میں راجستھان میں یہ اسکینڈل سامنے آیا، جس کے بعد لگاتار 2022ء سے 2024ء تک یہ اسکینڈل سامنے آتا رہا اور اس کے بعد 2026ء والے معاملے نے بی جے پی کی پوری سرکار کو ہلا کر رکھ دیا۔

انڈیا کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران نوجوانوں کو بے روزگار کہا اور انہیں کاکروچ کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ یہ سوشل میڈیا اور RTI ایکٹوسٹ بن جاتے ہیں۔ RTI (Right to Information Act 2025) دراصل ایک قانون ہے، جس کے تحت آپ سرکاری اداروں سے ان کے کام، فیصلوں، ریکارڈز اور دیگر سرکاری معاملات کے بارے میں معلومات طلب کر سکتے ہیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں میں اس کی فالوور شپ میں اضافہ ہو گیا، یہاں تک کہ نریندر مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے بھی زیادہ فالوورز ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے اکاؤنٹ پر ہو گئے۔

اس کے بعد ایک لمبے عرصے سے جو انڈین سماج کے اندر غم و غصہ پنپ رہا تھا، اس نے اپنا اظہار کیا اور ایک نوجوان، ابھی جیت دیپکے، نے ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں میں اس کی فالوور شپ میں اضافہ ہو گیا، یہاں تک کہ نریندر مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے بھی زیادہ فالوورز ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے اکاؤنٹ پر ہو گئے۔ جو شخص بھی حکومت پر تنقید کر رہا تھا اور کرپشن اور دیگر معاملات پر سوال اٹھا رہا تھا، ان کی ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہو گئیں اور انہیں نوجوان ”کاکروچ“ کہنا شروع ہو گئے کہ ایک اور کاکروچ ٹھیک بات کر رہا ہے۔

یعنی کہ ایک لمبے عرصے تک یہ چند سرمایہ دار و حکمران سماج کی بھاری اکثریت کو لوٹتے ہیں، کیڑے مکوڑوں کی طرح ان کو کچلتے ہیں اور ان کی ہڈیوں پر جیتے ہیں۔ اور ایک وقت آتا ہے جب یہ سماج کی بھاری اکثریت فیصلہ کر لیتی ہے اور ان ظالم حکمرانوں اور سرمایہ داروں کو جھٹک کر پھینک دیتی ہے اور تحریکوں کی صورت میں انقلاب کے میدان میں اترتی ہے۔ پھر جب وہ پہلی جیت حاصل کرتے ہیں تو سیاست کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے اور حکمران اپنے پرانے طریقوں سے حکمرانی نہیں کر سکتے۔ ان کے سامنے بار بار سماج کی یہ بھاری اکثریت اپنے وہ تمام مطالبات منوانے کی طرف آتی ہے، جن سے دہائیوں سے انہیں محروم رکھا گیا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ حکمران طبقے کی صرف حکمرانی پر نہیں رکتے، بلکہ وہ ملکیتی نظام کو چیلنج کرتے ہیں۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پوری دنیا اسی سمت بڑھ رہی ہے اور یہ جدوجہد وہ کوئی سماج کی سائنس پڑھ کر نہیں کرتے، بلکہ اپنی بقا کے لیے لڑائی کے میدان میں اترتے ہیں۔

جنتر منتر کی کامیابی کے بعد اب صورتحال یہاں تک آ گئی ہے کہ دہائیوں کا غصہ اب اپنا اظہار بی جے پی سرکار کی ہر پالیسی کے خلاف کر رہا ہے۔ جنتر منتر کے مقام پر احتجاج کے دوران جو چھوٹی بچیاں اور بچے جمع تھے، ان پر گالیوں اور نہ جانے کیا کیا مقدمات بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہاں تک کہ ایک 15 سال کی لڑکی سے بی جے پی کے غنڈوں کی جانب سے ڈنڈے لے کر معافیاں منگوانے کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔ انہیں لگ رہا تھا کہ اب خوف کے ذریعے یہ لوگ پھر سے حکمرانی کریں گے اور عوام کو اپنے آگے جھکا دیں گے، لیکن اس کے بعد ہزاروں لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید کی گئی۔ مودی نے جب معاف کرنے کی ویڈیو بنائی تو لوگوں نے جہاں اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا، وہیں اس کا ابھی تک مذاق بن رہا ہے۔

جنتر منتر کی کامیابی کے بعد اب صورتحال یہاں تک آ گئی ہے کہ دہائیوں کا غصہ اب اپنا اظہار بی جے پی سرکار کی ہر پالیسی کے خلاف کر رہا ہے۔

اپنی 15 اگست کی تقریر کے دوران جب مودی نے کہا کہ اب ”دماغی نکسل“ خطرہ ہیں، تو اس پر انڈیا کے نوجوانوں کی طرف سے نیا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بن گیا، ”دماغی نکسل پارٹی“۔ یعنی ایک لمبے عرصے سے ان سب کی بکواسیات، عوام دشمنی پر مبنی باتیں اور تقاریر سن سن کر عوام تنگ آ گئی تھی، جس کے بعد اب غصے کا یہ لاوا نکلا کہ بی جے پی کی حکومت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔

اسی طرح اب پورے ملک میں ”سکول ٹھیک کرو“ تحریک کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں پورے ملک سے پرائمری کے طلبہ سے لے کر کالجز کے طلبہ سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ ہزاروں ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جہاں طلبہ سکول کے راستوں سے لے کر استادوں کی کمی، سکول کا انفراسٹرکچر، مڈ ڈے میل (دوپہر کا کھانا)، کچن، ٹوائلٹ، سکولوں کی کرسیوں اور میزوں کے مطالبات لے کر حکومتی وزراء اور بیوروکریسی کے دروازوں تک پہنچ گئے ہیں۔ اب یہ تحریک جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔

ان میں چند ایک واقعات کا ذکر کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہو گیا ہے، کہ وہ ویڈیوز دیکھتے ہوئے آپ کے اندر اس سماج کے خلاف غصے اور اس جدوجہد کے لیے خوشی اور جذبے کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

28جولائی کو فتح پور، اتر پردیش کے علاقے میں 1500 طلبہ، جن میں پرائمری سے کالج تک کے طلبہ شامل ہیں، 6 گھنٹے احتجاج پر بیٹھ گئے۔ ان کا مطالبہ اسکول کے انفراسٹرکچر میں بہتری سے لے کر پینے کے صاف پانی کی فراہمی تک تھا، جس کے بعد ان کے تمام مطالبات مان لیے گئے۔

بیہار کے ایک سکول میں ہینڈ پمپ خراب تھا، پنکھے بند تھے، بیٹھنے کے لیے کوئی سہولت نہیں تھی، مڈ ڈے میل میں کیڑے نکل رہے تھے۔ اس سکول کے طلبہ، جو کہ ہماری جین الفا میں شمار ہوتے ہیں، سب 4 سے 5 کلومیٹر مارچ کر کے ”سب ڈویژنل مجسٹریٹ (SDM)“ کے آفس تک پہنچ گئے اور آفس کے باہر بیٹھ گئے، جس کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو وہاں آنا پڑا۔

اس کے بعد مہاراشٹرا کے ضلع ہنگولی کے لمبالا گاؤں کا پرنسپل سکول میں شراب پی کر آتا تھا۔ وہاں کے لوگوں اور طلبہ نے احتجاج کیا اور پرنسپل کو مستعفی ہونا پڑا۔ مدھیہ پردیش میں گرلز سکول کی طالبات نے بس کا کرایہ بڑھنے کی صورت میں بس کے اڈے پر احتجاج کیا۔ راجستھان میں پی ایم شری سکول کے طلبہ نے سکول کو تالا لگا کر بند کر دیا اور دھرنے پر بیٹھ گئے، کیونکہ سکول میں 25 اساتذہ کی خالی آسامیاں تھیں، لیکن پورے سکول میں صرف 7 استاد تھے۔ اس احتجاج میں جو سب سے آگے تھیں، وہ چھوٹی لڑکیاں تھیں، جن کی عمر 10 سے 15 سال کے درمیان تھی۔ ان میں سے ایک طالبہ کی ویڈیو سامنے آ رہی ہے، جس میں وہ خالی آسامیوں کے نام گنوا رہی ہے اور یہ اعلان کر رہی ہے کہ جب تک تمام خالی آسامیوں پر اساتذہ کی بھرتی نہیں ہوتی، تب تک سکول بند رہے گا۔

ہندوستان میں دس سال میں 92 ہزار سکول بند ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ سکولوں میں بس ایک ہی استاد اپنا کام سرانجام دے رہا ہے، جس پر اب مودی سرکار مکمل طور پر، اور باقی ریاستوں کی سرکاریں بھی، بے بس ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے غنڈوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ عبدالحفیظ، جو کہ ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کا ممبر ہے اور اس کا تعلق مغربی بنگال سے ہے، جب عبدالحفیظ اور اس کے والد ”سکول ٹھیک کرو“ تحریک کے سلسلے میں اپنے گاؤں کے سکول کے لیے آواز اٹھا رہے تھے تو بی جے پی کے غنڈے آئے اور عبدالحفیظ کے والد کوقتل کر دیا۔ اس کے بعد یہ تحریک ختم ہونے کی بجائے مزید پھیل گئی اور عبدالحفیظ کی دادی کی ویڈیو سامنے آئی، جس میں وہ ”انقلاب زندہ باد“ کے نعرے لگا رہی ہیں۔ عبدالحفیظ اور اس کی والدہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ جس مقصد کے لیے عبدالحفیظ کے والد کی جان گئی ہے، ہم نے اس کام کو مکمل کرنا ہے اور رکنا نہیں ہے۔

اس کے علاوہ اتر پردیش کے علاقے چندی پور میں سکول جانے کے لیے سڑک نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے آفس کے باہر دھرنا دے دیا۔ اس میں ایک اور احتجاج بھی شامل ہے جو چندی گڑھ میں اسپیشل ایجوکیشن کی طالبات نے سکول کے باہر کیا اور اسپیشلائزڈ اساتذہ کی مانگ کی۔

یہ اب ایک ایسی سماجی تبدیلی کے آغاز کا اظہار ہے، جس میں عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کے نتیجے میں تضادات سطح پر اپنا اظہار کر رہے ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے اس عہد کا نوجوان سیاست میں اپنا عملی کردار ادا کر رہا ہے۔ عمومی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ تحریکوں کی ابتدا فوری مسائل کے گرد احتجاجوں اور دھرنوں کی صورت میں ہوتی ہے اور ان کی کامیابی کے نتیجے میں حکومت کی ہر اس پالیسی پر سوال اٹھایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں سماج ایک لمبے عرصے سے تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔

ایسے ہی سماج کی بھاری اکثریت ان سیاسی مطالبات کے گرد اکٹھی ہوتی ہے اور سماجی قوانین، اقتدار اور حکومتی معاملات ردی کی ٹوکری کی زینت بن جاتے ہیں۔ آج یہی نوجوان، جو پرائمری سے لے کر مڈل کلاس تک سکولوں کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں اور انڈیا کی حکمران اشرافیہ، جس نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا، آج بے بس ہے۔ یہی نوجوان انڈیا کے انقلاب کی تصویر ہیں۔

اسی طرح جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بھی طلبہ کی تحریک جاری ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے بھرتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک، دھاندلی، بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف یہ تحریک 2 جولائی 2026ء کے آس پاس شروع ہوئی، جو بعد ازاں بڑے پیمانے کے دھرنوں اور احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ طلبہ کا الزام ہے کہ JPSC (Jharkhand Public Service Commission) اور JSSC (Jharkhand Staff Selection Commission) کے امتحانات میں مسلسل بے ضابطگیاں ہوتی رہی ہیں، حتیٰ کہ پیپر فروخت ہونے اور سرکاری عہدوں کی مبینہ قیمتیں مقرر ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے۔

طلبہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو (Devendra Nath Mahto) نے 16 روزہ بھوک ہڑتال کی، جس کے دوران ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ خاص طور پر JSSC-CGL 2024ء شدید تنازع کا شکار رہا، جس کے بعد حکومت نے 18 اگست کو امتحان منسوخ کرنے اور 2014ء سے TSR Data Processing Pvt. Ltd. (TDPL) کے ذریعے لیے گئے تمام recruitment tests، ان کے نتائج اور selections کی جامع تحقیقات کا اعلان کیا۔ JSSC-CGL کے ذریعے تقریباً 2000 امیدوار پہلے ہی سرکاری ملازمتیں حاصل کر چکے تھے، اس لیے ان کی ملازمتیں بھی خطرے میں پڑ گئیں۔ یوں ایک طرف طلبہ شفاف تحقیقات اور بھرتی کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کامیاب امیدوار پورا امتحان منسوخ کرنے کی بجائے ذمہ دار افراد کے خلاف انفرادی کاروائی چاہتے ہیں۔ امتحان کی منسوخی کے بعد دیویندر مہتو نے بھوک ہڑتال ختم کر دی، تاہم تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب حکومتیں پولیس اور غنڈوں کے ذریعے ان تحریکوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ سکولوں میں ویڈیوز بنانے پر پابندی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کاروائی، حتیٰ کہ POCSO کے تحت مقدمات کی دھمکی بھی سامنے آئی ہے۔

اس طرح کے واقعات میں سماج کی بھاری اکثریت کرپشن، لوٹ مار اور استحصال کے خلاف متحد ہو کر لڑ رہی ہے۔ اب ضروری ہے کہ ہم واضح کریں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ان تحریکوں سے سماج کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟ ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے نظریات کیا ہیں اور دراصل ہونا کیا چاہیے؟

آج کا عہد اور جین زی اور جین الفا

کارل مارکس نے کہا تھا کہ:

”ایک خاص مرحلے پر سماج کی مادی پیداواری قوتوں اور موجودہ پیداواری تعلقات کے درمیان تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ قانونی زبان میں یہی بات یوں کہی جا سکتی ہے کہ پیداواری قوتوں اور ان ملکیتی تعلقات کے درمیان تضاد پیدا ہو جاتا ہے جن کے دائرے میں وہ اب تک کام کرتی رہی ہیں۔ جو تعلقات پہلے پیداواری قوتوں کی ترقی کی شکل تھے، وہ ایک مرحلے پر انہی کی بیڑیاں بن جاتے ہیں۔ تب سماجی انقلاب کا عہد شروع ہوتا ہے۔ معاشی بنیاد میں تبدیلیاں جلد یا بدیر پورے وسیع بالائی ڈھانچے کی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔“
(Karl Marx 1859 – A Contribution to the Critique of Political Econom)

اسی طرح آج عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام، جس نے جاگیردارانہ سماج کی کوکھ سے جنم لیا تھا، یہ بھی انقلابات کا ہی نتیجہ تھا۔ اپنے ابتدائی عہد میں اس نے پیداواری قوتوں کو ترقی دی، جس میں مینوفیکچرنگ سے مشین اور انجن کی ایجاد اور اس کے نتیجے میں جدید صنعت کی بنیاد رکھی گئی۔ آج یہ اس نہج پر آ چکا ہے کہ پیداواری قوتوں کو مزید ترقی دینے کی بجائے ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے۔ اس تضاد کے نتیجے میں آج ہمیں پوری دنیا میں تحریکیں اور انقلابات ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ آج ہر وہ شے نجس ہو چکی ہے جو پہلے مقدس تھی اور اسی طرح آج کا عہد انقلابات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ پوری دنیا کے نوجوان اور مزدور اس سے نتائج اخذ کر رہے ہیں اور لڑائی کے لیے منظم ہو رہے ہیں۔

اسی طرح ہندوستان کی نئی نسل، جسے جین زی (Gen Z) اور جین الفا (Gen Alpha) بھی کہا جاتا ہے، وہ بھی اسی عہد میں جوان ہو رہی ہے اور اسی عہد کے عمومی کردار کے اثرات سے متاثر ہو کر تاریخ کے میدان میں اتر رہی ہے۔ بنگلہ دیش سے لے کر نیپال اور یورپ میں ابھرنے والی تحریکوں کے اثرات سے متاثر ہوئے بغیر ہندوستان کی جین زی اور جین الفا نہیں رہ سکی اور کل نہیں تو آج اس نے ہندوستان میں جاری دہائیوں کے غصے کا اظہار کیا ہے اور ہندوستان کی غلیظ سیاست کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ جنتر منتر کے بعد کی صورتحال اور اس کی حاصلات نے ان کے شعور کو ایک معیاری جست دی ہے، اور اسی کی بدولت اب جو حالات بنے ہیں، یہ حالات اب پیچھے کا سفر طے نہیں کریں گے بلکہ آگے بڑھیں گے۔

یہاں تک کہ ہندوستان کی فلم انڈسٹری، جو ایک لمبے عرصے سے خاموش تھی، اس کو سیاسی میدان میں گھسیٹ لائی ہے اور منافقوں کو ایک صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ جو حقیقی آرٹسٹ تھے، جو سماج میں موجود بے چینی کو محسوس کر رہے تھے، وہ اپنے حقیقی جذبات کے ساتھ اس نئی نسل کے ساتھ آ کھڑے ہوئے، جن میں پرکاش راج کا نام سب سے قابلِ ذکر ہے۔

ر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور اسی طرح ہر لڑائی کے اپنے نظریات ہوتے ہیں۔ اس سماج میں ہم جو لڑائی لڑ رہے ہیں، وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہے۔

ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور اسی طرح ہر لڑائی کے اپنے نظریات ہوتے ہیں۔ اس سماج میں ہم جو لڑائی لڑ رہے ہیں، وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہے۔ اس لڑائی میں ہمیں اپنی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، تو کبھی آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی ہے اور زیادہ تر تو کئی لوگوں کو اپنی جانیں تک دینی پڑتی ہیں۔ یعنی آج اس نظام میں اصلاحات کی بھی گنجائش باقی نہیں رہی۔ تو کیا ہماری لڑائی صرف اصلاحات تک محدود رہنی چاہیے؟

اس پر بھگت سنگھ نے کہا تھا کہ:

”جدوجہد کے دوران ’سمجھوتا‘ ایک ضروری ہتھیار ہے اور جیسے جیسے جدوجہد آگے بڑھتی ہے اسے موقع کی مناسبت سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ مگر جس چیز کو ہمیں ہمیشہ ذہن میں رکھنا ہو گا وہ تحریک کا نظریہ ہے۔ ہمیں ہمارے مقصد کا واضح ادراک ہمیشہ برقرار رکھنا ہو گا جس کے لیے ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس سے ہمیں ہماری تحریک کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی پہچان ہو گی اور ہم با آسانی مستقبل کا پروگرام تشکیل کر پائیں گے۔ ’تلک‘ کی پالیسی مثالی نہ سہی پر اس کا طریقہ کار بہترین تھا کہ اگر آپ اپنے دشمن سے 16 آنے لینے کے لیے لڑ رہے ہیں اور آپ کو ایک آنا مل جاتا ہے تو اسے اپنی جیب میں سنبھالیں اور باقیوں کیلئے لڑائی جاری رکھیں۔ جو چیز ہمیں ’معتدل پسندوں‘ میں نظر آتی ہے وہ ان کی یہ سوچ ہے کہ وہ ایک آنے کے لیے لڑتے ہیں اور انہیں وہ بھی نہیں مل پاتا۔ انقلابیوں کو یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ ایک مکمل انقلاب کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ طاقت مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لے لینے کے لیے۔ سمجھوتے پرخطر ہوتے ہیں کیونکہ یہی وہ گڑھے ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے قدامت پسند، سمجھوتے کے بعد انقلابی قوتوں کو کمزور کرنے کی کاوش کرتے ہیں۔ ہمیں حقیقی مسائل اور خصوصاً منزل کے حوالے سے کسی بھی ابہام سے بچاؤ کے لیے ایسے موڑوں پر زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔ برطانوی لیبر راہنماؤں نے اپنی حقیقی جدوجہد سے غداری کی اور منافق سامراجی طفیلیے بن کر رہ گئے ہیں۔ میری رائے میں شدید ترین قدامت پسند ہمارے لیے ان پُر فریب سامراجی لیبر راہنماؤں سے زیادہ بہتر ہیں۔ طریقہ کار اور حکمت عملی کے لیے لینن کے پوری عمر پر محیط کام کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

میں کہہ چکا ہوں کہ موجودہ تحریک یعنی موجودہ جدوجہد کا مکمل ناکام ہونا یا کسی سمجھوتے پر ختم ہونا طے ہے۔

ایسا میں نے اس لیے کہا کیونکہ، میرے نقطہ نظر کے مطابق، حقیقی انقلابی قوتوں کو ابھی میدان میں نہیں بلایا گیا ہے۔ اس جدوجہد کا انحصار متوسط طبقے کے دکانداروں اور کچھ سرمایہ داروں پر ہے۔ یہ دونوں خاص طور سرمایہ دار کبھی بھی اپنی ملکیت کو کسی بھی جدوجہد میں داؤ پر نہیں لگائیں گے۔ حقیقی انقلابی فوجیں دیہاتوں اور فیکٹریوں میں ہیں: کسان اور مزدور۔ مگر ہمارے بورژوا حکمران ان کو اس جدوجہد میں شامل کرنے کی نہ تو صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی کبھی ان کو شامل کرنے کی جرات کریں گے۔ ایک بار جب سوتے ہوئے شیر کو اس کی نیند سے جگا دیا تو پھر ان مقاصد کے حصول کے بعد بھی، جو ہمارے حکمرانوں کے ہیں، اسے سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔ 1920ء میں احمد آباد کے مزدوروں کے پہلے تجربے کے بعد گاندھی نے کہا ”ہمیں مزدوروں کو نہیں چھیڑنا چاہیے۔ صنعتی مزدوروں کا سیاسی استعمال انتہائی خطرناک ہے“ (دی ٹائمز، مئی1922ء)۔ اس کے بعد سے اب تک انہوں نے مزدوروں کو جوڑنے کی کوشش نہیں کی۔ باقی رہی بات کسانوں کی تو 1922ء کی قراردادِ بردولی نے اس خوف کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو راہنماؤں نے محسوس کیا کہ جب دیوہیکل کسان نہ صرف بیرونی قوم کی حاکمیت بلکہ جاگیرداروں کے شکنجے کی چولیں ہلا دینے کے لیے بیدار ہوئے۔“ (بھگت سنگھ کا پیغام؛ نوجوانوں کے نام)

لیکن آج بھگت سنگھ کو دہلی میں محبِ وطن بنا دیا گیا اور انڈین پنجاب میں پنجابی قوم پرست، جو کہ بالکل جھوٹ ہے۔ ہندوستان کا اسٹالنسٹ بایاں بازو سنہ 47ء کی طرح کبھی گاندھی کی گود میں جا بیٹھتا ہے، تو کبھی بھگت سنگھ کے نظریات کو کند کر کے اس کا نام لیوا بنا ہوا ہے اور تحریکوں میں گاندھی ازم کے موقع پرستانہ نظریات کا پرچارک بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن یہاں بھگت سنگھ مکمل طور پر اصلاح، اصلاح پسندی اور انقلاب کے مابین فرق اور ان کے تعلق پر بات کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ ہمارا مقصد انقلاب کا ہے اور یہی ہماری اصل لڑائی ہے۔ ہمارے سپاہی مزدور اور کسان ہیں اور انہی کی بدولت ہی ہم اس سرمایہ دارانہ نظام کے آئین اور اس کی ریاست کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور ایک سوشلسٹ انقلاب کے لیے جدوجہد کا نظریہ بھی یہی ہے۔

ایک بار جب سوتے ہوئے شیر کو اس کی نیند سے جگا دیا تو پھر ان مقاصد کے حصول کے بعد بھی، جو ہمارے حکمرانوں کے ہیں، اسے سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔

آج سرمایہ داری جس نہج پر براجمان ہے، وہ کبھی بھی اپنے منافع کم نہیں ہونے دے گی اور اصلاحات کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دیرپا نہیں رہتیں۔ جونہی تحریکیں پیچھے جاتی ہیں تو حکمران طبقہ وہ ساری حاصلات واپس لینے کی طرف آتا ہے جو مزدور طبقے نے لڑ کر حاصل کی ہوتی ہیں۔ اسی طرح بھگت سنگھ کے بقول ہمیں 16 آنے کے لیے لڑائی لڑنی چاہیے اور ایک آنا لینے کے بعد باقی کے 15 آنے کی لڑائی جاری رکھنی چاہیے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اصلاحات کی اس جدوجہد کو انقلابی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال میں لایا جائے۔ لیکن آج کا بایاں بازو اصلاحات تک ہی محدود ہو چکا ہے اور اصلاح پسند بن بیٹھا ہے، جسے ہم مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔

اگر ہم تقسیم سے قبل کے سالوں، خاص کر 1946ء، کا تذکرہ کریں تو اس وقت بھی ایسا ہی انقلابی منظر تھا۔ پورا سماج جدوجہد کے اندر تھا اور جہاں برطانوی راج کو خطرہ لاحق تھا، وہیں مقامی اشرافیہ بھی اپنی حکمرانی جاتی دیکھ کر لرز رہی تھی۔ لیکن ایک حقیقی انقلابی پارٹی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکی اور حکمران طبقے نے اس جدوجہد کو مذہبی تقسیم میں جھونک دیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کا قتلِ عام ہوا اور اسی قتلِ عام کا جشن ہر سال 14 اور 15 اگست کو منایا جاتا ہے۔

اور اسی پر ہی فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ:

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

اور آخر میں فیض صاحب کہتے ہیں کہ:

ابھی گرانیئ شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

پاکستان میں تحریکیں

پاکستان میں بھی جنتر منتر کے مقام پر ہونے والے احتجاج کے حوالے سے خاصی چرچا رہی۔ یہاں تک کہ خود محسن نقوی اور دوسرے وزراء بھی ”کاکروچ“ اور ”جین زی“ جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے اس صورتحال پر بات کرتے رہے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آج برصغیر کا یہ خطہ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا ہے۔ نیپال کے انقلاب کے بعد بھارت میں جن جن یوٹیوبرز نے اس حوالے سے ویڈیوز بنائیں، یا جنہوں نے یہ کہا کہ آج ہندوستان کو بھی ایسی ہی جدوجہد کی ضرورت ہے، ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ کسی دوسرے ملک میں ہونے والے انقلاب کو خوش آمدید کہنا لوگوں کے لیے ایک فطری عمل ہے، کیونکہ وہ اپنے ہی ملک میں بے روزگاری، لاعلاجی، بھوک اور غربت دیکھ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف چند لوگوں کے ہاتھوں میں دولت کے انبار جمع ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اپنے ملک میں بھی اسی طرح کی تبدیلی کی خواہش کا پیدا ہونا، آج کے انقلابی عہد اور عالمی سطح پر طبقاتی شعور کے ابھرنے کا ایک ناگزیر اظہار ہے۔

حکمران طبقے کی طرف سے اس پر لرزہ طاری ہونا بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ اب یہ نظام ختم ہونے کو ہے اور اس کے ساتھ ان کی عیاشیاں بھی ختم ہو سکتی ہیں۔ اپنی عیاشیوں کو برقرار رکھنے کے لیے آج ان کے پاس جبر کے سوا کوئی ہتھیار نہیں بچا، لیکن لوگ اس جبر سے ڈرنا چھوڑ چکے ہیں۔

پاکستان کے حکمرانوں کو بھی اس صورتحال کا علم ہے اور ان کے اندر موجود یہ خوف بھی اسی سچائی کی علامت ہے، جس کا اظہار وہ اپنے بیانات میں کرتے رہتے ہیں۔ ”اسی طرح جین زی جاگ جائے گی“ اور ”یہ نظام تباہ ہو گیا ہے“ جیسے الفاظ جہاں ان کے اندر موجود خوف کو ظاہر کرتے ہیں، وہیں نوجوانوں کے غصے کو طنز کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔ نوجوانوں کو ”کاکروچ“ جیسے ناموں سے مخاطب کرنا دراصل اس خواہش کا اظہار ہے کہ کسی طرح یہ پرکھا جائے کہ یہاں کچھ ہونے تو نہیں جا رہا۔

دراصل وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہر سماج کے اندر تضادات ہوتے ہیں اور ان تضادات کے سطح پر اظہار کا وقت بھی سماجی حالات ہی متعین کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے مقام پر جس وجہ سے تحریک ابھری ہو، وہی وجہ من و عن کسی دوسرے سماج میں بھی دہرائی جائے۔ البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ کسی دوسرے خطے کی تحریک کے اثرات سے متاثر ہو کر کسی دوسرے خطے میں بھی تحریک جنم لے سکتی ہے، لیکن اس تحریک کے اپنے سماجی تضادات موجود ہوتے ہیں اور وہ انہی تضادات کے گرد تشکیل پاتی ہے۔ صرف ان تضادات کو متحرک کرنے یا انہیں سطح پر لانے کا محرک کسی دوسرے خطے کی تحریک بن سکتی ہے۔

”آزاد“ کشمیر میں اس وقت انقلابی تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ محنت کش عوام اب کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنی آزادی اور اپنی بنیادی ضروریات کے لیے جانیں قربان کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اسی طرح پاکستان بھی اسی بے چینی سے گزر رہا ہے اور یہاں کوئی بھی صوبہ یا خطہ ایسا نہیں ہے جہاں عوام کا غصہ اپنی انتہاؤں کو نہ پہنچ گیا ہو۔ ”آزاد“ کشمیر میں اس وقت انقلابی تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ محنت کش عوام اب کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنی آزادی اور اپنی بنیادی ضروریات کے لیے جانیں قربان کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کی اس ساری جدوجہد میں پاکستان میں بھی سیاسی شعور رکھنے والے لوگوں نے ان کا ساتھ دیا اور گرفتاریوں سے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں عوام دہشت گردی اور ریاستی آپریشن کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔

پاکستانی ریاست ایسی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے حکمران سیاسی و اخلاقی ساکھ کے بغیر حکمرانی پر مسلط ہیں اور حکمران اشرافیہ اس صورتحال سے اس قدر واقف ہے کہ وہ اب اپنی ساکھ بچانے یا اسے بحال کرنے کی کوشش نہیں کر رہی، بلکہ اس کے سامنے جو فوری ٹاسک ہیں، وہ یہ ہیں کہ اپنی لوٹ مار میں جس قدر ہو سکے اتنا اضافہ کیا جائے۔ اس کے لیے فائٹر جیٹ سے عام لوگوں پر بم گرانے ہوں یا پھر اپنی فوج کو جنگ کی منڈی میں بیچنا ہو، اس کی پروا کیے بغیر وہ اپنی عیاشیوں کا سامان جمع کرنے میں لگا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں محنت کش طبقہ مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور لاعلاجی کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے۔ یہ ساری صورتحال یہاں کے نوجوانوں کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے اور آج کے نوجوانوں کی دلچسپی سیاست میں بڑھ رہی ہے۔ سماج کی حقیقی تبدیلی کے لیے کمیونزم اور سوشلزم کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس میں زیادہ تر سکولوں اور کالجوں کے طلبہ کی تعداد شامل ہے۔

اسی طرح آج فیکٹری مزدوروں میں بھی 15 سے 35 سال کے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اس بے روزگاری اور مہنگائی کے دور میں صرف 15 ہزار سے 35 ہزار روپے تنخواہ پر فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں، جہاں ان سے 10 سے 14 گھنٹے کام لیا جا رہا ہے۔ بے چینی اور اضطراب کی زندگی میں وہ اپنے روز و شب کاٹ رہے ہیں۔ آج کے پاکستان میں سماجی شعور کے حوالے سے بات کی جائے تو حکمران طبقے اور ان کے اداروں سے عوام شدید نفرت کرتے ہیں۔

اسی طرح جب یہ محنت کش عوام تحریکوں اور انقلابات میں منظم ہوتی ہے تو اپنی ساری زنجیریں توڑ کر سیاست کے میدان میں اپنا عملی اظہار کرتی ہے۔ پھر وہ کسی بھی ٹینک، توپ یا گولے سے نہیں ڈرتی بلکہ اپنا سینہ تان کر ان کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے اور تاریخ میں اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ بنگلہ دیش میں جب انقلابی تحریک کا آغاز ہوا تو حسینہ واجد نے شہر میں ٹینک بھیج دیے، لیکن ان کے سامنے ابو سعید نامی نوجوان اپنا سینہ تان کر کھڑا ہو گیا اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس انقلاب کو آگے کی جانب لے گیا۔ حسینہ واجد، جس کے پاس تمام دولت، اسلحہ اور ریاستی مشینری موجود تھی، آخرکار بھاگنے پر مجبور ہوئی۔

اسی طرح جنتر منتر کے مقام پر بھی جب طلبہ کے احتجاج پر کریک ڈاؤن ہوا تو اس کا سامنا خواتین نے آگے بڑھ کر کیا۔ اس کی ویڈیوز پورے سوشل میڈیا پر اس طرح پھیلیں کہ ہر شخص کو اپنی گرفت میں لے لیا، اور نوجوانوں نے اپنے بلندعزم اور حوصلے سے اس جدوجہد میں جیت حاصل کی۔ اس جیت کو اب جین زی (Gen Z) اور جین الفا (Gen Alpha) آگے بڑھا رہے ہیں اور سکولوں اور علاقوں کے معاملات اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ یہ وہ سماجی شعور ہے جو اپنے غصے کا اظہار اپنے فوری مطالبات کے ذریعے کرتا ہے، سیاسی تحریکوں میں خود کو منظم کرتا ہے اور جدوجہد کے تجربے سے آگے بڑھتے ہوئے انقلابات تک پہنچتا ہے، جہاں حکمران طبقے کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پورے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد سامنے آتی ہے۔

اسی طرح آج جنوبی ایشیا اس وقت انقلابی اٹھان کے اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس مرحلے ہی پر یہاں کے محنت کش عوام نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ یہاں کے حکمران طبقے کے پاس موجود ہتھیار تاریخی طور پر ناکارہ اور بانجھ ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب محنت کش طبقے کی ہمت اور حوصلوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کشمیر میں جاری حالیہ تحریک اس بات کا واضح ثبوت ہے، جہاں نوجوان گولیوں کے آگے جھکے نہیں بلکہ اپنا سینہ تان کر کھڑے ہو گئے اور جس موت سے انہیں ڈرایا جاتا تھا، انہوں نے موت کے خوف کا لبادہ اتار کر میدان میں قدم رکھا۔ اسی طرح سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کے نوجوانوں نے اس خطے میں ایک تازہ روح پھونکی اور دہائیوں سے جاری حکمران طبقے کے قبضے اور خوف کے قلعے کا قلع قمع کر دیا۔

آج پوری دنیا کی طرح جنوبی ایشیا اور خاص طور پر برصغیر، تاریخی اعتبار سے انقلابات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کا طبل بج چکا ہے اور 79 برس پہلے کا ادھورا انقلاب آج پھر اپنے آب و تاب کے ساتھ، اس خطے میں سورج کی سرخی کی مانند، اس خطے کے آسمان پر طلوع ہو رہا ہے۔ جن نظریات کے ساتھ برصغیر کا بایاں بازو غداری کر کے جرم کا مرتکب ہوا، آج لازمی ہو گیا ہے کہ ان نظریات کو دوبارہ منظم کیا جائے۔

کامریڈ ٹیڈ گرانٹ نے 1942ء میں ہندوستان میں جاری آزادی کی جدوجہد کے حوالے سے لکھا تھا:

”انقلابِ مسلسل (Permanent Revolution) کا نظریہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ پسماندہ ممالک میں بورژوازی، بورژوا انقلاب کے بنیادی فرائض کو پورا کرنے سے قاصر ہے؛ یعنی سامراج کی زنجیروں سے قومی آزادی حاصل کرنا، ملک کی جاگیردارانہ تقسیم کو ختم کرتے ہوئے اسے ایک متحد وحدت میں تبدیل کرنا، کسانوں میں زمین کی تقسیم کرنا اور ایک جمہوری دستور ساز اسمبلی (Democratic Constituent Assembly) کا قیام عمل میں لانا۔ ماضی میں فرانس اور برطانیہ کی طرح ان فرائض کو ایک ابھرتی ہوئی اور توانا بورژوازی نے انجام دیا تھا۔ لیکن آج عالمی سامراج کے حالات میں نوآبادیاتی بورژوازی ان ترقی پسند فرائض کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آزادی کی جدوجہد کو کامیاب بنانا ہے تو پرولتاریہ، تعداد میں کم ہونے کے باوجود، پوری قوم کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے۔ ہندوستان کے مسائل صرف اسی طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ باغی کسانوں کو اپنے ساتھی اور رہنما شہر کے مزدوروں میں تلاش کرنا ہو گا۔

لیکن ایسا کرنے کے لیے ضروری ہو گا کہ پرولتاریہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لے۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ صرف بورژوازی کے فرائض کی تکمیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سوشلسٹ فرائض کی جانب بھی آگے بڑھے گا۔ اس مرحلے پر اسے عالمی محنت کش طبقے کی حمایت درکار ہو گی، یعنی پرولتاری انقلاب کو دنیا کے دوسرے حصوں تک پھیلانا ہو گا۔“
(The Road to India’s Freedom – The Permanent Revolution in India and The Tasks of The British Working Class)

(The Road to India’s Freedom – The Permanent Revolution in India and The Tasks of The British Working Class)

جبکہ بھگت سنگھ بھی اپنی جدوجہد میں یہی بات کر رہا تھا۔ اس کے بعد ہونے والی تقسیم اور تقسیم کے بعد کے حالات میں ہم نے دیکھا کہ دونوں ممالک میں کبھی بھی جدید اور ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ طرز پر سماج پنپ ہی نہیں سکا اور یہاں کی بورژوازی جمہوری انقلاب فرائض پورے نہیں کر سکی۔ پاکستانی ریاست کے حوالے سے تو کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہے، جبکہ آج بھی بھارتی قوانین و آئین برطانوی سامراج کے استعمال کیے ہوئے قوانین اور ادارہ جاتی ڈھانچے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ پولیس کے حوالے سے بھی آج انڈین سماج اسی ذہنیت پر گامزن ہے جو برطانوی سامراج چھوڑ گیا تھا، جس کا اظہار انڈین فلموں میں بھی بار بار نظر آتا ہے۔ اگر افسر شاہی کی بات کی جائے تو اس میں بھی یہاں کی بورژوازی برطانوی سامراج ہی کی مرہونِ منت کام کر رہی ہے اور کبھی بھی ریاست کو ایک سیکولر ریاست نہیں بنا سکی۔

اب بھی برصغیر کا بایاں بازو، جو مکمل طور پر کبھی بھی مارکسزم کے نظریات کے ساتھ پروان نہیں چڑھ سکا، اسٹالن ازم کے متروک نظریات اور گاندھی ازم، جو کہ مکمل طور پر سامراج اور سرمایہ داروں کا گماشتہ تھا، کے نظریات کو اپنے گلے کا طوق بنا کر پہنے ہوئے ہے۔

اب جبکہ سرمایہ دارانہ نظام اپنی لاش اٹھائے ہوئے سماج کو تباہی کی جانب لے جا رہا ہے، تو یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ سرمایہ دار طبقہ رضاکارانہ طور پر اپنی حکمرانی سے دستبردار نہیں ہو گا بلکہ اسے اکھاڑ کر پھینکنا ہو گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس خطے میں موجود انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کی جائے۔ اسی نظریاتی کمی کو پورا کرنے کی ناگزیریت کے لیے ضروری ہے کہ ہم مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی کے نظریات سے لیس ایک منظم پارٹی کا حصہ بنیں اور ان تحریکوں میں موجود انقلابی نظریات کی کمی کو پورا کرتے ہوئے برصغیر کی ایک رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی طرف بڑھیں اور اس انقلاب کو عالمی محنت کش طبقے کے انقلاب کے ساتھ جوڑیں۔

اور آخر میں میکسم گورکی کے ناول ”ماں“ کے ایک کردار پاویل، جہاں وہ زار کی عدالت میں بات کرتا ہے، کے اس اقتباس کے ساتھ اپنی جدوجہد کو تیز کریں:

”دیکھو! اب تم میں سے کوئی بھی اپنے اقتدار کے لیے ایک نظریے کے طور پر لڑنے کے قابل نہیں رہا! تم وہ تمام دلائل پہلے ہی خرچ کر چکے ہو جو تاریخی انصاف کے دباؤ سے تمہیں بچا سکتے تھے۔ تم نظریات کی دنیا میں کچھ نیا تخلیق نہیں کر سکتے؛ تم روحانی طور پر بانجھ ہو چکے ہو۔

ہماری قوتِ فکر بڑھ رہی ہے؛ وہ پہلے سے زیادہ روشن شعلوں کی طرح بھڑک رہی ہے؛ وہ عوام کی وسیع اکثریت کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے اور انہیں آزادی کی جنگ کے لیے منظم کر رہی ہے۔ اپنے عظیم تاریخی کردار کا شعور دنیا کے تمام محنت کشوں کو ایک روح میں متحد کر رہا ہے۔

تمہارے پاس زندگی میں جاری اس تجدید کے عمل کو روکنے کا کوئی ذریعہ نہیں، سوائے ظلم اور بدترین بے حسی کے۔ لیکن تمہاری بے حسی سب پر عیاں ہے، تمہارا ظلم لوگوں کے غصے کو بھڑکاتا ہے اور جن ہاتھوں سے تم آج ہمیں دبا رہے ہو، کل وہی ہاتھ ہمارے ہاتھوں کو رفاقت میں تھامیں گے۔

تمہاری توانائی، سونے کی بڑھتی ہوئی مقدار سے پیدا ہونے والی ایک میکانکی توانائی، تمہیں بھی ایسے گروہوں میں تقسیم کر رہی ہے جو بالآخر ایک دوسرے کو نگلنے کے لیے مقدر ہیں۔ ہماری توانائی ایک زندہ قوت ہے، جو تمام محنت کشوں کے اتحاد کے بڑھتے ہوئے شعور پر قائم ہے۔

تم جو کچھ بھی کرتے ہو، مجرمانہ ہے، کیونکہ تمہاری ہر کوشش عوام کو غلام بنانے کی طرف ہے۔ ہمارا کام دنیا کو ان فریبوں اور ان عفریتوں سے آزاد کرتا ہے جو تمہاری بدخواہی اور لالچ سے پیدا ہوتے ہیں اور جن سے عوام کو خوف زدہ کیا جاتا ہے۔

تم نے انسان کو زندگی سے کاٹ کر اسے منتشر کر دیا ہے۔ سوشلزم اس دنیا کو، جسے تم نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، دوبارہ ایک عظیم وحدت میں متحد کر دے گا۔ اور یہ ضرور ہو گا!“

پاویل ایک لمحے کے لیے رک گیا، پھر دھیمی آواز میں، مگر پہلے سے زیادہ زور دیتے ہوئے، دہرایا:

”یہ ضرور ہو گا!“