انڈیا: کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوانوں کی مزاحمت

|تحریر: دیپ سہیلیا، ترجمہ: آصف لاشاری|

(نوٹ: یہ مضمون انڈیا میں بننے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے حالیہ لانگ مارچ سے قبل اس تحریک کے آغاز میں ہماری انٹرنیشنل ویب سائٹ marxist.com پر شائع کیا گیا تھا۔ جس کا ترجمہ ابھی ہماری ویب سائٹ communist.pk پر شائع کیا جا رہا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے حالیہ لانگ مارچ کی تازہ صورتحال پر مضمون بہت جلد ہماری ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا۔)

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

”اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ سمجھتے ہیں کہ عام لوگ کاکروچ اور جونکیں ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کاکروچ گندی جگہوں پر پلتے بڑھتے ہیں اور آج انڈیا بھی ایسی ہی ایک جگہ بن چکا ہے۔“ یہ کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دپکے (Abhijeet Dipke) کے الفاظ ہیں، کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا نام مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے ملتے جلتے نام سے طنزیہ طور پر رکھا گیا۔

چند ہی دنوں میں پارٹی نے انسٹاگرام پہ 22 ملین فالورز اکٹھے کر لیے اور ایکس پر اس کے 2 لاکھ 20 ہزار فالوور ہو گئے اور دو لاکھ لوگوں نے ممبرشپ لی اور یوں اس نے بی جے پی (BJP) کے راہنماؤں کو خوفزدہ کر دیا۔

جو چیز ایک آن لائن طنزیہ مذاق کے طور پر شروع ہوئی تھی وہ اب ہندوستان کے نوجوانوں کے شدید غصے اور اشتعال کی علامت بن چکی ہے جس نے ہمارے سڑے ہوئے حکمران طبقے کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

”میں بھی کاکروچ ہوں“

15مئی کو بھارتی چیف جسٹس سریا کانت نے سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں ہتک آمیز بیانات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ ایک وکیل کی جانب سے نام نہاد عدالتی نظام میں سینئر ایڈوکیٹ کی آسامی کی بھرتیوں کے سلسلے میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرنے پر رد عمل دیتے ہوئے اس نے مندرجہ ذیل الفاظ ادا کیے:

”ایسے نوجوان ہیں جو بالکل کاکروچز کی مانند ہیں جنہیں کہیں روزگار نہیں ملتا اور نہ ہی جن کی کسی شعبہ میں کوئی جگہ بنتی ہے۔ ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا کا حصہ بنتے ہیں اور کچھ رنگ برنگے ایکٹوسٹ بن جاتے ہیں اور ہر کسی پر حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔“

ان توہین آمیز الفاظ نے ایک بہت بڑی بغاوت کو بھڑکا دیا۔ کانت کے بے رحم اور سفاک رویے نے انڈین حکمران طبقے کی آج کے نوجوانوں کی طرف حقارت کو ایک مجسم شکل میں ظاہر کر دیا۔ دپکے جو اُس وقت امریکہ بوسٹن میں مقیم ایک بھارتی طالب علم تھا، نے اس ہتک آمیز رویے پر ردعمل دیا اور سوشل میڈیا پہ ایک سوال پوسٹ کیا کہ: ”اگر سب کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہو گا؟“

دیکھتے ہی دیکھتے ”میں بھی کاکروچ ہوں“ کا ایک نعرہ ابھرا اور جنگل میں آگ کی طرح پھیل گیا۔ اس کے بعد پارٹی کی ویب سائٹ اور ممبرشپ کے لیے سائن اپ پیج بھی وجود میں آ گیا۔

حالیہ ہفتوں میں 22 ملین نوجوان کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام پیج کا حصہ بنے ہیں۔ اگرچہ ریاست نے ”نیشنل سیکیورٹی“ کا بہانہ بنا کر اور یہ کہتے ہوئے کہ ان پیجز کے ملین فالوورز بوٹس ہیں جو پاکستان نے لانچ کیے ہیں، گروپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کاکروچ مسلسل جمع ہوتے رہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی حادثاتی کامیابی بھارتی جین زی کے اندر پلنے والے غصے کا ایک اظہار ہے، جو ایک ایسے بدعنوان حکمران طبقے کے خلاف منظم ہونے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں جو انہیں کسی قسم کا مستقبل دینے سے قاصر ہے اور انہیں کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے۔ انڈیا کے انقلابی کمیونسٹ کہتے ہیں کہ ’کاکروچز‘ کو چاہیے کہ بھارتی سرمایہ داری کی غلاظت کا صفایا کریں!

نوجوانوں کے خلاف سرمایہ دارانہ حقارت

بھارت 29.8 سال کی درمیانی عمر کی آبادی رکھنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، یعنی کہ معاشرے میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے جو کہ لگ بھگ 371 ملین نوجوان افراد بنتے ہیں۔ تاہم بھارتی سرمایہ داری میں نوجوانوں کے لیے بہتری کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

یونائیٹڈ نیشن (UN) کے اعداد و شمار کے اندازوں کے مطابق پچھلے ایک سال میں بے روزگاری کی شرح 13.8 فیصد سے بڑھ کر 15.2 ہوئی ہے (لگ بھگ 5 ملین کا اضافہ) اور یہ شرح بھی اس حقیقت کے باوجود ہے کہ غیر رسمی روزگار کو بھی بطور برسر روزگار اندراج کیا گیا ہے۔

تاہم یونیورسٹی گریجویٹس میں بیروزگاری کی شرح 40 فیصد ہے اور اگر گریجوایٹس اور پوسٹ گریجویٹس کی بات کی جائے تو یہ شرح 66 فیصد بنتی ہے۔ اس کا مطلب بنتا ہے کہ زیادہ مڈل کلاس بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی مستحکم روزگار حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ سونے پر سہاگا یہ کہ اعلی تعلیم کے داخلے کا نظام بھی کرپشن اور بدانتظامی سے اٹا ہوا ہے۔

بھارت میں ہر سال NEET-UG امتحان لیا جاتا ہے جسے میڈیکل اسکولو ں میں داخلہ لینے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے پاس کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس سال ایسے لاکھوں نوجوانوں کو امتحانی پرچے کے لیک ہو جانے کی وجہ سے دوبارہ امتحان میں بیٹھنے کا کہا گیا کہ جنہوں نے مہینوں یا سالوں اس مشکل و ظالمانہ امتحان کی تیاری کے بعد ٹیسٹ دیا تھا۔

یہ تباہ کن خبر تھی، خاص طور پر غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے جنہیں دوسری بار امتحان دینے کے لیے سال بھر انتظار کرنا ہو گا اور اس دوران اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے تگ و دو بھی کرنی ہو گی۔ اس بدانتظامی کی وجہ سے 17 خودکشیوں کے واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ 2024ء کے NEET-UG امتحان کے بعد بھی پچھلے سال احتجاج ہوئے تھے اور نوجوانوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امیر نوجوانوں کو ان کی مطلوبہ جگہوں پر داخلہ دینے کے لیے جعل سازی کی جا رہی ہے۔

اور اب حالیہ امتحانی سکینڈل کے رپورٹ ہونے کے بعد لاکھوں ’کاکروچ‘ دہلی میں ایک ہفتے کے لیے باہر نکل آئے۔ انہوں نے پولیس کی دھمکیوں، جسمانی تشدد اور جھلسا دینے والی گرمی کو کسی خاطر میں نہیں لایا اور ایجوکیشن منسٹر دھرمندرا پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

لاکھوں نوجوان ایک ممکنہ اچھی زندگی کے لیے میسر مواقعوں کے اس طرح چھین لیے جانے پر مشتعل ہیں۔ انہیں اس تلخ حقیقت کا ادراک ہو رہا ہے کہ سخت محنت اور قابلیت قطعاً بھی دولت اور تعلقات کے مساوی نہیں ہے۔ وہ درست طور پر اپنے مستقبل کے بارے میں مایوسی اور بددلی کا شکار ہیں۔

یہ وہ حالات و واقعات تھے کہ جن کے سبب پورے انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے خود کو اس نئی پارٹی میں پائی جانے والے نافرمانی و مزاحمت کو اپنے اندر کی آواز سمجھا۔ راتوں رات ’کاکروچز‘ نے اکٹھے ہو کر عوامی جماعت تشکیل دے دی۔ اب بانکی پور میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کاکروچ جنتا پارٹی کے الیکشنز میں حصہ لینے کی افواہیں سنائی دے رہی ہیں۔

انڈیا کے حکمران طبقے نے جن کو دوبارہ بوتل میں قید کرنے کی بھرپور کوشش کی (یا یوں کہیں کاکروچز کو ان کے ڈربوں میں)۔ چیف جسٹس کانت نے ایک اور بھونڈے بیان کے ذریعے سے اپنے پچھلے بیان کو تبدیل کر کے پیش کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ”نوجوان جدید بھارتی سماج کا ایک اہم ستون ہیں“۔ لیکن اس کے بالکل متوازی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پارٹی سے متعلقہ تمام تر سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پیجز پر بھی پابندی لگا دی۔ دپکے یہ بھی دعوی کرتا ہے کہ اکاؤنٹس کو بی جے پی کی جانب سے ہیک کر لیا گیا۔ سی جے پی (CJP) کی حالیہ ریلی میں اسے تھپڑ مارے گئے اور اس کے گھر والوں کو بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے غنڈوں کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

نوجوانوں کی آواز کو خاموش کرانے کی یہ ظالمانہ کوششیں اشرافیہ کے خوف کو ظاہر کرتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ انڈیا بلاشبہ ایک گلی سڑی جگہ ہے اور حکمران طبقہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر محنت کش اور نوجوان ایک شعوری سیاسی تحریک کے ذریعے منظم ہو جائیں تو انہیں آسانی سے اٹھا کر ایک طرف پھینکا جا سکتا ہے۔ حکمران طبقہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں حالیہ سالوں میں وقوع پذیر ہونے والے جین زی انقلابات کی چاپ اپنے اردگرد محسوس کر رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف غصے اور نفرت کے جذبات جنہوں نے بنگلہ دیش اور نیپال میں انقلابی لڑائیوں کو بھڑکایا، وہ انڈیا میں بھی موجود ہیں۔

ہمیں بالکل نہیں بھولنا چاہیے کہ بالکل وہی سماجی پرت اب انڈیا میں منظم ہو رہی ہے جس نے بنگلہ دیش میں مودی کی گماشتہ شیخ حسینہ کے تخت کو گرایا یعنی مڈل کلاس کے یونیورسٹی گریجویٹس جو بے روزگاری میں گھرے ہیں اور کسی قسم کا مستقبل نہیں رکھتے۔ ان سماجی پرتوں کی جانب سے گریجویٹ نوکریوں کے کرپٹ کوٹہ نظام کے خلاف شروع ہونے والی جدوجہد پہلے طلبہ کی انقلابی جدوجہد اور پھر پوری حکومت کے خلاف ایک وسیع تر عوامی انقلابی جدوجہد میں بدل گئی۔

اقتدار میں بیٹھے خون پینے والے حکمرانوں کو یہ بات اچھی طرح یاد ہے۔

انڈیا کے آج کل کے حالات میں جو کہ بنگلہ دیش کے حالات سے زیادہ مختلف نہیں ہیں، نوجوانوں میں پائے جانے والے غصے کے کسی حادثاتی اظہار کی صورت بھی ایک وسیع بغاوت کی شکل دھارنے کی طرف جا سکتی ہے۔

کاکروچز مستقبل کا مطالبہ کرتے ہیں!

کاکروچ جنتا پارٹی کی افیشل ویب سائٹ پر ہمدردوں کے لیے اپنے مسائل پوسٹ کرنے کا ایک الگ سیکشن موجود ہے۔ اس سیکشن میں بی جے پی کے مسلم دشمن بیانیے، حکومتوں کی بے پناہ کرپشن، تعلیمی قرضوں پر ظالمانہ سود اور امتحانات کے بھونڈے انعقاد جیسے مسائل سمیت بہت سے مسائل پر ہزاروں تبصرے ہو چکے ہیں۔ دپکے نے ان مسائل کو لے کر ایک پانچ نکاتی مینی فیسٹو تیار کیا ہے:

1۔ کسی بھی چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد انعام کے طور پر راجیا سبھا میں کوئی سیٹ نہیں دی جائے گی۔

2۔ اگر کہیں پر قانونی طور پر درج شدہ ووٹ ختم کیے جاتے ہیں تو چیف الیکشن کمشنر کو گرفتار کرنا چاہیے تاکہ انتخابی دھوکہ دہی کو روکا جا سکے۔

3۔ پارلیمنٹ کے حجم میں اضافہ کیے بغیر خواتین کے لیے مختص نشستوں کی تعداد کو (33 فیصد سے) 50 فیصد کیا جائے۔

4۔ آزاد میڈیا کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اڈانی اور ریلینس انڈسٹریز کی ملکیت میں موجود میڈیا چینلز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

5۔ اگر کوئی سیاستدان ایک پارٹی چھوڑ کر کسی دوسری پارٹی کا حصہ بنتا ہے تو اس کی الیکشن میں شمولیت اور کسی سرکاری دفتر میں بیٹھنے پر 20 سال پابندی عائد کی جائے۔

اگرچہ یہ مطالبات ایک سوشلسٹ پروگرام یا حتی کہ جمہوری اصلاحات کے ایک پروگرام سے کوسوں دور ہیں لیکن پھر بھی یہ مینی فیسٹو انڈیا کے نوجوانوں کی اقربا پروری، شاونزم، انڈیا کی سیاسی و میڈیا اسٹیبلشمنٹ کی کرپشن کے خلاف لڑنے کی کچھ حقیقی امنگوں کی ترجمانی ضرور کرتا ہے۔ شاید مینی فیسٹو سے زیادہ اہمیت کی حامل یہ حقیقت ہے کہ اسے بھارتی حکومت کے احکامات پر انٹرنیٹ سے ہٹا دیا گیا ہے!

بھارت واپس آنے کے بعد سے دپکے نے دہلی، لکھنو، امرتسر اور پونے جیسے کئی اہم شہروں میں ریلیاں منعقد کی ہیں اور ایک طنز کو ایک حقیقت میں بدل دیا۔ ہزاروں لوگ جن میں اکثریت میں نوجوان اور پڑھے لکھے بھارتی شامل ہیں، بھارتی وزیر تعلیم دھرمندرا پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ اس مقصد کے لیے باہر نکلے ہیں۔

ہر جگہ ریلیوں میں تمام مذاہب، تمام ذاتوں اور تمام جنسوں کے درمیان اتحاد پر واضح زور دیا گیا۔ یہ رجعتی سیاست کی طرف ثفافتی جنگ والی اپروچ کا استرداد ہے جس نے اب تک بھارتیوں کو منقسم اور مسائل کا شکار کیا ہوا تھا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا مظہر بھارتی لبرلز اور لیفٹ میں پائی جانے والی مایوسی کا ایک صحیح تریاق ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت فاشزم کی طرف بڑھ رہا ہے اور مودی و بی جے پی بہت ہی طاقتور ہیں۔ کاکروچز کی یہ تحریک باقی سیاسی جماعتوں کے منہ پر چپیڑ ہے جو انڈین نوجوانوں میں پائے جانے والے غصے کو آواز فراہم نہیں کر سکے۔

بھارتی سرمایہ داری کی روایتی جماعت کانگریس، جس کی تاریخ دہائیوں پر محیط غربت اور ریاستی جبر سے بھری پڑی ہے، نے خود ہی بھارتی جنتا پارٹی کے ہندوتوا شاونزم کا راستہ ہموار کرنے میں مدد کی تھی۔ اسی دوران انڈیا کی کمیونسٹ پارٹیاں جنہیں اپریل میں کیرلا میں ہونے والے انتخابات میں شکست ہوئی، طبقاتی مفاہمت، غداریوں اور کرپشن کی وجہ سے اپنی سماجی حمایت کھو چکی ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کو رد کرنا، جنہوں نے خود کو ایک یا دوسری شکل میں ایک ایسے غیر منصفانہ نظام کی چاکری کرنے والے ثابت کیا جو امیروں کو نوازتا اور باقی سب سے چھینتا ہے، ایک مثبت اور قابل فہم عمل ہے۔ جیسا کہ دپکے نے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا اور بعد میں کاکروچ جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر اسے دہرایا:

”ہم یہاں کوئی اور سیاسی جماعت بنانے نہیں آئے۔ اور نہ ہی ہم یہاں ٹیکس دینے والوں کے پیسوں پر ڈیووز (Davos) میں چھٹیاں منانے یا کرپشن کو تزویراتی اخراجات کا نیا نام دینے آئے ہیں۔“

کاکروچوں کی تحریک کا مستقبل کیا ہے؟

یہ واضح نہیں ہے یہ تحریک مزید کتنی منظم ہو سکتی ہے۔ اس تحریر کے لکھے جانے کے وقت کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کے احتجاجی کیمپ کو چار دن گزر چکے ہیں اور جو حالیہ NEET سکینڈل پر ایجوکیشن منسٹر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے گردایک غیر معینہ مدت کے احتجاج پر بیٹھے ہیں۔

انڈیا کے انقلابی کمیونسٹ ان احتجاجوں کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھی دہلی کے احتجاجوں میں موجود تھے اور انہوں نے ناراض طالب علموں کے ساتھ بھارتی سماج کے دل میں موجود خرابی کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ طالب علموں نے تعلیمی نظام سے بیزاری، انتہائی تھکا دینے والے NEET کے امتحانی نظام اور جن حالات کا انہیں سامنا رہا اس کے خلاف موجود غصے کے متعلق ہم سے بات کی۔

فطری طور پر بہت سے لوگوں نے اپنی جدوجہد کو غزہ میں نسل کشی، تعصب اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور موسمیاتی بحران جیسے وسیع تر مسائل سے جوڑا۔ لیکن کچھ لوگوں نے سی جے پی (CJP) کی قیادت پر پُرامن احتجاج کی حکمتِ عملی اور ایک جان بوجھ کر غیر منظم ’دباؤ ڈالنے والی تحریک‘ (pressure movement) کی حیثیت سے برقرار رہنے کی وجہ سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

اسی وجہ سے ہمیں پوچھنا چاہیے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے؟ وہ لاکھوں لوگ جو انٹرنیٹ پر حصہ بنے اور وہ ہزاروں لوگ جو ریلیوں میں شریک ہوئے، انہیں چاہیے کہ ملک بھر کے بڑے شہروں میں ایکشن کمیٹیاں تشکیل دیں اور اس طرح پارٹی کو مضبوط بنیادیں فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کو اپنے مطالبات کا دائرہ صرف تعلیمی اصلاحات یا طلبہ اور بے روزگاروں سے متعلق پالیسیوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر اس کی بنیادی اپیل انڈیا کے محنت کش طبقے سے ہونی چاہیے اور اس کے مطالبات میں ایسے نکات شامل کیے جانے چاہییں جو مزدوروں کی ضروریات اور مفادات کی نمائندگی کریں۔

بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک، جس نے نفرت کی علامت بن چکی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ کیا اس حوالے سے ایک واضح سبق فراہم کرتی ہے۔ طلبہ نے اس تحریک کی قیادت کی اور اس کی چنگاری بھڑکائی۔ لیکن فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب وسیع عوامی پرتیں جن میں محنت کش طبقے کے اہم حصے بھی شامل تھے، طلبہ کے ساتھ منظم ہوئیں اور پورے معاشرے کا پہیہ جام کر دیا۔ تب جا کر حکومت کا خاتمہ ممکن ہوا۔

ہندوستان کے محنت کش اور نوجوان مل کر نریندر مودی اور بی جے پی کی حکومت کا تختہ الٹنے اور ایک جمہوری طور پر منصوبہ بند سوشلسٹ سماج قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسا سماج جو بدعنوانی، جبر اور عدم تحفظ کا خاتمہ کرے جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ محنت کشوں اور نوجوانوں کے زیرِ انتظام سماج ہندوستان کے وسیع وسائل اور پیداواری صلاحیت کو عوام کی ضروریات کے لیے بروئے کار لا سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مفت اور معیاری تعلیم اور سب کے لیے روزگار کی ضمانت ممکن ہو گی۔

یہ سب کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ صرف گزشتہ تین برسوں کے دوران ہی ہم نے پورے جنوبی ایشیا میں بھارت کی دہلیز پر جین زی کی انقلابی تحریکوں کی ایک لہر دیکھی ہے۔ اسی سال نیشنل کیپیٹل ریجن (NCR) میں بڑے پیمانے پر ہڑتالیں اور احتجاج پھوٹ پڑے جن کا ریاست نے نہایت وحشیانہ کریک ڈاؤن کے ذریعے جواب دیا۔

جامعات کے بعض ماہرین اور نام نہاد ”نظریہ دان“ مسلسل یہ شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ انڈیا ’دائیں بازو کی طرف جھک رہا ہے‘، نوجوان سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے وغیرہ۔ لیکن سی جے پی اس کے بالکل برعکس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ نوجوان لاتعلق نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا غصہ شدت سے اپنے اظہار اور راستے کی تلاش میں ہے۔ ہم درحقیقت بھارت میں جنریشن زی انقلاب کے ابتدائی خدوخال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے حکمران اشرافیہ کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے۔

سی جے پی کی اصل اہمیت یہی ہے کہ اس کا وجود خود بخود ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے کہ آخر معاشرے پر حکمرانی اور کنٹرول کس کا ہونا چاہیے؟

ہمارا دوٹوک جواب ہے۔ منظم محنت کش طبقے اور نوجوانوں کا، جو بھارت کی آبادی کی بھاری اکثریت ہیں! لیکن اپنی تمام تر قوت اور امکانات کے باوجود عوامی توانائی اکیلے کافی نہیں ہوتی جیسا کہ پورے برصغیر میں انقلابات کو درپیش شکستوں اور پسپائیوں سے واضح ہے۔ ضرورت ایک ایسے انقلابی پروگرام کی ہے جو محنت کش طبقے اور نوجوانوں کی تحریک کو منظم کر کے طبقاتی جدوجہد کے ایک طاقتور ہتھیار میں تبدیل کر دے۔

ریوولیوشنری کمیونسٹس آف انڈیا ان تمام نوجوانوں کی طرف دوستی اور مکالمے کا ہاتھ بڑھاتے ہیں جنہیں حکمران طبقہ حقارت سے ”کاکروچ’“ کہتا ہے۔ آئیے آگے بڑھنے کے راستے پر سنجیدہ بحث کریں! ہمارا کہنا ہے کہ صرف ایک بدعنوان وزیرِ تعلیم کو ہٹا دینے پر کیوں اکتفا کیا جائے؟ کیوں نہ اوپر بیٹھے ہوئے غنڈوں، لٹیروں اور دھوکے بازوں کے اس پورے گھناؤنے آشیانے کا صفایا کر دیا جائے؟