کشمیر: تحریک کا ایک سال

’’آزادی‘‘ کے نعروں کی گونج وادی سے ابھر کر ایک بار پھر پورے کشمیر میں پھیل چکی ہے۔ تحریک تھمنے کی بجائے بار بار مزید شدت سے ابل پڑتی ہے۔ بہیمانہ بھارتی ریاستی جبر اپنی انتہاؤں کے باوجود تحریک کو پسپا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا

دہشت گردی کا پاگل پن اور سرمایہ داری کی علالت

محنت کش طبقہ ہی وہ واحد قوت ہے جو دہشت گردی کو شکست دے سکتی ہے اور سرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف سنجیدہ جدوجہد کر سکتی ہے۔ حکمران طبقہ اور دہشت گرد، دونوں محنت کش طبقے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں

جنوبی ایشیا: نئے اتحاد، نئے تصادم

پچھلے کچھ عرصے سے جنوبی ایشیا اور اس کے گردو نواح میں علاقائی اور عالمی سامراجی ریاستوں کے مابین تعلقات میں تیز ترین تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ ماضی کے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور ’’نئی دوستیاں‘‘ ان کی جگہ لے رہی ہیں۔ پرانے تضادات کے بطن سے نئے تضادات کا جنم ہورہا ہے

بغاوت ہند 1857ء

بغاوت ہند 1857ء کی کیا تعریف کی جائے؟ کیا وہ محض کمپنی کے ناراض ہندوستانی سپاہیوں کی بغاوت تھی یا پھر ایک عوامی بغاوت؟ کیا وہ کسی گزرے ہوئے عہد کی معدوم سلطنت کو واپس بحال کرنے کی کوشش تھی یا پھر کچھ نیا اور جدید تعمیر کرنے کی جدوجہد؟ سب سے اہم سوال۔ ۔ ۔ 1857ء کی بغاوت کا کردار تاریخی اعتبار سے ترقی پسندانہ تھا یا پھر قدامت پسندانہ؟

خیرات کا زہر اور این جی اوز کی غلاظت

|تحریر: آفتاب اشرف| خیرات محنت کشوں کے طبقاتی شعور اور جدوجہد کی نفسیات کے لئے ایک میٹھے زہر کا درجہ رکھتی ہے۔ خیرات کے نظریے کو بنیاد بناتے ہوئے جہاں ایک طرف ہمیں محنت کش طبقے کی پیدا کردہ قدرزائد کو ہڑپ کر کے امیر ہو جانے والے نام نہاد ’’مخیر حضرات‘‘ اس لوٹی ہوئی […]

فاٹا کا معمہ

برطانوی سامراج کی باقیات ’’ایف سی آر‘‘ کا خاتمہ ایک خوش آئند امر ہے مگر یہاں اس بات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے سے عام قبائلی عوام کی زندگیوں پر کیا فرق پڑے گا؟ کیا فاٹا کے عام عوام کو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، روزگار اور دہشت گردی سمیت دیگر سینکڑوں مسائل سے نجات مل جائے گی؟

ملتان: دو روزہ مارکسی سکول سرما 2017ء کا انعقاد

پروگریسو یوتھ الائنس(PYA) کے زیر اہتمام دو روزہ مارکسی سکول سرما 18 اور 19 فروری 2017ء کو ملتان میں منعقد ہوا۔ دو روز جاری رہنے والا یہ سکول بالشویک انقلاب کی 100ویں سالگرہ سے منسوب کیا گیا تھا

عہدِ نو میں قومی سوال

قوم پرستی کے ارتقا اور اہمیت و افادیت کوتاریخی واقعات کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ہی جدید عہد میں قومی سوال کے کردار کا تجزیہ اور تناظر کو تشکیل دیا جا سکتا ہے

قذافی کی موت کے پانچ سال بعد۔۔ سامراجی مداخلت کی حاصلات

جہاں تک مغربی سامراجیوں کا تعلق تھا، قذافی کی موت کے بعد ’’ہدف مکمل‘‘ ہو چکا تھا۔ لیکن آج حقیقت بالکل مختلف ہے۔ لیبیا کا شیرازہ بکھر چکا ہے ، کوئی قومی حکومت موجود نہیں اور مقامی ملیشیا (بشمول داعش) اپنے زیر تسلط علاقوں میں موجود عوام کی زندگی اور موت پر قادر ہیں۔