داس کیپیٹل کے ڈیڑھ سو سال
اس ایک کتاب کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کو غلط ثابت کرنے کیلئے جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، انسانی تاریخ میں کسی اور کتاب کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ انکی تعداد ہزاروں میں ہے. آج ان تمام کتابوں اور مصنفوں کا کوئی نام بھی نہیں جانتا جن پر داس کیپیٹل کا ’’رد‘‘ لکھنے کی وجہ سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے تھے
اداریہ لال سلام: داس کیپیٹل اور آج کی دنیا
داس کیپیٹل کی پہلی اشاعت کے ڈیڑھ سو سال بعد آج پوری دنیا میں اس تصنیف کو سمجھے جانے کی جتنی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی بھی نہ تھی۔ 2008ء کے معاشی بحران کو برپا ہوئے ایک دہائی کا عرصہ بیت چلا ہے لیکن ابھی تک اس کے اثرات کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے […]
بغاوت ہند 1857ء
بغاوت ہند 1857ء کی کیا تعریف کی جائے؟ کیا وہ محض کمپنی کے ناراض ہندوستانی سپاہیوں کی بغاوت تھی یا پھر ایک عوامی بغاوت؟ کیا وہ کسی گزرے ہوئے عہد کی معدوم سلطنت کو واپس بحال کرنے کی کوشش تھی یا پھر کچھ نیا اور جدید تعمیر کرنے کی جدوجہد؟ سب سے اہم سوال۔ ۔ ۔ 1857ء کی بغاوت کا کردار تاریخی اعتبار سے ترقی پسندانہ تھا یا پھر قدامت پسندانہ؟
مارکسزم اور فلسفہ
فلسفے کا ذکر کریں تو آج سائنسدانوں اور بہت سے دیگر لوگوں کا عمومی رویہ انتہائی بے حسی والا بلکہ سچ کہیں تو تحقیر آمیز ہے۔ ویسے جدید فلسفے کے حوالے سے تو یہ سلوک درست ہی لگتا ہے۔ پچھلی ڈیڑھ صدی سے فلسفے کی قلمرو کو ایک ایسے بنجر اور بے آب و گیاہ بیابان کی مانند دیکھا جا سکتا ہے جس میں شاید ہی کہیں کوئی زندگی کی رمق ملے۔
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (آخری حصہ)
انسان کا مستقبل ایک انجانے خوف میں ڈوبا ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں بلکہ ہر طرح کے استحصال، ظلم اور جبر سے آزاد بالآخر امن اور نشاط آمیز ہے۔ اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو جان سکتے ہیں۔ اس لئے کانٹ کے فلسفے کو جاننا اور اس کے خاتمے کا جاننا ضروری تھا۔
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ سوم)
تحریر: |صبغت وائیں| ’’موضوعی عینیت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے‘‘ یہ ہیگل نے کہا تھا۔ یہ درست ہے کہ ہیگل ایک عینیت پرست فلسفی تھا لیکن وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کے وجود کو حقیقی مانتا تھا۔ وہ ایک یونیورسل سپرٹ کی بات کرتا ہے۔ ایک ریزن کی، جس طرح سے وہ […]
کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری کا مرغوب ترین فلسفہ کیوں ہے؟ (حصہ دوئم)
تحریر: |صبغت وائیں| 25 اگست 2016ء جارج آرول نے اپنے ناول میں چند فقرے ایسے لکھے تھے جو کہ بظاہر مذاق لگتے تھے جن میں ایک تھا: ’’Ignorance is Strength‘‘
مارکس، اینگلز اور ادب
تحریر: | ب۔ کرایلوف | مارکس اور اینگلز عالمی آرٹ کو بخوبی جانتے تھے اور ادب، کلاسیکی موسیقی اور مصوری سے حقیقی آگاہی رکھتے تھے۔ اپنی جوانی میں دونوں نے شاعری بھی کی حتیٰ کہ ایک دفعہ اینگلز نے شاعر بننے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا بھی۔ اُنہیں نہ صرف کلاسیکی ادیبوں کا علم […]
مارکس ازم کے تین سرچشمے اورتین اجزاے ترکیبی
تحریر: ولادیمیر لینن(1913ء) تمام متمدن دنیا میں مارکس کی تعلیمات سے بورژوا علم (سرکاری بھی اور اعتدال پسند بھی) بھڑکتا ہے اور سخت عداوت رکھتا ہے۔ اس کی نظر میں مارکس ازم کیا ہے، ایک ’’مہلک فرقہ‘‘۔
مشینری اور جدید صنعت
| تحریر: کارل مارکس، ترجمہ: ابن حسن، پروف: امتیاز حسین | ’’سرمایہ‘‘ کے 15ویں باب ’’مشینری اور جدید صنعت‘‘ کا اردو ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔