انڈیا کاکروچ تحریک: مودی کے استعفیٰ تک جدوجہد جاری رکھو!

|تحریر: روی مستری، ترجمہ: عبدالحئی|

انڈیا نے صرف کچھ ہی دن پہلے ایک ایسا ہفتہ دیکھا ہے جس میں دہائیاں گزر چکی ہیں۔ شدید جبر کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے منظم کیے گئے بڑے پیمانے کے مظاہروں نے بھارت کے نفرت زدہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ ایک اہم اور نایاب فتح ہے جس نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔

لیکن عین اس وقت جب ہزاروں افراد ابھی سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہے تھے اور جب مودی اور پوری حکومت شدید گھبراہٹ کا شکار تھی، سی جے پی نے اچانک احتجاج ختم کر دیے۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جو فتح کو شکست میں بدل دینے کا خطرہ رکھتی ہے۔

جین زی کی جدوجہد

ملک کی جین زی نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی بے مثال ’کاکروچ‘ تحریک نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پورا ملک سیاست پر بات کر رہا ہے۔ دہلی، ممبئی اور کلکتہ جیسے بڑے شہروں میں جشن کا سماں تھا۔

یہاں تک کہ بالی ووڈ کے بڑے ستارے سلمان خان اور بھارت کے عظیم ترین کرکٹر سچن ٹنڈولکر نے بھی طلبہ مظاہرین کی حمایت میں مبہم بیانات دیے۔

یہ سب ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں حکومت اور اس کے طاقتور رہنما نریندر مودی کے خلاف اختلافِ رائے کو عموماً بہتان تراشی، سنسرشپ، مارپیٹ، قید یا حتیٰ کہ موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

واقعات بہت تیزی سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد حال ہی میں مئی کے وسط میں رکھی گئی تھی، یہ پارٹی بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے اس بیان کے ردِعمل میں وجود میں آئی کہ ملک کے بے روزگار نوجوان ’کاکروچ‘ ہیں۔

اس کا بانی ابھیجیت دیپکے جون کے شروعاتی دنوں میں بھارت واپس آیا اور اس نے جلسے کرنا شروع کیے۔ جون کے آخر میں لُٹینز دہلی (Lutyens’ delhi) کے قلب میں واقع جنتر منتر پر ایک کیمپ قائم کیا گیا۔

ان کا بنیادی مطالبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا، جنہیں وہ مشکل نیٹ (NEET) میڈیکل امتحان کے پرچے کے لیک ہونے کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے، جس سے امتحان کالعدم ہو گیا تھا اور کم از کم 17 طلبہ کی خودکشی کا سبب بنا۔

احتجاج کے طور پر سونم وانگچک جو ایک معروف ماحولیاتی کارکن اور انجینئر ہے، نے گاندھی واد کے طرز پر مرنے تک بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ اسے 18 جولائی بروز ہفتہ، زبردستی کیمپ سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد ’سنسد چلو‘ مارچ پارلیمنٹ کی طرف شروع ہوا۔

ایک لاکھ تک افراد اس مارچ میں شریک ہوئے اور پولیس نے ان کا سامنا لاٹھی چارج، آنسو گیس اور یہاں تک کہ پیلٹ گنز سے بھی کیا۔ ان مناظر نے پورے ملک کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

لیکن جبر کے ذریعے عوام کو دبانے کی بجائے، اس نے اس غصے کو پھاڑ کر باہر نکال دیا جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جمع ہو رہا تھا۔ حیران کن مناظر سامنے آئے جہاں بھارت کے ہزاروں نوجوان یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ اب خوفزدہ نہیں رہے، سڑکوں پر امڈ آئے۔

ریاستی جبر کے اس نظام سے بے خوفی کی ایک نمایاں مثال وہ تصویر تھی جو بڑے پیمانے پر پھیلی، جس میں ایک نوجوان لڑکی ایک پولیس وین کے سامنے کھڑی تھی جس میں گرفتار مظاہرین کو لے جایا جارہا تھا اور وہ اس وقت تک ہٹنے سے انکار کر رہی تھی کہ جب تک ان مظاہرین کو رہا نہ کر دیا جائے۔

دیگر وائرل ویڈیوز میں مظاہرین کو لاٹھی چارج کا نشانہ بنتے اور پھر فوراً کھڑے ہوتے دیکھا گیا۔ دہلی میں طلبہ نے شدت پسند عناصر کو پھولوں کے گملے پھینک کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

یہ تحریک مجموعی طور پر خوشی، جرات اور مزاحمت کے جذبے سے بھری ہوئی تھی، جس میں تخلیقی انداز اور طنز بھی بھرپور نظر آیا۔ نوجوان مظاہرین نے ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن کے عنوانات تھے جیسے ’ممبئی پولیس سے گرفتار ہونے کی تیاری‘۔ جبکہ کچھ لوگ کاکروچ، اسپائیڈر مین، آئرن مین، بیٹ مین اور سپرمین کے لباس میں نظر آئے۔

کیمپ میں خوراک، کپڑوں اور کمبلوں کی اتنی فراوانی ہو گئی کہ دیپکے کو خود عوام سے اپیل کرنا پڑی کہ مزید سامان بھیجنا بند کریں کیونکہ ان کے پاس سامان پہلے ہی بہت زیادہ ہو چکا ہے۔

ایک وائرل ویڈیو اس پورے ماحول کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ اس میں لندن سے آئے ایک نوجوان برطانوی سیاح کو دہلی میں مظاہروں کے درمیان کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس نے طلبہ سے بات کی ہے جو اس بدعنوان حکومت کے خلاف اپنی تعلیم کے لیے لڑ رہے ہیں۔

وہ مزید کہتا ہے:

اتنے لوگوں کی کہانیاں سننے کے بعد مودی سب کچھ برباد کر رہا ہے، اس ملک میں سب کچھ ٹھیک ہونا چاہیے، میڈیا میں سنسرشپ غلط ہے، مودی بھاڑ میں جائے۔“

اس کی اس تقریر پر مجمع زور دار نعروں اور خوشی کے اظہار سے گونج اٹھتا ہے، جیسے اس نے ورلڈ کپ میں کوئی گول کر دیا ہو۔

طاقتور حکمران نے گھٹنے ٹیک دیے

امیت شاہ جو وزیرِ داخلہ ہے اور دہلی پولیس کا نگران بھی ہے، کو اکثر ایک سخت گیر اور بے رحم سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، بعض لوگ اسے مودی سے بھی زیادہ سخت سمجھتے ہیں۔ جب اس نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ دیکھا تو اس نے کیمپ ختم کرنے اور ’کاکروچوں‘ کو کچلنے کے لیے بدترین تشدد کیا۔

یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، لیکن مظاہرین کے پُرعزم اور غصے سے بھرپور ردِعمل نے بی جے پی (BJP) کی قیادت کو تشویش میں مبتلا کر دیا، جس کے نتیجے میں اندرونی اختلافات سامنے آئے۔ کچھ رہنما مزید سختی کے حامی تھے، جبکہ کچھ نے مظاہرین کو ٹھنڈا کرنے کی بات کی۔ آخرکار، انہوں نے دونوں راستوں کا ملا جلا طریقہ اختیار کیا۔

مثال کے طور پر ممبئی میں مظاہرین کے خلاف تقریباً 300 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور پابندیوں کے احکامات جاری کیے گئے۔ اسی دوران مرکزی حکومت نے براہِ راست سونم وانگچک سے اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرے اور جمعے کے دن تک کابینہ نے جلدی میں قانون سازی کرتے ہوئے امتحانی پرچے لیک کرنے کے ذمہ دار اہلکاروں کے لیے 10 سال قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی سزائیں منظور کر لیں۔

اس کے باوجود احتجاج کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتے گئے۔ بڑے شہروں جیسے ممبئی، پونے، کلکتہ، بنگلورو، اندور اور جے پور میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ یہاں تک کہ مودی اور شاہ کے آبائی علاقوں، احمد آباد اور گاندھی نگر میں بھی عوام بڑی تعداد میں باہر آئے۔

مزید اہم بات یہ تھی کہ جمعہ کے روز کسان یونین نے اعلان کیا کہ وہ مارچ کرتے ہوئے کیمپ تک آئیں گے اور مطالبات کی منظوری تک وہیں ڈٹے رہیں گے۔ یہ وہی کسان ہیں جنہوں نے 2021ء میں مودی حکومت کو اُس وقت پسپائی پر مجبور کیا تھا جب اسے (مودی کو) متنازع زرعی قوانین واپس لینے پڑے تھے۔

یہی عنصر اُن رعایتوں کی کلید بنا جو طلبہ مودی حکومت سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حکومت کو اس بات کا شدید خدشہ تھا کہ اگر کسانوں سمیت دیگر محنت کش اور استحصال زدہ عوام بھی اس تحریک میں شامل ہو گئے تو معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ اسی دوران چھوٹے شہروں اور قصبوں میں بھی نوجوانوں نے خودبخود احتجاجی اقدامات شروع کر دیے، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ تحریک صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے ملک میں پھیلنے لگی ہے۔

بالکل اسی طرح ہی بنگلہ دیش میں ہوا تھا، تحریک کا آغاز نوجوانوں کے نچلے متوسط طبقے کی پرتوں کے احتجاج سے ہوا، لیکن بہت جلد اس احتجاج نے پھیل کر عوام کی کہیں زیادہ وسیع اور مشتعل پرتوں کو اپنی طرف کھینچ لیا، جو ان بہادر اور ڈٹ کر کھڑے نوجوانوں کے خلاف ہونے والے وحشیانہ جبر پر غصے سے بھرے ہوئے تھے۔

انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سے پہلے کے آخری 48 گھنٹوں میں مودی نے ردِعمل کا براہِ راست کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ مظاہرین کو پرسکون کرنے کے لیے مودی نے ایک بے چین سے بھرپور ذاتی ویڈیو جاری کی، جس کے بعد جمعہ کی رات 11 بجے ایک اور ویڈیو پوسٹ کی۔ بی جے پی کے اعلیٰ عہدیدار اس ردِعمل کو قریب سے مانیٹر کرتے رہے۔ لیکن آخرکار اس سے صورتحال مزید بھڑک اٹھی۔ ’اپنا سامان باندھ لو‘ جیسے تبصرے اور مودی کے چہرے پر بنے میمز نے ایک ایسے شخص کا مذاق اڑایا جس سے کبھی خوف کھایا جاتا تھا۔

جمعہ کی شام تک پردھان اب بھی پارلیمانی سوالات کی تیاری کر رہا تھا۔ لیکن معاملات قابو سے باہر ہوتے جا رہے تھے۔ راجاپکشا اور شیخ حسینہ (وہ آمریت پسند حکمران جنہیں سری لنکا اور بنگلہ دیش میں جین زی کی تحریکوں نے ہٹا دیا تھا) کے سائے مودی کا پیچھا کر رہے تھے۔ لیکن اس نے ان سے یہ سبق بھی سیکھا ہے: بہتر ہے کچھ پیچھے ہٹ جایا جائے، بجائے اس کے کہ نوجوانوں کا احتجاج انقلابی شکل اختیار کر لے۔

بی جے پی کے ایک سینئر ذرائع نے کہا کہ ”اب زیادہ راستے باقی نہیں بچے تھے۔“ چنانچہ مودی کو جھکنا پڑا۔

احتجاج ختم کرنے کی غلطی

دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مودی کے 12 سالہ دورِ حکومت میں احتجاج کے نتیجے میں کسی وزیر کا دوسرا استعفیٰ ہے اور اس سے پہلے والا معاملہ حکومت کے اقتدار کے لیے کوئی وجودی خطرہ نہیں بنا تھا۔

اس کامیابی کی اصل اہمیت یہ ہے کہ کاکروچوں نے ثابت کر دیا ہے کہ مودی ناقابلِ شکست نہیں ہے۔ ’طاقتور حکمران‘ کو شکست کا گھونٹ پینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

اسی لیے ہفتے کے روز پردھان کے استعفیٰ کی خبر کے بعد خوشی اور جوش کا ماحول دیکھا گیا۔ دیپکے کے اس پہلے ردِعمل کی ویڈیو جس میں وہ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کی خبر سنتا ہے، انسٹاگرام پر تقریباً 15 کروڑ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کے بعد، دیپکے اور سی جے پی نے بہت زیادہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔

لیکن اس کے بعد سی جے پی نے فوراً ہی بی جے پی کے ساتھ ’نیک نیتی‘ کے تحت احتجاج ختم کرنے کا وعدہ کر دیا۔ ہمیں بالکل واضح ہونا چاہیے کہ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔

اس اقدام نے ایسے وقت میں الجھن پیدا کر دی جب مودی اور اس کی پوری حکومت مشکلات میں گھری ہوئی تھی اور دہلی سے باہر کے شہروں میں ہزاروں نوجوان ابھی صرف متحرک ہونا شروع ہی ہوئے تھے۔

پردھان کی جگہ اس سے بھی بدتر شخص پرلہاد جوشی (Pralhad Joshi) کو مقرر کیا گیا ہے۔ وہ آر ایس ایس (RSS) کے نظریات رکھتا ہے، جس نے ان 11 افراد کی رہائی کی ذمہ داری لی تھی جو بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور 2002ء کے گجرات فسادات میں اس کے خاندان کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے، یہ فسادات، بلاشبہ، خود نریندر مودی کی نگرانی میں ہوئے تھے۔

سی جے پی کی قیادت، جیسے دیپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا، سب حادثاتی طور پر سامنے آنے والے کردار ہیں۔ انہیں تحریک کی قیادت کے مقام پر صرف اس لیے پہنچا دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے درست وقت پر درست بات کہی تھی۔ ان کا ’کاکروچ‘ نعرہ ابتدا میں ایک مذاق کے طور پر شروع ہوا تھا، لیکن اس نے اس تحقیر کے احساس کو طاقتور انداز میں ظاہر کیا جو لاکھوں بھارتی عوام اپنے حکمرانوں کی طرف سے محسوس کرتے ہیں۔

یہ رہنما نہ تو تربیت یافتہ کارکن ہیں، نہ ہی انقلابی یا مارکسسٹ۔ وہ کچھ عرصہ پہلے تک مغرب کی معروف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے رہے، جبکہ آخری دو افراد نسبتاً آرام دہ متوسط طبقے کی ملازمتیں کرتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ خود بھی اس بات سے حیران اور خوف زدہ دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے کیا کچھ شروع کر دیا ہے!

ان کا نقطہ نظر الجھا ہوا ہے، جس کا اظہار ’جے بھیم‘ (امبیڈکر کو خراجِ تحسین، جو ایک لبرل دلت رہنما تھا اور جس نے بھارتی آئین تحریر کیا) اور ’بندے ماترم‘ (وطن سے متعلق ایک قوم پرستانہ نعرہ) جیسے نعروں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو ’آزادی‘ کے نعرے لگانے سے بھی روک دیا ہے۔

یہی ان کے انتہائی محدود مطالبات کی وضاحت کرتا ہے صرف ایک وزیر کو ہٹانا اور ان لوگوں کے لیے معاوضہ جنہوں نے نیٹ (NEET) امتحانات کے بعد خودکشی کی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب انڈیا کی ریاست پر ان کے اعتماد، پولیس، سپریم کورٹ، ’پارلیمانی اپوزیشن‘ اور بھارتی آئین پر ان کے یقین کو ظاہر کرتا ہے۔

وہ حالات کو تجربے کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ حقیقتاً یہ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے ہیں۔

مجموعی طور پر سی جے پی کی قیادت میں انقلابی نقطہ نظر کی کمی ہے۔ ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے: کیا یہ لوگ مودی حکومت کے خلاف زندگی اور موت کی جدوجہد کی قیادت کرنے کے اہل ہیں، جس کے پیچھے اس سے بھی زیادہ طاقتور ’ارب پتی راج‘ کھڑا ہے؟

اس کے برعکس، نریندر مودی اور بی جے پی حکومت طبقاتی شعور کے حوالے سے انتہائی واضح ہیں۔

وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کے اقتدار کے لیے اصل خطرہ طلبہ کی طرف سے کم اور کسان تحریک کا طلبہ تحریک کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے زیادہ تھا اور یہ کہ دوسری پرتیں بھی اس راستے پر چل سکتی ہیں۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ خطرہ ان مسلسل اٹھنے والی عوامی لہروں میں ہے جو بار بار سڑکوں پر آ رہی تھیں۔ انہوں نے حسینہ اور راجاپکشا کو اقتدار سے گرتے دیکھا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ بھارت میں بنیادی طور پر اسی طرح کے حالات موجود ہیں جو بارود کے ایک ڈھیر کی مانند ہیں اور طلبہ کی تحریک اس بھڑکتے ہوئے مواد میں چنگاری کا کام کر سکتی ہے۔

مودی نے کاکروچ تحریک سے خوفزدہ ہو کر نہیں بلکہ اس خطرے سے جھکاؤ اختیار کیا کہ یہ تحریک قابو سے باہر ہو سکتی تھی اور پورے نظام کو گرا سکتی تھی۔ اب وہ جبر کے ذریعے الجھن اور خوف پھیلانے کے ارادے سے کام کر رہا ہے۔ مودی کو اپنے ’وعدوں‘ سے پیچھے ہٹنے، آئین میں لکھی ہوئی اچھی باتوں کو نظر انداز کرنے، اپنے آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعے مخالفین پر حملہ کروانے یا ریاستی طاقت کے غلط استعمال میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔

دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی پیشکش کر کے سی جے پی کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرنے کے بعد، اب وہ مکمل آزادی کے ساتھ اور بلاخوف فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے تاکہ تحریک کے سب سے آگے بڑھنے والے لڑاکا عناصر کو الگ تھلگ کیا جا سکے اور انہیں دوسروں کے لیے مثال بنایا جا سکے۔

حیرت کی بجائے دور اندیشی

گزشتہ ہفتے ہم نے جو کچھ دیکھا، مارکس وادی اس کی پیش گوئی کر رہے تھے، کیونکہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک میں، جہاں جین زی کی تحریکوں نے جنم لیا تھا، وہاں بھی ایسے ہی حالات موجود تھے۔

ہم اپنے قارئین کو یاد دلاتے چلیں کہ گزشتہ سال 3 اکتوبر کو ہم نے کیا شائع کیا تھا:

”وہی حالات جو جین زی تحریک کو جنم دینے کا سبب بنے، بھارت میں بھی موجود ہیں۔ اور ایک بار پھر زور دے کر کہنا ضروری ہے کہ جب بھارت میں انقلابی چنگاری بھڑکے گی، تو اس کے اثرات حالیہ ماضی میں دیکھی گئی تمام تحریکوں سے کہیں زیادہ دور رس ہوں گے۔“

ہم غیب کا علم نہیں رکھتے اور ہم یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تحریک کس سمت جا رہی ہے۔ لیکن احتجاج ختم ہونے کے بعد مودی نے جبر کے اقدامات کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔ اطلاعات ہیں کہ بیہار اور مغربی بنگال میں سینکڑوں طلبہ مظاہرین کو فوجداری مقدمات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ حکومت مخالف تحریروں کو بھی مٹایا جا رہا ہے۔

مودی کے حامی گروہ یہ پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں کہ سی جے پی کی قیادت بڑے بڑے ہوٹلوں میں جشن منا رہی ہے اور عوامی حالات سے بالکل بے خبر ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت مخالف مواد سوشل میڈیا سے ہٹایا جا رہا ہے اور آر ایس ایس کے غنڈے سڑکوں پر معروف کاکروچ کارکنوں پر حملہ کرنے کے لیے چھوڑے گئے ہیں۔

مودی دوبارہ اپنی طاقت مجتمع کر رہا ہے۔ لیکن اسی وقت وہ اپنی طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی کر سکتا ہے۔ جبر کی اس نئی لہر کے دباؤ میں، سی جے پی کی قیادت کو یہ کہنا پڑا ہے کہ اگر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ احتجاج شروع کریں گے۔

ممبئی کے شیواجی پارک میں، احتجاج کی کال یکطرفہ طور پر ختم کیے جانے کے اگلے دن، ہزاروں لوگ جشن منانے کے لیے جمع ہوئے اور نعرہ لگایا، ”مودی اور امیت شاہ ابھی باقی ہیں!“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ’کاکروچ‘ قیادت سے کہیں زیادہ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔

صورتحال بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور ایسے اشتعال انگیز عوامل کی کوئی کمی نہیں جو اس تحریک کو پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر دوبارہ بھڑکا سکتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ سی جے پی کے رہنما تحریک کو صرف پردھان کو ہٹانے کے ایک ہی مطالبے تک محدود رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ بنیادی طور پر یہ نہیں سمجھتے کہ وہ کامیاب کیوں ہوئے۔ انہوں نے خوف کی وجہ سے ایک محدود رعایت حاصل کی کہ کہیں یہ تحریک کسی بہت بڑی چیز میں تبدیل نہ ہو جائے۔ تاہم، ایک بار یہ تحریک کمزور پڑ گئی، اگر مودی اپنی جگہ پر موجود رہا، تو حکومت انتقامی کاروائی کرنے کی تاک میں رہے گی۔

اب یہ سب کچھ کس طرح آگے بڑھتا ہے، اس کا فیصلہ حالات کریں گے۔ کاکروچ ایک ایسے نازک اور دھماکہ خیز ماحول میں چنگاریاں پھینک رہے ہیں جو کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔ ایران کی جنگ، ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد کردہ محصولات، آبنائے ہرمز میں امریکی کاروائی کے نتیجے میں بھارتی ملاحوں کی ہلاکت، کشمیر کا قومی مسئلہ، منی پور میں جاری کشیدگی، امریکا-بھارت تجارتی معاہدے کے خلاف کسانوں کے احتجاج، گریجویٹ نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری، وغیرہ یہ سب عوامل موجود ہیں۔

پاکستان کے ساتھ جنگ میں مودی کو جو دھچکا لگا، اس نے اسے شدید کمزور کر دیا ہے۔ اسی دوران عوام کے حالات انتہائی مایوس کن ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود انڈیا کا طاقتور محنت کش طبقہ، جو شدید استحصال کا شکار ہے لیکن بے حد طاقت رکھتا ہے، یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، مگر ابھی تک میدان میں نہیں اترا۔ لیکن یہ حقیقت کہ حکومت مراعات یافتہ طلبہ کی پرتوں کو بھی کاکروچ سمجھتی ہے، کہ یہ طلبہ بھی مشکلات اور بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ کہ یہ طلبہ جدوجہد کر کے کامیابی حاصل کرنے کے قابل ہیں، یہ سب باتیں یقیناً محنت کشوں کے لیے غور و فکر کا باعث بن رہی ہوں گی۔

ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انڈیا میں انقلابی امکانات کی کوئی کمی نہیں ہے۔

اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس ہفتے نے انڈیا کے نوجوانوں پر کتنا گہرا اثر ڈالا ہے۔ 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد پوری ریاست ہائے متحدہ امریکا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھے ہیں جہاں انہوں نے صرف ایک ہی رہنما کو دیکھا ہے، یہ سوچتے ہوئے اور اختلافِ رائے کی قیمت اور آواز اٹھانے کے نتائج کو سمجھتے ہوئے کہ وہ بے حد طاقتور ہے۔

وہ اب اپنا خوف کھونا شروع کر رہے ہیں۔ اس ظاہری مضبوطی میں زیادہ سے زیادہ دراڑیں پڑ رہی ہیں، لیکن یہ ابھی مکمل طور پر منہدم نہیں ہوئی۔

یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ فیصلہ کن وقت میں قیادت کتنی اہم ہوتی ہے۔ انقلابی قیادت کی عدم موجودگی حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا میں اٹھنے والی تمام شاندار تحریکوں کی ایک بنیادی کمزوری رہی ہے۔

انڈیا برصغیر کا کلیدی ملک ہے۔ ہم نے صرف بھارتی معاشرے میں موجود انقلابی امکانات کی ایک چھوٹی سی جھلک دیکھی ہے۔ یہ کوئی ایک منظر پر ختم ہونے والا ڈراما نہیں ہو گا۔

ہم ان کاکروچوں کے لیے ایک سادہ پیغام رکھتے ہیں جو اپنی قیادت کی جانب سے وقت سے پہلے احتجاج ختم کرنے سے مایوس ہیں اور مودی کے جبر کے خلاف مزاحمت کرنا چاہتے ہیں:

بی جے پی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں!
مودی کے استعفیٰ تک غیر معینہ مدت تک احتجاج جاری رکھو!
اس وقت تک غیر معینہ مدت تک احتجاج جاری رکھو جب تک پوری بی جے پی حکومت اور جس نظام کا وہ دفاع کرتی ہے، اسے ختم نہ کر دیا جائے!
انڈیا کے نوجوانوں، محنت کشوں اور کسانوں کی فتح ہو!
ہمارے جیتنے کے لیے ایک پوری دنیا موجود ہے!