بیمار نظام اور خودکشیوں کا ناسور!
|تحریر: ماہ بلوص اسد| سرمایہ دارانہ نظام کا عالمی معاشی بحران جہاں دنیا بھر میں اپنے اثرات سیاست اور معیشت کے میدان پر مرتب کر رہا ہے وہاں اس نے ایک عام انسان کی سماجی اور انفرادی زندگی کو بھی متاثر کیاہے۔ ایک طبقاتی معاشرے میں ایک انسانی جان کی قیمت ماسوائے قوت محنت کے […]
نواز شریف کو سزا اور ریاست کا بحران!
|تحریر: آدم پال| نواز شریف کو ملنے والی سزا پر بہت سا شوروغل مچ رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے عدالتوں اور ان کی پشت پر موجود جرنیلوں کی انتقامی کاروائی قرار دے رہے ہیں اور کچھ اسے طاقتور کا احتساب قرار دیتے ہوئے قبل ازوقت فتح کا جشن منا رہے ہیں۔لیکن محنت کش طبقہ اس […]
کُجا ’’گلگت بلتستان‘‘ کُجا آئین و دستور!
|تحریر: راشد خالد| نون لیگ کی حکومت نے اپنے آخری دنوں میں گلگت بلتستان کے معاملات کو چلانے کے لئے سابقہ گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009ء کے متبادل گلگت بلتستان آرڈر2018ء نافذ کیا ہے۔ یہ اکلوتا ’’انقلابی فریضہ‘‘ ہی نون لیگ کی حکومت نے سرانجام نہیں دیا بلکہ اپنے جاتے دنوں میں […]
روپے کی قدر میں تیز ترین گراوٹ اورمعیشت کا انتشار!
|تحریر: ولید خان| پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران میں گھرا ہوا ہے۔ اس حقیقت کی سب سے اہم جھلک 11 جون کو دیکھنے میں آئی جب روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید 3.69 فیصد کمزورہوا اور انٹر بینک ریٹ 119.85/120.05 تک پہنچ گیا۔12جون کو روپے کی قدر میں مزید گراوٹ دیکھنے میں آئی اور […]
ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان۔۔دھوکہ دہی کی نئی داستان!
|تحریر: ولید خان| آج کل سوشل میڈیا، اخبارات اور میڈیا پر ہر جگہ تحریک انصاف کی انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں پہلے 100 دن کے پروگرام کا بڑا چرچا ہے۔ عمران خان کے حمایتی اس پروگرام کو ’’انقلابی‘‘ قرار دے رہے ہیں جن کی اقلیت ہی اس پروگرام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت […]
پاکستان: انتخابات کا گورکھ دھندہ!
انتخابات کا بہت شور مچایا جا رہا ہے اور جمہوریت کے تسلسل پر جشن منائے جا رہے ہیں۔ وفاداریوں کا بھاؤ بھی منڈی میں بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن موجودہ نظام معیشت اور سماج کی حالت زار کا نہ تو کئی سنجیدہ تجزیہ کہیں موجود ہے اور نہ ہی محنت کش کی کوئی آوازکسی بھی پلیٹ فارم پر موجود ہے
علی وزیر پر حملہ: ملک دشمن اور غدار کون؟
|تحریر: ورکر نامہ| تین جون کی شام وانا، جنوبی وزیرستان میں علی وزیر کے گھر عوام کے اکٹھ پر مسلح افراد کا حملہ قابل مذمت ہے جو واضح کرتا ہے کہ طالبان ابھی بھی ان علاقوں میں موجود ہیں اور ان کے خاتمے کا واویلا صرف جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ضربِ عضب اور ردالفساد کی […]
فاٹا کا انضمام اور تاریخی زخم!
|تحریر: اسفندیار شنواری| 24 مئی 2018ء کو فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ موجودہ امکانات میں سب سے زیادہ قابل عمل قدم ہے، تاہم اس عمل میں مجرمانہ تاخیر سے کوئی انکار نہیں۔ 7 ایجنسیوں اور 6 فرنٹیر ریجنز پر مشتمل یہ علاقے ’’آزادی‘‘ کے نام پر 1901ء سے انگریز سامراج کے […]
پاکستان: بحرانوں کی دلدل
|تحریر: پارس جان| پاکستان کا سماج ایک ایسا پریشر کُکر بنتا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت ایک دھماکے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔ یہاں کے دانشوروں کا سالہا سال تک سب سے مرغوب جملہ یہی رہا کہ ’یہاں کچھ نہیں ہو سکتا‘۔ اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے […]
پاکستان میں طلبہ تحریک اور طلبہ یونینز کی بحالی
آج پاکستانی طلبہ مکمل طور پر حکمران طبقے اور ریاست کے رحم و کرم پر ہیں۔ طلبہ یونین پر پابندی کو تین دہائیاں گزر جانے کے بعد آج کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ کی ایک بھاری اکثریت طلبہ یونینز کے نام ہی سے ناواقف ہے