ہسپانوی ریاست کی دھمکیاں اور کیٹالان حکومت کا تذبذب

|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: ولید خان| ہسپانوی حکومت نے کیٹالان کی حکومت 16 اکتوبر، پیر کے دن صبح 10:00 بجے کی ڈیڈ لائن کو دی تھی تاکہ وہ واضح کریں کہ آزادی کا باقاعدہ طور پر اعلان کر دیا گیا ہے یا نہیں۔ پچھلے ہفتے بھیجی گئی یہ جواب طلبی، آرٹیکل 155 کے لاگو کرنے […]

کیٹالونیا کے آزادی ریفرنڈم پر جبر کے خلاف عوامی بغاوت

|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: ولید خان| کیٹالونیا پارلیمنٹ کے یکم اکتوبر کو آزادی ریفرنڈم کے فیصلے کے بعد ہسپانوی ریاست ننگے جبر پر اتر آئی ہے۔ اس جبر کی شدت میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے اور ان ہتھکنڈوں سے واضح ہو رہا ہے کہ 1978ء کا آئین کتنا غیر جمہوری ہے جسے پرانی […]

سپین: بارسلونامیں دہشت گردی کے خلاف احتجاج، جنگی جنونیوں اور سامراجیوں کے منہ پر طمانچہ!

|تحریر: آرٹورو روڈریگویز، ترجمہ: انعم خان| ایک ہفتہ قبل کیٹالونیا اور ہسپانوی معاشرہ بارسلونا اور کیمبرلز کے شہروں میں ہونے والے دو دہشت گردی کے حملوں کے ہاتھوں لرز اٹھا۔ رجعتی قوتوں نے فوری طور پر موقع سے فائدے اٹھاتے ہوئے ملک کے اند ر خوف پھیلانے اور تقسیم کرنے کے لئے نسل پرستانہ زہر […]

اسپین: سوشلسٹ پارٹی کا بحران۔۔ دائیں بازو کی حکومت کیلئے راہ ہموار

تحریر: |جارج مارٹن، ترجمہ: ولید خان| 3اکتوبر2016ء ہسپانوی سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے بحران کا آغاز پارٹی قائد پیڈرو سانچیز(Pedro Sanchez) کے خلاف کُو سے شروع ہوا اور اب ہفتے کے اختتام پر باغیوں کی فیصلہ کن جیت کے بعد بحران حل ہونے کی طرف جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے فاتحین جو سوزانا ڈیاز (Susana […]

سپین کے انتخابات: حکمرانوں کے لئے زہر کا پیالا

تحریر:|جارج مارٹن اور آرٹیورو راڈرگیز| ترجمہ: |یاسر ارشاد| 26 جون کو ہسپانوی انتخابات پولرائزیشن اور توقعات سے بھرپور ماحول میں منعقد ہوئے۔ یہ انتخابات مہینوں پر محیط سیاسی تعطل، جس میں کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی، کے بعد ہوئے۔ زیادہ تر سروے رپورٹس میں یہ پیش گوئی کی جا رہی […]

سروینٹیز کے شاہکار ناول ڈان کیخوٹے کی 400ویں سالگرہ پر لکھی گئی ایلن ووڈز کی خصوصی تحریر، دوسرا اور آخری حصہ

تحریر : ایلن ووڈز:۔ (ترجمہ : آدم پال) تغیر کا دور ’’مارکس سروینٹیز اور بالزاک کو باقی تمام ناول نگاروں سے زیادہ پسند کرتا تھا۔ ڈان کیخوٹے میں اسے پرانی رسمی شجاعت آخری سانسیں لیتی ہوئی نظر آئی جس کا ابھرتے ہوئے بورژوا سماج میں مذاق اْڑایا جاتا تھا۔‘‘