پاکستان: سیاست دانوں کی نورا کشتی اور عوامی شعور

تحریر: | آدم پال | ہر آنے والا دن زخموں کو کریدتا ہے۔ اور جاتے جاتے نئے زخم دیتا ہے۔ زندگی کی اذیتیں کم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ ہر روز تکلیفیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ محنت کشوں کی زندگیوں سے خوشیاں روٹھ چکی ہیں جبکہ دوسری جانب حکمران طبقات کے لیے دکھ، تکلیف اور […]

انقلابِ مصر: حکمرانوں کیلئے ہولناک چتاؤنی

[تحریر: ایلن وڈز/حمید علی زادے، ترجمہ: اسدپتافی] مصر میں مرسی کے تخت اکھاڑے جانے کے بعد کی صورتحال نے مصری انقلاب کو ایک انتہائی پر پیچ اور نازک کیفیت میں دھکیل دیاہے۔ اخوان المسلمون کی اب بھی مصر کے سماج میں پیٹی بورژوازی، انتہائی پسماندہ و نیم خواندہ کسانوں اور لمپن پرولتاریہ میں بنیادیں موجودہیں۔ […]

جسم فروشی کا بڑھتا ہوا دھندا

[تحریر: آمنہ فاروق] سعادت حسن منٹو نے اپنے ایک افسانے ’’لائسنس‘‘ میں لکھا تھا ’’ایک عورت کو حصول معاش کیلئے تانگہ چلانے کا اجازت نامہ نہیں ملتا مگر جسم بیچنے کا لائسنس اسے مل جاتاہے‘‘۔

تہران میں ایک بار پھر عوامی مظاہرے

[رپورٹ:حمید علی زادے] آج 3اکتوبر کو اچانک شروع ہونے والے بڑے مظاہرے میں ہزاروں افراد تہران کے بازار میں سڑکوں پر نکل آئے۔نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین پورے بازار میں پھیل گئے اور ایک بنک کی عمارت کو تباہ کر دیا۔

کراچی: اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا؟

تحریر:پارس جان:- بھلے دنوں کی بات ہے کہ جب کراچی پر امن سماجی سرگرمی سے بھرپور، خوشگوار انسانی جذبوں سے آراستہ ،مختلف قومیتوں، زبانوں اور نسلوں کے ہم آہنگ امتزاج سے سرشار خوبصورت اور پروقار شہر ہوا کرتا تھا۔